Connect with us
Friday,27-March-2026

(جنرل (عام

دفعہ 341 ہی مسلم آبادی کو مودی سے جوڑ سکتا ہے : مسلم مورچہ

Published

on

آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ نے وزیر اعظم نریندرمودی کو آج ان کی سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگروہ مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرناچاہتے ہیں تو انہیں عام مسلمانوں کے بنیادی مسائل حل کرنے ہوں گے۔
مورچہ کی جانب سے آج یہاں منعقد ایک سمینار میں مقرر ین نے کہا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرناچاہتے ہیں تو انہیں عام مسلمانوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں پہل کرنی ہوگی۔مقررین کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے نامداروں (اعلی ذات) کو گلے لگانے کا مطلب وی۔آئی۔پی کلچر کو مسلم سماج میں بڑھا وا دینا ہوگا۔جس نے‘ مقررین کے بقول‘ عام مسلمانوں کو ملک کے مین اسٹریم میں نہیں آنے دیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا سب سے اہم موضوع دفعہ 341میں سدھار کا ہے۔ اس سے مسلمانوں کی بڑی آبادی کی حفاظت، تعلیم، عزت وابستہ ہے۔ اگرمودی حکومت دفعہ 370کی طرح 341میں بھی سدھارکرتی ہے تو مسلمانوں کی بڑی آبادی کا رجحان خود بخود وزیراعظم کی طرف بڑھیگا اور انہیں کسی بیچولیے کی ضرورت بھی نہیں پڑیگی۔
سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں مورچہ کے قومی نائب صدر کمال اشرف راعین‘ترجمان حافظ غلام سرور‘ قومی جنرل سکریٹری محمد ریاض الدین‘نائب صدر مولانا مرتضیٰ الحسینی‘ڈاکٹر ایم آئی انصاری، محمد جمیل انصاری، محمد جہانگیر عالم، محمد اعظم، ایوب قریشی، جی کے میجر حفیظ، احمد ہواری، فہیم احمد ہواری، مولانا نعمت اللہ، حکیم ہواری، محمد قاسم راعین، محمد نوشاد، محمد شکیل انصاری، بدرالحسن وغیرہ شامل تھے۔
کمال اشرف راعین نے کہا کہ 1994سے دبے کچلے مسلم طبقوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والی ان کی تنظیم انہیں ایشوز کی بنیاد پر لڑائی لڑتی رہی ہے اور مورچہ نے کبھی بھی کسی سیاسی پارٹی کو اچھوت نہیں سمجھا۔ دفعہ 341کے سلسلے میں سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گوڑا او ر ڈاکٹر من موہن سنگھ سے ملاقات کی تو اٹل بہاری واجپئی سے بھی ملنے میں پرہیز نہیں کیا۔ راجندر سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشراکمیشن سے اگر دلت مسلم ریزرویشن کے لئے سفارش کی تو واجپئی حکومت کی آئین جائزہ کمیشن سے بھی اس ایشو کو حمایت کرنے پر زور دیا۔
حافظ غلام سرور نے کہا کہ مورچہ نے موجودہ مودی حکومت کے صفائی ابھیان، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مکمل حمایت کی تود وسری طرف
تین طلاق اور دفعہ 370میں کئے گئے اصلاحات کو بھی سپورٹ کیا۔انہوں نے سوال کیا کہ جب آئین کی دفعہ 370میں اصلاح ہوسکتی ہے تو دفعہ 341میں کیوں نہیں؟
محمد ریاض الدین نے کہا کہ مودی حکومت اگر دفعہ 370کی طرح 341میں بھی سدھارکرتی ہے تو مسلمانوں کی بڑی آبادی خود بخود وزیراعظم کی طرف راغب ہوگی۔مولانا مرتضیٰ الحسینی نے کہا کہ دفعہ 370میں سدھار کے بعد کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان اور پاکستان کے بیچ 70سالوں سے جاری کشیدگی ختم ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی جی میں وہ طاقت ہے کہ اس تنازع کو ہمیشہ کے لئے ختم کرسکتے ہیں۔

جرم

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری، زین سید پر کیس درج

Published

on

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری کرنے کے الزام میں پولس نے ایک نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ زین سید نامی نوجوان نے متاثرہ کو شادی لالچ دے کر اس کی مرضی کے برخلاف عصمت دری کی اور ناجائز تعلقات قائم کیا, جس کے بعد متاثرہ نے پولس میں شکایت دی اور پولس نے عصمت دری کا کیس درج کر اس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس کی تصدیق ڈی سی پی سمیر شیخ نے کی ہے۔ متاثرہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ پہلے ملزم نے اسے شادی کا جھانسہ دیا اس سے جسمانی تعلقات قائم کئے اور پھر شادی کے تقاضہ پر شادی سے انکار کردیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا بھابھا اسپتال ڈاکٹر سے بدسلوکی کی پاداش میں افضل شیخ گرفتار

Published

on

ممبئی: ممبئی کرلا علاقہ میں واقع بھابھا اسپتال میں خاتون ڈاکٹر سے بد سلوکی کی پاداش میں دو نوجوانوں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ 23 مارچ کو افضل شیخ کو سر پر چوٹ آئی تھی اور وہ بغرض علاج بھابھا اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوا جہاں ڈاکٹر دیگر مریضوں کے معالجہ میں تھی انہوں نے افضل شیخ کی تشخص کی اور پھر کہا کہ معمولی زخم ہے ایسے میں افضل شیخ مشتعل ہوگیا اور اس نے خاتون ڈاکٹر سے بدتمیزی شروع کرنے کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ بھی شروع کردی ڈاکٹر نے پولیس طلب کیا اور پھر اس نے اپنے ایک دوست کو بھی بلایا اور ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی شکایت کنندہ ڈاکٹر انوجا کی شکایت پر کرلا پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ ممبئی کے کرلا پولیس نے اس معاملہ میں ایک ملزم افضل شیخ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرا ہنوز فرار بتایا جاتا ہے۔ پولیس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان