سیاست
گرم،دولیڈران کرسی کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف

مالیگاؤں:سابق رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کرنے والے خود اپنی ہی باتوں پر کیوں نہیں جمے رہتے ہیں؟یہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے جلسے گاہ میں آج جو بیان بازی اور تقریر کریں گے آئندہ پانچ سال بعد سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے میں وقت نہیں لگے لگا۔ اپوزیشن جماعت اس کام کو بہت ہی خوبصورت انداز میں شارٹ کلپ کے ذریعے وائرل کرتی ہے۔ جس طرح تیسرا محاذ سے عوام نے بھرپور تائید مفتی اسماعیل کو دی تھی کیونکہ کوئی سیاسی بدنما داغ دامن میں نہیں تھا۔تیسرا محاذ سے جیت درج کرانے کے بعد سیاسی پلیٹ فارم سے خود کی حمایت حاصل کرنےکے لیے فتویٰ جاری کیاتھا کہ این سی پی کو ووٹ دینا حرام ہے۔ ہر بات کی طرح عوام نے اس بات کو بھی تسلیم کرلیا تھا کہ این سی پی کو ووٹ دے کر حرام کام میں ملوث نہیں ہوں گے۔ لیکن اپنی چھتری میں کوّا بھی حلال والی پالیسی اپنا کر این سی پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ کیونکہ سابق ایم ایل اے کو پتہ تھا کہ میری اندھی عقیدت میں مبتلا شہر کی اکثریت میرا ہی ساتھ دیں گی۔لیکن سیاسی حربہ استعمال کرنے میں ناکام ہوگئے ، سیاسی تڑ جوڑ کا تجربہ نہ ہونے کی بناء پر کانگریس و این سی پی کا اتحاد ہونے پر رولنگ ایم ایل اے شیخ آصف کو ٹکٹ ملنا طے تھا۔ اتحاد کی بناء پر این سی پی کو بھی کانگریس کا سپورٹ کرنا پڑتا تھا ،بات کرسی کی تھی، لڑائی کرسی کی تھی اس لیے بہانہ بازی کا صحیح موقع تین طلاق کا مل گیا اور پارٹی کو نازک وقت میں چھوڑ کر علٰحیدہ ہوگئے۔ جب این سی پی میں تھے تب مجلس اتحادالمسلمین کو فرقہ پرست پارٹی کا لقب بھی دے دیا تھا، ان کے باپ دادا کی تاریخ بھی مختصر میں بیان کردی تھی ۔ مزید کہا تھا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے ورنہ بہت لمبی کہانی ہے۔
جو اکبرالدین اویسی کو ،اسدالدین اویسی کو ،صلاح الدین اویسی کو اور عبدالواحد اویسی تک کو فرقہ پرست بول دے پھر بھی انہیں ٹکٹ دے دیا جائے، تو مجلس کوایم ایل اے بڑھانے کی خاطر باپ داداؤں کو برا بولنے والے شخص کو بھی ٹکٹ دینا درست ہے؟ایک طرف اعجاز خان نے ایک چھوٹی سی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی تو اسے ٹکٹ نہیں دیا گیالیکن ہزاروںکے مجمع میں مفتی محمد اسماعیل قاسمی اویسی برادران او ر ان کے باپ داداؤں کی کہانیاں منظر عام پر لانے کی کوشش بھی کریں تو انہیں ٹکٹ دے دیا جاتا ہے ۔ مجلس اتحادالمسلمین نے ٹکٹ کے معاملہ میں انصاف کیا؟کیا یہ سب حرکتیں عوام کو گمراہ کرنے کی نہیں ہیں؟عوام اس چیز کو بھی مان لیتی ہے کہ مفتی محمد اسماعیل قاسمی پہلے جمعیۃ علماء مالیگاؤں کے صدر ہیں بڑے عہدے پر فائزہیں بعد میں سیاسی شخصیت ہیں ،مجلس کو فرقہ پرستی کا خطاب دینا جمعیۃ علماء کا موقف ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ کوئی بھی فرقہ پرست پارٹی کو حمایت نہیں دیتی ہےچاہیے وہ مسلم فرقہ پرست پارٹی ہی کیوں نہ ہو اسی بنیاد پر مجلس اتحادالمسلمین کی حمایت جمعیۃ علماء نہیں کرتی ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر گلزار اعظمی نے چند روز قبل شیخ آصف کی حمایت میں بات کی گلزار اعظمی چاہتےہیں کہ شیخ آصف ایم ایل اے بنے،لیکن کیوں؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی میں سیاسی سمجھ بوجھ کم ہے؟وہ صحیح کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں؟سیاسی صلاحیت شیخ آصف میں زیادہ ہے؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی فرقہ پرست پارٹی سے جڑے ہیں؟پانچ سال عوام نے دیاتھا تو کیا کام کرے تھے؟عوام کو بیوقوف بنانے میں یا ٹھیکیداروں کو خوش کرنے میں مصروف تھے؟یا سیاسی دلالوں کا دائرہ وسیع کرنے کی محنت میں وقت ضائع کرتے رہے تھے؟ عوام سے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگیں ،بیوقوف بناکر نہیں ۔حالیہ ایم ایل اے شیخ آصف اورسابق ایم ایل اے شیخ رشید کانگریس کے دور میں ۲۰؍ سال تک شہر کے خزانے پر امت کی امانت کا کتنا خیال رکھا؟ ۲۰؍ سالوں میں کتنا کام کیاجاسکتا تھا؟ کارپوریشن میں سب بڑے بڑے عہدوں پر گھر کے لوگوں کو بٹھایا گیا۔ شہر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ کام کے معاملہ میں بات ہی نہ کروپھر سالانہ پانچ سو کروڑ روپئےمیں سے اخراجات کہاں کہاں کئےجارہے ہیں؟کانگریس نے ریزرویشن نہیں دیا تو بھی کانگریس کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑا؟ کانگریس سے فائد ہ ملے تو امت کو پستی میں ڈھکیل دیا جاتا ہے کیا؟کانگریس کے دور میں شہرمالیگاؤں کے بے گناہوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا تو شیخ آصف نے بے گناہ ثابت ہونے والےمظلومین کے حق میں کانگریسیوں سے معافی کیوں نہیں منگوائی ؟جن فرقہ پرست ذہنیت کے پولس افسران نے مل کر بے گناہوں کو بلاسٹ کے معاملہ میں پھنسایا ان کو کانگریس نے ملازمت سے معطل کیوں نہیں کروایا؟ بلکہ ان کا پرومشن ہوگیا تو کیاکانگریس مسلم دشمنی میں ملوث تھی؟مسلم کانگریسی ایم ایل ایز و کارپوریٹرس کانگریسی قدآور لیڈران کی ایسی قدر کرتے ہیں جیسی قطب ،ابدال کی قدر کی جاتی ہے۔ کانگریس کے دور اقتدار میں مرکزی حکومت میں سابق وزیر رہ چکے سلمان خرشید نے کہا کہ کانگریس کے ہاتھوں پر مسلمانوں کے خون کے دھبے ہیں۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ سلمان خرشید نے اعتراف کیا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ براسلوک کیا۔
مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والی پارٹی سے شیخ آصف نے کیوں ٹکٹ لیا؟ کانگریس سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ مالیگاؤں کے بے قصور قیدیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے کہ جس پارٹی نے انہیں دس سال بغیر کسی ظلم کے سلاخوں کے پیچھے سڑایا ہےاور ان کی جوانی کے ایام برباد کریں ہیں پھر بھی ان ظالم پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا؟ ملک میں بہت سی پارٹیاں ہیں لیکن کانگریس ہی کیوں؟ زیادہ بدعنوانی کرنے کا موقع دیتی ہے؟بڑے گھوٹالے کی اجازت آسانی سے ملتی ہے؟ کوئی حساب کتاب لینے والاموجود نہیں ہے؟شیخ آصف کے حامیوں کی تعداد بہت ہی کم ہے؟آزادامیدوار انتخابات کے میدان میں جیتا نہیں جاسکتا؟آپ کے حلقہ کی بغل میں دھولیہ شہر اسمبلی حلقہ ہے ،وہاں انیل اننا گوٹے، راج وردھن کدم بانڈے، ڈاکٹر مادھوری بافنا، رنجیت راجے جیسے قدآور لیڈران آزاد امیدواری کررہے ہیں اور ان چار میں سے ہی ایک ایم ایل اے بننے والاہے۔دھولیہ کی طرز پر مالیگاؤں میں انتخابات نہیں ہوسکتے ؟ ایک امیدوار نے منافرت پھیلانے والی مذہبی نعرہ بازی کی پارٹی کا دامن پکڑ لیا تو دوسرا امیدوارکو مسلمانوں کو دیمک کی طرح کھانے والی پارٹی کا سہارا لینا پڑا۔ آخر کیوں دونوں امیدوار آزاد انتخاب میں حصہ لینے پر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں؟ پارٹی فنڈکے چکر میں؟ منتخب ہونے کے بعد پانچ سال تک مزہ لینے کے لیے ؟ عوام کو کیوں نہیں بتایا جاتا ہے کہ مالیگاؤں شہر میں روزانہ پینے کا پانی مہیا کرایا جائے گا؟اقلیتی کالجس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔شہر میں روزگار دستیاب کرایا جائے گا۔راستوں کی مرمت کی جائے گی، آمدورفت کی سہولیات کے لیے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کا طریقہ اپنایا جائے گا۔ کیا یہ دونوں سیاسی لیڈران کے مشیر چاہتے ہیں کہ پڑھی لکھی عوام انہیں سیاسی دلال کا لیبل نہ لگا دیں؟روزگار میسر ہونے کے بعد ان کی ورکری کون کرے گا؟ ان کی آفس کون ڈالے گا؟ ایک چائے کے لیے ان کی خوشامد کون کریں گا؟ ورکری کے نام پر چلر کون دے گا؟ اپنی جھوٹی شہر ت اور انا کے خاطر لاکھوں افراد کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ جہاں ایم ایل اے مسلم ، میئر مسلم، اسٹینڈنگ کمیٹی کا صدر مسلم ،نائب مئیر مسلم ،ہاؤس لیڈر مسلم وہ شہر کیسا ہونا چاہیے؟ اگر عوام ان کی پراپرٹی پر نظر دالیں تو حقیقت سامنے آجائے گی عوام کی محنت کے روپئے کیسے ان کی تجوری میں جاتے ہیں اور لیڈران کیسی مستی میں ملوث ہوتے ہیں۔ مالیگاؤں شہر ملک کے مسلمانوں کے لیے باعث فخر ہیں کہ میناروں کے اس شہر میں تعلیم یافتہ افراد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ملکی سطح پر اعلیٰ مقام تک پہنچے والے افراد کی اہم ذمہ داری ہے کہ ایم ایل اے و سابق ایم ایل اے کے نئے پرانے فتنوں سے اہلیان شہر کو نجات دلانے میں اہم رول ادا کریں۔خود شہر کی ترقی کے لیے قربانی پیش کرکے سیاست میں قدم رکھیں انہیں آخری موقع دیں بعد میں دونوں سیاستداں کے لیے مثال بنے کہ مالیگاؤں شہر بھی سنگاپور بن سکتا ہے اگر شہر کاخزانہ دیانتدار اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کے ہاتھوں میں آجائے۔ ٹھیکہ پر کام دے کر کمیشن کھانے والوں کا کاروبار ختم ہونا چاہیے ۔ پہلے تو کام نہیں کرتے ہیں دوسری بات اگر کام کریں گے بھی تو بہت زیادہ کمیشن پر کام کرنے سے کام کی کوالیٹی اثرانداز ہوجاتی ہے۔ اس انتخاب میں عوام ان سے کہہ کہ کون سال بھر کا گوشوارہ عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ؟ دونوں میں سے جو بھی فرد تیار ہو اسے ووٹ دیں یا کام کی بنیاد پر ووٹ دینے کو اولیت دی جائے۔ دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں اسٹیج لگاکر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ان سے کہو اسٹیج پر کام کی بات کریں اگر آپ کو علم ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث ہے تو پولس اسٹیشن میں جاکر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کراؤ اور ایف آئی آر کی کاپی جلسہ میں تقسیم کرو۔ اگر ایسا نہیں کرسکے تو سمجھ لو یہ دونوں مل کر عوام کو الو بنارہے ہیںاور گنگا دھر ہی شکتی مان ہے ۔اگر ان دھوکے باز کے دھوکے سے باہر نہیں نکلے گے تو پورا ملک سدھر جائے گا لیکن مالیگاؤں سدھر نہیں سکتا ہے۔
جرم
مالونی میں ۷۲ لاکھ کا گانجہ اور پستول سمیت پانچ گرفتار

ممبئی میں مالونی پولس نے ۷۲ لاکھ کا گانجہ اور ایک دیسی پستول و کارآمد کارتوس سمیت پانچ ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے مالونی میں پولس نے عاشق حسین خان کو ۱ کلو ۶۰ گرام گانجہ منشیات کے ساتھ گرفتار کیا تھا. اس نے بتایا کہ وہ یہ منشیات ناسک سے خریدا کرتا ہے اس کے بعد ناسک کے سنتوش مورے کو گرفتار کیا گیا. اس کے بعد اس معاملہ میں کل چار ملزمین کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا. مالونی مڈھ میں ایک کار کی تلاشی لی گی جس میں ایک دیسی پستول اور گانجہ برآمد کیا گیا. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی سندیپ جادھو نے انجام دی ہے۔ پولس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔
بزنس
مہاراشٹر حکومت نے مختلف شعبوں کی 17 کمپنیوں کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے، ریاست میں 34,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ممبئی : مہاراشٹر حکومت نے مختلف شعبوں کی 17 کمپنیوں کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس سے ریاست میں 34,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔ تقریباً 33000 نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ چیف منسٹر دیویندر فڑنویس جنہوں نے اس معاہدے کو دیکھا، نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر سرمایہ کاری کے معاملے میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پہلی پسند ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے کہ جن کمپنیوں کے ساتھ آج معاہدہ ہوا ہے انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جمعہ کو الیکٹرانکس، سٹیل، سولر انرجی، الیکٹرک بسوں اور ٹرکوں، دفاع اور مختلف متعلقہ شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ یہ سرمایہ کاری شمالی مہاراشٹر، پونے، ودربھ، کونکن میں ہوگی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ فڑنویس نے میتری پورٹل کے ون اسٹاپ تصور کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ حکومت جلد از جلد صنعتوں کے لیے زمین، پرمٹ اور دیگر منظوری دے رہی ہے۔
توانائی سے متعلق فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے، فڑنویس نے کہا کہ حال ہی میں ریاست میں 5 سالہ کثیر سالہ ٹیرف کو منظوری دی گئی ہے۔ بجلی کے نرخ سال بہ سال کم کیے جائیں گے۔ پہلے بجلی کے نرخ ہر سال 9 فیصد بڑھتے تھے لیکن اب بجلی کے نرخ کم کیے جائیں گے جو صنعتوں کے لیے بڑا ریلیف ہوگا۔ چیف سکریٹری راجیش کمار، صنعت کے سکریٹری ڈاکٹر پی انبلگن، مہاراشٹرا انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے سی ای او پی ویلراسو، ترقیاتی کمشنر دیویندر سنگھ کشواہا اور مختلف کمپنیوں کے نمائندے موجود تھے۔
سیاست
کسان خاندان سے تعلق، 7ویں بار بھوک ہڑتال… منوج جارنگے کون ہیں؟ انہوں نے مراٹھا ریزرویشن کے لیے احتجاج کرکے فڑنویس حکومت کو جھنجھوڑ دیا۔

ممبئی \چھترپتی سمبھاجی نگر : مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن تحریک کے رہنما منوج جارنگے ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اس نے 30 اگست کو ایک بار پھر موت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ وہ ایک ہوٹل اور شوگر فیکٹری میں بھی کام کر چکے ہیں۔ 2023 کے بعد سے یہ ان کا ساتواں انشن ہے۔ مراٹھا برادری کے لوگ اسے ریزرویشن کی آخری لڑائی مان رہے ہیں۔ جارنگے کا مطالبہ ہے کہ مراٹھوں کو او بی سی زمرہ کے تحت ریزرویشن ملے۔ ان کی لڑائی نے حکومت اور سیاسی جماعتوں کو ان کے مطالبات پر توجہ دینے پر مجبور کر دیا ہے۔
جب منوج جارنگے نے جمعہ کو دوبارہ موت کے لیے انشن شروع کیا تو مراٹھا برادری کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جنوبی ممبئی کے آزاد میدان میں احتجاجی مقام پر جمع ہوئی۔ سال 2023 کے بعد سے جارنگ کا یہ ساتواں روزہ ہے اور اسے ریزرویشن حاصل کرنے کے لیے برادری کی آخری لڑائی قرار دیا جا رہا ہے۔ مراٹھا مفادات کے لیے جارنگ کی لڑائی نے پہلے حکومت اور حکمران جماعتوں کو مجبور کیا تھا کہ وہ اپنے نمائندوں کو بھیج کر ان کے مطالبات پر توجہ دیں اور تصادم سے گریز کریں۔
ہمیشہ سفید کپڑوں اور زعفرانی پٹکے میں نظر آنے والے اس کمزور کارکن کے جارحانہ انداز اور سیاسی ہیوی ویٹ کو چیلنج کرنے کے رجحان نے پارٹیوں کو چوکنا کر دیا ہے۔ جارنگے کے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ فعال سیاست چھوڑنے اور کسانوں اور مراٹھوں کے لیے تحریک شروع کرنے سے پہلے وہ کچھ عرصہ کانگریس کے کارکن تھے۔ ریاست میں سیاسی طور پر بااثر مراٹھا برادری کے ارکان کی تعداد تقریباً 30 فیصد ہے۔ دو سال پہلے تک منوج جارنگ کوئی معروف نام نہیں تھا۔ 29 اگست 2023 کو جب اس نے جالنا ضلع کے اپنے گاؤں انتروالی سرتی میں مراٹھوں کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تو اس پر زیادہ توجہ نہیں ملی۔ تاہم، تین دن بعد سب کچھ بدل گیا جب یکم ستمبر کو تشدد شروع ہوا۔
اس کے بعد کے واقعات نے ایکناتھ شندے کی قیادت میں اس وقت کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا۔ اپوزیشن نے اس وقت کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو نشانہ بنایا اور جارنگ کے حامیوں اور مراٹھا ریزرویشن کے حامی مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اس وقت فڑنویس کے پاس ہوم پورٹ فولیو تھا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولوں کا سہارا لیا کیونکہ انہوں نے افسران کو جرنج کو اسپتال لے جانے سے روک دیا۔ تشدد میں 40 پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے اور 15 سے زائد سرکاری ٹرانسپورٹ بسوں کو آگ لگا دی گئی۔ احتجاج اور اس کے بعد کی پولیس کارروائی نے جارنگ کو ایک نئی شناخت دی اور شیو سینا-بی جے پی-این سی پی حکومت کو ایک بار پھر تعلیم اور ملازمتوں میں مراٹھوں کو ریزرویشن کی بات کرنے پر مجبور کیا۔ یہ ایک جذباتی مسئلہ تھا، جو اب قانونی الجھنوں میں پھنس گیا ہے۔
ماتوری کے صحافی راجندر کالے نے بتایا تھا کہ جارنج وسطی مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں ماتوری کا رہنے والا ہے۔ جارنگ نے اپنی اسکولی تعلیم وہیں مکمل کی تھی۔ ابتدائی چند سال گاؤں میں گزارنے کے بعد، وہ جالنا ضلع کی امباد تحصیل کے شاہ گڑھ چلے گئے، جہاں انہوں نے ایک ہوٹل میں کام کیا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ بعد میں جارنگ کو امبڈ میں شوگر فیکٹری میں نوکری مل گئی، جہاں سے وہ سیاست میں آئے۔ اس نے بتایا کہ جارنگے کی بیوی اور بچے شاہ گڑھ میں رہتے ہیں۔ کالے نے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن تحریک کے دوران جان گنوانے والوں کے خاندانوں کو حکومت سے معاوضہ حاصل کرنے میں جارنگ نے اہم رول ادا کیا۔
مراٹھا کرانتی مورچہ (ایم کے ایم) کے کوآرڈینیٹر پروفیسر چندرکانت بھرت نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے لیے کام کرتے ہوئے وہ سال 2000 کے آس پاس یوتھ کانگریس کے ضلع صدر بنے، تاہم کچھ سیاسی مسائل پر نظریاتی اختلافات کی وجہ سے انھوں نے کانگریس چھوڑ دی اور مراٹھا برادری کی تنظیم کے لیے کام کرنا شروع کردیا۔ ایم کے ایم ان تنظیموں میں سے ایک ہے جو مراٹھا برادری کے لیے ریزرویشن کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔
بھرت نے کہا کہ 2011 کے آس پاس جارنج نے ‘شیوبا سنگٹھن’ کے نام سے ایک تنظیم بنائی۔ جارنگ کی تحریک صرف مراٹھا ریزرویشن مسئلہ تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کسانوں کے مسائل بھی اٹھائے۔ بھرت نے کہا کہ 2013 میں جارنگ نے جالنا کے کسانوں کے لیے جیک واڑی ڈیم سے پانی چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تحریک شروع کی تھی۔ ایم کے ایم کے کارکن نے کہا کہ جارنج 2016 میں ریاست بھر میں منعقدہ مراٹھا ریزرویشن سپورٹ مارچ میں فعال طور پر شامل تھا اور دیویندر فڈنویس کی قیادت میں اس وقت کی بی جے پی حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرنے کے لیے وسطی مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ سے کمیونٹی کے افراد کو ممبئی لے گیا۔
بھرت نے کہا کہ جالنا ضلع کے ساشتی پمپلگاؤں میں جارنگ کا احتجاج تقریباً 90 دنوں تک جاری رہا۔ منوج جارنگے کے رشتہ دار انیل مہاراج جارنگے نے بتایا کہ کارکن نے 2005 کے قریب ماتوری گاؤں چھوڑ دیا تھا۔ اس کے والد راؤ صاحب اور والدہ پربھابائی اب بھی ماتوری میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جارنگ کے بڑے بھائی جگناتھ اور کاکا صاحب بھی وہیں رہتے ہیں اور کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ رشتہ دار نے بتایا کہ منوج جارنگے نے شاہ گڑھ کے قریب کچھ زمین خریدی تھی، لیکن اس کے خاندان کی آمدنی ہمیشہ اوسط رہی۔ انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی کمیونٹی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی۔ جارنگ دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) زمرے کے تحت مراٹھوں کے لیے 10 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تمام مراٹھوں کو او بی سی کے تحت ایک زرعی ذات کے طور پر کنبی تسلیم کیا جائے، تاکہ کمیونٹی کے لوگوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ریزرویشن مل سکے۔
-
سیاست10 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست6 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا