Connect with us
Tuesday,11-August-2026
تازہ خبریں

سیاست

لاکھوں افراد کو بدگمانی میں مبتلا کرنے کا سہرا مفتی محمد اسماعیل کے سر

Published

on

maulana

مالیگاؤں:ان دنوں مالیگاؤں شہر کی گھٹیا سیاست کے دلدل میں ملک کے نامور عالم کو کھینچنے والےافراد اپنی دنیاوی زندگی کے مزے لوٹنے میں کامیاب ہوگئے۔ سیاست سے ناواقفیت کی بنیاد پر عوامی پسند کو سیاست کا حصہ بنانے کا کام کیا گیا، سیاست کی الف ب سے ناواقفیت کی بناء پر مفتی محمد اسماعیل قاسمی کو سیاسی دلالوں نے گمراہ کردیا۔ کیا مفتی محمد اسماعیل قاسمی جواز پیش کرسکتے ہیں کہ ان کے ساتھ رہنے والے کارپوریٹرس، عہدیداران، اراکین ایماندار ہیں؟ جب بحثیت عالم اے دین آپ کو اتنی بڑی ذمہ داری عوام نے دی تھی تو آپ کے اپنے لوگوں کا حساب کتاب اور رشوت خوری کو پوشیدہ کیوں رکھا گیا ؟
حضرت عمر ؓ کی طرح سیاست کرنی ہے تو کرو، ورنہ دنیاوی سیاسی مشیروں کی باتوں میں آکر اپنی عزت کو داغدار کرنا حماقت نہیں ہے کیا؟ ایک طرف آپ مسلمانوں کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف مسلمان کو شکست دینے کے لیے قیمتی وقت کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپئے خرچ کیے جاتے ہیں۔ کیا مسلمانوں کے لیے سیاسی میدان میں شیخ آصف نے کام نہیں کیا؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی اور شیخ آصف کے کاموں میں کتنا فرق ہے؟ اسلام پورہ کے مقصود انصاری کا کہنا ہے کے جب مفتی اسماعیل کو پہلے پانچ سال کا موقع دیا گیا تھا، تو سیاسی دلالوں کا فائدہ کرنے سے بہتر عوام کا فائدہ کرنا چاہیے تھا۔ اس انتخابات میں بھی مفتی محمد اسماعیل کی تشہیر میں خرچ کرنے والوں کا فائدہ کیا جائے گا یا عوام کا؟
آپ ایم ایل اے کیوں بننا چاہتے ہیں؟ پھر سے ٹھیکہ اپنی جان پہچان والوں کو دینے کے لیے؟ اگر مفتی اسماعیل نے پانچ سال اچھی کارکردگی کی ہوتی تو عوام اتنی بیوقوف نہیں تھی کہ دوبارہ مفتی اسماعیل کو منتخب نہیں کرتی۔ شہر کی عوام نے ایک روپیہ دے کر ووٹ کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ مفتی محمد اسماعیل قاسمی کا پہلا الیکشن تو فری میں ہوا تھا لیکن کنسٹرکشن والوں کا فائدہ کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ کمیشن زیادہ ملنے کی بنیاد پر؟ ووٹ بینک بڑھانے کی بنیاد پر؟ جب ممبئی رابطہ کے نمائندے نے عوام سے اُن کے خیالات جاننے کی کوشش کی تو لوگوں کے سوالات تھے، کے اگر مفتی صاحب کی نظر میں شیخ آصف چور ہے، دادا ہے، غنڈہ ہے، بدعنوان ہے تو آپ شفّافیت سے سیاست کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا جس طرح مدارس کا سالانہ گوشوارہ پیش کیا جاتا ہے، اسی طرح ایم ایل اے بننے کے بعد مفتی اسماعیل ہر سال جلسے کا انعقاد کرکے عوام میں جلسہ کے ذریعہ گوشوارہ پیش کیا جائے گا؟ آخر ایک عالم اے دین کو دُنیاوی سیاست کی اتنی چاہت کیوں ؟
مفتی صاحب کے پاس مہنگی مہنگی گاڑیاں پلاٹ مہنگی پوشاک خوشبو کے شوق کیا سچے عالم کی نشانی ہے ؟ ایک خاتون نے تو یہاں تک سوال کر لیا کے انتخابی جلسے میں شیخ آصف کی تنقید کرنے کی بجائے آپ منتخب ہونے کے بعد کیا کرسکتے ہو وہ بتاؤ؟ تین طلاق پر سیاست کرنے کا کیا مقصد آپ لوگوں میں بیداری پیدا کرتے کے تین طلاق ہے نا دیں اور دیں تو دین کے دائرے میں اور شریعت کے حکم کے مطابق دیں۔ کیا ایک سیاسی پارٹی کو دھوکا دے کے دوسری سیاسی پارٹی میں جانا پھر تیسری سیاسی پارٹی میں جانا عالم اے دین کا کام ہے، جب کے اللہ کے نبی نے فرمایا کے مسلمان دھوکے باز نہیں ہوگا۔ شہر کی عوام کو کام چاہیے شیخ آصف کی برائی نہیں۔ کئی لوگ آپ کے پراسرار کام سے آپ سے بدظن ہورہے ہیں شہر کے دیگر علمائے کرام سے بدظن ہورہے ہیں، تو اسلامی تعلیمات اور حالات حاضرہ کے اعتبار سے عوام کا بھروسہ علمائے کرام سے اٹھ جانا دین کو نقصان نہیں پہنچائے گا؟ سیاسی دلالوں کو خوش کرنے کے لیے علمائے کرام کی بدنامی کو قبول کریں گے ؟ آپ کی ٹیم میں رشوت خور، مخبر موجود ہیں پہلے ان کی اصلاح کریں یا انہیں پارٹی سے نکال کر صاف ستھرے افراد کو شامل کریں، تب ہی عوام کو کچھ امیدیں وابستہ ہوسکتی ہے۔
اور آپ کو اگر حکمرانی کا اتنا ہے شوق ہے تو آپ آزاد امیدوار کھڑے ہو جاتے، یہ مسلمانوں کے فائدے والی پارٹی تو مجلس بھی نہیں ہے. ممبئی کے کُرلا سے مجلس نے ایک غیر مسلمان کو ٹکٹ دے دی ہے تو یہ مسلمانوں کی پارٹی کہاں سے ہو گئی۔ مفتی محمد اسماعیل قاسمی کو دیگر ایم ایل ایز کے سامنے مثال بننا چاہیے تھا، لیکن ایک غیر مسلم اروند کیجروال سے مفتی محمد اسماعیل قاسمی کو سبق سیکھنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ سیاست نہیں ہورہی ہے تو چھوڑ دیں لیکن کرسی کی خاطر عوام کو بدگمانی کا شکار بناکر گمراہی کے دلدل سے باہر نکالیں۔ شہر کے ۵۰۰۰۰؍ سے زائد رائے دہندگان مفتی محمد اسماعیل قاسمی سے بدظن ہیں اسی لیے وہ شیخ آصف کو ووٹ کرتے ہیں، ایک عالم ہونے کے ناطے ان کی مخالفت کرنے کی بجائے ان کی قریب پہنچ کر انہیں اعتماد میں لیں ورنہ مزید داغدار ہونے کا خدشہ لاحق ہوجائے گا۔

بین الاقوامی خبریں

پاکستان کے بلوچستان میں باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے مستقبل کے بارے میں سوالات کھڑے کر دیے، باغی 85 فیصد علاقے پر کنٹرول کا دعویٰ کر رہے۔

Published

on

BALOCH

کوئٹہ : پاکستان کے بلوچستان میں صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ بلوچ مزاحمت کار پاکستانی فوج اور پولیس پر ٹارگٹ حملے کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ باغیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بلوچستان کا بیشتر حصہ پاکستان سے آزاد کرالیا ہے۔ وہ بلوچستان میں ایک الگ جھنڈے اور آئین کے ساتھ اپنی حکومت قائم کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے چین میں تناؤ میں بھی اضافہ کیا ہے، کیونکہ یہ صوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کا مرکز ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) اور ان سے وابستہ گروپوں نے پاکستانی فوج پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان گروہوں نے مختلف علاقوں میں بیک وقت حملے کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس صلاحیت نے پاکستانی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستانی فوج بلوچستان کے کئی علاقوں سے پسپائی اختیار کر چکی ہے۔ بلوچ مزاحمت کاروں نے افغانستان کے ساتھ سرحد بالخصوص افغانستان کے ساتھ سرحد کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی فوج کے کئی بنکرز اور چوکیوں کو تباہ کر دیا ہے اور وہاں اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔

بلوچ باغی پاکستانی فوج کے قافلوں، فوجی اڈوں اور سی پیک سے متعلقہ منصوبوں پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسٹریٹجک مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں گوادر کے آس پاس کے علاقے اور ریکوڈک جیسے معدنی وسائل کے منصوبے شامل ہیں۔ بلوچ باغی ہٹ اینڈ رن کے ہتھکنڈوں سے آگے بڑھ رہے ہیں اور گھات لگا کر حملے اور خودکش حملے سمیت مزید جدید ترین فوجی آپریشن کر رہے ہیں۔ ان حملوں نے پاکستانی فوج کے حوصلے پست کر دیے ہیں، جس سے ان کے صوبے میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پاکستان پر اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ انہوں نے کوئٹہ تفتان شاہراہ کو بلاک کر دیا ہے۔ ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والی گاڑیوں کو پنکچر کیا جا رہا ہے اور ان کے ٹائروں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ یہ پاکستان اور چین کو بلوچستان کے قیمتی وسائل نکالنے سے روکتا ہے۔ کئی بارودی سرنگیں بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ خضدار، تربت اور دالبندین سمیت متعدد علاقوں میں فرنٹیئر کور اور پاکستانی فوج کے قافلوں پر 48 سے زائد حملوں میں 35 سے زائد سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے تقریباً 12 اضلاع جن میں کیچ، کوئٹہ، نوشکی اور گوادر شامل ہیں، باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بلوچستان کا تقریباً 85 فیصد حصہ پاکستانی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے۔

بلوچستان میں باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے سی پیک کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گوادر پورٹ، سی پی ای سی کا ایک اہم منصوبہ، بلوچستان میں واقع ہے۔ سی پیک منصوبہ پاکستان کو بلوچستان کے راستے چین کے سنکیانگ سے ملاتا ہے۔ بلوچستان قدرتی گیس، کوئلہ، تانبے اور سونے کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ چین نے اس صوبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ لہذا، اگر بلوچستان غیر مستحکم ہو جاتا ہے، تو یہ چین کے سی پی ای سی کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جس میں اس نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں سائبر فراڈ، ایک کروڑ سے زائد کی ٹھگی، ۷ ملزمین گرفتار

Published

on

ARRESTED..8

ممبئی : سائبر پولس اسٹیشن نے ایک ایسے سائبر جرائم کا معمہ حل کرنے کا دعوی کیا ہے, جس میں شکایت کنندہ کو وہاٹس اپ پر۲ اپریل سے ۱۸ اپریل ۲۰۲۶ تک ڈیجیٹل اریسٹ کر کے منی لانڈنگ کیس میں پھنسانے کی دھمکی دی تھی اور فرضی الیکٹرانک ڈستاویزات ارسال کر کے آن لائن ایک کروڑ ۶۷ لاکھ ۴۰ ہزار کی دھوکہ دہی کی تھی, اس معاملہ میں ٹیکنیکل تفتیش کے دوران پولس نے۷ ملزمین کو گرفتار کیا ہے, جس کی شناخت سنجے ہیرا لال ۵۷ سالہ جو او ٹی پی تیار کیا کرتا تھا، ۳۲ سالہ خاتون ملزمہ دھوکہ کی رقم ٹھکانہ لگایا کرتی تھی، رشی رام چندر مینا ۳۸ بینک اکاؤنٹ میں دھوکہ دہی کی رقومات کی منتقلی کیا کرتا تھا، نوشاد علی ۳۱ سالہ شکایت کنندہ اور متاثرہ کو ڈیجیٹل اریسٹ کرنے کے ساتھ ڈیجیٹل طریقے سے اس گروہ میں کام کیا کرتا تھا, محمد خالد حفیظ الدین سیف ۲۷ ڈیجیٹل ماہر، جوگیش مہتا ۴۳ سالہ اور زبیر حسین کو اپنے اکاؤنٹ میں دھوکہ دہی کی رقم جمع کرنے میں تعاون کیا کرتے تھے ملزمین کے قبضے سے ۲۷ موبائل، ۲ لیپ ٹاپ، ۵ ڈیجیٹل سائن ڈیوائس ۶۱۳ متعدد کمپنیوں کے سم کارڈ ۱۰ چیک بک ۲ پاس بک ۲ اے ٹی ایم کارڈ ضبط کیے ہیں ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈیجیٹل اریسٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور ایسے میں نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر رابطہ نہ رکھیں, اگر کوئی ڈیجیٹل اریسٹ کی دھمکی دیتا ہے تو پر یقین نہ کرے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاوٹی دودھ فروخت کرنے والا گروہ بے نقاب… کرائم برانچ کی کاروائی، اب تک ۴ ملزمین گرفتار، مشین اور اسباب ضبط

Published

on

arrested...-1

ممبئی : نامور دودھ کمپنی میں گندہ پانی کر ملاؤٹی دودھ تیار کرنے والے گروہ کو ممبئی کرائم برانچ نے بے نقاب کیا تھا اور دہیسر میں نامور کمپنی کے دودھ میں ملاؤٹ کرنے والے ملزمین کو گرفتار کیا تھا امول اور تازہ دودھ کی تھیلیوں میں ملاؤٹی دودھ بھر کر اسے فروخت کیا جاتا تھا۔ اس معاملہ میں دو ملزمین کو ۹ جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد تفتیش میں پیش رفت میں یہ انکشاف ہوا کہ وسئی میں امول اور نامور کمپنیوں کی تھیلیاں طبع کی جاتی ہے اور اس گروہ کا ماسٹر مائنڈ کو تلنگانہ سے گرفتار کیا گیا دودھ کی تھیلیاں تیار کرنے والی مشین کو ۱۰ لاکھ روپے کو بھی ضبط کیا گیا ہے۔ یہ ممبئی شہر و مضافات میں ۲۰۲۱ سے دودھ میں ملاوٹ کر رہے تھے اور ملاؤٹی دودھ کی فروخت کی جارہی تھی. اس معاملہ میں کل ۴ ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں پولس نے چھاپہ مار کارروائی میں ملاؤٹی دودھ کی تھیلیاں اور دیگر اسباب ضبط کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی کرائم برانچ کی یونٹ ۱۲ نے انجام دی تھی. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے اور ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان