ممبئی پریس خصوصی خبر
کانگریس، این سی پی کے لیڈر مفاد پرستی میں مصروف : مودی
پرلی (مہاراشٹر): وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زیادہ تر لیڈر آج آپس میں ایک دوسرے سے نبرد آزما اور مفاد پرستی میں مصروف ہیں۔ مسٹر مودی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مہا گٹھ بندھن میں جو نوجوان لیڈر تھے وہ بھی ساتھ چھوڑ رہے ہیں اور سینئر لیڈر مایوس ہیں۔ آج اگر ہمارے مهاگٹھ بدھن کے حق میں ماحول ہے تو اس کے پیچھے گزشتہ پانچ برسوں کی سخت محنت ہے۔ وہیں دوسری طرف کانگریس اور این سی پی کے رہنماؤں کااپنی مفاد پرستی میں لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’’اپوزیشن پارٹی کے لیڈروں کو یہ فکر ستارہی ہے کہ بی جے پی کارکن اتنی محنت کیوں کر رہے ہیں۔ میں آج بیڑ سے انہیں بتا دوں کہ، بی جے پی کے پاس تندہی سے کام کرنے والے کارکن ہیں، جس کی بدولت وہ دلوں کو جیتتے ہیں اور پارٹیوں کو فتحیاب بناتے ہیں۔‘‘وزیراعظم نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے فیصلے پر ایک لیڈر نے کہا تھا کہ یہ کسی کو قتل کرنے جیسا ہے، ایک لیڈر نے کہا کہ یہ ہندوستانی سیاست کا سیاہ دن ہے، ایک لیڈر نے کہا کہ یہ جمہوریت کے منافی ہے، ایک اور بڑے لیڈر نے کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت ختم ہوگئی ہے، تو دیگر لیڈر نے کہا کہ اس فیصلے سے قومی سلامتی کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ہمارے مخالفین کی زبان ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ہم جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی مخالفت اس دن سے کرتے آرہے تھے، جس دن سے ہماری پارٹی کا جنم ہوا تھا۔ تاریخ میں جب بھی 370 پر بحث ہوگی تو ملک کے مفاد میں کئے گئے فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کااور ان کے بیانات کا ذکر ضرور ہوگا۔ ملک کے اتحاد وسالمیت میں کانگریس کو ہندو مسلمان نظر آتا ہے۔ کانگریس کہتی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان کااندرونی معاملہ نہیں ہے۔ کانگریس کے ایک اور لیڈر نے کہا کہ یہ ملک کو برباد کرنے والا فیصلہ ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ایسے بیان دینے والوں کو آپ معاف کریں گے؟ مسٹر مودی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے جل جیون مشن شروع کیا ہے۔ اس کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں صرف پانی کے لئے ساڑھے تین لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ پانی کے لئے اتنی سنجیدہ کوشش ہندوستان میں تو کیا دنیا کے تاریخ میں بھی نہیں کی گئی ہوگی۔ مہاراشٹر میں بی جے پی نے 2022 تک ہر گھر پانی پہنچانے کاعزم کیا ہے۔ یہ عزم ایسے ہی نہیں کیا گیا، اس کے پیچھے مہاراشٹر حکومت کے گزشتہ پانچ برسوں کا ٹریک ریکارڈ شامل ہے۔ انہوں نے آبپاشی سے لے کر کمائی کی فکر، مہا گٹھ بندھن حکومت نے کی ہے۔ خشک سالی کی وجہ سے جب آفت آئی تو حکومت نے فوری طور پر مدد پہنچائی۔ ڈیزاسٹر ریلیف ہو یا فصل انشورنس، ہر طرح کی مدد پہنچائی۔ اب کسانوں کے کھاتوں میں راست امدادی رقم پہنچائی جا رہی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ آپ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ پہلے کسی نہ کسی طرح سے ہر جگہ بچولیوں کی حکومت تھی۔ غریبوں کے راشن اورآپ کی کمائی تک میں کٹ لگتا تھا۔ بچولیوں کے کھیل کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ آج تقریباً 400 منصوبوں کا پیسہ راست طور پر فائدہ کنندگان کے کھاتوں میں پہنچ رہا ہے۔ آج سڑک، ریل، پل اور اسپتال جیسی جدید سہولیات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ فوائد دور دراز کے علاقوں میں بھی مل رہے ہیں۔ تنہا مراٹھواڑہ میں ہی تقریباً 50،000 کروڑ روپے کی سڑک بن رہی ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں یہاں اپنی مدد آپ گروپوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر بی جے پی کا عہد ہے کہ آنے والے پانچ برسوں میں مزید ایک کروڑ بہنوں کو اس بچت گروپ کی مہم سے منسلک کیا جائے گا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی ٹائیگر شراف فائرنگ کیس میں ملزمین پر مکوکا کا اطلاق

ممبئی ؛ ممبئی فلم اداکار ٹائیگر شراف کیس میں پولس نے اضافی دفعہ مہاراشٹر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے اس معاملہ میں اب تک ۱۱ ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے جس میں دو خواتین بیتا اور رادھا بھی شامل ہے یہ دونوں نے ہی ممبئی میں ہتھیار فراہم کیاتھا پولس نے بتایا کہ یہ کنال کے رابطے میں تھی اور شوٹروں کو ہدایت بشنوئی گینگ کے انیل پنڈت دیا کرتا تھا یہ انکڑپڈیٹ ایپ کے معرفت رابطہ میں تھا شوٹروں کو مدد دینے اور ہتھیار دینے کے ساتھ بشنوئی گینگ سے وابستہ شوٹروں کو بھی گرفتار کیا گیا ممبئی کرائم برانچ نے اس معاملہ میں مکوکا عائد کیا ہے ۔ ڈی سی بی سی آئی ڈی (ڈی سی بی سی آئی ڈی) کے مقدمہ نمبر 143/26 جو 19 اکتوبر 2026 کو بی این ایس (بی این ایس) کی دفعات 109(1) اور 3(5) نیز آرمز ایکٹ (آرمز ایکٹ) کی دفعات 3 اور 25 کے تحت درج کیا گیا تھا میں ’مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ‘ (مکوکا)، 1999 کی دفعات کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی مذکورہ ایکٹ کی دفعہ 23(1)(a) کے تحت مجاز اتھارٹی کی جانب سے 27 اکتوبر 2026 کو دی گئی اجازت کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔اس کے مطابق، تمام ملزمان کے خلاف مذکورہ مقدمے میں ایم سی او سی اے (مکوکا) کی دفعات 3(1)(ii)، 3(2) اور 3(4) کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ اس معاملہ میں کرائم برانچ مزید تفتیش کررہی ہے جبکہ ملزمین کے بشنوئی گینگ سے رابطہ سے بھی تحقیقات جاری ہے ابتدائی تفتیش میں یہ واضح ہوا ہے کہ کرائم برانچ نے جن ملزمین کو گرفتار کیا ہے وہ ایک دوسرے کے رابطے میں تھے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
وقف جائیدادوں کی رپورٹ تین سال سے زیرِ التوا، رئیس شیخ کا این سی پی پر مسلم مسائل نظرانداز کرنے کا الزام

ممبئی – ’وقف‘ جائیدادوں (جن کی مالیت لاکھوں کروڑ روپے ہے) کے ’7/12‘ (زمین کے ریکارڈ) اندراجات کا جائزہ لینے اور زمین کے حصول کے معاوضے کی تقسیم کے لیے پالیسی وضع کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ایک کمیٹی کی رپورٹ تین سال سے زائد عرصے سے التوا کا شکار ہے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی (ایم ایل اے) رئیس شیخ نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ محکمہ اقلیتی ترقی اور حکمراں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) مسلم برادری کو درپیش مسائل کو ضروری سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر برائے اقلیتی ترقی، سنیتریا پوار کو لکھے گئے ایک خط میں، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ریاست میں 23,566 رجسٹرڈ ’وقف‘ جائیدادیں ہیں، جو تقریباً 92,247 ایکڑ رقبے پر محیط ہیں۔ ان جائیدادوں پر بڑے پیمانے پر تجاوزات قائم ہیں اور کئی نجی افراد ان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ 21 ستمبر 2023 کو اس وقت کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں ’7/12‘ ریکارڈ اندراجات کا جائزہ لینے، زمین کے حصول کے معاوضے کی تقسیم کے لیے پالیسی بنانے، ان ریکارڈز سے نجی افراد کے نام ہٹانے، اور اس بات کو یقینی بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا کہ ’وقف‘ اداروں اور ’وقف بورڈ‘ کے نام سرکاری طور پر درج ہوں۔ اس اجلاس کے بعد، محکمہ اقلیتی ترقی نے 17 اکتوبر 2023 کو چار رکنی کمیٹی تشکیل دی، جسے ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم، مقررہ مدت گزر جانے کے طویل عرصہ بعد بھی یہ رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے مقرر کردہ وقت کے اندر رپورٹیں جمع نہیں کرائی جاتیں، تو پھر کمیٹیاں تشکیل دینے اور انتظامی احکامات جاری کرنے کا کیا مقصد ہے؟
’وقف‘ جائیدادوں سے متعلق رپورٹ میں اس تاخیر کو محض انتظامی سستی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ محکمہ اس تاخیر کی وجوہات واضح کرے اور اس معاملے میں ذمہ داری کا تعین کرے۔ ‘وقف’ املاک سے متعلق وہ مسائل—جنہیں اس وقت کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی پہل پر سامنے لایا گیا تھا۔ ان پر ان کے عہدے سے ہٹنے کے بعد بھی پیش رفت جاری رہنی چاہیے تھی۔ تاہم، مسلم برادری کے کئی مسائل تاحال حل طلب ہیں، جس کے پیشِ نظر رکن اسمبلی رئیس شیخ نے ایک خط کے ذریعے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا حکمراں جماعت ‘نیشنلسٹ کانگریس پارٹی’ (این سی پی) اور ریاستی حکومت، مسلم برادری کے خدشات کو مناسب ترجیح دے رہی ہیں یا نہیں۔’وقف’ املاک کی رجسٹریشن اور زمین کے حصول (حصولِ اراضی) کے بدلے معاوضے کی ادائیگی، ایسے معاملات ہیں جن کا براہِ راست تعلق متعلقہ اداروں کے جائیداد کے حقوق اور مالی مفادات سے ہے۔ ان مسائل سے جڑی غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنا اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا انتہائی ضروری ہے۔ محض زبانی یقین دہانیوں کے بجائے، ٹھوس فیصلے کیے جانے چاہئیں اور ان پر عملی طور پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی کانجورمارگ اور بھاؤنڈپ میں سگنل فیل، مسافر پریشان ٹرین سروسیز متاثر

ممبئی : کانجور مارگ اور بھانڈوپ ریلوے لائن سگنل میں تکنیکی خرابی کے سبب سینٹرل اور ہاربر لائنوں کی ٹرینیں تاخیر سے چلائی جا رہی ہے جبکہ ٹرینوں کے سبب مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا ہے پلیٹ فارم پر مسافروں کی بھیڑ جمع ہونے کے سبب ٹرینوں میں چڑھنا محال ہے مسافر بے حال ہے جبکہ ریلوے سروسیز بری طرح سے متاثر و مفلوج ہو کر رہ گئی ہے تفصیلات کے مطابق 26 اکتوبر 2026 کو، تقریباً صبح 09:30 بجے، کانجورمارگ ل پر تمام لائنیں بندہو گئیں اور تمام سگنل غیر فعال ہو گئے۔ اس واقعے کی اطلاع ریلوے انتظامیہ کی جانب سے دی گئی۔ اس خرابی کے باعث، کانجورمارگ اور وکھرولی و بھانڈوپ کے درمیان سگنل غیر فعال ہو گئے۔ ٹرین آپریشنز کو متاثر ہونے کے بعد کے اے-بورڈ’ اتھارٹی (اے بورڈ اتھارٹی): کانجورمارگ اور وکھرولی و بھانڈوپ کے درمیان ٹرینیں ‘اے-بورڈ’ اتھارٹی کے تحت چلائی گئیں۔ بھانڈوپ وکھرولی بھانڈوپ کے درمیان 5ویں اور 6ویں لائن پر بھی ٹرینیں ‘اے-بورڈ’ اتھارٹی کے تحت چلائی گئیں۔
ایبسلوٹ بلاک ورکنگ وکھرولی اور بھانڈوپ کے درمیان ‘ڈاؤن لوکل لائن’ اور ‘ڈاؤن تھرو لائن’ کے لیے، نیز بھانڈوپ اور وکھرولی کے درمیان ‘اپ لوکل لائن’اور ‘اپ تھرو لائن’کے لیے نافذ کی گئی۔ ٹرین موومنٹ اتھارٹی: ٹرینوں کو ‘ٹی ڈی 912’ اتھارٹی کے تحت چلنے کی اجازت دی گئی۔ پہلی ٹرینیں ڈاؤن لوکل لائن (وکھرولی سے)ٹرین نمبر کے 39 ڈاؤن تھرو لائن (وکھرولی سے): ٹرین نمبر بی ایل 11 اپ لوکل لائن (بھانڈوپ سے) چلائی گئی۔ خرابی کی وجہ، بحالی کی صورتحال اور ٹرین سروسز کی معمول کے مطابق بحالی کی کوششیں جاری ہے جبکہ ٹرینوں کے اوقات سے سینٹرل لائن پر ٹرینیں ایک سے نصف گھنٹہ سے تاخیر سے چلائی جارہی ہے ریلوے انتظامیہ نے بتایا ہے کہ جنگی پیمانے پرکام جاری ہے تاحال ریلوے ٹرین پٹری اور معمولات پر نہیں لوٹی ہے اور کوششیں جاری ہے۔ پی آر او سوپنیل نیلا نے بتایا کہ خرابی کے سبب ٹرینیں تاخیر سے چلائی جارہی ہے ریلوے انتظامیہ جلد ہی ٹرینوں کی خدمات معمول پر بحال کرے گی۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
