Connect with us
Wednesday,23-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

کماٹی پورہ بازآباکاری پروجیکٹ کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے, امین پٹیل کا پرزور مطالبہ, کام شروع کرنے کی یقین دہانی

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر اور رکن اسمبلی امین پٹیل نے توجہ طلب نوٹس کے معرفت کماٹی پورہ بازآباکاری کلسٹر ڈیولپمنٹ کو فوری طور پر مکمل کرنے اور ورک آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ کماٹی پورہ میں ۱۶ ہزار عمارتیں ہیں جس میں ۲۵ ہزار مکین آباد ہیں ان عمارتوں کی حالت خستہ ہے اور مانسون میں حادثات کا خطرہ ہے اگر ان عمارتوں کو حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی زمہ دار سرکار اور مہاڈ و متعلقہ ایجنسی ہو گی اس لئے اس پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ کماٹی پورہ علاقہ ایک گھنی، کثیر لسانی، متوسط ​​طبقے کی آبادی پر مشتمل ہے جو متعدد پرانی اور خستہ حال عمارتوں میں آباد ہے۔ مقامی باشندوں کی جانب سے ان تعمیرات کی فوری بحالی کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کماٹی پورہ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے ذریعے دوبارہ ترقی بازآبادکاری کی تجویز حکومت کو پیش کی گئی ہے، اور معمار ٹھیکیدارکی تقرری اور ٹینڈرز جاری کرنے جیسے اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔تاہم، دوبارہ ترقی کے عمل کو تیز کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ پرائم منسٹر گرانٹ پروجیکٹ (پی ایم ای جی پی) کے تحت بڑی تعداد میں عمارتیں عمر کھادی اور کماٹی پورہ جیسے علاقوں میں واقع ہیں۔ چھتیں گرنے، پانی کے رساؤ اور ساخت کی خرابی جیسے واقعات کی وجہ سے رہائشی خطرناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ری ڈیولپمنٹ کو تیز کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کئی میٹنگیں ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ ڈونگری، بھنڈی بازار، پائدھونی، بھولیشور، نال بازار، کلبا دیوی، اور محمد علی روڈ جیسے علاقے گنجان آباد ہیں اور بہت سی پرانی اور غیر محفوظ عمارتیں ہیں۔ مہاڈا کے لیے سروے کرنے، غیر قانونی تعمیرات کا معائنہ کرنے اور دوبارہ ترقیاتی پروجیکٹ شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم، مہاڈا میں عملے کی کمی کی وجہ سے، عمل میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے رہائشیوں میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ ہاؤسنگ کا بیان ، ڈیولپمنٹ کنٹرول ریگولیشن (ڈی سی آر) 33(9) کے تحت 12 جنوری 2023 کی حکومتی قرارداد کے ذریعے مہاڈا کے ذریعے کماٹی پورہ علاقے میں پرانی اور خستہ حال سیسڈ اور نان سیسڈ عمارتوں کی کلسٹر ری ڈیولپمنٹ کے لیے منظوری دی گئی ہے۔اس منصوبے کے تحت، تقریباً734 عمارتوں اور 8,001 کرایہ داروں/ رہائشیوں کی بحالی کی جائے گی۔ پروجیکٹ کو تیز کرنے کے لیے، مہاڈا کو 9 جولائی 2025 کو ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے، خصوصی منصوبہ بندی اتھارٹی قرار دیا گیا تھا۔
ٹینڈرز 12 جون 2025 کو جاری کیے گئے تھے، اور مناسب کارروائی کے بعد،بھاگیرتھی ہاؤسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کو ٹھیکے دیے گئے تھے۔ لمیٹڈ اور کماٹی ڈیولپرز پرائیویٹ لمیٹڈ14 نومبر 2025 کوورک آرڈر جاری کرنے کے لیے مزید کارروائی جاری ہے۔ پرائم منسٹر گرانٹ پروجیکٹ (پی ایم ای جی پی) کے تحت 1989-1995 کے دوران، تقریباً 269 سیسڈ عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیاجس کے نتیجے میں 66 نئی عمارتیں بنیں۔ مرمت کے لیے، حکومت نے 29 اگست 2024 کو مہاراشٹر ہاؤسنگ فنڈ سے 150 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ ان میں سے، عمر کھادی اور کماٹی پورہ علاقوں میں 12 عمارتوں کی ساختی مرمت کے لیے 12.80 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں، اور کام جاری ہے۔
عمر کھادی کے علاقے میں 81 عمارتوں کی کلسٹر ری ڈیولپمنٹ کے لیے ایک تجویز 3 دسمبر 2024 کو ایم ایچ اے ڈی اے کو پیش کی گئی۔ فزیبلٹی کا جائزہ لینے کے لیے میٹنگیں منعقد کی جا رہی ہیں۔ 20 عمارتوں کی بحالی کی تجویز ناقابل عمل پائی گئی، اور 36 عمارتوں کی نظرثانی شدہ رپورٹ 23 فروری 2026 کو پیش کی گئی، جس کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ ایم ایچ اے ڈی اے ایکٹ 1976 کی دفعہ79(اے) کے تحت عمارت کےمالکان کو دوبارہ ترقی کی تجاویز کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ تاہم،ہائی کورٹ نے 28 جولائی 2025 (درخواست نمبر 34771/2024) کو اس کارروائی پر روک لگا دی۔ نوٹسز کا جائزہ لینے کے لیے دو ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیٹی مقرر کی گئی ہے۔ یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ مہاڈا نے ممبئی میں عمارتوں کے اسٹرکچرل اسٹیبلٹی آڈٹ کرنے کے لیے 64 اسٹرکچرل آڈیٹرز/آرکیٹیکٹس کو مقرر کیا ہے۔ مزید برآں، 23 فروری 2026 کو عملے کے ریکارڈ کی منظوری کے بعد ایم ایچ اے ڈی اے میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے بھرتی جاری ہے۔وزیر مملکت پنکج بھوئیر نے کہا کہ ایک ہفتہ میں ورک آرڈر جاری کر کے دو ماہ میں کام شروع کر دیا جائے گا اور اس پروجیکٹ کو وائٹل پروجیکٹ پر بھی وزیر اعلیٰ سے میٹنگ میں فیصلہ لیا جائے گا یہ یقین دہانی وزیر موصوف نے کروائی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رئیس شیخ کا مطالبہ… سی ایم دیویندر فڑنویس کو لکھا خط، جسٹس چوہان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر اقلیتی برادری کو موقع دیا جائے

Published

on

Raees

ممبئی : مہاراشٹر یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ) ڈرافٹ کمیٹی سے ریٹائرڈ جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور ان کی جگہ اقلیتی برادری کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیٹی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھا ہے۔“اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹ کمیٹی جولائی میں سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی مدت چھ ماہ ہے۔ کمیٹی میں اقلیتی برادری کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جسٹس چوہان کے استعفے نے اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے بی جے پی کے اقدام کے پیچھے ایک سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔ مرکز اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی ‘مہایوتی’ حکومتیں انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے لیے زور دے رہی ہیں۔ اس قانون سے ملک کے ثقافتی تنوع کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، اس سے مختلف مذاہب میں طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے کے معاملات پر لاگو ہونے والے پرسنل لاز (ذاتی قوانین) عملی طور پر ختم ہو جائیں گے۔ رکن اسمبلی شیخ نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر اقلیتی برادری یو سی سی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی اس یو سی سی قانون کے ذریعے اکثریتی طبقے کے اصول و ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے اور ڈرافٹ کمیٹی کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لیے، کمیٹی میں اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے اقلیتی برادری اور قبائلی لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان