Connect with us
Wednesday,26-August-2026

مہاراشٹر

چھوٹا راجن اوردیگر پانچ ساتھیوں کو قتل کے الزام میں آٹھ سال قید کی سزا کا حکم : ممبئی

Published

on

ممبئی کی ایک خصوصی مکوکا کورٹ نے منگل کو مافیا ڈان راجندر نکالنے عرف چھوٹا راجن اور اس کے پانچ ساتھیوں کو 2012 میں ایک ہوٹل۔ مالک کے اقدام۔قتل کے الزام میں آٹھ سال قید بامشقت کی سزا کاحکم دیا ہے، ان پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزر کرائم ایکٹ کے خصوصی جج اے ٹی وانکھیڈے نے انہیں اس معاملہ میں قصوروار قرار دیتے ہوئے کہاکہ مکوکا ایکٹ اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت وہ اقدام قتل کے کیس میں اور سازش رچنے کے مجرم پائے گئے ہیں اور یہ جرم ثابت ہونے کے نتیجے میں ان پر سزا کیساتھ پانچ لاکھ روپیے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
راجن کو اکتوبر 2015 می۔ انڈونیشیا سے ہندوستان لایا گیا تھا۔ فی الحال تہاڑ جیل، نئی دہلی میں قید ہے۔
ان کے ساتھ ہی تلوینرر سنگھ، سیلوین ڈنائیل، نتیانند نائیک، دلیپ اپادھیائے اور رہے تھنگپان جوسف عرف ستیش کالیا بھی شامل ہیں۔
اکتوبر 2012 میں ایک ہوٹل مالک بی آر شیٹی پر اندھیری میں فائرنگ کی گئی تھی جب وہ اپنے دوست سے ملاقات کے لیے جارہا تھا۔
ممبئی پولیس انسداد وصولی سیل نے تحقیقات کے بعد پایا کہ چھوٹا راجن نے اپنے معاون اور شارپ شوٹر ستیش کالیا کو گولی مارنے کا حکم دیا تھا۔
ستیش کالیا معروف صحافی جے این ڈے کے قتل میں بھی ملوث ہے اور پولیس حراست میں تھااور اس نے اپنے معاون سنگھ اور اپادھیے کو سازش پر عمل کرنے کی ہدایت دی اور شیٹی کی شناخت کے بعد اسے 3 اکتوبر 2012 کو نشانہ بنا یا گیا۔ شیٹی کواوشیورہ کے ایک مال میں رات پونے دس بجے گولی مار دی گئی تھی۔
پولیس نے زخمی شیٹی کو کوکیلا بین اسپتال پہنچایا جہاں اس کی موت واقع ہوگئی۔
ممبئی کی مکوکا کورٹ نے چھوٹا راجن اوردیگر پانچ ساتھیوں کو آٹھ سال قید بامشقت کی سزا کاحکم دیا

ممبئی پریس خصوصی خبر

پرجا فاؤنڈیشن کی رپورٹ : 15ویں اسمبلی میں ممبئی کے اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات میں 72 فیصد کمی

Published

on

ممبئی، 25 اگست 2026 : پرجا فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کردہ ‘ممبئی ایم ایل اے رپورٹ کارڈ 2026’ کے مطابق، مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں ممبئی کے منتخب نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کی تعداد میں 12ویں اسمبلی کے مقابلے میں 72 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ونٹر سیشن 2024 سے مونسون سیشن 2025 کے دوران ممبئی کے 33 اراکین اسمبلی کی کارکردگی، ایوان میں حاضری، پوچھے گئے سوالات کے معیار اور آئینی ذمہ داریوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 33 اراکین میں سے صرف تین نے 80 فیصد سے زیادہ اسکور حاصل کیا ہے، اور ان تینوں سرفہرست مقامات پر انڈین نیشنل کانگریس کے نمائندے براجمان ہیں۔

بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اراکین اسمبلی :
پہلا مقام : امین پٹیل (کانگریس) — اسکور : 82.89

دوسرا مقام : اسلم شیخ (کانگریس) — اسکور : 80.58

تیسرا مقام : جیوتی گائیکواڑ (کانگریس) — اسکور : 80.30

رپورٹ کے اہم نکات :
سوالات میں بھاری کمی : 15ویں اسمبلی (ونٹر 2024 تا مونسون 2025) کے دوران اراکین اسمبلی نے صرف 2,213 سوالات پوچھے، جبکہ 12ویں اسمبلی (2009-2010) میں 7,955 سوالات پوچھے گئے تھے۔

سوالات کے معیار میں گراوٹ : پوچھے گئے سوالات کے معیار کا اوسط اسکور 12ویں اسمبلی کے 50 فیصد سے گھٹ کر 15ویں اسمبلی میں 33 فیصد رہ گیا ہے۔

کام کے دنوں میں کمی : 15ویں اسمبلی کے پہلے سال میں ایوان کا اجلاس صرف 40 کاری دنوں (working days) کے لیے ہوا، جبکہ 12ویں اور 13ویں اسمبلی میں بالترتیب 47 اور 50 دن اجلاس ہوا تھا۔

مجموعی اوسط اسکور : اراکین اسمبلی کا مجموعی اوسط کارکردگی اسکور 12ویں اسمبلی میں 61 تھا، جو 14ویں اسمبلی میں گھٹ کر 54 ہو گیا اور 15ویں اسمبلی میں معمولی بہتری کے ساتھ 55 درج ہوا۔

اراکین کی اوسط عمر : ممبئی کے اراکین اسمبلی کی اوسط عمر وقت کے ساتھ بڑھی ہے : 12ویں اسمبلی میں 52 سال، 13ویں میں 51 سال، 14ویں میں 53 سال اور 15ویں اسمبلی میں یہ بڑھ کر 57 سال ہو گئی ہے۔

جمہوری جوابدہی پر تشویش :
پرجا فاؤنڈیشن کے سی ای او ملند مہاسکے نے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ منتخب نمائندے شہریوں کے مسائل کو ایوان تک پہنچانے میں کتنے موثر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں اراکین کی مجموعی کارکردگی کے اوسط اسکور میں کوئی مثبت رجحان نہیں دیکھا گیا ہے۔ پرجا فاؤنڈیشن کے مینیجر آصف خان نے خبردار کیا کہ اگر ایوان کی نشستیں کم ہوں گی، سوالات کم پوچھے جائیں گے اور ان کا معیار ناقص ہوگا، تو بالآخر شہری حکومت سے حساب مانگنے کا ایک اہم ذریعہ کھو دیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : مجگاؤں گنپتی جلوس پر انڈا پھینکنے والا جنونی نوجوان گرفتار

Published

on

ممبئی : مجگاؤں میں گنپتی جلوس کے دوران انڈے پھینکنے والے ایک جنونی نوجوان کو پولس نے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ممبئی میں ۲۳ اگست کی شب کو مجگاؤں کے راجہ کا جلوس نکالا گیا تھا, اسی دوران نوجوان جو اسی عمارت میں انڈا ڈیلیوری کے لئے جارہا تھا اسی جلوس کے دوران پٹاخہ کے گرد و غبار سے پریشانی ہوئی اور اس نے غصہ میں آکر گنپتی مورتی پر انڈا پھینکا جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے, لیکن پولیس نے سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزم کی شناخت کر لی اور اسے آج گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس کی شناخت دانش شیر خان ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔ پولس نے ۳۶ گھنٹے کے اندر ملزم کا سراغ لگایا, اب حالات کشیدہ ضرور ہے لیکن امن قائم ہے۔ عید میلادالنبی سے قبل ہی پولس نے سماج دشمن دانش کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں پولس کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے غصہ میں آکر اس عمل کا ارتکاب کیا تھا۔ ملزم آن لائن آرڈر لے کر جارہا تھا اسی دوران اس کے ساتھ جلوس میں بھیڑ بھاڑ کے سبب آنکھ پٹاخہ کے دھواں اور گردو غبار سے تکلیف پہنچی تھی۔ جس کے سبب اس نے طیش میں آکر جو انڈا ڈیلیوری کیلئے لایا تھا اسی کو گنپتی جلوس پر پھینک دیا, جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے اور پولس نے اس معاملہ کو حل کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی جینت مینا نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی کے ڈِنگاڈ میں دو گروپوں کے درمیان تصادم، غیر سبزی خور کھانا کھانے کے معاملے پر تنازع، 6 افراد زخمی

Published

on

Mumbai Police.2

بھیونڈی : بھیونڈی کے ڈِنگاڈ علاقے میں نوجوانوں کے دو گروپوں کے درمیان مبینہ طور پر غیر سبزی خور کھانا لانے کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں دونوں گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی اور مارپیٹ ہوئی۔ واقعے میں چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ معلومات کے مطابق ڈِنگاڈ پہاڑی کے علاقے میں کسی بات کو لے کر نوجوانوں کے دو گروپوں کے درمیان بحث شروع ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تنازع غیر سبزی خور کھانا کھانے یا وہاں لانے پر اعتراض کے بعد بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں جانب سے مارپیٹ شروع ہوگئی۔

واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج کے لیے بھیونڈی کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم اسپتال میں بھی دونوں گروپوں کے افراد ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، جس کے بعد صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی تعیناتی کی گئی۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور واقعے کے اصل اسباب، ملوث افراد اور مارپیٹ کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جانے کے بعد مزید قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی تنازع کو تشدد کی شکل دینے کے بجائے قانون کا راستہ اختیار کریں اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان