Connect with us
Tuesday,04-August-2026

سیاست

گرم،دولیڈران کرسی کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف

Published

on

mufti

مالیگاؤں:سابق رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کرنے والے خود اپنی ہی باتوں پر کیوں نہیں جمے رہتے ہیں؟یہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے جلسے گاہ میں آج جو بیان بازی اور تقریر کریں گے آئندہ پانچ سال بعد سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے میں وقت نہیں لگے لگا۔ اپوزیشن جماعت اس کام کو بہت ہی خوبصورت انداز میں شارٹ کلپ کے ذریعے وائرل کرتی ہے۔ جس طرح تیسرا محاذ سے عوام نے بھرپور تائید مفتی اسماعیل کو دی تھی کیونکہ کوئی سیاسی بدنما داغ دامن میں نہیں تھا۔تیسرا محاذ سے جیت درج کرانے کے بعد سیاسی پلیٹ فارم سے خود کی حمایت حاصل کرنےکے لیے فتویٰ جاری کیاتھا کہ این سی پی کو ووٹ دینا حرام ہے۔ ہر بات کی طرح عوام نے اس بات کو بھی تسلیم کرلیا تھا کہ این سی پی کو ووٹ دے کر حرام کام میں ملوث نہیں ہوں گے۔ لیکن اپنی چھتری میں کوّا بھی حلال والی پالیسی اپنا کر این سی پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ کیونکہ سابق ایم ایل اے کو پتہ تھا کہ میری اندھی عقیدت میں مبتلا شہر کی اکثریت میرا ہی ساتھ دیں گی۔لیکن سیاسی حربہ استعمال کرنے میں ناکام ہوگئے ، سیاسی تڑ جوڑ کا تجربہ نہ ہونے کی بناء پر کانگریس و این سی پی کا اتحاد ہونے پر رولنگ ایم ایل اے شیخ آصف کو ٹکٹ ملنا طے تھا۔ اتحاد کی بناء پر این سی پی کو بھی کانگریس کا سپورٹ کرنا پڑتا تھا ،بات کرسی کی تھی، لڑائی کرسی کی تھی اس لیے بہانہ بازی کا صحیح موقع تین طلاق کا مل گیا اور پارٹی کو نازک وقت میں چھوڑ کر علٰحیدہ ہوگئے۔ جب این سی پی میں تھے تب مجلس اتحادالمسلمین کو فرقہ پرست پارٹی کا لقب بھی دے دیا تھا، ان کے باپ دادا کی تاریخ بھی مختصر میں بیان کردی تھی ۔ مزید کہا تھا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے ورنہ بہت لمبی کہانی ہے۔
جو اکبرالدین اویسی کو ،اسدالدین اویسی کو ،صلاح الدین اویسی کو اور عبدالواحد اویسی تک کو فرقہ پرست بول دے پھر بھی انہیں ٹکٹ دے دیا جائے، تو مجلس کوایم ایل اے بڑھانے کی خاطر باپ داداؤں کو برا بولنے والے شخص کو بھی ٹکٹ دینا درست ہے؟ایک طرف اعجاز خان نے ایک چھوٹی سی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی تو اسے ٹکٹ نہیں دیا گیالیکن ہزاروںکے مجمع میں مفتی محمد اسماعیل قاسمی اویسی برادران او ر ان کے باپ داداؤں کی کہانیاں منظر عام پر لانے کی کوشش بھی کریں تو انہیں ٹکٹ دے دیا جاتا ہے ۔ مجلس اتحادالمسلمین نے ٹکٹ کے معاملہ میں انصاف کیا؟کیا یہ سب حرکتیں عوام کو گمراہ کرنے کی نہیں ہیں؟عوام اس چیز کو بھی مان لیتی ہے کہ مفتی محمد اسماعیل قاسمی پہلے جمعیۃ علماء مالیگاؤں کے صدر ہیں بڑے عہدے پر فائزہیں بعد میں سیاسی شخصیت ہیں ،مجلس کو فرقہ پرستی کا خطاب دینا جمعیۃ علماء کا موقف ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ کوئی بھی فرقہ پرست پارٹی کو حمایت نہیں دیتی ہےچاہیے وہ مسلم فرقہ پرست پارٹی ہی کیوں نہ ہو اسی بنیاد پر مجلس اتحادالمسلمین کی حمایت جمعیۃ علماء نہیں کرتی ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر گلزار اعظمی نے چند روز قبل شیخ آصف کی حمایت میں بات کی گلزار اعظمی چاہتےہیں کہ شیخ آصف ایم ایل اے بنے،لیکن کیوں؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی میں سیاسی سمجھ بوجھ کم ہے؟وہ صحیح کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں؟سیاسی صلاحیت شیخ آصف میں زیادہ ہے؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی فرقہ پرست پارٹی سے جڑے ہیں؟پانچ سال عوام نے دیاتھا تو کیا کام کرے تھے؟عوام کو بیوقوف بنانے میں یا ٹھیکیداروں کو خوش کرنے میں مصروف تھے؟یا سیاسی دلالوں کا دائرہ وسیع کرنے کی محنت میں وقت ضائع کرتے رہے تھے؟ عوام سے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگیں ،بیوقوف بناکر نہیں ۔حالیہ ایم ایل اے شیخ آصف اورسابق ایم ایل اے شیخ رشید کانگریس کے دور میں ۲۰؍ سال تک شہر کے خزانے پر امت کی امانت کا کتنا خیال رکھا؟ ۲۰؍ سالوں میں کتنا کام کیاجاسکتا تھا؟ کارپوریشن میں سب بڑے بڑے عہدوں پر گھر کے لوگوں کو بٹھایا گیا۔ شہر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ کام کے معاملہ میں بات ہی نہ کروپھر سالانہ پانچ سو کروڑ روپئےمیں سے اخراجات کہاں کہاں کئےجارہے ہیں؟کانگریس نے ریزرویشن نہیں دیا تو بھی کانگریس کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑا؟ کانگریس سے فائد ہ ملے تو امت کو پستی میں ڈھکیل دیا جاتا ہے کیا؟کانگریس کے دور میں شہرمالیگاؤں کے بے گناہوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا تو شیخ آصف نے بے گناہ ثابت ہونے والےمظلومین کے حق میں کانگریسیوں سے معافی کیوں نہیں منگوائی ؟جن فرقہ پرست ذہنیت کے پولس افسران نے مل کر بے گناہوں کو بلاسٹ کے معاملہ میں پھنسایا ان کو کانگریس نے ملازمت سے معطل کیوں نہیں کروایا؟ بلکہ ان کا پرومشن ہوگیا تو کیاکانگریس مسلم دشمنی میں ملوث تھی؟مسلم کانگریسی ایم ایل ایز و کارپوریٹرس کانگریسی قدآور لیڈران کی ایسی قدر کرتے ہیں جیسی قطب ،ابدال کی قدر کی جاتی ہے۔ کانگریس کے دور اقتدار میں مرکزی حکومت میں سابق وزیر رہ چکے سلمان خرشید نے کہا کہ کانگریس کے ہاتھوں پر مسلمانوں کے خون کے دھبے ہیں۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ سلمان خرشید نے اعتراف کیا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ براسلوک کیا۔
مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والی پارٹی سے شیخ آصف نے کیوں ٹکٹ لیا؟ کانگریس سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ مالیگاؤں کے بے قصور قیدیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے کہ جس پارٹی نے انہیں دس سال بغیر کسی ظلم کے سلاخوں کے پیچھے سڑایا ہےاور ان کی جوانی کے ایام برباد کریں ہیں پھر بھی ان ظالم پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا؟ ملک میں بہت سی پارٹیاں ہیں لیکن کانگریس ہی کیوں؟ زیادہ بدعنوانی کرنے کا موقع دیتی ہے؟بڑے گھوٹالے کی اجازت آسانی سے ملتی ہے؟ کوئی حساب کتاب لینے والاموجود نہیں ہے؟شیخ آصف کے حامیوں کی تعداد بہت ہی کم ہے؟آزادامیدوار انتخابات کے میدان میں جیتا نہیں جاسکتا؟آپ کے حلقہ کی بغل میں دھولیہ شہر اسمبلی حلقہ ہے ،وہاں انیل اننا گوٹے، راج وردھن کدم بانڈے، ڈاکٹر مادھوری بافنا، رنجیت راجے جیسے قدآور لیڈران آزاد امیدواری کررہے ہیں اور ان چار میں سے ہی ایک ایم ایل اے بننے والاہے۔دھولیہ کی طرز پر مالیگاؤں میں انتخابات نہیں ہوسکتے ؟ ایک امیدوار نے منافرت پھیلانے والی مذہبی نعرہ بازی کی پارٹی کا دامن پکڑ لیا تو دوسرا امیدوارکو مسلمانوں کو دیمک کی طرح کھانے والی پارٹی کا سہارا لینا پڑا۔ آخر کیوں دونوں امیدوار آزاد انتخاب میں حصہ لینے پر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں؟ پارٹی فنڈکے چکر میں؟ منتخب ہونے کے بعد پانچ سال تک مزہ لینے کے لیے ؟ عوام کو کیوں نہیں بتایا جاتا ہے کہ مالیگاؤں شہر میں روزانہ پینے کا پانی مہیا کرایا جائے گا؟اقلیتی کالجس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔شہر میں روزگار دستیاب کرایا جائے گا۔راستوں کی مرمت کی جائے گی، آمدورفت کی سہولیات کے لیے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کا طریقہ اپنایا جائے گا۔ کیا یہ دونوں سیاسی لیڈران کے مشیر چاہتے ہیں کہ پڑھی لکھی عوام انہیں سیاسی دلال کا لیبل نہ لگا دیں؟روزگار میسر ہونے کے بعد ان کی ورکری کون کرے گا؟ ان کی آفس کون ڈالے گا؟ ایک چائے کے لیے ان کی خوشامد کون کریں گا؟ ورکری کے نام پر چلر کون دے گا؟ اپنی جھوٹی شہر ت اور انا کے خاطر لاکھوں افراد کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ جہاں ایم ایل اے مسلم ، میئر مسلم، اسٹینڈنگ کمیٹی کا صدر مسلم ،نائب مئیر مسلم ،ہاؤس لیڈر مسلم وہ شہر کیسا ہونا چاہیے؟ اگر عوام ان کی پراپرٹی پر نظر دالیں تو حقیقت سامنے آجائے گی عوام کی محنت کے روپئے کیسے ان کی تجوری میں جاتے ہیں اور لیڈران کیسی مستی میں ملوث ہوتے ہیں۔ مالیگاؤں شہر ملک کے مسلمانوں کے لیے باعث فخر ہیں کہ میناروں کے اس شہر میں تعلیم یافتہ افراد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ملکی سطح پر اعلیٰ مقام تک پہنچے والے افراد کی اہم ذمہ داری ہے کہ ایم ایل اے و سابق ایم ایل اے کے نئے پرانے فتنوں سے اہلیان شہر کو نجات دلانے میں اہم رول ادا کریں۔خود شہر کی ترقی کے لیے قربانی پیش کرکے سیاست میں قدم رکھیں انہیں آخری موقع دیں بعد میں دونوں سیاستداں کے لیے مثال بنے کہ مالیگاؤں شہر بھی سنگاپور بن سکتا ہے اگر شہر کاخزانہ دیانتدار اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کے ہاتھوں میں آجائے۔ ٹھیکہ پر کام دے کر کمیشن کھانے والوں کا کاروبار ختم ہونا چاہیے ۔ پہلے تو کام نہیں کرتے ہیں دوسری بات اگر کام کریں گے بھی تو بہت زیادہ کمیشن پر کام کرنے سے کام کی کوالیٹی اثرانداز ہوجاتی ہے۔ اس انتخاب میں عوام ان سے کہہ کہ کون سال بھر کا گوشوارہ عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ؟ دونوں میں سے جو بھی فرد تیار ہو اسے ووٹ دیں یا کام کی بنیاد پر ووٹ دینے کو اولیت دی جائے۔ دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں اسٹیج لگاکر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ان سے کہو اسٹیج پر کام کی بات کریں اگر آپ کو علم ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث ہے تو پولس اسٹیشن میں جاکر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کراؤ اور ایف آئی آر کی کاپی جلسہ میں تقسیم کرو۔ اگر ایسا نہیں کرسکے تو سمجھ لو یہ دونوں مل کر عوام کو الو بنارہے ہیںاور گنگا دھر ہی شکتی مان ہے ۔اگر ان دھوکے باز کے دھوکے سے باہر نہیں نکلے گے تو پورا ملک سدھر جائے گا لیکن مالیگاؤں سدھر نہیں سکتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کے رہنما ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر میں ووٹروں کی تصدیق کی آخری تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا۔

Published

on

abu-asim

ممبئی : سماج وادی پارٹی کے رہنما اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم سے ملاقات کی اور ایک رسمی میمورنڈم پیش کیا۔ اس میں، انہوں نے انتخابی فہرست کے خصوصی سمری ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کی آخری تاریخ 31 اگست 2026 تک بڑھانے پر زور دیا۔ اپنے میمورنڈم میں اعظمی نے مختلف انتخابی حلقوں میں ووٹر کی تصدیق کے عمل کے دوران پیش آنے والی مختلف عملی اور تکنیکی دشواریوں پر روشنی ڈالی۔ اٹھائے گئے اہم مسائل میں شدید بارش کی وجہ سے شہریوں کو ہونے والی تکلیف اور انتخابی ڈیوٹی پر مامور عملے پر اضافی دباؤ شامل ہے۔ بہت سے بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) جن میں سے ایک بڑی تعداد اساتذہ کی ہے اپنی باقاعدہ اسکول کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اس دوہری ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے شدید تھکن ہے۔ مزید برآں، اعظمی نے لاجسٹک چیلنجز کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بہت سے بی ایل او دور دراز کے علاقوں جیسے کہ رائے گڑھ، تھانے اور بوریولی میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے اپنے مقرر کردہ علاقوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان خطوں میں تارکین وطن اور دوسری ریاستوں کے لوگوں کی زیادہ تعداد کو دیکھتے ہوئے، دستاویزات اور آن لائن تصدیق کے عمل میں وقت درکار ہے، جس کی وجہ سے بی ایل اوز کے لیے مقررہ وقت کے اندر کام مکمل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اعظمی نے خدشہ ظاہر کیا کہ انتظامی اور تکنیکی تاخیر کے نتیجے میں ہزاروں اہل رائے دہندگان ووٹر لسٹ سے باہر رہ سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور آخری تاریخ میں توسیع کرے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام اہل شہریوں کا ووٹر لسٹ میں اندراج کیا جا سکے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پولس تنخواہ فراڈ : سمتا نگر پولس اسٹیشن میں دھوکہ دہی کا کیس درج، معطلی کے ساتھ برخاستگی کارروائی کا بھی امکان

Published

on

police case

ممبئی پولس محکمہ میں ہی تنخواہ گھوٹالہ کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد دو پولس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کے ساتھ انہیں ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے, جس کے بعد پولس محکمہ میں ہی پلچل مچ گئی ہے۔ ممبئی پولیس فورس میں تنخواہوں کے گھوٹالہ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس معاملے میں ایک اور بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ اس جرم میں ملوث دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ سمتا نگر پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔ اس وقت کے چیف کلرک ملزم وجے چوان اور اس وقت کے سینئر کلرک امول میمرام کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے۔ دونوں کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سمتا نگر پولس اسٹیشن میں درج کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ تنخواہ گھوٹالہ دھوکہ دہی، فرضی دستاویزات تیار کر کے اور سازش کی گئی تھی۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک دونوں ‘سروس سے معطل’ رہیں گے۔ معطلی کے احکامات جوائنٹ کمشنر آف پولیس، انتظامیہ نے جاری کیے ہیں۔

الزام ہے کہ پولیس اہلکار ہونے کا بہانہ کر کے کروڑوں روپے کے تنخواہ کے گھپلے میں غیر پولیس والے ملوث تھے۔ اس وقت کے انتظامی افسران رام کشن گوسوامی، ناگیش تلواڈیکر، وجے چوان اور دیگر کے خلاف سنگین الزامات ہیں۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے جھوٹی سیلری سلپس جمع کر کے سرکاری فنڈز کا غلط استعمال اور غبن کیا۔ اس معاملے میں الزام ہے کہ حکومت کے ساتھ 6 کروڑ 41 لاکھ 14 ہزار 36 روپے کی دھوکہ دہی کی گئی۔

اس کیس میں ہیڈ کلرک اجے راٹھوڑ اور جونیئر کلرک امول میشرم بھی ملوث ہیں۔ متعلقہ افراد کے خلاف دھوکہ دہی، ہفتہ خوری، جعلی دستاویزات کی تیاری اور شواہد کو تباہ کرنے سمیت مختلف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ آئی پی سی کی دفعہ 409، 420، 406، 467، 465، 471، 201، 120 (بی) اور 34 کے تحت قانونی شکایت درج کی گئی ہے۔

یہ گھپلہ 2019 اور 2020 میں ہوا تھا۔ شبہ ہے کہ یہ گھپلہ دسمبر 2019 اور پھر 2020 میں جنوری، فروری اور پھر جون سے ستمبر 2020 کی تنخواہوں میں ہوا تھا۔ تحقیقات میں 2019 اور 2020 کے درمیان تنخواہوں کے کھاتوں میں تضاد پایا گیا ہے۔ اشتہاری افسران اور ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شبہ ہے کہ انتظامی اور تنخواہوں کے محکموں کے افسران و ملازمین نے ملی بھگت سے یہ غبن کیا۔

Continue Reading

سیاست

جموں و کشمیر : سیکورٹی فورسز نے مشتبہ دہشت گردانہ سرگرمی کے بعد پونچھ میں تلاشی آپریشن شروع کیا۔

Published

on

kashmir

جموں : جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں سیکورٹی فورسز نے دو الگ الگ گروپوں کی مشتبہ دہشت گردانہ نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد منگل کو ایک بڑا تلاشی آپریشن شروع کیا۔ حکام نے بتایا کہ مشترکہ فورسز نے ضلع کے دور افتادہ علاقے سورنکوٹ میں دو مقامات پر مشتبہ دہشت گردانہ نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد آپریشن شروع کیا۔ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے دستوں نے، راشٹریہ رائفلز کے دستوں کی مدد سے، دھارا سانگلہ، گجر نار، اور کھیرووالی ڈھوک علاقوں کے ساتھ ساتھ قریبی جنگلاتی دیہاتوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔

حکام نے بتایا کہ گھنے جنگلاتی علاقے میں آپریشن جاری ہے۔ تاہم ابھی تک مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ کوئی رابطہ یا فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔ حکام نے کہا کہ “دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لیے ایک منظم آپریشن جاری ہے۔” دریں اثنا، ایک اور واقعہ میں، منگل کی صبح کٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک مکان کے صحن سے ایک زنگ آلود پرانا مارٹر گولہ برآمد ہوا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ نہ پھٹنے والا خول اس وقت ملا جب کٹل برہمن گاؤں میں سبھاش چندر کے گھر کی کھدائی کرنے والے کارکنوں نے مشتبہ چیز کو دیکھا اور فوری طور پر حکام کو مطلع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچی اور علاقے کو محفوظ کرلیا۔

نہ پھٹنے والے مارٹر گولے، جنہیں اکثر “غیر پھٹنے والا آرڈیننس” کہا جاتا ہے، مرکزی علاقے کے سرحدی علاقوں میں مختلف تاریخی اور تزویراتی وجوہات کی بناء پر کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع سرحدی دیہات کئی دہائیوں سے فوجی تنازعات اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے گواہ ہیں۔ بھاری توپ خانے کی فائرنگ کے دوران ہزاروں مارٹر گولے داغے جاتے ہیں۔ ان گولوں کی ایک بڑی تعداد مکینیکل ناکامی، نرم زمین، یا فیوز کی خرابی کی وجہ سے اثر پر پھٹنے میں ناکام رہتی ہے۔

پونچھ، کپواڑہ اور راجوری جیسے علاقوں کا سرحدی علاقہ بہت پہاڑی، جنگلاتی اور دلدلی ہے۔ جب مارٹر گولہ کیچڑ، گھنے پودوں یا نرم قابل کاشت مٹی میں گرتا ہے تو اس کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ یہ اکثر فیوز کو چالو کرنے میں ناکام رہتا ہے اور دھماکے کا سبب بنتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ متحرک خول گاد یا انڈر برش کے نیچے دب جاتے ہیں۔ مارٹر گولے جو مہینوں یا دہائیوں تک زیر زمین دفن رہتے ہیں وہ اکثر ماحولیاتی تبدیلیوں یا انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے بے نقاب ہوتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان