Connect with us
Tuesday,21-July-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں ۳۷ بنگلہ دیشی زیر حراست واپسی کی تیاری شروع، کرائم برانچ کی کاررائی، تلاشی مہم میں شدت

Published

on

mumbai police

ممبئی : کرائم برانچ نے ۳۷ مبینہ بنگلہ دیشیوں کو زیر حراست لے کر اب انہیں بنگلہ دیش بھیجنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ ممبئی میں مختلف علاقوں میں چھاپہ مارُ کارروائی کرتے ہوتے کرائم برانچ یونٹ ون نے ۳۷ بنگلہ دیشی پایا تھا اور ان بنگلہ دیشیوں کے پاس سے کوئی بھی ہندوستانی دستاویزات یا شناختی کارڈ نہیں ملا, یہ غیر قانونی طریقے سے ہندوستان میں آباد تھے, اس لئے ان ۳۷ بنگلہ دیشیوں کو اب ڈیپورٹ کرنے کی تیاری کرائم برانچ نے شروع کر دی ہے۔ بنگلہ دیشیوں کےخلاف پولس نے آپریشن شروع کیا ہے, یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔ ممبئی کرائم برانچ نے تلاشی مہم میں بھی اب شدت پید اُکر دئ ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

محمد علی جوہر یونیورسٹی کارروائی، سیاسی انتقام کا نتیجہ، 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے بجائے اسے اہل قرار دیا جائے : ابو عاصم

Published

on

ABUASIM

ممبئی رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کیمپس کے اندر 38 عمارتوں کے خلاف کارروائی کرنے کے انتظامیہ کے احکامات کے بعد سیاسی ماحول کافی گرم ہو گیا ہے۔ اس پس منظر میں، اتر پردیش حکومت کے فیصلے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ یہ سارا آپریشن خالصتاً سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ یہ یونیورسٹی کوئی تجارتی عمارت یا شاپنگ مال نہیں ہے۔ یہ طلباء کی تعلیم کے لیے قائم ایک اہم مرکز ہے۔ تعلیم ملک اور ریاست کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آج پورے اترپردیش میں سرکاری اور پرائیویٹ عمارتوں کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرایا جائے تو اس سے یہ بات سامنے آئے گی کہ تقریباً 90 فیصد کے پاس مکمل ریگولیٹری منظوری نہیں ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ حکومت اکثر دیگر متعدد عمارتوں کو ضابطوں کے مطابق ریگولرائز کرتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس یونیورسٹی کے خلاف اتنا سخت فیصلہ کیوں لیا جا رہا ہے؟

الزام ہے کہ انتظامیہ اس ادارے کو صرف اس لیے نشانہ بنا رہی ہے کہ یہ ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ ہے جسے اعظم خان نے قائم کیا تھا۔ یہ دوہرا معیارایک طرف “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” (سب کے لیے ترقی) کی تبلیغ، دوسری طرف تعلیم میں پسماندہ کمیونٹی کے لیے بنائے گئے ادارے کے خلاف بلڈوزر استعمال کرنے کی دھمکی انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہر وہ شہری جو قوم اور ریاست کی ترقی کا خواہاں ہے اس کا مطالبہ ہے کہ اگر ان عمارتوں کے حوالے سے کوئی تکنیکی یا پرمٹ سے متعلق بے ضابطگیاں ہیں تو انہیں قواعد کے مطابق فوری طور پر ریگولرائز کیا جائے۔ حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ ایک نئی یونیورسٹی بنانے کی بجائے پہلے سے قائم تعلیمی ادارے کو تباہ کرنے کی کوششوں کو روکے اور اس تعلیمی ادارے کے تحفظ کے لیے تمام مسماری کے احکامات واپس لے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دلی : بی جے پی لیڈر سدابھاؤ کھوت کے ‘مظاہرین طلباء دہشت گرد’ والے متنازع بیان پر ناراضگی، کانگریس ترجمان اتل لونڈے کی تنقید

Published

on

Sadabhav-Khot

ممبئی مہاراشٹر بی جے پی لیڈر سدا بھاؤ کھوت نے دلی جنتر منتر کے مظاہرین کو دہشت گرد کے لقب سے نوازہ ہے جس کے بعد اب اس متنازع بیان پر ہنگامہ شروع ہوگیا ہے۔ سدابھاؤ کھوت کے بیان سے عوام میں ناراضگی پائی جارہی ہے کیونکہ جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک کے معاملہ میں طلباء نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہے, ایسے میں سدابھاؤ کھوت نے متنازع بیان دے کر کہا کہ مظاہرین کو جمہوری طریقے سے جواب دیا جائے, لیکن وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفی نہ لیا جائے دلی کے جنتر منتر احتجاج کو بھی سدا بھاؤ کھوت نے سازش قرار دی ہے اور کہا ہے کہ پیپر لیک کے معاملے میں سرکار نے ملزمین کو گرفتار کر کے سخت کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے, لیکن اس کے باوجود انڈیا الائنس سرکار کے خلاف سازش میں ملوث ہے۔ انہوں نے انڈیا الائنس اور اپوزیشن پر ملک میں بدامنی پیدا کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے ایک عوامی تقریب میں سدا بھاؤ نے یہ بیان جاری کیا ہے, جس کے بعد عوام میں بے چینی پائی جارہی ہے۔

کانگریس کے ترجمان اتل لونڈے نے اس پر تبصرہ کر تے ہوئے کہا کہ سدا بھاؤ کھوت وزیر تھے, لیکن اب ان کی وزارت ختم ہوچکی ہے دلی میں جنتر منتر کے احتجاجی مظاہرہ میں شریک طلباء کو آپ دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ آپ کا فرزند وہاں نہیں تھا دوسرے کے بچوں پر لاٹھیاں برسائی جارہی ہے۔ اگر اسی بیان پر آپ کو وزارت میسر آتی ہے تو اس میں کوئی تعجب نہیں ہوگا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پرامن احتجاج کی کوئی مخالفت نہیں، لیکن دلی میں احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا، احتجاج کے دوران بدامنی پیدا کرنے کی سازش : دیویندر فڑنویس

Published

on

Devendra Fadnavis

ممبئی : مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سنگین الزام عائد کر تے ہوئے دلی جنتر منتر میں سی جے پی کے پرامن احتجاج میں تشدد کو سیاسی ایجنڈہ قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس کے پس پشت بہت سی سیاسی پارٹی سیاسی فائدہ حاصل کر نے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اس میں کئی مخلص لوگ بھی شامل ہے لیکن جس طرح سے اس احتجاج میں تشدد برپا کیا گیا وہ سراسر غلط ہے پولیس پر پتھراؤ اور گاڑیوں کو توڑنا قطعی درست نہیں ہے فڑنویس نے دلی پولیس کی کارروائی کی بھی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ پولیس نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ احتجاجی مظاہرہ سے متعلق دیویندر فڑنویس نے یہ واضح کیا ہے کہ دستور اور جمہوریت میں احتجاج کا حق سبھی کو ہے لیکن اس میں بلا اجازت احتجاج کر کے حالات خراب کر نے کا حق کسی کو نہیں ہے اگر کوئی بلا اجازت احتجاج کرتا ہے یا تشدد و کشیدگی پیدا کرتا ہے تو اس پر کارروائی کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ جے سی پی کے احتجاج میں کچھ ایسے عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں جنہیں احتجاج سے کوئی سروکار نہیں ہے وہ صرف اپنے فائدہ اور ملک میں بدامنی کی سازش میں ملوث ہے۔

دیویندر فڑنویس نے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرہ پر کارروائی اس وقت ہی کی جاتی ہے جب یہ تشدد پرآمادہ ہوتے ہیں یا پھر کسی سازش کا حصہ ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ اجازت کے ساتھ احتجاج کرنے والوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے جبکہ احتجاجی مظاہرہ کا حق ہر کسی کو حاصل ہے اس سے کسی کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔ فڑنویس نے کہا کہ جے سی پی کے احتجاج کے پس منظر میں حالات خراب کر نے کی کوشش کی جارہی ہے جو ناقابل برداشت ہے انہوں نے مزید کہا کہ دلی میں جو ہوا وہ سب نے دیکھا ہے کس طرح سے یہاں تشدد برپا کیا گیا اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر سمیت ممبئی میں بھی احتجاجی مظاہرہ پر پولیس نے کارروائی کی ہے جبکہ احتجاجیوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کی بھی فڑنویس نے تائید کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان