Connect with us
Wednesday,02-September-2026

سیاست

ہم ان کے مستقبل کو متاثر نہیں ہونے دے سکتے تھے: طلبہ مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر منسوخ ہونے کے بعد سی جے پی کے سوراو داس

Published

on

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے منگل کو سپریم کورٹ کے اس حکم کا خیرمقدم کیا ہے جس میں دہلی، بہار، مہاراشٹر، مغربی بنگال اور آسام کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں میں 20 اور 25 جولائی کے درمیان ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں طلبہ کے مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ تنظیم طلبہ کے مستقبل کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی ہے۔ سی جے پی نے مرکزی حکومت کی یقین دہانیوں اور سپریم کورٹ کے حکم کے پیش نظر 5 ستمبر کے اپنے مجوزہ احتجاجی مارچ کو منسوخ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، چیف جسٹس کے چیف ترجمان سورو داس نے زور دے کر کہا کہ 25 جولائی کو سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ملک کے نوجوانوں کے لیے ایک “بہت بڑی فتح” تھا۔ اسی دن مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جن کے خاندانوں کی طرف سے خودکشی کے مطالبے سمیت دو بچوں کی موت ہوئی تھی، انہوں نے کہا: این ای ای ٹی پیپر لیک ہونے اور اس یقین دہانی کی وجہ سے کہ ملک بھر میں مظاہرین، نوجوانوں اور طلباء کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے لی جائیں گی۔

“اس کے بعد سے، ہم حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ ہماری کوششوں کی وجہ سے کئی ریاستوں میں نوٹیفکیشن جاری کیے گئے، جس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ طلباء مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے لی جائیں گی اور مستقبل میں بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔”تاہم، داس نے کہا کہ یونین حکومت کی طرف سے متاثرین کے خاندانوں کو این ای ای ٹی کے تحریری بیان کو واپس لینے اور معاوضہ دینے کی یقین دہانی بھی شامل ہے۔ دہلی پولیس اور دیگر مرکزی ایجنسیوں کے ذریعہ درج ایف آئی آر منگل سے پہلے موصول نہیں ہوئی تھیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا، “نوجوانوں کا پورا مستقبل ان کے سامنے ہے، اور ہم ایف آئی آر اور پولیس کارروائی کی وجہ سے اسے متاثر نہیں ہونے دے سکتے۔” داس نے یہ بھی بتایا کہ چیف جسٹس نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سپریم کورٹ کے سامنے بیان کرے کہ معاوضہ، باعزت رقم میں، 90 دنوں کے اندر ادا کر دیا جائے گا۔ عدالتی تقدس کو اپنے حکم میں شامل کرتے ہوئے،” انہوں نے کہا۔ سی جے پی کے ترجمان نے مزید کہا: “میں اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ ہم 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے نئے پولیس ہیڈ کوارٹر تک ہونے والے اپنے پرامن احتجاجی مارچ کو ختم کر رہے ہیں کیونکہ حکومت نے ہمارے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔”

(جنرل (عام

پیڈسٹرین فرسٹ مہم کے تحت اندھیری ویسٹ میں 38 غیر مجاز اسٹالز کے خلاف کارروائی کی گئی

Published

on

ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی جانب سے شروع کی گئی ‘پیدل چلنے والے پہلے’ مہم کے مطابق، اندھیری (مغربی) کے علاقے میں کل 38 غیر مجاز اسٹالوں کے خلاف کارروائی کی گئی خاص طور پر اندھیری ریلوے اسٹیشن (مغربی)، وِلے پارلے ریلوے اسٹیشن (مغرب)، جوگیشوری ریلوے اسٹیشن (مغرب)، جوگیشوری ریلوے ویسٹنڈی، روڈ وییرا، روڈ وییرا اسٹیشن (ویسٹ) کے قریب۔ بی ایم سی پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ، آسان اور رکاوٹ سے پاک راستے فراہم کرنے کے لیے مختلف محکموں کے ذریعے تجاوزات ہٹانے کی مہم چلا رہی ہے۔ اس مہم کے پہلے مرحلے میں ممبئی بھر میں 200 فٹ پاتھوں پر قائم تجاوزات کو ہٹایا جا رہا ہے۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر بی ایم سی کے کے-ویسٹ وارڈ آفس کے تحت گزشتہ ایک ہفتے سے وسیع پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی رہنمائی میں۔بی ایم سی ممبئی بھر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو نافذ کر رہی ہے تاکہ فٹ پاتھوں سے غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹایا جا سکے، اس طرح یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ میونسپل انتظامیہ ممبئی کی تاجر برادری اور شہریوں سے اس مہم میں تعاون کرنے کی اپیل کرتی ہے۔ممبئی کے فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کے لیے دستیاب کرنے کے لیے ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم شروع کی گئی ہے۔ اس کے مطابق ولے پارلے علاقے میں 27 سڑکوں پر تجاوزات کو ہٹایا جانا ہے۔ سوامی وویکانند روڈ کے ساتھ پیدل چلنے والوں کی بھاری ٹریفک والے علاقوں میں فٹ پاتھ سے رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں، اندھیری (مغربی)، وِلے پارلے (مغربی) اور جوگیشوری کے اسٹیشن علاقوں کے ساتھ ساتھ رام گنیش گڈکری مارگ، ویرا دیسائی مارگ، اور سوامی وویکانند مارگ کے چھ فٹ پاتھوں سے تجاوزات ہٹا دی گئیں۔یہ آپریشن جوائنٹ کمشنر (زون 4) ڈاکٹر بھاگیہ شری کاپسے اور اسسٹنٹ کمشنر (کے-ویسٹ وارڈ)چکرپانی آلے کی رہنمائی میں کیا گیا۔ اس کارروائی نے اندھیری ویسٹ، وِلے پارلے ویسٹ، اور جوگیشوری اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ کو صاف کر دیا ہے۔ اس سے چوٹی کے اوقات میں ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کی بھیڑ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ مزید برآں، شہریوں کو اب سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ رکاوٹوں سے پاک فٹ پاتھ تک رسائی حاصل ہوگی۔ آپریشن میں ایک جے سی بی، ایک ڈمپر، سات سے زائد اہلکار اور عملے کے ارکان، پندرہ مزدور اور پانچ سے زائد پولیس اہلکار شامل تھےسینڈہرسٹ روڈ کے علاقے میں ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کے تحت تجاوزات ہٹانے کی مہم بھی چلائی گئی۔ واڑی بندر کے علاقے میں فٹ پاتھ پر قائم غیر مجاز دکانوں اور سٹالز کے خلاف کارروائی کی گئی ۔


Continue Reading

(جنرل (عام

آگری پاڑہ پولیس میں ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ پر ہنگامہ بلڈر کے خلاف دھرنا

Published

on

ممبئی ممبئی کالا پانی مومن پورہ میں ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کو لے کر بلڈر کے خلاف آج آگری پاڑہ پولیس اسٹیشن میں بے گھر مکینوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بلڈر پر غنڈہ گردی اور عورتیں بھیج کر سائٹ کا تالا توڑ کر غیر قانونی طریقے سے غیر قانونی سر گرمی انجام دینے کا سنگین الزام عائد کیا۔ آگری پاڑہ پولیس اسٹیشن میں اس وقت ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی جب سماجوادی پارٹی کی کارپوریٹر عنبرین ابراہانی نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر اس معاملہ میں مداخلت کر نے کے ساتھ پولیس سے کارروائی کی درخواست کی تو سنیئر پولیس افسر نے ان کی بات سننے کے بجائے انہیں ہی باہر بیٹھنے کی ہدایت دی اور کہا کہ یہ کوئی مہا نگر پالیکا کا دفتر نہیں ہے اس کے بعد عنبرین مکینوں کو ہمراہ پولیس اسٹیشن میں ہی دھرنے پر بیٹھ گئی۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ مومن پورہ کالا پانی پروجیکٹ کا ٹھیکہ بلڈر بھپیش کو فراہم کیا گیا تھا لیکن بھپیش نے مقررہ شرائط کی پابندی نہیں کی اور ایک سال سے مکینوں کو کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی جس کے بعد پہلے مکینوں نے اس کا ٹھیکہ معطل کر دیا اس کے بعد بی ایم سی نے بھی اس کا ٹھیکہ معطل کردیا اس کے باوجود آج بلڈر کی جانب سے باؤنسر عورتوں و مردوں نے سائٹ پر گھس کر ہنگامہ آرائی کی۔

اس معاملہ میں مقامی مکینوں اور متاثرین نے پولیس کو طلب کیا اور پولیس نے حالات کو قابو میں کر لیا جبکہ اس مسئلہ پر بلڈر کے خلاف مکینوں کی ناراضگی ہے ایک مکین نسیم بانو نے الزام عائد کیا کہ بلڈر بھپیش اور عبید نے ان خواتین کو بھیجا تھا اور یہاں سائٹ پر غلط کام ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اگر سائٹ کا تالا توڑتا ہے تو اس پر کارروائی ہوگی نسیم بانو نے الزام عائد کیا کہ مکینوں کو بھی ان پچاس سے چالیس عورتوں نے نشانہ بنایا اور ہاتھا پائی کے ساتھ مارپیٹ کا واقعہ بھی پیش آیا آگری پاڑہ پولیس میں مقامی کارپوریٹر 212 ء عنبرین نے بلڈر اور پولیس کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ تین سال سے بلڈر کو ری ڈیولپمنٹ کا ٹھیکہ دیا گیا تھا لیکن اس نے کسی کو بھی کرایہ نہیں دیا جس کے بعد اس کا ٹھیکہ معطل ہوگیا اور بی ایم سی کمشنر نے بھی چار ماہ قبل ہی ٹھیکہ معطل کر دیا تھا اسی لئے آج بلڈر نے مرد اور خواتین باؤنسر سائٹ پر بھیجے تھے اس لئے مجھے مکینوں نے فون کیا اور میں نے سائٹ کا معائنہ کیا اور پھر پولیس اسٹیشن پہنچی پولیس اسٹیشن میں بلڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کر نے کیلئے ہم نے دھرنا دیا پولیس نے یقین دلایا ہے کہ اس مسئلہ پر ضروری کارروائی ہوگی جس کے بعد دھرنا ختم کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مکین اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں انہیں کرایہ بھی فراہم نہیں کیا جارہا ہے اس لئے بلڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

بلڈر نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا آگری پاڑہ بی ایم سی پلاٹ پر بازآبادکاری پروجیکٹ کے معرفت بھپیش بلڈر نے پروجیکٹ حاصل کیا اور اس میں تمام مکینوں سے باقاعدہ طور پر معاہدہ مکمل ہوا اور کام بھی جاری ہے ایسے میں کچھ مکین ہی کام میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں اس کے ساتھ ہی سیاستداں بھی اس پروجیکٹ میں رکاؤٹ حائل کررہے ہیں۔ بھپیش بلڈر نے بتایا کہ پروجیکٹ سے متعلق ان کے پاس تمام منظوری و اجازت نامے موجود ہے اس کے ساتھ ہی مکین بھی اس کیلئے تیار ہے لیکن کچھ مکین ایک پرائیوٹ بلڈر اور سیاستداں کے بہکاؤے میں آکر اس کی مخالفت کر رہے ہیں انہوں نے اس کی تردید کی ہے کہ ان کا پروجیکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے یہ بی ایم سی کمشنر نے اسے معطل کر دیا ہے انہوں نے سارے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے مارچ تک تمام مکینوں کو کرایہ بھی فراہم کیا ہے اور اس کی رسیدیں بھی ہمارے پاس موجود ہے اس کے باوجود کچھ مکین الزامات عائد کرتے ہیں یہ پوچھنے پر کہ آپ کے لوگوں نے سائٹ پر پہنچ کر غنڈہ گردی کی ہے تو انہوں نے اسے غلط اور گمراہ کن الزام قرار دیا اور کہا کہ ہمارے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج ہے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ آگری پاڑہ پولیس کے مطابق اس معاملہ میں اب تک کوئی بھی کیس درج نہیں کیا گیا ہے البتہ پولیس نے دھرنے کے بعد لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ اس مسئلہ پر ضروری کارروائی و تفتیش ہوگی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

سعودی نصاب سے احادیثِ رسول کا حذف ناقابلِ قبول، دینی نصاب کو سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھانا امت کے لیے تشویشناک( الحاج محمد سعید نوری)

Published

on

اس تعلق سے سنی جمیعت العلماء کے دفتر میں ایک اہم میٹنگ ہوئی جس کی صدارت تحفظ ناموس رسالت و نائب صدر سنی جمعیت علماء الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کی رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے سعودی عرب کے۲۶۔۲۰۲۵ کے تعلیمی نصاب میں بعض احادیثِ مبارکہ، اسلامی عبارات اور مذہبی اقتباسات کے حذف و ترمیم سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر شدید تشویش اور سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احادیثِ رسولِ اکرم کو سیاسی، سفارتی یا وقتی مصلحتوں کے تحت نصاب سے نکالنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ احادیثِ نبویہ کسی حکومت، سلطنت یا وزارتِ تعلیم کی جاگیر نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مقدس علمی و دینی سرمایہ ہیں۔ اگر کسی مستند حدیث کے کسی حصے کی تشریح مشکل یا حساس محسوس ہوتی ہے تو اس کی وضاحت مستند علماء و محدثین کے ذریعے کی جائے، نہ کہ حدیث کو خاموشی سے نصاب سے خارج کردیا جائے۔الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی رپورٹوں میں سعودی اسکولی نصاب میں متعدد تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں شامل بعض احادیث اور مذہبی اقتباسات کا حذف بھی بتایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا : اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ محض نصاب میں معمولی ترمیم کا معاملہ نہیں بلکہ نئی نسل کے دینی شعور اور اسلامی تاریخ کی تعبیر کا انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ احادیثِ رسول کو موجودہ سیاسی یا سفارتی ماحول کے مطابق نصاب سے نکالنا علم و دیانت کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دین کو حکومتی پالیسیوں کا تابع نہیں بنایا جاسکتا۔‘‘احادیثِ رسول کو سیاسی مصلحتوں کا تابع بنانا خطرناک رجحان رضا اکیڈمی کے سربراہ نے کہا کہ اسلام نے اہلِ کتاب اور دیگر اقوام کے ساتھ عدل، حسنِ سلوک، معاہدات، انسانی وقار اور بقائے باہمی کے واضح اصول دیے ہیں۔ رسولِ اکرم کی حیاتِ طیبہ اس کی روشن ترین مثال ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر مذہبی رواداری مقصود ہے تو سیرتِ مصطفیٰ کا مکمل اور مستند تعارف نئی نسل کو کیوں نہیں دیا جاتا؟ کیا رواداری کے نام پر تاریخ کے بعض حصوں کو حذف کرنا اور احادیث کے نصابی وجود کو ختم کرنا ہی واحد راستہ رہ گیا ہے؟الحاج محمد سعید نوری نے سعودی نصاب سے’’ مسلمان بیت المقدس سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے‘‘جیسے جملے کے حذف اور اسرائیل سے متعلق بعض سابقہ اصطلاحات میں تبدیلی کی اطلاعات پر بھی سخت تشویش ظاہر کی۔اس میٹنگ میں شریک علماء کرام مولانا فرید الزماں صاحب خطیب و امام کھتری مسجد مولانا امان اللہ رضا صاحب خطیب و امام رنگ والا کمپاؤنڈ مولانا عثمان صاحب برکت بھائی فرید محمد فرید و دیگر شامل تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان