سیاست
تینوں اسمبلی حلقوں میں دو میںسہ رخی اور ایک میں سیدھے طور پر مقابلے کے آثار ہیں
بھیونڈی مشرقی حلقہ اسمبلی اور مغربی حلقہ اسمبلی میں سہ رخی مقابلے اور دیہی حلقہ اسمبلی میں براہ راست مقابلے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ واضح ہو کہ بھیونڈی مشرقی حلقہ اسمبلی میں بی جے پی ‘شیوسینا اتحاد کے امیدوار روپیش مہاترے ، کانگریس کے سنتوش ایم شیٹی اور سماج وادی پارٹی کے رئیس شیخ کے درمیان سہ رخی لڑائی ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح ، بھیونڈی مغرب میں ، بی جے پی – شیوسینا اتحاد کے امیدوار مہیش چوگلے ، کانگریس کے شعیب گڈو اور اے آئی ایم آئی ایم کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار خالد مختار شیخ کے بیچ سہ رخی مقابلے کے آثار ہیں۔ لیکن دیہی حلقہ اسمبلی میں شیوسینا-بی جے پی اتحاد کے امیدوار شانتارام مورے اور راشٹروادی کانگریس پارٹی کی مادھوری مہاترے میں براہ راست مقابلے کے امکانات ہیں۔
بھیونڈی مشرقی حلقہ اسمبلی سے پانچ امیدواروں کی پرچہ نامزدگی واپس لینے کے بعد ، شیوسینا کے روپیش مہاترے ، کانگریس کے سنتوش شیٹی ، سماج وادی پارٹی کے رئیس شیخ ، ونچت بہوجن اگھاڑی سے بودھیش جادھو ، ایم این ایس سے منوج گلوی ، بہوجن سماج پارٹی سے نذیر احمد صدیق انصاری، سماجوادی فارورڈ بلاک سے عبدالسلام انصاری ، بہوجن مہا پارٹی سے نارائن ونگا اور پیس پارٹی کے حبیب الرحمٰن خان سمیت 14 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ جس میں شیوسینا ، کانگریس ۔ سماج وادی پارٹی میں سہ رخی مقابلے کے امکانات ہیں۔ جس میں سماج وادی پارٹی کے ووٹوں کی تقسیم یہ فیصلہ کرے گی کہ اس سے کس کو فائدہ پہونچنے والا ہے۔ بی جے پی – شیوسینا اتحاد کے امیدوار روپیش مہاترے اور بی جے پی کے ضلع صدر کا عہدہ چھوڑ کر کانگریس سے انتخاب لڑنے والے بی جے پی کے کارپوریٹر سنتوش شیٹی 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بھی آمنے سامنے تھے ، جس میں سنتوش شیٹی 3393 ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ جس کی وجہ سے اس اسمبلی انتخابات میں ان کا حوصلہ کافی بلند ہے۔ بی جے پی – شیوسینا اتحاد کے امیدوار ایم ایل اے روپیش مہاترے ہیٹ ٹرک لگانے کے لئے تیسری بار انتخاب لڑ رہے ہیں۔ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس بار روپیش مہاترے کے جیتنے پر انہیں یقینی طور پر کابینہ میں جگہ دی جائے گی۔اسی کے ساتھ ہی ، سماج وادی پارٹی سے ممبئی کے کارپوریٹر رئیس شیخ اپنی قسمت آزمانے آئے ہیں ، رئیس شیخ ممبئی کے کارپوریٹر ہونے کی وجہ سے سے بھیونڈی کے ووٹروں سے ناواقف ہیں لہذا یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر ابو عاصم اعظمی کے نام پر انہیں کتنے ووٹ ملیں گے۔ حالانکہ رئیس شیخ کا نام کراماتی کارپوریٹرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے سماجوادی پارٹی کی قیادت یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ بھیونڈی مشرق کی ترقی کے لئے کارپوریٹر رئیس شیخ کو جیتنا انتہائی ضروری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سماجوادی پارٹی کے امیدوار اقلیتوں کے ووٹوں کی پولرائزیشن پر کیا کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح مغربی اسمبلی حلقہ میں بی جے پی ‘کانگریس‘ اے آئی ایم آئی ایم کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار میں سہ رخی مقابلے کے امکانات ہیں، بھیونڈی مغربی اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی مہیش چوگلے ، کانگریس سے شعیب گڈو ، ونچت بہوجن اگھاڑی سے سوہاس بونڈے ، ایم این ایس سے ناگیش مقادم ، بی ایس پی سے ابوسہما خان اور آزاد امیدوار ،محمد خالد مختار شیخ اے آئی ایم آئی ایم کے حمایت یافتہ سمیت کل سات امیدوار انتخابی میدان میں ہیں ، جس میں بی جے پی کے مہیش چوگلے اور کانگریس کے شعیب گڈو کے درمیان براہ راست مقابلہ ہے ایسا قیاس کیا جا رہا ہے ، لیکن اچانک AIMIM کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد خالد مختار شیخ کے انتخابی میدان میں اترتے ہی سہ رخی مقابلے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ AIMIM کے حمایت یافتہ امیدوار محمد خالد مختار شیخ کے ذریعے ہی یہ طے ہوگا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ضلع صدر کا عہدہ چھوڑ کر ، محمد خالد مختار شیخ نے اے آئی ایم آئی ایم میں شامل ہو گئے تھے اور انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم اور آزاد امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے لیکن جانچ کے دوران اے آئی ایم آئی ایم کے کاغذات نامزدگی رد ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ آزاد امیدوار ہو گئے تھے، محمد خالد مختار شیخ کا اے آئی ایم آئی ایم کی پرچہ نامزدگی رد ہونے کے بعد کانگریس نے راحت کی سانس لی تھی۔ لیکن اے آئی ایم آئی ایم کے حمایت یافتہ امیدوار کے اعلان کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔اسی طرح دیہی اسمبلی حلقہ انتخاب میں شیوسینا ۔ اور راشٹروادی کانگریس پارٹی آمنے سامنے ہیں ، بھیونڈی دیہی حلقہ اسمبلی میں ، بی جے پی شیوسینا مہاگٹھ بندھن کے ایم ایل اے شانتارام مورے ، این سی پی کی مادھوری مہاترے ، ونچت بہوجن اگھاڑی سے سوپنل کولی ، ایم این ایس سے شوبھانگی گوواری ، سی پی آئی سے کامریڈ نتیش مہسے اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی سے کامریڈ لکشمن واڈو سمیت سات امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ جس میں شیوسینا- بی جے پی مہاگٹھبندھن کے امیدوار شانتارام مورے اور این سی پی کی مادھوری مہاترے کے درمیان براہ راست مقابلے کے امکانات ہیں۔ بھیونڈی دیہی اسمبلی حلقہ کا علاقہ بھیونڈی تعلقہ کے دیہی علاقوں سمیت واڑا تک پھیلا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے امیدواروں کو سخت محنت کرنی پڑے گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔
سیاست
ایکناتھ شندے کا دھڑا ہی اصل شیوسینا ہے، یو بی ٹی ممبران پارلیمنٹ کی آمد کا خیرمقدم کرتی ہے: شائنا این سی

ممبئی : شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے دعویٰ کیا کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا مسلسل مضبوط ہو رہی ہے، اور حالیہ سیاسی پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاست میں وہی شیوسینا ہی ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے ارکان پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کی خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے، انہوں نے ادھو ٹھاکرے اور ایم پی سنجے راوت پر بھی سخت حملہ کیا۔
شائنا این سی نے پیر کو آئی اے این ایس کو بتایا کہ مہاراشٹر کی سیاست میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ صرف ایک شیو سینا ہے، اور وہ شیوسینا ہے جس کی قیادت ایکناتھ شندے کر رہے ہیں۔ پارٹی کی طاقت اس وقت ظاہر ہوئی جب 40 ایم ایل اے ایکناتھ شندے کے ساتھ اسمبلی میں شامل ہوئے اور بعد کے انتخابات میں شیوسینا کی شاندار کارکردگی نے ایکناتھ شندے کی قیادت میں اپنی عوامی حمایت کو بھی ثابت کیا۔
ادھو ٹھاکرے کو نشانہ بناتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بتانا چاہئے کہ ہندو ہردئے سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے کا نظریہ کہاں تھا جب انہوں نے 2019 کے اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی فائدے کے لیے اس وقت ٹھاکرے کے نظریے کو نظر انداز کیا گیا تھا، اور اب نظریہ کی بات کی جا رہی ہے۔
شیو سینا (یو بی ٹی) کے ممبران پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کے امکان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، شینا این سی نے کہا کہ اگر کسی پارٹی کے دو تہائی ممبران اسمبلی یا ایم ایل ایز دوسرے گروپ میں شامل ہو جاتے ہیں، تو آئین اور انسداد انحراف قانون کے تحت انضمام کا انتظام ہے۔ یو بی ٹی کی قیادت کو خود کا جائزہ لینا چاہیے کہ ان کے ایم پی، ایم ایل اے اور کونسلر پارٹی کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ جب کارکنوں اور عوامی نمائندوں کا احترام نہیں کیا جاتا، اور بات چیت کی جگہ الزامات اور گالی گلوچ سے لے لی جاتی ہے، تو لوگ فطری طور پر دوسرے آپشنز تلاش کرتے ہیں۔
شائنا این سی نے سنجے راوت کے اس بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا کہ بھگوان رام کے آشیرواد سے اقتدار میں آنے والی بی جے پی اب رام کی لعنت سے بے دخل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سنجے راوت مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جو ان کی سیاسی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ راوت کا واحد مقصد ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کو نقصان پہنچانا ہے، اور ان کے بیانات سیاسی سنجیدگی سے عاری ہیں۔
سیاست
مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے منحرف ہونے والے ممبران پارلیمنٹ کے حلقوں کا دورہ کریں گے۔

ممبئی ، شیو سینا-یو بی ٹی پارٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے 27 سے 29 جون تک ان حلقوں کا ایک وسیع دورہ کریں گے جہاں سے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں چلے گئے ہیں۔ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور سامنا کے ایگزیکٹو ایڈیٹر سنجے راوت کے ذریعہ جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق، یہ دورہ ریاست کے کئی اہم اضلاع کا احاطہ کرے گا، اور پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کو ہر مقام کے لیے مخصوص ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
یہ دورہ چھ ممبران پارلیمنٹ – اومراجے نمبالکر (دھراشیو)، سنجے پاٹل (ملوند نارتھ ایسٹ)، سنجے جادھو (پربھنی)، سنجے دیشمکھ (یوتمال)، ناگیش پاٹل اشتیکر (ہنگولی)، اور بھاؤصاحب وکچورے (شرڈی) کے کچھ ہی دن بعد ہوا ہے، جنہوں نے پچھلے ہفتے بغاوت کرتے ہوئے حقیقت میں شمولیت کا اشارہ کیا۔ ٹھاکرے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ان حلقوں کا دورہ کریں گے اور عوامی طور پر ان ووٹروں سے معافی مانگیں گے جنہوں نے 2024 کے عام انتخابات کے دوران اب منحرف ہونے والے ایم پیز کو ووٹ دیا تھا۔
ٹھاکرے 27 جون کو یوتمال میں اپنا دورہ شروع کریں گے، جہاں سینئر لیڈر بشمول ایم پی اروند ساونت، ایم ایل اے سنجے ڈیرکر، رابطہ سربراہ راجندر گائیکواڑ، اور ضلعی سربراہان پروین شندے، کشور انگلے، اور سنجے نکھادے تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد وہ واشم جائیں گے۔ ایم پی ساونت، ایم ایل اے ڈیرکر، رابطہ سربراہ دلیپ جادھو اور ضلع سربراہ بالاجی وانکھیڈے کوآرڈینیشن سنبھال رہے ہیں۔ پارٹی سربراہ دوپہر میں ہنگولی جائیں گے۔ ایم ایل سی اور اپوزیشن کے سابق لیڈر امباداس دانوے، رابطہ سربراہ ببن راؤ تھوراٹ، اور ضلعی سربراہ سندیش دیشمکھ، اجے پاٹل، اور گوپو ساونت وہاں ذمہ داریوں کی قیادت کریں گے۔ پارٹی سربراہ رات پربھنی میں گزاریں گے۔
دورے کا دوسرا مرحلہ 28 جون کو پربھنی شہر کے دورے سے شروع ہوگا۔ ایم ایل سی دانوے، ایم ایل اے راہول پاٹل، رابطہ سربراہ پردیپ کمار کھوپڑے، اور ضلع سربراہ ڈاکٹر وویک ناوندر مقامی انتظامات کو سنبھالیں گے۔ ٹھاکرے دوپہر میں دھاراشیو کے لیے روانہ ہوں گے۔ دانوے، ایم ایل اے کیلاش پاٹل، اور رابطہ سربراہ سنیل کٹمور انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دن کا اختتام چھترپتی سمبھاجی نگر میں رات بھر قیام کے ساتھ ہوگا۔ دورے کے آخری دن، 29 جون، ٹھاکرے مقدس شہر شرڈی کا دورہ کریں گے۔ راؤت، رابطہ سربراہ اور ایم ایل سی سنیل شندے، ضلعی سربراہ سچن کوٹے، اور جگدیش چودھری کو اس مرحلے کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔
پارٹی سربراہ ممبئی روانہ ہوں گے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ پورے دورے کا منصوبہ پورے مہاراشٹر میں پارٹی کارکنوں کو متحد کرنے اور اہم سیاسی اتحادوں سے پہلے نچلی سطح پر تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے، متحدہ شیوسینا کے 60 ویں یوم تاسیس پر اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے، ٹھاکرے نے گزشتہ جمعہ کو کہا تھا کہ اگر ان کے لیڈران منحرف اراکین اسمبلی کے ان پر لگائے گئے الزامات کو سچ مانتے ہیں، تو وہ شیو سینا-یو بی ٹی کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
