Connect with us
Wednesday,09-September-2026

(جنرل (عام

سپریم کورٹ نے معاملہ جوں کا توں رکھنے کا دیا حکم، ممبئی میٹرو کاکام جاری رکھنے کا فیصلہ

Published

on

آرے کالونی میں درخت کاٹنے پر سپریم کورٹ کی روک کے بعد ممبئی میٹرو ریل کارپوریشن نے بیان دیا ہے کہ ان کے پاس تو ۲۱۸۵؍درخت کاٹنے کی اجازت تھی
ممبئی :سپریم کورٹ نے پیر کے روز ممبئی کی آرے کالونی میں میٹرو پروجیکٹ کے لیے درخت کاٹنے پر روک لگا دی، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آنے میں کافی تاخر ہو گئی، کیونکہ ممبئی میٹرو ریل کارپوریشن نے کہا ہے کہ وہ معاملہ عدالت میں پہنچنے تک 2141 درخت کاٹ چکا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ممبئی میٹرو کے ترجمان نے کہا کہ اب مستقبل میں مزید درخت نہیں کاٹے جائیں گے۔ حالانکہ کاٹے گئے درختوں کو ہٹا کر جگہ صاف کرنے اور دیگر تعمیری کام جاری رکھنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ “ہم سپریم کورٹ کے حکم کی عزت کرتے ہیں اور اب آرے مِلک کالونی میں کار شیڈ سائٹ کے آس پاس کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا۔اس سے قبل سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل نے کہا تھا کہ میٹرو کو جتنے درخت کاٹنے تھے، اتنے کاٹ لیے گئے ہیں۔ اس پر عرضی دہندہ کے وکیل سنجے ہیگڑے نے عدالت کے سامنے اندیشہ ظاہر کیا کہ کٹے ہوئے درختوں کو ہٹانے کے نام پر مزید درخت کاٹے جا سکتے ہیں، اس پر عدالت نے جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ لیکن میٹرو کے بیان سے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کے حکم کو اس نے اہمیت نہیں دی ہے۔ اسی لیے میٹرو نے کہا ہے کہ نئے درخت کاٹے نہیں جائیں گے اور کٹے ہوئے درختوں کو ہٹانے کے ساتھ ہی شیڈ بنانے کا کام شروع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سوموار کو ممبئی کی آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی پر روک لگا دی تھی اور مہاراشٹر حکومت کو حکم دیا تھا کہ اگلی سماعت تک وہ اس معاملے میں موجودہ حالات کو بنائے رکھیں۔ معاملے کی اگلی سماعت 21 اکتوبر کو فاریسٹ بنچ کے سامنے ہوگی۔غور طلب ہے کہ قانون کے طالب علموں کے ایک گروپ کے ذریعے اس بارےمیں چیف جسٹس رنجن گگوئی کو لکھے گئے خط کے بعد یہ دو ججوں کی بنچ تشکیل کی گئی تھی۔ اس سے پہلے آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی پر روک لگانے کی مانگ کو لےکر بامبے ہائی کورٹ پہنچے لوگوں کی عرضی کو کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔سپریم کورٹ میں اس معاملے میں سینئر وکیل سنجےہیگڑے اور گوپال شنکرنارائنن نے درخواست گزاروں کی پیروی کی۔ انہوں نے کورٹ کو بتایا کہ آرے جنگل ہے یا نہیں، ابھی یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے زیر التوا ہے۔ اس کے علاوہ این جی ٹی اس معاملے پر غور کر رہی ہے کہ آرے علاقہ ایکو۔سینسٹو ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس لئے انتظامیہ کو فیصلہ آنے تک آرے کالونی کے درختوں کو نہیں کاٹنا چاہیے تھا۔
اس سے پہلے جمعہ کو بامبے ہائی کورٹ کے دو ججوں چیف جسٹس پردیپ نندراجوگ اور جسٹس بھارتی ڈانگرے کی بنچ نے درختوں کی کٹائی پر روک لگانے کے بارے میں این جی او اور ماہرِ ماحولیات کے ذریعے دائر کی گئی پانچ عرضیوں کو خارج کر دیا تھا۔گزشتہ جمعہ کو بامبے ہائی کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد رات کو نو بجے سے دو گھنٹے کے اندر ایم ایم آر سی ایل نے الیکٹرک مشین سے 450 درختوں کو کاٹ دیا تھا۔ حالانکہ مقامی لوگوں کے ذریعے مخالفت کے بعد کچھ دیر تک اس عمل کو روک دیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں پولیس کی مدد سے سنیچر رات نو بجے تک آرے کالونی کے تقریباً 2134 درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ممبئی پولیس نے آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی کو لےکر ہوئے مظاہرہ کے بیچ سنیچر کی صبح کالونی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جس کے بعد 29 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ اس معاملے کو لےکر گرفتار کئے گئے تمام مظاہرین کو رہا کیا جائے۔ اس پر بھروسہ دلاتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا، ‘ اگر کسی کو ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے تو ان کو فوراً رہا کیا جائے گا۔دریں اثناء آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے، جس پر آج سماعت ہوگی ۔ سپریم کورٹ رجسٹری کی جانب سے جاری ایک نوٹس میں اس بات کی معلومات دی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے قانو ن کے طالب علم رشبھ رنجن کے خط کو مفاد عامہ کی عرضی میں بدل کر اس کی آج سماعت کے لئے خصوصی بینچ تشکیل دی ہے ۔ بینچ صبح 10 بجے اس معاملے کی سماعت کرے گی ۔ قانون طالب علم نے خط میں لکھا ہے کہ بامبے ہائی کورٹ نے آرے کے درختوں کو جنگل کے زمرے میں رکھنے سے انکار کر دیا اور درختوں کی کٹائی سے متعلق عرضیاں مسترد کر دیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت بہت جلد بازی میں یہ فیصلہ لے رہی ہے ۔ واضح ر ہے کہ آرے میں کل 2700 درخت کاٹے جانے کا منصوبہ ہے، جن میں سے 1،500 درختوں کو گرا دیا ہے ۔میٹرو شیڈ کے لئے آرے کالونی کے درختوں کی کٹائی کی مخالفت سماجی اور ماحولیاتی کارکنوں کے ساتھ کئی معروف شخصیات کر رہی ہیں ۔

(جنرل (عام

ساکی ناکہ اسلم شیخ مین ہول سانحہ : امدادی رقم ۱۰ لاکھ بینک اکاؤنٹ میں جمع، مرحوم کی اہلیہ انجم شیخ نے مئیر کا کیا شکریہ ادا

Published

on

Ritu-Tawde

ممبئی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے 10 لاکھ کی مالی امداد انجم شیخ کے حوالے کی گئی ہے، مرحوم اسلم شیخ کی اہلیہ جو ساکی ناکہ (یادو نگر) کے رہنے والے ہیں جو خیرانی روڈ، کرلا میں ایک مین ہول کے سانحے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ انجم شیخ نے ایک خط بھیجا جس میں میئر، تمام سیاسی جماعتوں کے عوامی نمائندوں اور میونسپل انتظامیہ کو اس بحران کے دوران ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کی طرف سے فراہم کردہ فوری مدد اور کارپوریشن کی طرف سے بروقت فراہم کی جانے والی مدد کے لیے شکریہ ادا کیا۔ 2 جولائی 2026 کو پیش آنے والے سانحے کے بعد، مئیر ریتو تاوڑے شیخ خاندان سے تعزیت کے لیے پہنچی خاندان کی ضرورت مند حالات کو تسلیم کرتے ہوئے، اس نے فوری طور پر 10 لاکھ روپے کی مالی امداد کا وعدہ کیا تھا۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، کارپوریشن کے ‘ایل’ وارڈ (کرلا) دفتر نے اس معاملے کی پیروی کی، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور وراثت کے دستاویزات سے متعلق ضروری رسمی کارروائیوں کی تکمیل کو یقینی بنایا۔

4 اگست 2026 کو، 10 لاکھ کی رقم براہ راست انجم شیخ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی میونسپل کارپوریشن کو امداد کا تحریری اعتراف جمع کرواتے ہوئے، انجم شیخ نے اپنے خط میں کہا میئر کی طرف سے ہمارے خاندان کے لیے اس انتہائی مشکل وقت میں کیا گیا وعدہ پورا ہو گیا ہے۔ میں تمام جماعتوں کے عوامی نمائندوں، عہدیداروں، میئر، اور میونسپل افسران کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس سارے عمل میں رہنمائی اور تعاون کیا خاندان کے والد کفیل اسلم شیخ کے سانحہ ارتحال سے گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ تاہم، اس سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا فرض تھا۔ انجم شیخ کے خط میں ظاہر کیے گئے جذبات میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو زیادہ حساسیت کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ پی ایم او دفتر کا اہلکار بتا کر تقریب میں داخلہ کی کوشش دو زیر حراست

Published

on

ممبئی : وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ممبئی کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اس وقت ہلچل مچ گئی جب ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں واقع نیتا امبانی کلچرل سینٹر (این ایم اے سی سی) میں ایک نوجوان کو حراست میں لیا گیا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے اہلکار کے طور پر ظاہر کر کے داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ نوجوان کے ساتھ آنے والے ایک اور شخص کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حراست میں لیے گئے نوجوان کی شناخت 24 سالہ روہن پاریکھ کے طور پر کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روہن کے پاس ایک شناختی کارڈ تھا جس میں وزیر اعظم کے دفتر سے وابستگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی چیک کے دوران معائنہ کرنے پر کارڈ جعلی نکلا۔پی ایم او آفیشل ہونے کا دعویٰ کیا۔ ذرائع کے مطابق روہن پاریکھ نے خود کو وزیر اعظم کے دفتر کا اہلکار بتایا۔ وہ اس دعویٰ شدہ شناخت کی بنیاد پر تقریب کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وزیر اعظم کے طے شدہ پروگرام کی وجہ سے جائے وقوعہ پر تعینات سیکورٹی ایجنسیاں اور ممبئی پولیس پہلے ہی ہائی الرٹ پر تھی۔

سیکیورٹی اہلکاروں کو اس کی نقل و حرکت مشکوک معلوم ہوئی اور اس کے دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ جانچ کے دوران اس کے قبضے میں پی ایم او شناختی کارڈ مشکوک پایا گیا۔ چنانچہ اسے حراست میں لے لیا گیا، اور پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ باڈی گارڈ اس کے ساتھ قبضے سے بندوق برآمدہوئی ۔کیس کا ایک خاص طور پر سنگین پہلو یہ ہے کہ روہن پاریکھ تنہا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک فرد بھی تھا جو اس کے محافظ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ سیکیورٹی چیکنگ کے دوران اس شخص سے ایک بندوق برآمد ہوئی۔پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے سرکاری معلومات جاری نہیں کی ہیں کہ بندوق لائسنس یافتہ ہے یا غیر قانونی۔ حکام اس بات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا اس شخص کے پاس اسلحہ لے جانے کے لیے ایک درست لائسنس اور دیگر ضروری دستاویزات موجود تھیں۔ کرائم برانچ نے تفتیش شروع کر دی ہے واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے معاملے کی مزید تحقیقات ممبئی کرائم برانچ کو سونپ دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں کہ روہن پاریکھ نے مبینہ طور پر جعلی پی ایم او شناختی کارڈ کیوں بنایا اور اس کا اصل مقصد کیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی اس کی بھی تلاش کر رہی ہے کہ روہن نے شناختی کارڈ کہاں سے حاصل کیا، اس کے ساتھ آنے والے مسلح فرد سے اس کا تعلق اور اس واقعہ سے قبل دونوں نے کن مقامات کا دورہ کیا تھاسیکیورٹی ایجنسیاں بھی پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔ چونکہ یہ معاملہ وزیر اعظم کی شرکت سے متعلق ایک تقریب کا ہے، سیکورٹی ایجنسیاں بھی اس پورے واقعہ کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ پولیس فی الحال حراست میں لیے گئے دونوں افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور ان کے موبائل فون، شناختی دستاویزات اور دیگر سامان کی جانچ کر رہی ہے مزید قانونی کارروائی اور الزامات کی تصدیق کے بارے میں تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کے شمالی علاقہ میں منشیات فروشوں کے خلاف پولس کی سخت کارروائی، غیر قانونی گھر و قبضہ جات مسمار : ڈی سی پی گجانن راج مانے

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی پولیس نے منشیات فروشو ں کے خلاف اب سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ منشیات فروشوں پر قدغن لگانے کے لئے پولس نے ان کے غیر قانونی مکانات اور اثاثوں وملکیت کی مسماری اور بلڈورز ایکشن شروع کردیا ہے۔ پولیس ڈپٹی کمشنر، شمالی ممبئی 3، ممبئی کے حکم کے مطابق کرار پولیس تھانے کی حدود میں منشیات فروشی کرنے والے ریکارڈ پر موجود جرائم پیشہ مطلوب ملزمین کے گھر پر بی ایم سی اور پولس کی مشترکہ کارروائی میں گھروں اور جنگلات کی زمین پر قائم غیر قانونی قبضہ جات پر بلڈوزر چلایا گیا۔ جرائم پیشہ اور منشیات فروشوں میں 1) سائلہ سبھاش پٹیل عرف شالو عمر 35 سال عرف سائلہ بائی عرف شالو راجو پوار، 2) دھرمندر لوہاری جیسوار عمر 20 سال، 3) سکندر لوہار جیسوار عمر 21 سال، 4) پشپا نارائن تاڈے عمر 36 سال، 5) سبھاش موتی لال پٹیل عمر 49 سال، 6) بھرت عرف سونو رام ناتھ نشاد عمر 27 سال، 7) محمد ابراہیم عبدالعزیز شیخ عرف جون عمر 59 سال، 8) امنہ قدیر محمد انصاری عمر 39 سال، 9) عائشہ سلیم شیخ عمر 40 سال، 10) سنتوش اشوک شرکے عمر 21 سال، 11) غفران علی ممتاز علی خان عمر 35 سال شامل ہے ان کے غیر قانونی ٹھکانوں اور گھروں و مکانات پر پولس نے بی ایم سی کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائی کر کے مکانات کو ہی بلڈوز کردیا ہے۔ یہ پولیس تھانے کی حدود میں محکمہ جنگلات کے آپا پاڑہ، پالن نگر، بنجاری پاڑہ، پنپری پاڑہ، آدیواسی پوپٹ کمپاؤنڈ، امبیڈکر نگر، ماتنگ گڑھ، للوبھائی کمپاؤنڈ، جیسوار نگر، جامروشی نگر اس جگہ پر غیر قانونی گھر تعمیر کر کے مقیم تھے۔

ان کے خلاف این ڈی پی ایس قانون کے تحت وقتاً فوقتاً کرار پولیس تھانے میں مقدمات درج ہیں۔ مذکورہ منشیات فروشی کرنے والے ملزمان کے غیر قانونی گھروں پر کارروائی کرکے منشیات فروشی کے دھندے کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے آج تاریخ ۷ ستمبر کو صبح 10:00 بجے سے 16:00 بجے تک کرار پولیس تھانے اور محکمہ جنگلات کی جانب سے مشترکہ طور پر غیر قانونی 11 گھروں پر انہدامی کارروائی کی گئی مذکورہ کارروائی پولیس ڈپٹی کمشنر، گجانن شولنگ راجمانے، شمالی زون 3، ممبئی اوراسسٹنٹ پولیس کمشنر، سمتا نگر ڈیویژن، ممبئی کی رہنمائی میں کرار پولیس تھانے کے سینئر پولیس انسپکٹر سشیل کمار گائیکواڈ کی نگرانی میں کرار پولیس تھانے کے پولیس افسران اور عملدار نیز محکمہ جنگلات کے افسران و ملازمین کے ساتھ مشترکہ طور پر انہدامی کارروائی کو انجام دیا گیا اس سے منشیات فروشوں میں پولس اور بی ایم سی اور محکمہ جنگلات کی کارروائی کا خوف پیدا ہوگا اس کارروائی کے بعد منشیات فروشوں میں کافی دہشت ہے اس سے عوام میں پولس کے تئیں اعتماد بحال ہوا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان