Connect with us
Saturday,02-May-2026

سیاست

گرم،دولیڈران کرسی کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف

Published

on

mufti

مالیگاؤں:سابق رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کرنے والے خود اپنی ہی باتوں پر کیوں نہیں جمے رہتے ہیں؟یہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے جلسے گاہ میں آج جو بیان بازی اور تقریر کریں گے آئندہ پانچ سال بعد سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے میں وقت نہیں لگے لگا۔ اپوزیشن جماعت اس کام کو بہت ہی خوبصورت انداز میں شارٹ کلپ کے ذریعے وائرل کرتی ہے۔ جس طرح تیسرا محاذ سے عوام نے بھرپور تائید مفتی اسماعیل کو دی تھی کیونکہ کوئی سیاسی بدنما داغ دامن میں نہیں تھا۔تیسرا محاذ سے جیت درج کرانے کے بعد سیاسی پلیٹ فارم سے خود کی حمایت حاصل کرنےکے لیے فتویٰ جاری کیاتھا کہ این سی پی کو ووٹ دینا حرام ہے۔ ہر بات کی طرح عوام نے اس بات کو بھی تسلیم کرلیا تھا کہ این سی پی کو ووٹ دے کر حرام کام میں ملوث نہیں ہوں گے۔ لیکن اپنی چھتری میں کوّا بھی حلال والی پالیسی اپنا کر این سی پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ کیونکہ سابق ایم ایل اے کو پتہ تھا کہ میری اندھی عقیدت میں مبتلا شہر کی اکثریت میرا ہی ساتھ دیں گی۔لیکن سیاسی حربہ استعمال کرنے میں ناکام ہوگئے ، سیاسی تڑ جوڑ کا تجربہ نہ ہونے کی بناء پر کانگریس و این سی پی کا اتحاد ہونے پر رولنگ ایم ایل اے شیخ آصف کو ٹکٹ ملنا طے تھا۔ اتحاد کی بناء پر این سی پی کو بھی کانگریس کا سپورٹ کرنا پڑتا تھا ،بات کرسی کی تھی، لڑائی کرسی کی تھی اس لیے بہانہ بازی کا صحیح موقع تین طلاق کا مل گیا اور پارٹی کو نازک وقت میں چھوڑ کر علٰحیدہ ہوگئے۔ جب این سی پی میں تھے تب مجلس اتحادالمسلمین کو فرقہ پرست پارٹی کا لقب بھی دے دیا تھا، ان کے باپ دادا کی تاریخ بھی مختصر میں بیان کردی تھی ۔ مزید کہا تھا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے ورنہ بہت لمبی کہانی ہے۔
جو اکبرالدین اویسی کو ،اسدالدین اویسی کو ،صلاح الدین اویسی کو اور عبدالواحد اویسی تک کو فرقہ پرست بول دے پھر بھی انہیں ٹکٹ دے دیا جائے، تو مجلس کوایم ایل اے بڑھانے کی خاطر باپ داداؤں کو برا بولنے والے شخص کو بھی ٹکٹ دینا درست ہے؟ایک طرف اعجاز خان نے ایک چھوٹی سی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی تو اسے ٹکٹ نہیں دیا گیالیکن ہزاروںکے مجمع میں مفتی محمد اسماعیل قاسمی اویسی برادران او ر ان کے باپ داداؤں کی کہانیاں منظر عام پر لانے کی کوشش بھی کریں تو انہیں ٹکٹ دے دیا جاتا ہے ۔ مجلس اتحادالمسلمین نے ٹکٹ کے معاملہ میں انصاف کیا؟کیا یہ سب حرکتیں عوام کو گمراہ کرنے کی نہیں ہیں؟عوام اس چیز کو بھی مان لیتی ہے کہ مفتی محمد اسماعیل قاسمی پہلے جمعیۃ علماء مالیگاؤں کے صدر ہیں بڑے عہدے پر فائزہیں بعد میں سیاسی شخصیت ہیں ،مجلس کو فرقہ پرستی کا خطاب دینا جمعیۃ علماء کا موقف ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ کوئی بھی فرقہ پرست پارٹی کو حمایت نہیں دیتی ہےچاہیے وہ مسلم فرقہ پرست پارٹی ہی کیوں نہ ہو اسی بنیاد پر مجلس اتحادالمسلمین کی حمایت جمعیۃ علماء نہیں کرتی ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر گلزار اعظمی نے چند روز قبل شیخ آصف کی حمایت میں بات کی گلزار اعظمی چاہتےہیں کہ شیخ آصف ایم ایل اے بنے،لیکن کیوں؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی میں سیاسی سمجھ بوجھ کم ہے؟وہ صحیح کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں؟سیاسی صلاحیت شیخ آصف میں زیادہ ہے؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی فرقہ پرست پارٹی سے جڑے ہیں؟پانچ سال عوام نے دیاتھا تو کیا کام کرے تھے؟عوام کو بیوقوف بنانے میں یا ٹھیکیداروں کو خوش کرنے میں مصروف تھے؟یا سیاسی دلالوں کا دائرہ وسیع کرنے کی محنت میں وقت ضائع کرتے رہے تھے؟ عوام سے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگیں ،بیوقوف بناکر نہیں ۔حالیہ ایم ایل اے شیخ آصف اورسابق ایم ایل اے شیخ رشید کانگریس کے دور میں ۲۰؍ سال تک شہر کے خزانے پر امت کی امانت کا کتنا خیال رکھا؟ ۲۰؍ سالوں میں کتنا کام کیاجاسکتا تھا؟ کارپوریشن میں سب بڑے بڑے عہدوں پر گھر کے لوگوں کو بٹھایا گیا۔ شہر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ کام کے معاملہ میں بات ہی نہ کروپھر سالانہ پانچ سو کروڑ روپئےمیں سے اخراجات کہاں کہاں کئےجارہے ہیں؟کانگریس نے ریزرویشن نہیں دیا تو بھی کانگریس کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑا؟ کانگریس سے فائد ہ ملے تو امت کو پستی میں ڈھکیل دیا جاتا ہے کیا؟کانگریس کے دور میں شہرمالیگاؤں کے بے گناہوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا تو شیخ آصف نے بے گناہ ثابت ہونے والےمظلومین کے حق میں کانگریسیوں سے معافی کیوں نہیں منگوائی ؟جن فرقہ پرست ذہنیت کے پولس افسران نے مل کر بے گناہوں کو بلاسٹ کے معاملہ میں پھنسایا ان کو کانگریس نے ملازمت سے معطل کیوں نہیں کروایا؟ بلکہ ان کا پرومشن ہوگیا تو کیاکانگریس مسلم دشمنی میں ملوث تھی؟مسلم کانگریسی ایم ایل ایز و کارپوریٹرس کانگریسی قدآور لیڈران کی ایسی قدر کرتے ہیں جیسی قطب ،ابدال کی قدر کی جاتی ہے۔ کانگریس کے دور اقتدار میں مرکزی حکومت میں سابق وزیر رہ چکے سلمان خرشید نے کہا کہ کانگریس کے ہاتھوں پر مسلمانوں کے خون کے دھبے ہیں۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ سلمان خرشید نے اعتراف کیا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ براسلوک کیا۔
مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والی پارٹی سے شیخ آصف نے کیوں ٹکٹ لیا؟ کانگریس سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ مالیگاؤں کے بے قصور قیدیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے کہ جس پارٹی نے انہیں دس سال بغیر کسی ظلم کے سلاخوں کے پیچھے سڑایا ہےاور ان کی جوانی کے ایام برباد کریں ہیں پھر بھی ان ظالم پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا؟ ملک میں بہت سی پارٹیاں ہیں لیکن کانگریس ہی کیوں؟ زیادہ بدعنوانی کرنے کا موقع دیتی ہے؟بڑے گھوٹالے کی اجازت آسانی سے ملتی ہے؟ کوئی حساب کتاب لینے والاموجود نہیں ہے؟شیخ آصف کے حامیوں کی تعداد بہت ہی کم ہے؟آزادامیدوار انتخابات کے میدان میں جیتا نہیں جاسکتا؟آپ کے حلقہ کی بغل میں دھولیہ شہر اسمبلی حلقہ ہے ،وہاں انیل اننا گوٹے، راج وردھن کدم بانڈے، ڈاکٹر مادھوری بافنا، رنجیت راجے جیسے قدآور لیڈران آزاد امیدواری کررہے ہیں اور ان چار میں سے ہی ایک ایم ایل اے بننے والاہے۔دھولیہ کی طرز پر مالیگاؤں میں انتخابات نہیں ہوسکتے ؟ ایک امیدوار نے منافرت پھیلانے والی مذہبی نعرہ بازی کی پارٹی کا دامن پکڑ لیا تو دوسرا امیدوارکو مسلمانوں کو دیمک کی طرح کھانے والی پارٹی کا سہارا لینا پڑا۔ آخر کیوں دونوں امیدوار آزاد انتخاب میں حصہ لینے پر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں؟ پارٹی فنڈکے چکر میں؟ منتخب ہونے کے بعد پانچ سال تک مزہ لینے کے لیے ؟ عوام کو کیوں نہیں بتایا جاتا ہے کہ مالیگاؤں شہر میں روزانہ پینے کا پانی مہیا کرایا جائے گا؟اقلیتی کالجس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔شہر میں روزگار دستیاب کرایا جائے گا۔راستوں کی مرمت کی جائے گی، آمدورفت کی سہولیات کے لیے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کا طریقہ اپنایا جائے گا۔ کیا یہ دونوں سیاسی لیڈران کے مشیر چاہتے ہیں کہ پڑھی لکھی عوام انہیں سیاسی دلال کا لیبل نہ لگا دیں؟روزگار میسر ہونے کے بعد ان کی ورکری کون کرے گا؟ ان کی آفس کون ڈالے گا؟ ایک چائے کے لیے ان کی خوشامد کون کریں گا؟ ورکری کے نام پر چلر کون دے گا؟ اپنی جھوٹی شہر ت اور انا کے خاطر لاکھوں افراد کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ جہاں ایم ایل اے مسلم ، میئر مسلم، اسٹینڈنگ کمیٹی کا صدر مسلم ،نائب مئیر مسلم ،ہاؤس لیڈر مسلم وہ شہر کیسا ہونا چاہیے؟ اگر عوام ان کی پراپرٹی پر نظر دالیں تو حقیقت سامنے آجائے گی عوام کی محنت کے روپئے کیسے ان کی تجوری میں جاتے ہیں اور لیڈران کیسی مستی میں ملوث ہوتے ہیں۔ مالیگاؤں شہر ملک کے مسلمانوں کے لیے باعث فخر ہیں کہ میناروں کے اس شہر میں تعلیم یافتہ افراد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ملکی سطح پر اعلیٰ مقام تک پہنچے والے افراد کی اہم ذمہ داری ہے کہ ایم ایل اے و سابق ایم ایل اے کے نئے پرانے فتنوں سے اہلیان شہر کو نجات دلانے میں اہم رول ادا کریں۔خود شہر کی ترقی کے لیے قربانی پیش کرکے سیاست میں قدم رکھیں انہیں آخری موقع دیں بعد میں دونوں سیاستداں کے لیے مثال بنے کہ مالیگاؤں شہر بھی سنگاپور بن سکتا ہے اگر شہر کاخزانہ دیانتدار اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کے ہاتھوں میں آجائے۔ ٹھیکہ پر کام دے کر کمیشن کھانے والوں کا کاروبار ختم ہونا چاہیے ۔ پہلے تو کام نہیں کرتے ہیں دوسری بات اگر کام کریں گے بھی تو بہت زیادہ کمیشن پر کام کرنے سے کام کی کوالیٹی اثرانداز ہوجاتی ہے۔ اس انتخاب میں عوام ان سے کہہ کہ کون سال بھر کا گوشوارہ عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ؟ دونوں میں سے جو بھی فرد تیار ہو اسے ووٹ دیں یا کام کی بنیاد پر ووٹ دینے کو اولیت دی جائے۔ دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں اسٹیج لگاکر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ان سے کہو اسٹیج پر کام کی بات کریں اگر آپ کو علم ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث ہے تو پولس اسٹیشن میں جاکر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کراؤ اور ایف آئی آر کی کاپی جلسہ میں تقسیم کرو۔ اگر ایسا نہیں کرسکے تو سمجھ لو یہ دونوں مل کر عوام کو الو بنارہے ہیںاور گنگا دھر ہی شکتی مان ہے ۔اگر ان دھوکے باز کے دھوکے سے باہر نہیں نکلے گے تو پورا ملک سدھر جائے گا لیکن مالیگاؤں سدھر نہیں سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جیسے حالات برقرار، ٹرمپ کے بیان پر ایران نے ‘عالمی جنگ’ کا انتباہ دیا ہے۔

Published

on

iran-america

تہران : ایران کی فوج نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ “ثبوت سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کسی معاہدے یا معاہدے کا پابند نہیں ہے۔” یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر بات چیت کے لیے اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ بارہا ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھے اور آبنائے ہرمز کو کھولے۔ تاہم ایران آبنائے کو کھولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایرانی ملٹری ہیڈ کوارٹر کے نائب سربراہ محمد جعفر اسدی نے ایران کی فارس نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ “امریکی حکام کے اقدامات اور بیانات بنیادی طور پر میڈیا پر مبنی ہیں، جس کا مقصد پہلے تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنا ہے اور دوسرا، خود کو اس گندگی سے نکالنا ہے جو انہوں نے پیدا کی ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “مسلح افواج امریکیوں کی کسی بھی نئی ڈھٹائی یا حماقت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔”

ایرانی میڈیا نے جمعے کے روز اطلاع دی کہ ایران امریکہ جنگ کے دوران حملوں سے بچا ہوا بم پھٹنے سے ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی) کے 14 ارکان ہلاک ہو گئے۔ ایران کے سیکیورٹی اداروں کے قریب سمجھی جانے والی ویب سائٹ نورنیوز کے مطابق دھماکا تہران کے شمال مغرب میں واقع شہر زنجان کے قریب ہوا۔ 7 اپریل کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے آئی آر جی کے ارکان کی ہلاکتوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران گولہ بارود کے ساتھ کلسٹر بم بھی گرائے گئے۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دہرائی

  1. ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات غیر یقینی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ موجودہ تجاویز سے “خوش نہیں” ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی اور فوجی کارروائی دونوں آپشن ہیں۔
  2. ٹرمپ نے میرین ون سے روانہ ہوتے ہی صحافیوں کو بتایا، “وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں اس سے مطمئن نہیں ہوں، تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔” انہوں نے ایران کی قیادت کو منقسم اور تذبذب کا شکار قرار دیا۔
  3. ٹرمپ نے کہا کہ وہ سب ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سب کچھ الجھاؤ کا شکار ہے، انہوں نے مزید کہا کہ قیادت “بہت بکھری ہوئی” ہے اور اس میں اندرونی تقسیم ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر یہ اندرونی کشمکش ایران کی مذاکراتی پوزیشن کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کے رہنما “ایک دوسرے سے متفق نہیں ہیں” اور “وہ خود نہیں جانتے کہ اصل لیڈر کون ہے”، جس سے مذاکرات مشکل ہو رہے ہیں۔
    انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج نمایاں طور پر کمزور ہوچکی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق حالیہ تنازع کے بعد ملک کے پاس نہ تو بحریہ ہے اور نہ ہی فضائیہ اور اس کی دفاعی صلاحیتیں محدود ہیں۔
  4. ٹرمپ نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو فوجی کارروائی ایک آپشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا تو کشیدگی بڑھے گی یا سمجھوتہ ہو جائے گا۔
  5. ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی منظوری پہلے کبھی نہیں ملی اور بہت سے لوگ اسے مکمل طور پر غیر آئینی سمجھتے ہیں۔
Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

سڑکوں کی کنکریٹنگ، نالوں کی صفائی کا مسلسل معائنہ کیا جائے جب تک کہ مانسونی کام صحیح طریقے سے مکمل نہیں ہو جاتے : میئر ریتو تاوڑے

Published

on

ممبئی : ممبئی شہر اور مضافات کے علاقے میں مانسون سے قبل کام عروج پر ہیں۔ تاہم، جب تک یہ کام صحیح طریقے سے اور وقت پر مکمل نہیں ہو جاتے، ہم مسلسل سڑکوں کی کنکریٹنگ، نالوں سے کیچڑ ہٹانے اور دیگر کاموں کا معائنہ کریں گے، ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے کہا۔ ساتھ ہی میئر تاوڑے نے انتظامیہ کو سڑکوں، نالیوں اور پانی کے سلسلے میں بہت تندہی سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چیمبور کی سڑکوں کے ساتھ ساتھ مہول نالہ، جے میئر ریتو تاوڑے نے آج (2 مئی 2026) کی صبح کے نالہ اور مٹھی ندی میں کیچڑ ہٹانے کے کاموں کا معائنہ کیا۔ ایم ویسٹ’ وارڈ کمیٹی کی صدر آشا مراٹھے، ایل وارڈ کمیٹی کے صدر وجئے ندر شندے، ایف ساؤتھ اور ایف نارتھ وارڈ کمیٹی کی صدر مانسی ستمکر، کارپوریٹر مسز ساکشی کنوجیا، کارپوریٹر کشیش پھلواریہ، ڈپٹی کمشنر (زون 5) مسز سندھیا ناندیڑ، اسسٹنٹ کمشنر ویسٹ، بی ویسٹ کمشنر سندھیا شنکر، ساکشی کنوجیا۔ (ایل ڈویژن) دھنجی ہرلیکر، چیف انجینئر (سڑکوں) منتایا سوامی، ڈپٹی چیف انجینئر (اسٹارم واٹر چینلز) سنیل رسل، سنیل کرجاتکر اور متعلقہ افسران موجود تھے۔

میئر ریتو تاوڑے نے ابتدا میں کاموں کا معائنہ کیا۔ میئر نے بابا صاحب امبیڈکر ادیان علاقہ میں سڑک نمبر 21 اور 11 کا معائنہ کیا۔ سڑک کے کام کے معیار، مختلف یوٹیلیٹی چینلز کی حالت، سڑک کے ساتھ لگے درختوں اور پانی کی نکاسی کے نظام کا بہت باریک بینی سے معائنہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، فٹ پاتھ کی تعمیر کے معیار کو جانچنے کے لیے، اس نے سیمنٹ، کنکریٹنگ، اس میں استعمال ہونے والے لوہے، جالیوں وغیرہ کو چیک کرنے کے لیے ایک بنیادی آزمائشی کا نظم کیا ہے۔

اس دورے کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میئر تاوڑے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے ممبئی میں طویل مدتی اقدامات کرنے کے لیے سڑکوں کے سیمنٹ کنکریٹنگ پروجیکٹ کو لاگو کیا ہے۔ سڑک کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ انتظامیہ کو ان کاموں کو مانسون سے قبل مکمل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ تاہم کام کی رفتار میں اضافہ کرتے ہوئے سڑکوں کی تعمیر اور معیار کو برقرار رکھنے میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ مکمل شدہ سڑکوں اور ان کے پانی کی نکاسی کے پائپوں کو اچھی طرح صاف کیا جائے۔ تاکہ پانی سیمنٹ میں نہ ملے اور پائپوں میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ سڑک کے کنارے پانی جمع نہ ہونے دیا جائے۔ ساتھ ہی، تاوڑے نے ہدایت دی کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کوئی درخت سیمنٹ کنکریٹ سے متاثر نہ ہو۔

دریں اثنا، چیمبور میں سڑکوں کا معائنہ کرتے ہوئے، میئر نے مقامی شہریوں سے بھی بات چیت کی۔ شہریوں نے سڑک کے کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے میئر، عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ سڑکوں کا معائنہ کرنے کے بعد، میئر تاوڑے نے تین مقامات پر کیچڑ ہٹانے کے کاموں کا معائنہ کیا – ‘ایل’ سیکشن میں مہول نالہ، ‘ایف نارتھ’ سیکشن میں جے کے کیمیکل نالہ اور میٹھی ندی کابھی جائزہ لیا۔ نالوں کی صفائی کے بارے میں میئرتاوڑے نے کہا کہ اس سال مانسون سے قبل نالوں سے 8.28 لاکھ میٹرک ٹن کیچڑ ہٹانے کا ہدف ہے۔ اس میں سے تقریباً 45 فیصد یا 3.76 لاکھ میٹرک ٹن کیچڑ یکم مئی 2026 تک ہٹایا جا چکا ہے۔ کچرا کو ہٹانے کے کام میں تیزی لائی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مون سون سے پہلے تمام نالے کیچڑ سے پاک ہوں۔ جہاں ضروری ہو نالیوں کے ساتھ حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں۔ سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ انتظامیہ کے ساتھ مقامی عوامی نمائندے بھی نالیوں کی صفائی کے کام کی اصل صورتحال دیکھ سکیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ گاد لے جانے والی گاڑیوں کے پہیوں کو سڑکوں پر چلنے سے پہلے دھو لیا جائے۔ تاوڑے نے یہ بھی ہدایات دیں تاکہ سڑکیں کیچڑ کی وجہ سے غیر محفوظ نہ ہو جائیں۔

Continue Reading

مہاراشٹر

مہاراشٹر بورڈ کے 12ویں کے نتائج کا اعلان، 89.79 فیصد طلباء پاس ہوئے۔

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن (ایم ایس بی ایس ایچ ایس ای)، پونے نے ہفتہ کو ایچ ایس سی (12ویں) بورڈ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کیا۔ یہ نتائج پونے، ناگپور، چھترپتی سمبھاجی نگر، ممبئی، کولہاپور، امراوتی، ناسک، لاتور اور کونکن علاقوں کے لیے جاری کیے گئے تھے۔ وہ طلباء جو اس سال 12ویں (انٹرمیڈیٹ) بورڈ کے امتحانات میں شریک ہوئے تھے اور نتائج کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے. وہ اب بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اور فراہم کردہ ڈائریکٹ لنک کا استعمال کر کے اپنے نتائج چیک کر سکتے ہیں اور اپنی مارک شیٹ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ طلباء اپنے مہاراشٹر 12ویں بورڈ کے امتحان کے نتائج آفیشل ویب سائٹس اور ڈیجی لاکر کے ذریعے آن لائن بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اعلان کردہ نتائج کے مطابق اس سال پاس ہونے کا مجموعی تناسب 89.79 فیصد رہا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے کم ہے۔ پچھلے سال پاس ہونے کا تناسب 91.88 تھا جس میں لڑکیوں کا پاس فیصد 94.54 تھا اور لڑکوں کا پاس فیصد 89.51 تھا۔ اس سال لڑکیوں نے 93.15 فیصد پاس ہونے کے ساتھ لڑکوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ دوسری طرف لڑکوں کا پاس فیصد 86.80 رہا۔ ایم ایس بی ایس ایچ ایس ای نے 10 فروری سے 11 مارچ کے درمیان نو ڈویژنوں میں مہاراشٹر بورڈ کے 12ویں کے امتحانات کا انعقاد کیا جس میں 1.5 ملین سے زیادہ طلباء نے حصہ لیا۔ اس سال، مہاراشٹرا ایچ ایس سی بورڈ کے امتحانات میں کونکن خطہ نے علاقائی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جب کہ لاتور کے علاقے میں پاس ہونے کا تناسب سب سے کم رہا۔ کونکن علاقہ کا پاس فیصد 94.14 تھا اور لاتور علاقہ کا پاس فیصد 84.14 تھا۔ مہاراشٹر بورڈ کے 12ویں کے نتائج دیکھنے کے لیے، امیدواروں کو پہلے ایم ایس بی ایس ایچ ایس ای کی آفیشل ویب سائٹ پر جانا چاہیے۔ ہوم پیج سے، نتائج کے لنک پر کلک کریں۔ اس کے بعد، اپنی لاگ ان کی اسناد درج کریں اور جمع کرائیں۔ نتیجہ آپ کی سکرین پر کھل جائے گا۔ نتیجہ چیک کرنے کے بعد، اپنی مارک شیٹ ڈاؤن لوڈ کریں۔ مارک شیٹ کا پرنٹ آؤٹ لیں اور اسے مستقبل کے حوالے کے لیے محفوظ طریقے سے رکھیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان