Connect with us
Monday,22-June-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن عام انتخابات 2025 – 26 : پولنگ سینٹر کے افسران کو ووٹنگ اصولوں اور مشین آپریٹ کی تربیت، 7 مختلف مقامات پر ٹریننگ سیشن شروع، جوشی نے معائنہ کیا

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات کے لیے ووٹنگ جمعرات، 15 جنوری 2026 کو ہوگی۔ ووٹنگ کے عمل کی تربیت کا پہلا مرحلہ آج (29 دسمبر 2025) کو شروع ہو گیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن علاقہ میں سات مختلف مقامات پر تین سیشنز میں منعقد ہونے والی اس ٹریننگ میں الیکشن کے لیے افسران اور ملازمین نے حصہ لیا۔ ووٹنگ کے قوانین کے بارے میں آگاہی کے بعد افسران اور ملازمین کے شکوک و شبہات دور ہو گئے۔ اس کے علاوہ، الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے بیلٹ یونٹ (بی یو) اور کنٹرول یونٹ (سی یو) کے کنکشن کا مظاہرہ کیا گیا، ووٹنگ کے حقیقی دن پر عمل کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔ ووٹنگ جمہوری عمل میں ایک بہت اہم اور کلیدی عنصر ہے۔ الیکشن کے دوران افسران و ملازمین کی ذمہ داری صرف ووٹنگ کے دن تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے انتخابی عمل کے ہر مرحلے پر چوکسی، شفافیت اور سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔ اس ٹریننگ کے دوران وہاں موجود افسران و ملازمین کے تمام شکوک و شبہات کا تفصیلی طور پر ازالہ کیا گیا اور رہنمائی پیغام دیا گیا کہ انتخابی کام پر اعتماد اور مستقل مزاجی سے کیا جائے۔ ووٹنگ کے بعد جمع کرائے جانے والے دستاویزات، رپورٹ پیش کرنے اور اعلیٰ افسران کے ساتھ ہم آہنگی کے طریقہ کار پر بھی زور دیا گیا اور تمام افسران و ملازمین سے اپیل کی گئی کہ وہ ذمہ داری اور مستعدی سے کام کریں اور انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں۔ممبئی میونسپل کارپوریشن عام انتخابات 2025 – 26 انتخابی عمل میں حصہ لینے والے تقریباً 50 ہزار افسران اور ملازمین کو ایک ہموار، شفاف اور منصفانہ عمل کو یقینی بنانے کے لیے تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ میونسپل کمشنر اور ایڈمنسٹریٹربھوشن گگرانی اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی کی رہنمائی میں انتخابی تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہ تربیت آج (29 دسمبر 2025) سے شروع ہوئی ہے۔میونسپل کارپوریشن نے اپنے دائرہ اختیار میں سات مختلف مقامات پر تربیتی سیشن منعقد کیے ہیں، یعنی انابھاؤ ساٹھے ہال (بائیکلہ)، نمبر ایم ٹریننگ سیشن کا انعقاد جوشی مارگ میونسپل کارپوریشن اسکول، کری روڈ (لوئر پریل)، لوک مانیہ تلک میونسپل کارپوریشن جنرل ہاسپٹل آڈیٹوریم (شیو ایسٹ)، بالگندھروا رنگناتھ، ویسٹ منڈیر، اے لنکا روڈ، ڈی ویسٹ منڈیر میں کیا گیا ہے۔ تھیٹر (ولے پارلے)، مہاکوی کالی داس تھیٹر (مولنڈ ویسٹ) اور پربودھنکر کیشو سیتارام ٹھاکرے تھیٹر (بوریولی ویسٹ)۔ ٹریننگ میں زونل ڈپٹی کمشنر، ایڈمنسٹریٹو ڈویژنز کے اسسٹنٹ کمشنرز اور الیکشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے شرکت کی۔ اس ٹریننگ میں کمپیوٹر پریزنٹیشنز (پی پی ٹی) کے ذریعے پولنگ کے اصل دن پر عمل کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی تکنیکی رہنمائی دی گئی۔ اس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم)، بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ کا کنکشن، فرضی انتخابات کے انعقاد کا طریقہ، انتخابات سے متعلق قانونی دفعات، الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ساتھ ریاستی الیکشن کمیشن، مہاراشٹرا کے رہنما خطوط، پوسٹل ووٹنگ کا عمل، ووٹنگ کے عمل کے مختلف مراحل، انتخابی مواد کا قبضہ اور معائنہ، انتخابی مواد کی جانچ اور جانچ میں شامل ہیں۔ نشان زد ووٹر لسٹ، ووٹنگ مشینوں کا معائنہ وغیرہ۔ پولنگ ا سٹیشنز کی تعمیر، پولنگ بوتھ کے ڈیزائن، پولنگ اسٹیشنز پر ایک دن پہلے کی جانے والی تیاریوں، پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچنے کے بعد کئے جانے والے اقدامات، پولنگ اسٹیشنوں پر سکیورٹی کے انتظامات، ووٹنگ کے اختتام کے بعد کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات دی گئیں۔ پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ آفیسرز کے فرائض اور ذمہ داریوں کے علاوہ پولنگ اسٹیشن علاقہ میں پولنگ اسٹیشن صدر کی ذمہ داریوں، مختلف مراحل پر کام کا خاکہ اور اہم معاملات میں کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں افسران و ملازمین کی رہنمائی کی گئی۔ ای وی ایم پلانٹس کا مظاہرہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ذریعے ہوں گے۔ اس تناظر میں پولنگ سٹیشن کے صدور اور پولنگ افسران کو انتخابی عمل میں استعمال ہونے والی ای وی ایم مشینوں کی ساخت، کنٹرول یونٹ اور بیلٹ یونٹ کے کام کے بارے میں ایک مظاہرے کے ذریعے تفصیلی جانکاری دی گئی۔ اس کے علاوہ ووٹنگ شروع ہونے سے قبل موک پولس کرانے کے درست اور باقاعدہ عمل، ووٹنگ کے دوران ممکنہ تکنیکی مسائل پیدا ہونے کی صورت میں فوری اقدامات اور ای وی ایم مشینوں کو بحفاظت سیل کرنے اور ووٹنگ ختم ہونے کے بعد متعلقہ عہدیداروں کے حوالے کرنے کے عمل کے بارے میں رہنمائی فراہم کی گئی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان