Connect with us
Saturday,19-September-2026

(جنرل (عام

کانگریس کے سینئر لیڈرسابق مرکزی وزیرجئے پال ریڈی چل بسے

Published

on

سابق مرکزی وزیر و کانگریس کے سینئر لیڈر جئے پال ریڈی علاج کے دوران اتوار کی شب حیدرآباد کے ایک اسپتال میں چل بسے۔ان کی عمر77 برس تھی۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ریڈی کو شدید بخار پر20جولائی کو ایشین انسٹی ٹیوٹ آف گیسٹروانٹرولوجی میں داخل کروایا گیا تھا جہاں علاج کے دوران وہ چل بسے۔ایس جئے پال ریڈی کی پیدائش 16 جنوری 1942 کو تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ کے چندورمنڈل کے نرمیٹا گاوں میں ہوئی تھی تاہم ان کا اصل تعلق محبوب نگر ضلع کے مادُگلا سے ہے۔ان کی شادی 7 مئی 1960 کو لکشمی سے ہوئی تھی۔ریڈی 18 ماہ کی عمر سے ہی پولیو کا شکار تھے اور ان کو چلنے میں دشواری ہوتی تھی۔انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا تھا۔سابق مرکزی وزیر ایک زراعت کے ماہر تھے اور وہ اپنا فاضل وقت مطالعہ میں صرف کرتے تھے۔انہوں نے کئی ممالک کا دورہ بھی کیاتھا۔وہ 15ویں لوک سبھا کے رکن اور سائنس و ٹکنالوجی کے وزیر بھی تھے۔انہوں نے تلنگانہ کے حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ کی نمائندگی کی تھی۔انہوں نے 1998 میں مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات کے طورپر آئی کے گجرال کی حکومت میں خدمات انجام دی تھی۔1999 میں 21 سال بعد وہ کانگریس میں واپس ہوئے۔2004 میں وہ مریال گوڑہ حلقہ سے 14ویں لوک سبھا کے لئے منتخبہوئے اور ان کو وزیراطلاعات و نشریات اور وزیر شہری ترقی یو پی اے Iمیں بنایاگیا تھا۔2009 میں وہ 15ویں لوک سبھا کے لئے چیوڑلہ حلقہ سے منتخب ہوئے اور وزیر پٹرولیم و قدرتی گیس کے طورپر خدمات انجام دیں۔ریڈی نے 29اکتوبر 2012 سے 18 مئی 2014 تک وزیرارضی سائنس و سائنس و ٹکنالوجی کے وزیر کے طورپر خدمات انجام دیں۔اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران ریڈی پانچ مرتبہ لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے، دو مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن بنائے گئے اور چار مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ان کی موت پر کانگریس پارٹی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا”ہمیں جئے پال ریڈی کے چل بسنے پر صدمہ پہنچا ہے۔وہ کانگریس کے ایک سینئر رہنما، انہوں نے پانچ مرتبہ لوک سبھا کے رکن، دو مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن اور چارمرتبہ ایم ایل اے کے طورپر خدمات انجام دی تھیں۔ہمیں امید ہے کہ ان کے خاندان اور دوست، دکھ کی اس گھڑی میں اس صدمہ کو برداشت کرنے کی ہمت پائیں گے“۔تلنگانہ کانگریس کے صدر اتم کما رریڈی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا”تلنگانہ کے عظیم فرزند جئے پال ریڈی کی موت پر گہرا دکھ اور صدمہ پہنچا۔ان کی موت میرے لئے اور انڈین نیشنل کانگریس کے لئے ایک دھکہ ہے۔ہم ان کی کمی کو محسوس کریں گے“۔تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آرایس کے کارگزار صدر کے تارک راما راو جو وزیراعلی کے چندرشیکھر راو کے فرزند بھی ہیں نے کہا ”سینئر لیڈرو سابق مرکزی وزیر جئے پال ریڈی کے ارکان خاندان اور دوستوں سے میری تعزیت۔جئے پال ریڈی آج صبح کی اولین ساعتوں میں چل بسے“۔یو پی اے 2حکومت کی کابینہ میں 28اکتوبر 2012 کو ہوئی ردوبدل کے بعد ریڈی پٹرولیم و قدرتی گیس کے وزیر سے سائنس وٹکنالوجی کے وزیر بنائے گئے تھے۔وزارت تیل نے سی اے جی رپورٹ 2011 کے مطابق گیس کی پیداوار میں کمی پر مکیش امبانی کی کمپنی کو 7000 کروڑ روپئے کاجرمانہ عائد کیا تھا۔ساتھ ہی وزارت تیل نے بھارت پٹرولیم میں ان کی کمپنی کی 7.2 بلین کے شراکت کو بھی منظوری نہیں دی تھی۔اپوزیشن جماعتوں بشمول بی جے پی، ایس پی اور عاپ نے کہا تھا کہ کارپوریٹ گھرانوں بالخصوص ریلائنس گروپ آف انڈسٹریز کے دباو میں آکر ہی ان کو اس وزارت سے ہٹایاگیا ہے تاہم انہوں نے ان دعووں کی تردید کی تھی اور کہا تھاکہ وہ نئے قلمدان کو سمجھنا چاہتے ہیں۔جئے پال ریڈی 1969 سے 1984 تک کلواکرتی اسمبلی حلقہ سے متحدہ اے پی کی اسمبلی کے رکن تھے تاہم انہوں نے ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ دی تھی اور 1977 میں جنتاپارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ریڈی نے اندراگاندھی کے خلاف 1980 میں حلقہ لوک سبھا میدک سے ناکام مقابلہ کیاتھا۔وہ 1985 سے 1988 تک جنتا پارٹی کے جنرل سکریٹری بنائے گئے تھے۔وہ پانچ مرتبہ لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے۔1984 میں تلگودیشم سے اتحاد کے ذریعہ وہ 8ویں لوک سبھامیں منتخب ہوئے تھے۔1988 میں تلگودیشم کے خلاف لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔2004 میں مریال گوڑہ اورپھر 2009 میں بھی اسی حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر وہ لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔وہ 1990 تا1996اور1997 تا1998 دو مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن رہے۔سابق مرکزی وزیر نے 1991 سے 1992 تک راجیہ سبھامیں اپوزیشن رہنما کی ذمہ داری بھی ادا کی تھی۔1999 تا2000 کے درمیان ان کو مراعات کمیٹی کا صدرنشین مقرر کیاگیا تھا۔انہوں نے 1997 تا 1998 میں آئی کے گجرال اور 2004 سے منموہن سنگھ کی کابینہ میں خدمات انجام دی تھیں۔1998 میں بہترین پارلیمنٹرین کا ایوارڈ بھی ان کوملا تھا۔ان کا تعلق جنوبی ہند سے ہے اور وہ کم عمر سیاستداں تھے جن کو یہ ایوارڈ ملا تھا۔ان کی لاش کو حیدرآباد کے جوبلی ہلزمیں واقع ان کی قیام گاہ منتقل کیاگیا۔کانگریس کے ایم پی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کانگریس کی طرف سے ان کی قیام گاہ پہنچ کر ان کو خراج پیش کرنے والی پہلی اہم شخصیت تھے۔کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ان کی لاش کو دیکھ کر روپڑے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گنپتی وسرجن کے لیے بی ایم سی کی جانب سے 383 سے زائد مصنوعی جھیلیں دستیاب

Published

on

ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی انتظامیہ مہاراشٹر کے ریاستی تہوار گنیش اتسو کو ماحول دوست انداز میں منانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جس میں وسرجن کے جلوس کے لیے مختلف سہولیات اور انتظامات شامل ہیں۔ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق، بی ایم سی نے اس سال چھ فٹ تک اونچی مورتیوں کے وسرجن کے لیے 383 سے زائد مصنوعی جھیلیں تعمیر کی ہیں۔ اس کے علاوہ، چھ فٹ سے زیادہ اونچی مورتیوں کے وسرجن کے لیے 67 قدرتی مقامات پر مختلف سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچانے کے مقصد سے، اس سال ’ایک گنپتی، ایک درخت‘ (ایک گنپتی، ایک درخت) کا اقدام شروع کیا گیا ہے، جس کا تصور میئر ریتو ٹاوڈے نے پیش کیا تھا۔ بی ایم سی نے ممبئی میں وسرجن کی جانے والی گنیش کی مورتیوں کی کل تعداد کے برابر درخت لگانے کا عہد کیا ہے۔ ’ایک گنپتی، ایک درخت‘ کے تصور کے تحت، بھگوان گنیش کی آمد سے لے کر وسرجن تک پھیلے اس تہوار کو ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ مزید برآں، مورتی وسرجن کی تقریب کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لیے 25,000 سے زائد افسران اور ملازمین پر مشتمل عملے کے ساتھ جامع اور مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس سال، گنیش اتسو کا تہوار 14 ستمبر 2026 کو شروع ہوا۔ ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی، میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے کی رہنمائی میں،ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے پورے ممبئی، اور خاص طور پر وسرجن کے مقامات پر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ وسرجن کے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے، سڑکوں کے گڑھوں اور نکاسی آب کے ڈھکنوں کی مرمت، اور درختوں کی کانٹ چھانٹ جیسے کام مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سمندری ساحلوں اور قدرتی و مصنوعی وسرجن مقامات پر مختلف سہولیات اور خدمات—جن میں اسٹیل کی پلیٹس، رافٹس (تیرنے والے تختے)، کرینیں، ایمبولینسیں، لائف گارڈز، ‘نرمالیہ’ (پوجا کے بعد بچ جانے والے پھول اور دیگر اشیاء) جمع کرنے کے ڈبے، کنٹرول رومز، مشاہداتی ٹاورز، روشنی کا انتظام، عارضی بیت الخلاء اور ضروری افرادی قوت شامل ہیں—فراہم کی گئی ہیں۔

ایک گنپتی، ایک درخت گنپتی عقیدت، ایمان اور سماجی ہم آہنگی کا تہوار ہے۔ اس تہوار کے ذریعے عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچانے کے مقصد سے، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال وسرجن کی جانے والی گنیش کی مورتیوں کی تعداد کے برابر درخت لگانے کا عہد کیا ہے۔ ‘ایک گنپتی – ایک درخت’ (ایک گنپتی، ایک درخت) کے اقدام کا تصور مئیر ریتو ٹاوڈے نے پیش کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھگوان گنیش کی آمد سے لے کر وسرجن تک کے تہوار کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو شامل کرنا ہے، جس کے تحت ہر وسرجن کی جانے والی مورتی کے بدلے ایک درخت لگایا جائے گا اور اس طرح ممبئی کے سرسبز مستقبل میں اپنا حصہ ڈالا جائے گا۔ گنیش اتسو تہوار کے ذریعے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے عوامی شرکت سے ممبئی کو سرسبز، خوبصورت اور ماحول دوست بنانے کا عزم کیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ شجرکاری، درختوں کے تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا بھی ارادہ کیا ہے۔ اس سال بھگوان گنیش کے بتوں کے وسرجن کے لیے، قدرتی وسرجن کے 67 مقامات (جن میں 44 ساحل/جیٹیز اور 23 قدرتی جھیلیں شامل ہیں) اور 383 مصنوعی وسرجن مقامات دستیاب کیے گئے ہیں۔ ان مقامات پر درج ذیل انتظامات کیے گئے ہیں: 1,194 اسٹیل پلیٹس، 23 جرمن رافٹس (rafts)، 34 کرینیں، 85 ایمبولینسیں، 10 موٹر بوٹس، 498 ‘نرمالیہ’ (پوجا کی نذر/سامان) جمع کرنے والے برتن، 326 ‘نرمالیہ’ ڈمپرز، 261 استقبالیہ مراکز، 228 کنٹرول رومز، 75 مشاہداتی ٹاورز، 1,132 لائف گارڈز، 6,052 فلڈ لائٹس/سرچ لائٹس اور 489 عارضی بیت الخلاء۔ مزید برآں، میونسپل کارپوریشن کے تقریباً 25,000 اہلکار اور مختلف رضاکار تنظیمیں ڈیوٹی پر مامور ہوں گی۔

چھ فٹ سے کم اونچائی والے بتوں کا مصنوعی جھیلوں میں وسرجن ہائی کورٹ کی 20 اگست 2026 کی ہدایات کے مطابق، عوامی مفاد کی عرضداشت (پی آئی ایل) پر حتمی فیصلہ ہونے تک 24 جولائی 2025 کے حکم کی تعمیل لازمی ہے۔ لہٰذا، 6 فٹ تک اونچائی والے بھگوان گنیش کے بتوں کو مصنوعی جھیلوں میں وسرجن کرنا لازمی ہے اور میونسپل کارپوریشن نے اس کے لیے ضروری انتظامات کیے ہیں۔ اس اقدام کے حوالے سے عوامی بیداری کی مناسب مہم بھی چلائی گئی ہے۔ ممبئی میں 278 مقامات پر 383 سے زائد مصنوعی تالاب ماحول دوست ‘گنیش اتسو’ کو فروغ دینے اور مصنوعی تالابوں میں بتوں کے وسرجن کی حوصلہ افزائی کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے 278 مقامات پر 383 سے زائد مصنوعی تالاب قائم کیے ہیں۔ مزید برآں، میونسپل انتظامیہ 6 فٹ سے زیادہ اونچے بتوں کے لیے قدرتی وسرجن کے 67 مقامات پر ضروری سہولیات فراہم کرے گی۔ سوراجیہ بھومی (گرگاؤں چوپاٹی) میں 12 مصنوعی تالاب سوراجیہ بھومی جو عام طور پر ‘گرگاؤں چوپاٹی’ کے نام سے مشہور ہےممبئی میں گنیش کے بتوں کے وسرجن کی سب سے بڑی تعداد کا مرکز ہے۔ شہر بھر میں عوامی ’منڈلوں‘ اور گھروں سے مورتیاں وسرجن (جل پرواہ) کے لیے یہاں لائی جاتی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی قانونی پیروی، 65/ سالہ ضعیف شخص ضمانت منظور ہونے کے باجود جیل میں مقید

Published

on

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص ابتک بامبے ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے کے باجود جیل سے رہا نہیں ہوسکا ہے کیونکہ بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ ملزم کفیل احمد کی گذشتہ سال بامبے ہائی کورٹ نے طویل قید اور مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت منظور کی تھی۔ بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس آر آر بھونسلے نے کفیل احمد کی ضمانت منظور کرتے ہو ئے اسے مقامی ضامندار پیش کرنے کی شرط پر جیل سے رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا۔ بامبے ہائی کورٹ میں کفیل احمد کے مقدمہ کی پیروی ایڈوکیٹ مبین سولکر نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے توسط سے کی تھی۔ ملزم کفیل احمد کا تعلق بہار سے ہے اور اس کی ضمانت لینے کے لیئے مہاراشٹر میں کوئی موجود نہیں ہے لہذا آج بامبے ہائی کورٹ میں ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی عرضداشت صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ متین شیخ نے داخل کی ہے۔ گذشتہ ہفتہ ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی۔ ملزم کفیل احمد کے خلاف دہلی میں بھی ایک مقدمہ زیر سماعت ہے جہاں اسے ضمانت مل چکی ہے اور دہلی کی عدالت نے کفیل احمد کو کسی بھی صوبے سے تعلق رکھنے والے شخص کو بطور ضمانتدار پیش کرنے کی اجازت دی تھی۔ ایڈوکیٹ متین شیخ کی جانب سے داخل پٹیشن میں تحریرہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے ایک سال قبل ضمانت منظور ہو جانے کے باوجود ملزم کی ابتک جیل سے رہائی نہیں ہوسکی ہے کیونکہ مقامی ضامن دار کی جو شرط عدالت نے تجویز کی ہے ملزم اسے پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی جاننے والا نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ عرضداشت میں مزید تحریر ہے کہ جس طرح سے دہلی کورٹ نے ملزم کو بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والے ضامندار کو پیش کرنے کی اجازت دی ہے بامبے ہائی کورٹ بھی ملزم کو ایسی سہولت دے تاکہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ملزم کی رہائی عمل میں آسکے۔ ملزم کفیل احمد کی عرضداشت پر اگلے ہفتے کسی دن سماعت متوقع ہے۔

واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری،، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : شہزاد بھٹی نیٹ ورک بھی دہشت گرد تنظیم میں شامل، نوجوانوں سے اس نیٹ ورک سے دور رہنے کی اے ٹی ایس ذرائع کی اپیل

Published

on

ممبئی : شہزاد بھٹی گینگ و نیٹ ورک کو اب مرکزی وزارت داخلہ نے دہشت گرد نیٹ ورک قرار دیا ہے جس کے بعد اب شہزاد بھٹی سے وابستگان کے خلاف کارروائی میں تفتیشی ایجنسیوں کو راحت میسر ہوئی ہے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلانے اور اسلحہ جات کی فراہمی کے عمل میں بھی شہزاد بھٹی نیٹ ورک ملوث پایا گیا ہے اس کے خلاف مختلف ۹ ایف آئی آر درج کی گئی ہے ملک میں دہشت گردی سرگرمیوں اور بدامنی پھیلانے کی سازش میں شہزاد بھٹی گینگ نے کئی ایسے نوجوانوں کو بھی ملوث کیا تھا جو نابالغ بھی تھے .مہاراشٹراے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی گینگ کے خلاف آپریشن انجام دیا تھا جس میں کئی نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر اس سے رابطہ رکھنے کے الزام میں بازپرس کے لیے طلب کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں رہا بھی کیا گیا تھا لیکن سرکار نے شہزاد بھٹی گینگ پر ہی یو اے پی اے ایکٹ کا اطلاق کیا ہے اگر کوئی بھی اس گینگ یا نیٹ ورک سے وابستہ پایا جاتا ہے تو اس کی گرفتاری بھی یو اے پی اے کے تحت ہی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس کے معتبر ذرائع نے بتایا کہ پہلے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو ٹھوس اقدام کرنے یا کارروائی کے لئے کوئی ایسی دفعہ نہیں تھی لیکن اب اس تنظیم گینگ اور نیٹ ورک کو ہی دہشت گرد قرار دیدیا گیا ہے اگر کوئی بھی اس نیٹ ورک سے وابستہ ہوتا ہے تو کارروائی بھی اسی مناسبت سے ہو گی یعنی ان کے خلاف بھی یو اے پی اے ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی اے ٹی ایس نے اس سے قبل شہزاد بھٹی سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوانوں کو زیر حراست لیا تھا ان سے باز پرس کی اور انہیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اے ٹی ایس کی کارروائی کے سبب شہزاد بھٹی سے زبرداست جھٹکا لگا ہے دبئی میں مقیم پاکستانی ڈان ہندوستان کے خلاف تشدد کی سازش میں ملوث ہے اور اس کو انجام دینے کےلیے وہ سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلاتا ہے اس کے وہاٹس ایپ گروپ سے لے کر فیس بک سمیت انسٹاگرام اور ٹیلیگرام گروپ بھی ہے جس پر وہ غیر قانونی سرگرمی کو انجام دینے کےلیے نوجوانوں کی تقرری کرتا ہے.

ایسے میں دلی اسپیشل سیل اور اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی پر کارروائی کی ہے ملک میں ۲۰۰ سے زائد شہزاد بھٹی اراکین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے شہزاد بھٹی پنجابی زبان بولتا ہے اور اسی طرح وہ سوشل میڈیا پر نوجوان کو اپنی طرف مائل کرتا ہے اے ٹی ایس ذرائع نے اپیل کی ہے شہزاد بھٹی نیٹ ورک سے سوشل میڈیا پر نوجوان دور رہیں کیونکہ اگر کوئی بھی اس نیٹ ورک سے وابستہ ہوتا ہے تو اس پر کاروائی یقینی ہے اس لئے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتنا چاہئے اور کسی بھی انجان شخص سے رابطہ نہ رکھیں کیونکہ ایسے انجان رابطہ کاروں کے سبب ہی انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ شہزاد بھٹی سے وابستگان پر بھی اب یو اے پی اے ایکٹ اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کارروائی یقینی ہے اس لئے اس گروہ نیٹ ورک سے دور رہنے کی اپیل اے ٹی ایس ذرائع نے کی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان