سیاست
دھولیہ میں خرید و فروخت کرکے ووٹرس کی حمایت حاصل کرنے کا اندیشہ
شہر دھولیہ کو دیہات سمجھ کر انتخابات کے میدان میں امیدوار اتریں ہیں۔ سفید ملبوسات میں بدنما چہروں والے کچھ سیاسی افراد بی جے پی کے امیدوار کے لیے دن رات محنت کررہے ہیں۔ اب تک شہر دھولیہ میں بی جے پی کو فرقہ پرست کہنے والے خود فرقہ پرستی کے دلدل میں اپنے مفاد کی خاطر اترنے لگےہیں۔ایک ہی امیدوار کے دو مفلر سے شہر کی عوام میںبے چینی پائی جارہی ہے،کئی دہائیوں سے اپنے آپ کو سیکولر کہنے والاامیدوار راج وردھن کدم بانڈے نے فرقہ پرست پارٹی کا دامن تھام لیا ہے،اس امیدوار کے لیےجان نچھاور کرنے والے کارپوریٹرس و سابق کارپوریٹرس نے ہر انتخابات میں بی جے پی کی مخالفت کرکے کارپوریٹر کا عہدہ پایا ہے۔ اپنے چہیتے امیدوار کو بی جے پی کے ٹکٹ سے میدان میں اترنے پر مسلمانوں میں کس منہ سے تشہریں کر گے ؟اس لیےانہوں نے لائحہ عمل تیار کرکے منصوبہ بندی کے تحت مسلم علاقوں میں سفید مفلر پر لال رنگ کے غبارے کی تصویر بناکر عوام کو آزاد امیدوار بتاکر گمراہ کررہے ہیں،تاکہ کچھ درجہ میں سیکولرازم کی خوشبو ووٹنگ کے دنوں تک محسوس کی جائے جبکہ اسی امیدوار کی برادران وطن کے علاقوں میں بی جے پی والے مفلر پر غبارے کی تشہیر زور و شور سے کی جارہی ہے۔ شہر دھولیہ میں اپنے آپ کو قوم کا ٹھیکیدار و ذمہ دار کہنے والے افراد بی جےپی کے امیدوار کی تعریف کرتے نہیںتھک رہے ہیں۔ جبکہ ۱۰؍ سال تک ایم ایل اے رہ کر مسلم علاقوں میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر بھی کام نہیں ہوسکا ہے۔۱۵؍ سال تک کارپوریشن پر قابض رہنے کے باوجود عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ۔کل ۲۵؍ سال تک کام میں ناکام رہنے والے امیدوار کی تشہیر کے لیے راتوں میں میٹنگوں کا انعقاد کیا گیا ، شروع شروع میں چھپ کر کام کیا جاتا رہا، جب عوام منہ پر انکار کرنے کی یا مزیدسوالات کرنے کی جسارت نہیں دکھا سکی تو کھل کر بی جے پی کے آزاد امیدوار کا کام کیا جارہا ہے۔دانشوران کا کہنا ہے کہ جتنے بھی کارپوریٹرس و سابق کارپوریٹرس فرقہ پرست پارٹی کے امیدوار کی حمایت کررہے ہیں ان کے خود کے انتخابات میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔کیونکہ گزشتہ۱۰؍ مہینوں میں انہوں نے گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر اپنے آپ کو فرقہ پرست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اہلیان شہر کو علم ہے کہ سب سے زیادہ روپئے شہر دھولیہ حلقہ سے کون خرچ کریں گا؟معتبر ذرائع سے خبر موصول ہوئی ہے کہ پارلیمانی انتخابات کی طرح مسلم ووٹ کی خرید و فروخت کی منصوبہ بندی ہوچکی ہے۔ مجلس اتحادالمسلمین کی لاپرواہی سے غبارے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، مجلس کے کچھ عہدیداران کا لین دین غبارے سے تو نہیں ہوگیا ہے؟ شہر میں سائیکل، سیٹی ، غبارے کی تشہیر کارنر میٹنگوں کا انعقاد کیاجارہا ہے، لیکن مجلس سست دکھائی دےرہی ہے۔ اسدالدین اویسی نے زبردست ماحول بنایا تھا لیکن شہر کے ذمہ داران و عہدیداران نے وہی ماحول کو برقرار نہیں رکھ سکے ہیں۔ جلسہ کے علاوہ متعدد ٹیم بناکر ملاقات و میٹنگ نہیںلی جارہی ہےجس کے سبب ووٹرس میں مایوسی پائی جارہی ہے۔کچھ افراد نے خرید و فروخت کے شبہ میں دھولیہ مجلس کے ذمہ داران و عہدیدارن پر نظریں ٹکا رکھی ہیں کہ پارٹی کو نقصا ن نہ پہنچ جائے۔ اگر مسلم ووٹ یکطرفہ مجلس کو مل جائے تو سیٹ نکل سکتی ہے، محنت میں کمی واقع ہوگی تو سیٹی کی گونج دھولیہ میں سنائی دیں گی، لاپرواہی برتی گئی یا لین دین ہوگیا تو یہ شہر بھی غبارے کی طرح حساس ہوجائے گا۔ مجلس کی محنت پر شہر کے ایم ایل اے کا انحصار ہے۔رشتہ دار ،اقربا پروری،مفاد پرستی والے مسلم حضرات بی جے پی کے امیدوارکو ذلت و خواری کے ساتھ تشہیر کرکے ووٹ دینے کی کوشش میں زمین آسمان ایک کریں گے لیکن نتیجہ ۲۴؍ اکتوبر کو ہی دکھائی دے گا۔ اہلیانِ شہر کو بے صبری سے انتظار ہے کہ یزید کا لشکر فاتح ہوگا یا شکست سے دوچار ہوگا۔
جرم
دہلی میں 16 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل، کھیت سے لاش ملی

نئی دہلی، 18 ستمبر دہلی میں ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ تین نابالغوں سمیت چار افراد نے مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری اور قتل کردیا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بعد میں اس کی لاش کو ایک کھلے علاقے میں چھوڑ دیا، متاثرہ لڑکی کی سڑی ہوئی لاش کے کچھ حصوں کو آوارہ کتوں نے کھایا تھا۔ شمالی دہلی کے سوروپ نگر علاقے میں کشک روڈ کے ساتھ جے پال رانا کے کھیت کے قریب سے بوسیدہ لاش ملی۔ لاش کی حالت ایسی تھی کہ پولیس ابتدائی طور پر مقتول کی جنس کا تعین نہیں کر سکی۔ پولیس نے بتایا کہ متاثرہ شخص ملزم سے واقف تھا اور ان کے ساتھ ایک ٹیمپو میں سفر کر رہا تھا۔ سفر کے دوران، اس گروپ نے مبینہ طور پر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے سے پہلے شراب پی تھی۔ اس کے بعد اسے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا جس کے بعد اس کی لاش مبینہ طور پر کھلے میدان میں پھینک دی گئی۔
تفتیش کاروں نے بتایا کہ آوارہ کتوں نے جسم کے کچھ حصے کھا لیے تھے، جب کہ مقتول کا ایک ہاتھ باقی جسم سے جدا پایا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے اہل خانہ نے گمشدگی کی شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ پوچھ گچھ کے دوران، اس کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ کبھی کبھی گھر سے نکل جاتی تھی اور کئی دنوں تک دور رہنے کے بعد واپس آ جاتی تھی۔ بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) اور جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (پی او سی ایس او) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ چونکہ وہاں کوئی بظاہر عینی شاہد نہیں تھا اور ابتدائی طور پر ملزمان کی شناخت معلوم نہیں تھی، اس لیے پولیس نے علاقے سے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ شروع کر دی۔
تفتیش کاروں نے 50 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا تجزیہ کیا جو مشتبہ کرائم سین اور ملحقہ راستوں پر نصب تھے۔ مشق کے دوران، پولیس نے متعلقہ مدت کے ارد گرد ایک ٹیمپو کو گھومتے ہوئے دیکھا۔ تاہم، اس کے رجسٹریشن نمبر کی واضح طور پر نشاندہی نہیں کی جاسکی کیونکہ اندھیرے اور بصارت کی کمی ہے۔ بعد ازاں تفتیش کاروں نے کئی مقامات سے فوٹیج کے ذریعے گاڑی کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا۔ 15 اور 16 ستمبر کی درمیانی شب رات بھر آپریشن کیا گیا جس کے بعد مشتبہ ٹیمپو کا سراغ لگایا گیا۔ پھر پولیس نے اس کے ڈرائیور کی شناخت کر کے پوچھ گچھ کی۔ تحقیقات کے نتیجے میں اس واقعے سے مبینہ طور پر جڑے چار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں تین نابالغ بھی شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ بالغ ملزم کی شناخت شیوم عرف سداما عرف چچو کے طور پر کی گئی ہے جو کھڈا کالونی کا رہنے والا ہے۔ اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے تین نابالغوں کی عمریں 16 اور 17 سال ہیں۔ پولیس کے مطابق جرم کے دوران مبینہ طور پر استعمال ہونے والے دو چاقو، ملزمان کے مبینہ طور پر پہنے ہوئے کپڑے اور ٹیمپو برآمد کر لیا گیا ہے۔ واقعے کی ترتیب، گرفتار افراد کے انفرادی کردار کا پتہ لگانے اور پولیس نے شواہد کی تکنیکی اور تکنیکی تصدیق کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
جرم
دہلی میں 16 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل، کھیت سے لاش ملی

نئی دہلی، 18 ستمبر دہلی میں ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ تین نابالغوں سمیت چار افراد نے مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری اور قتل کردیا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بعد میں اس کی لاش کو ایک کھلے علاقے میں چھوڑ دیا، متاثرہ لڑکی کی سڑی ہوئی لاش کے کچھ حصوں کو آوارہ کتوں نے کھایا تھا۔ شمالی دہلی کے سوروپ نگر علاقے میں کشک روڈ کے ساتھ جے پال رانا کے کھیت کے قریب سے بوسیدہ لاش ملی۔ لاش کی حالت ایسی تھی کہ پولیس ابتدائی طور پر مقتول کی جنس کا تعین نہیں کر سکی۔ پولیس نے بتایا کہ متاثرہ شخص ملزم سے واقف تھا اور ان کے ساتھ ایک ٹیمپو میں سفر کر رہا تھا۔ سفر کے دوران، اس گروپ نے مبینہ طور پر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے سے پہلے شراب پی تھی۔ بعد ازاں اسے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا، جس کے بعد اس کی لاش مبینہ طور پر کھلے میدان میں پھینک دی گئی۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں نے جسم کے کچھ حصوں کو کھا لیا تھا، جب کہ مقتول کا ایک ہاتھ باقی جسم سے جدا پایا گیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے اہل خانہ نے گمشدگی کی شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ پوچھ گچھ کے دوران، اس کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ کبھی کبھی گھر سے نکل جاتی تھی اور کئی دنوں تک دور رہنے کے بعد واپس آ جاتی تھی۔ بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) اور جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (پی او سی ایس او) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ چونکہ وہاں کوئی بظاہر عینی شاہد نہیں تھا اور ابتدائی طور پر مشتبہ افراد کی شناخت معلوم نہیں تھی، اس لیے پولیس نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینا شروع کیا۔ تفتیش کاروں نے مشتبہ جائے وقوعہ اور ملحقہ راستوں پر نصب 50 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا تجزیہ کیا۔ مشق کے دوران، پولیس نے متعلقہ مدت کے ارد گرد ایک ٹیمپو کو گھومتے ہوئے دیکھا۔ تاہم، اس کے رجسٹریشن نمبر کی واضح طور پر شناخت نہیں ہوسکی ہے کیونکہ اندھیرے اور مرئیت کی کمی ہے۔
اس کے بعد تفتیش کاروں نے کئی مقامات سے فوٹیج کے ذریعے گاڑی کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا۔ 15 اور 16 ستمبر کی درمیانی شب رات بھر آپریشن کیا گیا جس کے بعد مشتبہ ٹیمپو کا سراغ لگایا گیا۔ پھر پولیس نے اس کے ڈرائیور کی شناخت کر کے پوچھ گچھ کی۔ تحقیقات کے نتیجے میں اس واقعے سے مبینہ طور پر جڑے چار افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں تین نابالغ بھی شامل ہیں۔ پولس نے بتایا کہ بالغ ملزم کی شناخت شیوم عرف سداما عرف چچو کے طور پر کی گئی ہے، جو کھڈا کالونی کا رہنے والا ہے۔ اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے تین نابالغوں کی عمریں 16 اور 17 سال ہیں۔ پولیس کے مطابق جرم کے دوران مبینہ طور پر استعمال ہونے والے دو چاقو، ملزمان کے مبینہ طور پر پہنے ہوئے کپڑے اور ٹیمپو برآمد کر لیا گیا ہے۔ واقعے کی ترتیب، گرفتار افراد کے انفرادی کردار کا پتہ لگانے اور تکنیکی شواہد کے لیے پولیس نے مزید تفتیش کی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی سائبر سیل کی بڑی کارروائی! منظم گروہ کے ۶ اراکین گرفتار, ڈیجیٹل گرفتاری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں : ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے

ممبئی سائبر سیل نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو سائبر دھوکہ بازی کے دوران ڈیجیٹل گرفتاری یعنی ڈیجیٹل اریسٹ سے خوفزدہ کر کے جھوٹے کیسوں میں پھنسانے کی دھمکی دے کر متاثرین سے رقومات وصول کیا کرتے تھے۔ جعلی سم کارڈ 238 کروڑ کے منی لانڈرنگ معاملے میں مقدمہ درج ہونے کا خوف بتا کر سپریم کورٹ کا جعلی نوٹس بھیج کر شکایت کنندہ کو ‘ڈیجیٹل اریسٹ’ میں رکھ کر 1.12 کروڑ کی مالی دھوکہ دہی کی گئی۔ اس معاملے میں انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ سمیت آئی ٹی شعبہ کے ویب ڈویلپر سمیت کل 6 ملزمان کو پکڑنے کرنے میں پولیس کو کامیابی ملی۔ نارتھ سائبر پولیس بی این ایس دفعہ 204, 308(7), 61(2), 318(4), 319(2), 336(2), 336(3), 338, 340(2), 238 آئی ٹی ایکٹ دفعہ 66, 66 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں متاثرہ دہیسر کے رہائشی 68 سالہ بزرگ شہری شکایت کنندہ کو تاریخ ۳۰ جولائی ۲۰۲۶ سے ۱۲ ستمبر ۲۰۲۶ کے درمیان واٹس ایپ ویڈیو کال کرکے خود کی شناخت بھارتیہ دور سنچار ویبھاگ سے بتائی اور شکایت کنندہ کے سم کارڈ کا استعمال کرکے اس پر کل 238 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا گھوٹالہ کرنے کے بارے میں شکایت کنندہ کے خلاف دہلی میں منی لانڈرنگ کا کیس درج ہوا ہے اس بارے میں شکایت کنندہ کو سپریم کورٹ نوٹس بھیج کر اس جرم میں شکایت کنندہ کو گرفتاری کی دھمکی دے کر اسے ڈیجیٹل اریسٹ میں رکھ کر شکایت کنندہ کی کل 1,12,26,000/- روپے کی مالی دھوکہ دہی کی انتہائی حساس جرم میں ملزمان نے خود کی شناخت پوری طرح سے چھپا کر منظم طریقے سے پولیس افسر ہونے کا بہانہ بنا کر، پولیس وردی پہن کر سرکاری اتھارٹی، قومی جانچ ایجنسیوں کے نام، مہر، لیٹر ہیڈ استعمال کرکے شکایت کنندہ کو بار بار گرفتاری کا ڈر دکھا کر ویڈیو کال کرکے بینک کھاتے میں رقم طلب کر کے دھوکہ دہی کی ہے۔ دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے سائبر ملزمان نے الگ الگ افراد/کمپنی کے نام پر موجود الگ الگ بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹس کی دستیابی کرکے ان کا استعمال کیا ہے اور نارتھ سائبر پولیس تھانہ، ممبئی کی تفتیشی ٹیم نے مذکورہ سائبرجرم کی مہارت سے کوشش میں تسلسل رکھ کر مثبت تفتیش کرکے ملزمان کے جرم کا طریقہ کار سمجھ کر جرم میں استعمال کیے گئے پہلی سطح کے بینک اکاؤنٹ کی بنیاد پر مزید معلومات لے کر ڈیجیٹل اریسٹ میں دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے کرنٹ بینک اکاؤنٹ خرید و فروخت کرنے والے اور دھوکہ دہی کی رقم کو لیئر کرنے والے ملزمان کی تلاش کرکے انہیں گرفتار کیا ہے اور گرفتار شدگان کے قبضے سے 02 لیپ ٹاپ، 20 موبائل فون، 25 مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹس، اے ٹی ایم کارڈس، پاس بک، آدھار کارڈس، ایسا برآمد کیا ہے گرفتار شدگان ملزمین میں 1) راجیش کمار موہن لال جین، عمر 54 سال، تعلیم 12ویں پاس، رہنے والا 301/ دادا صاحب پھالکے روڈ، دادر مشرق، ممبئی بینک اکاؤنٹ ہولڈر 2) محمد طارق انور مومن، عمر 49 سال، تعلیم 12ویں پاس، رہنے والا 01/ ساجن بلڈنگ، نایاگاؤں کراس روڈ، شترو نجے ٹاور کے پاس، دادر مشرق، ممبئی مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹ کھولنے والا اور بینک اکاؤنٹ آگے سپلائی کرنے والا 3) شیکھر مکیش تیاگی، عمر 28 سال، تعلیم ب کوم, بی ایم اے، رہنے والا پرتیکشا نگر، سائن، ممبئی انڈس انڈ بینک آپریشنل منیجر 4) گورو مہیش گوئل، عمر 40 سال، بی ای, آئی آئی ٹی دہلی، رہائشی رہیجہ ہائٹس، گوریگاؤں مشرق، ممبئی ویب ڈیولپر باندرہ پولیس تھانہ پربھادیوی دفعہ 420, 409, 120(بی), 34 کے تحت مقدمہ درج ہے 5) اجے کمار کالی پرساد شرما عمر 35 سال تعلیم بی اے، رہائشی بھیونڈی روڈ کالہیر ضلع تھانے موبائل کے ذریعہ آگے ایکسیس دینے والا 6) چنتن کمار سوریش بھائی دیسائی عمر 46 سال تعلیم- بی اے، رہنے والا ایس بی آئی بینک کے عقب مورا بگل رانادیل روڈ سورت گجرات موبائل یہاں ساتھیوں کے ذریعہ شکایت کنندہ کی رقم کی لیئرنگ کرنے والا)
جرم کی انجام دہی کا ملزمان کا طریقہ کار ابھے دیو گولڈ پرالی اس کمپنی کا گرفتار ملزم نمبر 01 ڈائریکٹر ہے۔ مذکورہ کمپنی کا انڈس انڈ بینک اکاؤنٹ رجسٹرڈ ہے۔ مذکورہ کھاتے سے گرفتار ملزم نمبر 01 کا موبائل لنک ہے تو دوسرے ڈائریکٹر کا موبائل لنک ہے۔ گرفتار ملزم نمبر 02 نے دادر مشرق یہاں کی موبائل شاپ سے دو نئے موبائل خریدے, ان میں سے ایک موبائل میں ابھے دیو گولڈ پرالی کمپنی کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا, تو دوسرے موبائل میں گرفتار ملزم نمبر 01 مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا, دونوں موبائل گرفتار ملزم نمبر 02 نے انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ گرفتار ملزم نمبر 03 کے قبضے میں دیئے۔ گرفتار ملزم نمبر 03 نے مذکورہ دو موبائل فون میں سے مذکورہ کھاتے کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے بینک سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون خود کے پاس رکھ کر وہ گرفتار ملزم نمبر 05 کے قبضے میں دیدیا۔ تو گرفتار ملزم نمبر 01 کے مذکورہ بینک کھاتے سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون میں ڈال کر مذکورہ موبائل فون گرفتار ملزم نمبر 04 (ویب ڈیولپر) کے قبضے میں دیا اس نے وہ گرفتار ملزم نمبر 06 کے قبضے میں دیا۔ گرفتار ملزم نمبر 06 نے ممبئی سے ہوائی جہاز سے دہلی جا کر وہاں سے بجنور اترپردیش یہاں اس کے ساتھیوں کی مدد سے مذکورہ کھاتے پر شکایت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ کی رقم ٹرانسفر کرکے لے کر شکایت کنندہ کو ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر فراڈ معاملے میں کل 1,12,26,000/- روپے کی سائبر دھوکہ دہی کی ہے۔
شہریوں سے اپیل ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر دھوکہ دہی سے محفوظ رہنے ہدایات پر عمل کریں۔ پولیس/سی بی آئی/ای ڈی/آر بی آئی یا کوئی بھی سرکاری ادارہ ڈیجیٹل گرفتاری نہیں کرتا، قانون میں ڈیجیٹل گرفتاری ایسی کوئی بھی دفعہ نہیں ہے۔ انجان افراد کی ویڈیو کال قبول نہ کریں یا کبھی بھی پیسے نہ بھیجیں خاندان کے کسی بھی فرد کے برتاؤ یا موڈ میں تبدیلی نظر آئے تو اس پر دھیان دیں۔ اگر آپ ڈیجیٹل اریسٹ کے شکار ہوئے ہیں، تو اپنے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کو یا پولیس کو فوری معلومات دیں۔ اگر آپ کو ڈیجیٹل اریسٹ کے بارے میں کوئی بھی کال آئے، تو فوری قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں یا مدد کے لیے 100/1930 اس ہیلپ لائن نمبر پر کال کریں یا http://www.cybercrime.gov.in پر شکایت درج کروائیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
