Connect with us
Wednesday,15-April-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

کانگریس کی آپسی رنجش سے امین پٹیل کی سیٹ خطرے میں

Published

on

ممبئی:ایک دور تھا جب کانگریس کے اتحاد کی وجہ سے ایک دوسرے امیدواروں کا سہارا لے کر انتخابی میدان میں جیت درج کرائی جاتی تھی۔ کانگریس کے سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان اور سابق ریاستی وزیر عبدالستار ایک دوسرے کے حلقہ میں انتخابی تشہیر کرتے تھے، سابق وزیراعلیٰ کی تشہیر کے بعد ہندو سماج کے ووٹ عبدالستار کو حاصل ہوتے تھے اسی طرح عبدالستار کی تشہیر کے بعد سابق وزیراعلیٰ کے اسمبلی حلقہ میں مسلم سماج کے رائے دہندگان متحد ہوجاتے تھے۔پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی یکطرفہ شکست سے کانگریسی لیڈران کا دل اُچاٹ ہوگیا، کئی لیڈران وقت کے دھارے میں بہہ کر بی جے پی کا دامن تھام چکے ہیں۔ بڑی سے بڑی سماجی، ملی، مذہبی تنظیمیں، سیاسی پارٹیاں عہدوں کی لالچ میں تہس نہس ہوگئی۔ کانگریس پارٹی میں بھی یہی حالات پیدا ہوگئے ہیں، ممبئی کانگریس صدر کے عہدے کو لے کرآپسی رشہ کشی میں پارٹی کے نامزد امیدواروں کی جیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اس ضمن میں پارٹی کے اعلیٰ حکام کی خاموشی سے ممبئی میں انتخابی تشہیر میں قدآور لیڈران کی عدم موجودگی قابل تشویش ہے۔ ممبا دیوی حلقہ میں امین پٹیل کے رکن اسمبلی منتخب ہونے میں تمام طبقے کے ووٹ شامل تھے۔ پارسی، جین، مارواڑی اور دیگر طبقے کے کاروباری حضرات کے ووٹ جس امیدوار کو ملتے ہیں وہ کامیاب ہوتا ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں کاروباری طبقہ کے رائے دہندگان کا رجحان بی جے پی شیوسینا اتحاد کو ملنے کا زیادہ امکان ہے جبکہ پارسی، جین، مارواڑی کی ووٹیں بھی امین پٹیل کو ملنا مشکل ہے۔ انتخابی تشہیر کے اس اہم دور میں امیدواروں کو قدآور لیڈران سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ بڑے سے بڑے لیڈران ان کے جلسوں میں، ریلی میں حصہ لیں۔ ممبئی کانگریس میں اہم مقام رکھنے والے لیڈر ملند دیورا اور سنجے نروپم کی عدم موجودگی سے امیدواروں میں ناامیدی پھیل رہی ہے۔ ممبا دیوی اسمبلی حلقہ سے ملند دیورا، امین پٹیل کی حمایت میں پارٹی کی جانب سے تشہیر کرتے رہے ہیں، ملند دیورا کی حمایت اور ممبا دیوی اسمبلی حلقہ میں مداخلت کی وجہ سے امین پٹیل کا سیاسی وزن بڑھ جاتا تھا۔اس وقت ملند دیورا امین پٹیل کی تشہیر نہ کے برابر کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے امین پٹیل کی سیٹ کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ممبئی کے دونوں قدآور لیڈر ملند دیورا اور سنجے نروپم کی ناراضگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ راہل گاندھی کی ریلی سے دونوں لیڈران غائب تھے۔ سنجے نروپم کی ناراضگی کی وجہ پارلیمانی انتخابات کے بعد ملند دیورا کو ممبئی کانگریس صدر کے عہدہ پر فائز کردیا گیا تھا، جبکہ ملند دیورا سے کانگریس کے اعلیٰ حکام ناراض ہیں۔ حریف پارٹی سے وزیر اعظم کی کرسی سنبھالنے والے نریندر مودی کی تعریف کرنا ملند دیورا کو مہنگی پڑ گئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی امریکہ کے ہیوسٹن میں تھے تو ملند دیورا نے ٹویٹ کے ذریعہ نریندر مودی کی تعریف کردی تھی جس کے جواب میں نریندر مودی نے بھی ملند دیورا کے ٹویٹ کا جواب دیا تھا۔ کانگریس پارٹی کے اتنے ذمہ دار لیڈر نے نریندر مودی کی تعریف کی تو کانگریس کے اعلیٰ حاکم ملند دیورا سے ناراض ہیں۔ ملند دیورا کے متعلق کہا جارہا تھا کہ جلد ہی وہ بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں اس بات کے جواب میں ملند دیوارا نے اپنا موقف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس پارٹی نہیں چھوڑے گے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ویرماتا جیجا بائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر میں درختوں کی سائنسی کٹائی اور درختوں کی گنتی پر تربیتی کیمپ

Published

on

Garden-and-Zoo

ممبئی : بائیکلہ کے ویرماتا جیجا بائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر کے پینگوئن روم آڈیٹوریم میں آج (15 اپریل 2026) ایک روزہ تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مانسون سے قبل خطرناک درختوں کی سائنسی طریقے سے کٹائی کیسے کی جائے اور درختوں کی گنتی کے دوران جدید مشینری کا استعمال کیسے کیا جائے۔ باغات کے سپرنٹنڈنٹ جتیندر پردیشی نے بتایا کہ درختوں کی گنتی اگلے ہفتے سے شروع ہوگی۔

اس کیمپ میں باغات کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب راؤ گاویت، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ باغات اویناش یادو، آربرسٹ وویک رانے، یوگیش کوٹے، پارکس ڈپارٹمنٹ کے افسران، ٹرینی ملازمین، ٹھیکیداروں کے ذریعہ مقرر کردہ باغ کے ماہرین موجود تھے۔ ہر سال مانسون شروع ہونے سے پہلے ممبئی میں خطرناک درختوں کی شاخوں کو ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ذریعے کاٹ دیا جاتا ہے۔ ماحول کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ان کاموں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سال بھی یہ مہم مزید وسیع پیمانے پر چلائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین کی مدد سے ممبئی میں درختوں کی گنتی کی جائے گی۔ جتیندر پردیشی نے کیمپ میں موجود ٹرینی ملازمین کو درختوں کی کٹائی، درختوں کی مردم شماری کے بارے میں جانکاری دی۔ اسسٹنٹ پارکس سپرنٹنڈنٹ اویناش یادو نے درختوں کے سائز، مٹی کی نمی، ہوا کی رفتار اور تعمیر کے دوران درختوں کی حفاظت کے موضوعات پر رہنمائی کی۔

آربورسٹ وویک رانے نے ان کی رہنمائی کی کہ درختوں کی کٹائی کے ذریعے درختوں کا انتظام کیسے کیا جائے اور سائنسی انداز میں درختوں کی کٹائی کرتے وقت حالات کا اندازہ لگایا جائے۔ درختوں کی وجہ سے سرکاری اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان کو کیسے روکا جائے، بدلتی ہوئی آب و ہوا کے دوران درختوں کی حفاظت کیسے کی جائے اور درختوں کی جسامت اور صحت کو مسلسل بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں، کے بارے میں جدید تصورات پیش کیے گئے۔ جناب یوگیش کوٹے نے ایک مظاہرے کے ساتھ رہنمائی کی کہ درختوں کی مردم شماری کیسے کی جائے، اس کے لیے کس طرح جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا اور اس مردم شماری کے لیے کس طرح ڈرون کا استعمال کیا جائے گا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مغربی مضافاتی علاقوں میں نالیوں کی صفائی کا کام جنگی پیمانے پر جاری، ایڈیشنل میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرما کا دورہ

Published

on

Clean

ممبئی : ممبئی مانسون سے قبل کاموں کے جائزہ کے ایک حصے کے طور پر، ممبئی میٹروپولیٹن ریجن میں بڑے اور چھوٹے نالوں سے کیچڑ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے آج ( مورخہ 15 اپریل 2026) ایچ ایسٹ ڈویژن، ایچ ویسٹ ڈویژن، کے شمالی اور کے جنوبی ڈویژنوں میں ڈرین کی صفائی کے کاموں کا معائنہ کیا۔

شرما نے بذات خود بڑے نالوں جیسے موگرا نالہ، وکولا نالہ، کرشنا نگر نالہ، اندھیری بھواری مارگ، ایس این ڈی ٹی نالہ کے ساتھ ساتھ باندرہ میں بازار نالہ، گروارے نالہ، اپیکس نالہ کا دورہ کیا اور نالوں سے گاد ہٹانے کے کام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ضروری ہدایات بھی دیں۔ نالے میں تیرتے کچرے اور فضلا کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ ڈرین کی صفائی کا کام کسی بھی صورت میں 31 مئی 2026 تک 100 فیصد مکمل ہونے کو یقینی بنایا جائے۔ شرما نے میونسپل کارپوریشن کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مقامی عوامی نمائندوں کے ساتھ تال میل پیدا کریں اور انہیں وقتاً فوقتاً ڈرین کی صفائی کے بارے میں جانکاری دیں۔ مقامی کارپوریٹر اور مارکیٹ اینڈ گارڈن کمیٹی کی چیئرپرسن ہیتل گالا، کارپوریٹر چنتامنی نواتی، کارپوریٹر راجہ رہبر خان، کارپوریٹر ۔ رتیش رائے، کارپوریٹر روہنی کامبلے، کارپوریٹر ۔ انجلی ساونت، اسسٹنٹ کمشنر دنیش پلاواد، اسسٹنٹ کمشنرمہیش پاٹل، اسسٹنٹ کمشنر نتن شکلا، اسسٹنٹ کمشنر مردولا آندے کے ساتھ متعلقہ افسران موجود تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن اسٹینڈنگ کمیٹی میں کارپوریٹر لکشمی بھاٹیہ کے پرس سے چوری، ۲۰ ہزار کی نقدی نکالی گئی، سیکورٹی پر سوالیہ نشان..؟

Published

on

ممبئی: میونسپل کارپوریشن کی سٹینڈنگ کمیٹی میں چوری کی واردات کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ شیوسینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے پارٹی کی کارپوریٹر لکشمی بھاٹیہ کے پرس سے 20,000 روپے کی نقدی چوری کر لی گئی۔ واقعہ کے سامنے آنے کے بعد کہرام مچ گیا ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس آج ہوا۔ اس میں بھاٹیہ نے بھی شرکت کی تھی اور اپنا پرس اسٹینڈنگ کمیٹی ہال میں رکھا ہوا تھاوہ اپنا پرس وہیں چھوڑ کر کھانا کھانے چلی گئی تھی۔ لیکن لذت کام دہن کے بعد جب اس نے پرس کی طرف دیکھا تو پرس کی چین کھلی ہوئی تھی۔ جب اس نے پرس چیک کیا تو پایا کہ اس میں سے 20،000 روپے چوری ہو چکے ہیں۔ اس نے اپنے ساتھی میونسپل کارپوریٹروں کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ لیکن چونکہ یہ واقعہ جس جگہ پیش آیا وہاں کوئی سی سی ٹی وی نہیں تھا، اس لیے واقعے کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔ پولیس کو اس مبینہ چوری کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں محکمہ ایم ایس اور سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میئر، اپوزیشن جماعت اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد لکشمی بھاٹیہ کو شبہ ہوا کہ پرس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے، اس نے یہ معاملہ دوسرے ساتھی کارپوریٹروں کی توجہ میں بھی لایا۔ اس وقت لکشمی بھاٹیہ نے دیکھا کہ پرس سے رقم چوری ہو گئی ہے۔ کمیٹی ہال میں چوری کی یہ پہلی واردات ہے۔ پولیس اب اس معاملے میں کیا کارروائی کرے گی؟ دیکھنا ضروری ہے۔ لکشمی بھاٹیہ نے اس واقعہ پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کو میونسپل کارپوریشن کا خزانہ سمجھا جاتا ہے، اگر اس جگہ ایسا ہو رہا ہے تو ہم سیکورٹی کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ لکشمی بھاٹیہ نے غصے میں سوال اٹھایا۔ دریں اثنا، ایم این ایس گروپ کے سربراہ یشونت کلیدار نے بھی اس واقعہ پر میونسپلٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’اگر ہال میں ہی سیکورٹی کی صورتحال ایسی ہے تو عام ممبئی والوں کی سیکورٹی کا کیا ہوگا؟‘‘ اس نے کہا۔ اس واقعہ کی وجہ سے میونسپل عمارت میں حفاظتی انتظامات کا معاملہ ایک بار پھر کھل کر سامنے آیا ہے اور ذمہ داری کے تعین کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ “آج ہماری اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ تھی، میٹنگ کے بعد ہم سب لنچ کے لیے گئے، اس وقت میرا پرس وہاں تھا، اندر کچھ اسٹاف موجود تھا، کسی نے میرا پرس کھول کر میرے پرس میں سے 20 ہزار روپے نکال لیے، اس بارے میں ہم نے ایم ایس ڈیپارٹمنٹ کی خواتین سے ملاقات کی، ہم نے انہیں سارا واقعہ بتایا، اس لیے ہم نے ان سے کہا کہ وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں، لیکن وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں۔ معاملہ وہاں آیا، ہم نے ان کے ساتھ شکایت درج کرائی ہے،” لکشمی بھاٹیہ نے بتایا۔میں نے میئر اور باقی سب سے ملاقات کی، میں نے میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کو اس معاملے کے بارے میں بتایا، مجھے کسی پر شبہ نہیں ہے لیکن اگر میونسپل کارپوریشن میں کارپوریٹر محفوظ نہیں ہیں تو باقی کیا ہوگا؟ تمام کارپوریٹر ہمیشہ پانچ سے دس منٹ میں لنچ پر چلے جاتے ہیں، خواتین کارپوریٹروں کے پرس کھولنا کتنا درست ہے؟ صرف نقدی چوری کی گئی بقیہ چارجر اور دیگر سامان باہر رکھا گیا تھا”۔ کارپوریٹر لکشمی بھاٹیہ نے کہا، “میری ایک ساتھی کارپوریٹر ہے جو اسٹینڈنگ کمیٹی میں میرے ساتھ ہے، اس نے دیکھا ہے کہ وہ چیزیں کیسے پڑی تھیں۔ اس نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب میں چلی گئی تو پرس کس حالت میں تھا اور جب میں پہنچی تو وہ کیسے تھے۔ اگر کارپوریٹروں کے پرس میونسپل کارپوریشن میں محفوظ نہیں تو عام عوام کا کیا ہو گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان