Connect with us
Tuesday,21-July-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

پرامن احتجاج کی کوئی مخالفت نہیں، لیکن دلی میں احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا، احتجاج کے دوران بدامنی پیدا کرنے کی سازش : دیویندر فڑنویس

Published

on

Devendra Fadnavis

ممبئی : مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سنگین الزام عائد کر تے ہوئے دلی جنتر منتر میں سی جے پی کے پرامن احتجاج میں تشدد کو سیاسی ایجنڈہ قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس کے پس پشت بہت سی سیاسی پارٹی سیاسی فائدہ حاصل کر نے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اس میں کئی مخلص لوگ بھی شامل ہے لیکن جس طرح سے اس احتجاج میں تشدد برپا کیا گیا وہ سراسر غلط ہے پولیس پر پتھراؤ اور گاڑیوں کو توڑنا قطعی درست نہیں ہے فڑنویس نے دلی پولیس کی کارروائی کی بھی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ پولیس نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ احتجاجی مظاہرہ سے متعلق دیویندر فڑنویس نے یہ واضح کیا ہے کہ دستور اور جمہوریت میں احتجاج کا حق سبھی کو ہے لیکن اس میں بلا اجازت احتجاج کر کے حالات خراب کر نے کا حق کسی کو نہیں ہے اگر کوئی بلا اجازت احتجاج کرتا ہے یا تشدد و کشیدگی پیدا کرتا ہے تو اس پر کارروائی کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ جے سی پی کے احتجاج میں کچھ ایسے عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں جنہیں احتجاج سے کوئی سروکار نہیں ہے وہ صرف اپنے فائدہ اور ملک میں بدامنی کی سازش میں ملوث ہے۔

دیویندر فڑنویس نے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرہ پر کارروائی اس وقت ہی کی جاتی ہے جب یہ تشدد پرآمادہ ہوتے ہیں یا پھر کسی سازش کا حصہ ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ اجازت کے ساتھ احتجاج کرنے والوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے جبکہ احتجاجی مظاہرہ کا حق ہر کسی کو حاصل ہے اس سے کسی کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔ فڑنویس نے کہا کہ جے سی پی کے احتجاج کے پس منظر میں حالات خراب کر نے کی کوشش کی جارہی ہے جو ناقابل برداشت ہے انہوں نے مزید کہا کہ دلی میں جو ہوا وہ سب نے دیکھا ہے کس طرح سے یہاں تشدد برپا کیا گیا اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر سمیت ممبئی میں بھی احتجاجی مظاہرہ پر پولیس نے کارروائی کی ہے جبکہ احتجاجیوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کی بھی فڑنویس نے تائید کی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : دادر چیتنہ بھومی پر احتجاج کے دوران اورنگ زیب کی تصویر لہرانے پر ہنگامہ، پولس کو تفتیش کا حکم، اب تک ۸ ایف آئی آر درج

Published

on

FIR

ممبئی میں دادر چیتنہ بھومی پر سی جے پی کے احتجاجی مظاہرہ میں اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کی تصویر للہرانے پر ایک مرتبہ پھر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے اور اس سے حالات بھی کشیدہ ہو گئے ہیں جبکہ اورنگ زیب کی آڑ میں اب سیاست بھی شروع ہو گئی ہے, جبکہ پولس اس معاملہ میں تفتیش کر رہی ہے۔ دلی کے جنتر منتر احتجاج کی حمایت میں مہاراشٹر اور ممبئی میں حمایت اور احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف ممبئی پولس نے کارروائی میں شدت پیدا کردی ہے, اب تک مظاہرین کے خلاف تقریبا ۸ ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں چیتنہ بھومی شیواجی پارک میں چار ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مرین ڈرائیو میں ۲ آزاد میدان میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ممبئی میں اب احتجاج کے دوران اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کا پوسٹر لہرانے پر سیاست شروع ہو گئی۔ اس معاملہ میں پولس نے تحقیقات شروع کردی ہے۔ اورنگ زیب کی تصویر یہاں دادر چیتنہ بھومی میں احتجاج کے دوران لہرائی گئی جیسے بعد میں ہٹا دیا گیا, لیکن اس معاملہ میں پولس تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ تصویر کس نے احتجاج میں شامل کی تھی اور اس کے پس پشت کیا مقصد تھا ممبئی میں اورنگ زیب کی تصویر لہرانے کے معاملہ میں پولس نے تحقیقات شروع کردی ہے اور اس معاملہ میں باقاعدہ طور پر یہ معلوم کر رہی ہے کہ وہ کون تھا جس نے یہ تصویر لہرائی تھی اور اس کا مقصد کیا تھا۔ ڈی سی پی مہندر پنڈت نے بتایا کہ اس معاملہ میں سوشل میڈیا کے معرفت ملزم کی شناخت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی طریقے سے سڑک جام کرنے اور بلا پیشگی اجازت احتجاج کرنے پر کیس درج کیا گیا۔ اسی معاملہ میں اب یہ بھی تفتیش جاری ہے کہ اورنگ زیب کی تصویر کیوں لائی گئی تھی اور اس کے پس پشت کیا مقصد تھا, جبکہ اس واقعہ کے بعد سیاست شروع ہو گئی ہے اور پیپر لیک کا معاملہ اورنگ زیب کے نذر ہو گیا ہے۔ ممبئی پولس کو وزارت داخلہ نے اس معاملہ میں تحقیقات کا حکم صادر کیا ہے اور پولس اس معاملہ میں انکوائری کر رہی ہے۔ پولس نے اب تک جو ایف آئی آر درج کی ہے, اس میں ۶۰۰ ملزمین کو نامزد کیا گیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پیپر لیک پر پولیس کی کارروائی کے حوالے سے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کو لے کر سپریم کورٹ سے مداخلت کا اعظمی کا مطالبہ

Published

on

Abu Asim Azmi

ممبئی : ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے، پیپر لیک اسکینڈل کے سلسلے میں لیے گئے جارحانہ موقف کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ اعظمی نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ لال بہادر شاستری کے برعکس، جنہوں نے ایک ریلوے حادثے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیا تھا، یہ حکومت متعدد طلباء کی خودکشی کے باوجود کسی قسم کا احتساب قبول کرنے سے انکاری ہے۔

اعظمی نے سونم وانگچک کی ستائش کی اور کہا کہ انہوں نے طلبا کے مستقبل کے لئے یہ لڑائی شروع کی ہے ملک کے تعلیمی نظام میں ہونے والی خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے 20 دن کی بھوک ہڑتال کی ہے۔ تاہم، انہوں نے دہلی پولیس کی کارروائیوں کو ان کے خلاف لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سہارا لینا کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے الفاظ – “جب سڑکیں خاموش ہو جاتی ہیں تو پارلیمنٹ خود مختار ہو جاتی ہے” کو یاد کرتے ہوئے اعظمی نے کہا کہ پارلیمنٹ اس وقت سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ایسے وقت میں شہریوں کو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے دیے گئے آئین کے مطابق پرامن طریقے سے سڑکوں پر نکلنے اور ناانصافی اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کا پورا حق ہے۔

یہ الزام لگاتے ہوئے کہ ملک میں جمہوریت ختم ہو گئی ہے اور آمریت جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کی کارروائی اور سونم وانگچک کے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کا ازخود نوٹس لے اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کرے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محمد علی جوہر یونیورسٹی کارروائی، سیاسی انتقام کا نتیجہ، 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے بجائے اسے اہل قرار دیا جائے : ابو عاصم

Published

on

ABUASIM

ممبئی رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کیمپس کے اندر 38 عمارتوں کے خلاف کارروائی کرنے کے انتظامیہ کے احکامات کے بعد سیاسی ماحول کافی گرم ہو گیا ہے۔ اس پس منظر میں، اتر پردیش حکومت کے فیصلے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ یہ سارا آپریشن خالصتاً سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ یہ یونیورسٹی کوئی تجارتی عمارت یا شاپنگ مال نہیں ہے۔ یہ طلباء کی تعلیم کے لیے قائم ایک اہم مرکز ہے۔ تعلیم ملک اور ریاست کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آج پورے اترپردیش میں سرکاری اور پرائیویٹ عمارتوں کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرایا جائے تو اس سے یہ بات سامنے آئے گی کہ تقریباً 90 فیصد کے پاس مکمل ریگولیٹری منظوری نہیں ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ حکومت اکثر دیگر متعدد عمارتوں کو ضابطوں کے مطابق ریگولرائز کرتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس یونیورسٹی کے خلاف اتنا سخت فیصلہ کیوں لیا جا رہا ہے؟

الزام ہے کہ انتظامیہ اس ادارے کو صرف اس لیے نشانہ بنا رہی ہے کہ یہ ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ ہے جسے اعظم خان نے قائم کیا تھا۔ یہ دوہرا معیارایک طرف “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” (سب کے لیے ترقی) کی تبلیغ، دوسری طرف تعلیم میں پسماندہ کمیونٹی کے لیے بنائے گئے ادارے کے خلاف بلڈوزر استعمال کرنے کی دھمکی انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہر وہ شہری جو قوم اور ریاست کی ترقی کا خواہاں ہے اس کا مطالبہ ہے کہ اگر ان عمارتوں کے حوالے سے کوئی تکنیکی یا پرمٹ سے متعلق بے ضابطگیاں ہیں تو انہیں قواعد کے مطابق فوری طور پر ریگولرائز کیا جائے۔ حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ ایک نئی یونیورسٹی بنانے کی بجائے پہلے سے قائم تعلیمی ادارے کو تباہ کرنے کی کوششوں کو روکے اور اس تعلیمی ادارے کے تحفظ کے لیے تمام مسماری کے احکامات واپس لے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان