Connect with us
Friday,18-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں الامین یونانی میڈیکل کالج کا عظیم الشان افتتاح

Published

on

مالیگاؤں (وفا ناہید )ریاست مہاراشٹر میں کل سات یونانی میڈیکل کالجز ہیں اور مزید پانچ کالج شروع ہونا چاہئے،آج حکومت ہندیونانی اور آیورویدک ادویات کو بڑھاوا دے رہی ہے کیونکہ یونانی قدیم طب ہے جو آج بھی ہے اور مستقبل میں بھی قائم رہے گا اس طرح کا اظہار خیال مسیحا ء عصر ڈاکٹر زبیر شیخ نائب صدر سینٹرل کونسل انڈین میڈیسن نے مالیگاؤں شہر میں الامین یونانی میڈیکل کالج کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ شہر مالیگاؤںمیں منصورہ کے بعد دوسری اقلیتی خاتون ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر انصرام الامین میڈیکل کالج کا افتتاح بروز اتوار 6 اکتوبر 2019 کو صبح 11 بجے مولانا عمرین محفوظ رحمانی کے دست مبارک سے ہوا، مولانا نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ایسے حالات میں ملک ہندوستان میں مسلم اقلیتی کالج قائم کرنا ایک کارنامہ عظیم ہے،یونانی ادویات ملک عرب اور یونان کی دین ہے، ایلوپیتھی کےدور میں طب یونانی سے استفادہ کیا جا رہا ہے ۔ ڈاکٹر اظہر احمد یونانی سائنسداں نے الامین کالج کے بانی مرحوم عبدالمطلب شیخ کو اس موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے الامین یونانی میڈیکل کالج کے مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا، انھوں نے کالج کی ترقی و کامرانی میں اپنے تعاون مشوروں اور خدمات کی یقین دھانی بھی کروائی، بعدازاں پرنسپل الامین میڈیکل کالج ڈاکٹر اظہر احمد نے کالج کی روداد کے بارے میں بتایا کہ اس کالج میں 75 فیصد طالبات اور 25 فیصد طلباء ہیں،کالج کی اجازت سال 2014 میں ملتوی کر دی گئی تھی لیکن چیئرمن رضوان شیخ کی کاوشوں سے سال 2019 میں حکومت ہند کی اجازت ملنے کے بعد آج عملی جامعہ پہنایا گیا، الامین یونانی میڈیکل کالج شہر کیلئے فخر کی بات ہے۔اس تقریب میں خاتون ایجوکیشن سو سائٹی صدر محمودہ آپا۔ چیئرمین رضوان شیخ اور وائس چیئرمین ریحان شیخ کا استقبال و اعزاز کیا گیا، نیز رضوان شیخ کی خدمت میں ایک سپاس نامہ تحریر کردہ عزیز اعجاز پیش کیا گیا، پروگرام کے اخیر میں رضوان مطلب نے تمام ہی مہمانان کرام کا شکریہ ادا کیا، موصوف نے کہا کہ خاتون ایجوکیشن سوسائٹی کا مقصد ہے کہ سماج کیلئے تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ سماج و معاشرہ اس سے استفادہ کریں، یونانی میڈیکل کالج کی مرحوم عبدالمطلب نے بنیاد رکھی تھی جو آج پایہ تکمیل تک پہنچا۔اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ مالیگاوں کی تاریخ میں نیا باب کھل رہا ہے ۔مرحوم عبدالمطلب سر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ۔جو لوگ خواب دیکھنے کے دلدادہ ہوتے ہیں ان کے لیے راتیں طویل ہوتی ہیں لیکن جو لوگ خواب کی تکمیل چاہتے ہیں ان کے لیے دن چھوٹے پڑتے ہیں ۔ اچھے دنوں کا خواب دکھانے والے آج ہر سو لوگ ادارے بناتے ہیں اور اپنے والدین کے نام سے منسوب کرتے ہیں لیکن رضوان عبدالمطلب نے اپنے یونانی میڈیکل کا نام الامین یونانی میڈیکل کالج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے منسوب کیا ہے۔یونان سے اس طب کا افتتاح ہوا لیکن اسے بڑھایا عربوں اور مسلمانوں نے ۔ ہم نے باپ دادا کے علوم کو اپنے سے الگ کردیا ۔بچے پڑھنے کو تیار نہیں اور معاشرہ تماشہ دیکھ رہا ہے ۔جہاں بارش نہیں ہوتی وہاں کی فصلیں خراب ہوجاتی ہیں اور جہاں تعلیم نہیں ہوتی وہاں کی نسلیں خراب ہو جایا کرتی ہیں ۔حکیم اجمل خان کو سات سمندر پار لے کر یورپ علاج کے لیے لے جایا جاتا تھا ۔حکیم عبدالوہاب نابینا تھے لیکن نبض دیکھ کر علاج کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ طب یونانی میں تاریخ ہے بس سمجھنے کی ضرورت ہے ۔سرپرستوں سے مخاطب ہو کر آپ نے کہا کہ ہم اپنے بچوںکے اہم ہاتھ میں کمپوٹر دیتے ہوئے ان کے دوسرے ہاتھ میں قرآن مجید بھی دیں ۔کل قیامت کے دن اولاد اپنے گناہوں کا بوجھ تنہا نہیں اٹھائے گی بلکہ ان کے ساتھ ان کے والدین بھی شامل ہوں گے۔ وقت کی رفتار کو قابو میں نہیں کیا جا سکتا ۔وقت کے ساتھ چلنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔استاد کے حوالے سے آپ نے کہا کہ استاد نسلوں کا محافظ ہوتا ہے۔ استاد جیسا ہوگا ویسا ہی شاگرد پیدا ہوگا ۔اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ روپیوں کی چمک دمک کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ آپ نسل نو معمار بنیں ۔آگر آج ہم تک علم کی کرنیں ہم تک پہنچ رہی ہیں تو یہ ہمارے صحابہ کرام کی ہمہ جہت کوششوں اور جد وجہد کا نتیجہ ہے۔افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی ڈاکٹر زبیر شیخ، ڈاکٹر اظہر احمد مولانا عمرین محفوظ رحمانی، اسحاق سیٹھ زر والا، مولانا عقیل ملی قاسمی رضوان شیخ، ریحان شیخ، ڈاکٹر وسیم یونانی سائنسداں، ڈاکٹر جاوید قریشی ،ڈاکٹر سلیم خان شاکر شیخ اور شہر مالیگاؤں کی تعلیمی، سماجی فلاحی و ملی شخصیات نے شرکت کی۔

جرم

میرابھائندرتقریبا 32 کروڑ کی منشیات ضبطی، ایک ہندوستانی خاتون سمیت دو نائیجرائی گرفتار، سوشل میڈیا پر گروپ تیار کر کے ڈرگس فروخت کیا کرتے تھے

Published

on

drug peddler

ممبئی : میرا بھائیندر پولیس نے ایک ہندوستان خاتون سمیت دو غیر ملکی ڈرگس منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ میرا بھائیندر کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ کاشی میرا میں شبینہ شیخ کے مکان پر منشیات کا ذخیرہ ہے اور وہ منشیات فروشی میں بھی ملوث ہے، اس پر پولیس نے چھاپہ مار کر 11 کلو 830 گرام وزن کی کوکین برآمد کی ہے۔ اس کے خلاف نوگھر پولیس میں این ڈی پی ایس کے تحت معاملہ درج کر لیا گیا، گرفتار ملزمہ نے پولیس کو تفتیش میں بتایا کہ وہ یہ منشیات غیر ملکی شہری انڈے نامی شخص سے خریدا کرتی تھی اور انڈری میرا روڈ میں ہی مقیم ہے اسے بھی گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضے سے بھی منشیات ضبط کی گئی اور نائیجرائی نوٹ 1000 برآمد کی گئی اور 100 امریکن ڈالر کی 14 نوٹ بھی ملی ہے۔ اس معاملہ میں تفتیش کے بعد دو نائیجرنائی اور ایک ہندوستانی خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کے قبضے سے دو کروڑ تیس لاکھ روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 100 امریکن ڈالر کی 14 نوٹ چار موبائل فون اس کے علاوہ 22 کروڑ تیس لاکھ روپے کی منشیات ضبطی کا بھی دعوی کیا ہے, یہ کارروائی میرا بھائیندر پولیس کمشنر مدھو کر پانڈے ایڈیشنل کمشنر دتاترے شندے، اویناش امبورے سمیت کرائم برانچ کی ٹیم نے انجام دی ہے۔ کرائم برانچ نے بتایا کہ یہ کوکین یہ نائیجرائی پیٹ میں چھپا کر یہاں لایا کرتے تھے۔ یہ کوکین ساؤتھ امریکہ میں تیار کیا جاتا ہے، یہ کوکین ہوائی جہازکے معرفت انسانی جسم میں چھپا کر لایا جاتا ہے۔ پہلے یہ ممبئی ائیر پورٹ پر پہنچایا جاتا ہے اور پھر ممبئی میں سڑکوں کے راستے سے متعدد علاقوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد گروپ تیار کرکے ملزمین ڈرگس فروخت کیا کرتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پوائی چوری کی وارداتوں میں ملوث دو گرفتار، ملزم نے چوری کی موٹر سائیکل سے ہی واردات دی تھی انجام

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی پولیس نے 48 گھنٹے کے اندر چوری کے دو معاملات حل کرتے ہوئے دو ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی کے پوائی پولیس اسٹیشن کی حدود میں 5 اپریل کو صبح دو اچکوں نے طلائی زنجیر اچک لی تھی، ان کے قبضے سے 30 گرام کی طلائی زنجیر بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ دوسرا واقعہ پوائی علاقہ میں آئی آئی مارگ گیٹ کے سامنے پیش آیا تھا، جس میں ملزمین دریافت کیا تھا کہ میڈیکل کہاں ہے اور پھر شکایت کنندہ کے چہرہ پر گندہ کپڑا پھینک کر 15 گرام سونے کے ہار لے کر فرار ہوگئے تھے۔ اس معاملہ کی سنجیدگی سے تفتیش کی گئی, دوسرے روز ساڑھے آٹھ بجے ہیرا نندانی گارڈ کے پاس ملزمین نے 45 سالہ خاتون کے گلے میں سونے کے دو ہار جن کا وزن 20 گرام تھا اچک کر موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔ ان تمام چوری کو حل کرنے کے لئے پولیس نے تفتیش کے دوران 100 سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا، اس میں معلوم ہوا کہ ملزمین بہرام باغ کی جانب فرار ہوئے ہیں، پھر ان دونوں ملزمین کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے 30 گرام سونے کے زیورات برآمد کئے گئے ہیں۔ ملزمین نے واردات کے لئے جو موٹر سائیکل استعمال کی تھی اسے بھی ضبط کیا گیا ہے, پپو گجیندر مشرا 20 سالہ اور سنیل گنگا موہتے 20 سالہ کو اندھیری سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم پپو مشرا کے خلاف 6 ماہ قبل رابوڑی پولیس اسٹیشن میں چوری کا معاملہ بھی درج ہے اور اس نے چھ ماہ قبل ہی موٹر سائیکل چوری کی تھی۔ اب اس چوری میں بھی استعمال کیا گیا تھا یہ اطلاع آج یہاں ممبئی زون 10 کے ڈی سی پی نے دی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

سپریم کورٹ میں وقف قانون پر سماعت کے دوسرے دن، مرکزی حکومت کو جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا، قانون پر فی الحال کوئی روک نہیں…

Published

on

Court-&-Waqf

نئی دہلی : وقف ایکٹ پر سپریم کورٹ میں جمعرات کو دوسرے دن بھی سماعت ہوئی۔ مرکزی حکومت نے اس معاملے پر جواب دینے کے لیے سپریم کورٹ سے ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے مرکز کو 7 دن کا وقت دیا۔ ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے کہا کہ فی الحال اس قانون کے حوالے سے صورتحال جوں کی توں رہے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگلے احکامات تک وقف بورڈ میں کوئی تقرری نہیں کی جائے گی۔ مرکزی حکومت کی طرف سے جواب آنے تک وقف املاک وہی رہے گی۔ کلکٹر اگلی سماعت تک وقف املاک سے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ سماعت تک کوئی بورڈ یا کونسل مقرر نہیں کی جاسکتی اور اگر جائیدادیں 1995 کے ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں تو انہیں نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ ایگزیکٹو لیتی ہے اور عدلیہ فیصلہ کرتی ہے۔

سی جے آئی نے کچھ لوگوں کو 2013 کے قانون کو چیلنج کرنے والی عرضی کا جواب داخل کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ ایک خاص معاملہ ہے۔ سی جے آئی نے کہا، ‘درخواست گزاروں کو جواب داخل کرنے کی اجازت ہے۔’ مرکزی حکومت، ریاستی حکومتیں اور وقف بورڈ بھی 7 دنوں کے اندر اپنا جواب داخل کر سکتے ہیں۔ سب کو جلد از جلد جواب دینا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت کے جواب کے بعد عرضی گزار صرف 5 عرضیاں داخل کرے۔

  1. پہلا مسئلہ وقف املاک سے متعلق ہے۔ عدالت نے کہا کہ جن جائیدادوں کو عدالت نے وقف قرار دیا ہے انہیں وقف سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ خواہ یہ وقف کے استعمال سے بنایا گیا ہو یا اعلان سے، اسے وقف سمجھا جائے گا۔
  2. دوسرا مسئلہ کلکٹر کی کارروائی سے متعلق ہے۔ کلکٹر اپنی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے۔ لیکن، کچھ دفعات لاگو نہیں ہوں گی۔ اگر کلکٹر کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ عدالت میں درخواست دائر کر سکتا ہے۔ عدالت اسے بدل سکتی ہے۔
  3. تیسرا مسئلہ بورڈ اور کونسل کی تشکیل سے متعلق ہے۔ عدالت نے کہا کہ سابق ممبران کسی بھی مذہب کے ہو سکتے ہیں۔ لیکن باقی ممبران صرف مسلمان ہونے چاہئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض عہدوں پر فائز افراد بورڈ میں شامل ہو سکتے ہیں، چاہے ان کا کوئی بھی مذہب ہو۔ لیکن، باقی ارکان کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔

لائیو لا کے مطابق، سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کچھ باتیں کہیں۔انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ترمیم شدہ قواعد کے مطابق، سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تقرری نہیں کی جائے گی۔ تشار مہتا نے یہ بھی کہا کہ وقف بشمول صارف کے ذریعہ وقف، چاہے نوٹیفکیشن کے ذریعہ اعلان کیا گیا ہو یا رجسٹرڈ، اگلی سماعت تک منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، “وقف، بشمول وقف صارف کے ذریعہ، چاہے اعلان کیا گیا ہو یا رجسٹرڈ، اگلی تاریخ تک غیر مطلع نہیں کیا جائے گا۔” یعنی اگلی سماعت تک وقف بورڈ پہلے کی طرح کام کرتا رہے گا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ درخواست گزاروں کی جانب سے سپریم کورٹ میں کئی بڑے وکیل موجود تھے۔ سینئر وکیل راجیو دھون، کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی کی طرح، سی.یو. سنگھ، راجیو شکدھر، سنجے ہیگڑے، حذیفہ احمدی اور شادان فراست بھی درخواست گزاروں کے لیے موجود ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا عدالت میں موجود ہیں۔ سینئر وکیل راکیش دویدی اور رنجیت کمار بھی ان کے ساتھ ہیں۔

قبل ازیں عبوری حکم نامہ جاری ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ بدھ کو عدالت نے حکم لکھنا شروع کیا تھا لیکن سالیسٹر جنرل اور کچھ ریاستوں کے وکلاء نے اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔ ان ریاستوں نے وقف ایکٹ کی حمایت کرتے ہوئے مداخلت کی درخواستیں دائر کی ہیں۔ وکلا کی درخواست پر چیف جسٹس نے کیس کی سماعت آج تک کے لیے ملتوی کر دی۔ بدھ کو چیف جسٹس نے چند شرائط کے ساتھ عبوری حکم نامے کا مسودہ تیار کیا تھا تاہم اپوزیشن نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع نہیں دیا گیا۔ عدالت عظمیٰ نے 16 اپریل 2025 کو نوٹس جاری کرنے کا عمل شروع کیا تھا لیکن اپوزیشن کی مخالفت کے باعث یہ مکمل نہ ہو سکا۔ یہ مقدمہ وقف بورڈ اور اس سے متعلقہ قانونی دفعات سے متعلق ہے، جس میں کئی ریاستی اور مرکزی فریق شامل ہیں۔ عدالت کا فیصلہ کیس کے اگلے مراحل کا تعین کرے گا۔ یہ سماعت نہ صرف وقف بورڈ کے لیے بلکہ اس سے وابستہ تمام فریقین کے لیے بھی اہم ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com