Connect with us
Sunday,21-June-2026

سیاست

مہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ

Published

on

Rais Shaikh & Yusuf Abrhani

ممبئی : (قمر انصاری) مہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں جاری اندرونی کشمکش اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے پارٹی کے سینئر لیڈر ابوعاصم اعظمی اپنی ہی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ سے ناراض چل رہے تھے۔ اگرچہ وہ اپنے بیانات میں دبے الفاظ میں اس ناراضگی کا اظہار کر چکے تھے، لیکن اب یہ معاملہ مکمل طور پر ظاہر ہو چکا ہے۔ اعظمی نے رئیس شیخ کی جگہ کانگریس چھوڑ کر آئے یوسف ابراہنی کو ترجیح دی ہے، جس سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ رئیس شیخ کو پارٹی سے باہر نکالنے کی پوری تیاری ہو چکی ہے۔

زمینی حقائق پر نظر ڈالیں تو رئیس شیخ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ممبئی اور بھیوَنڈی میں ان کی عوامی حمایت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ انہوں نے عوامی مسائل، خاص طور پر تعلیم، سڑک اور پانی کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بھیوَنڈی اسمبلی حلقے سے وہ لگاتار دوسری بار سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ مقامی عوام کا بھی ماننا ہے کہ انہیں صرف ان کے کاموں کی بنیاد پر دوبارہ منتخب کیا گیا۔

رئیس شیخ کی عوام سے براہ راست تعلق اور مستقل محنت کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہی نہیں، جنوبی ممبئی میں ان کے بطور کونسلر کیے گئے کام آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے میونسپل انتخابات میں ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کو بھی عوام ترجیح دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، ابوعاصم اعظمی رئیس شیخ کی اس بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خود کو خطرے میں محسوس کرنے لگے تھے۔ پارٹی ہائی کمان، خاص طور پر اکھلیش یادو کی اعظمی سے ناراضگی بھی اس پس منظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، رئیس شیخ کو مزید مضبوط ہونے سے روکنے کے لیے انہیں پارٹی سے باہر کیا جا رہا ہے۔

یوسف ابراہنی، جنہوں نے حال ہی میں کانگریس چھوڑ کر سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے، وہی ہیں جنہوں نے تقریباً 20 سال پہلے سماجوادی پارٹی کے درجنوں کونسلروں کو لے کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی، اور ممبئی میں پارٹی کو تقریباً ختم کر دیا تھا۔ بعد میں کانگریس نے انہیں مانخورد اسمبلی حلقے سے ایم ایل اے بنایا، لیکن اگلے الیکشن میں وہ ہار گئے۔

ابوعاصم اعظمی نے بعد میں مانخورد سے الیکشن لڑا اور یوسف ابراہنی کو شکست دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جیت میں رئیس شیخ کا بھی اہم کردار تھا۔ مگر اب، رئیس شیخ کو نکالنے کے لیے اعظمی نے ایک بار پھر یوسف ابراہنی کو پارٹی میں شامل کر لیا ہے، اس امید پر کہ وہ دوبارہ درجنوں کونسلر پارٹی میں لا سکیں گے۔

جس پارٹی دفتر سے رئیس شیخ برسوں سے کام کر رہے تھے، وہ بھی اب یوسف ابراہنی کے حوالے کر دیا گیا ہے — جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب پارٹی میں رئیس شیخ کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچی۔

اکھلیش یادو کے قریبی ذرائع کے مطابق، سماجوادی پارٹی مہاراشٹر میں اب ایک ایسے لیڈر کی تلاش میں ہے جو ابوعاصم اعظمی کی جگہ لے سکے۔ پارٹی کو نقصان سے بچانے کے لیے اب اعظمی کے فیصلوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور پارٹی نئی حکمت عملی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔

المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان