Connect with us
Saturday,18-April-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں عیدالاضحی جانوروں کی منڈی بند رکھنے کا فیصلہ واپس

Published

on

Deonar-&-Fadnavis

ممبئی : ممبئی عید الاضحی پر امن وامان کو یقینی بنانے اور مویشیوں کی منڈی بند رکھنے کی تجویز کو بھی وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واپس لے لیا ہے۔ اس سے قبل عیدالاضحی کے دوران جانوروں کی منڈی بند رکھنے کی تجویز پیش کی گئی تھی, جس کی مسلمانوں نے مخالفت کی اور اس کے بعد اب اس فیصلہ کو بھی واپس لیا گیا ہے۔ ممبئی عیدالاضحی سے قبل مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے پرامن ماحول میں عیدالاضحی کے لئے ضروری احکامات جاری کئے ہیں۔ مسلم نمائندوں کی میٹنگ میں وزیراعلی نے مسلمانوں کے تمام مطالبات منظور کئے, اور دیونار میں بکرا منڈی میں سہولیات فراہم کرنے سے لے کر قربانی کے دوران ضروری اقدامات کرنے کی بھی یقین دہائی کروائی ہے۔ ابوعاصم اعظمی نے بتایا کہ بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا اور نتیش رانے ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں, وہ سوسائٹی پر دباؤ ڈالنے کے لئے قربانی نہ ہونے کا اعلان کر رہے ہیں, لیکن جن سوسائٹی میں قربانی ہوتی ہے, ان سوسائٹی میں قربانی کے عمل میں کوئی بھی رخنہ اندازی نہ ہو یہ مطالبہ بھی وزیر اعلیٰ سے کیا گیا۔ قربانی کے دوران شرپسندوں کی شرانگیزی پر نظر رکھنے اور سماج دشمن عناصر کے خلاف ضروری کارروائی کا بھی مطالبہ مسلم نمائندوں نے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ ہر سال کی طرح امسال بھی قربانی کا عمل پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگا۔ انہوں نے مسلمانوں کے تمام مطالبات کو منظور کرتے ہوئے ہر مسئلہ پر خصوصی غور و خوص کیا ہے۔ ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ قربانی پر شرپسندوں کی شرانگیزی پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے, تاکہ حالات پرامن رہے۔ دیونار میں جانوروں کے بیوپاریوں کو کسی بھی قسم کی کوئی دشواری نہ ہو, اس کی بھی ہدایت دی گئی ہے, ساتھ ہی ۳۶ گھنٹے تک جانوروں کی گاڑیاں خالی نہ ہونے سے بیوپاریوں کی پریشانی پر بھی بات کی گئی, ساتھ ہی اضافی فیس وصولی پر بھی وزیر اعلی نے روک لگائی ہے۔

اہم میٹنگ میں وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے یقین دلایا کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی عید الاضحی پر سہولیات فراہم کی جائیں گی، امن و امان کا خیال رکھا جائے گا۔ جانوروں کی منڈی بند رکھنے کی تجویز واپس لے لی گئی اور قربانی کے جانوروں کی 200 روپے فیس کم کر کے 20 روپے کردی گئی۔ بدعنوانی کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حکم بھی وزیر اعلی نے جاری کیا, نفرت پھیلانے والے ہندو مسلم تفریق پیدا کر کے عید پر ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان فرقہ پرستوں کی زبان بندی کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے ۔ قربانی کے دوران نظم و نسق کی برقراری پر خاص توجہ دینے کی وزیر اعلی نے ہدایت کی ہے۔

وزیر اعلی کو ابو عاصم اعظمی نے بتایا کہ جانوروں کی گاڑی خالی کروانے کے لئے اضافی فیس وصولی کی گئی ۲۰۰ کے بجائے ۵۰۰ روپیہ وصول کیا گیا, پارکنگ کا ۳ ہزار سے پانچ ہزار روپیہ جبرا وصول کیا گیا, جو بیوپاری کا بکرا عیدالاضحی میں فروخت نہیں ہوتا, اس کی فیس واپس کی جائے۔ پہلے دیونار بکرا کی فیس 200 روپیہ ہوا کرتی تھی, اسے 20 کیا جائے۔ دیونارمیں بکرا اتارنے کے پانچ دروازے گیٹ پانچ دھکا گیٹ کیا جائے, اس کے ساتھ ہی قربانی کے دوران خریداروں کی بھیڑ ہوتی ہے, گاہکوں کی سہولت کے لئے تین کھڑکی شروع کی جائے۔ یہ تمام مطالبات کو وزیر اعلی نے منظوری دیتے ہوئے ضروری احکامات بھی جاری کئے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

آیان شیخ جنسی استحصال کیس لوجہاد نہیں, تفتیش میں نیا خلاصہ, آیان کی جان کو خطرہ

Published

on

ممبئی: امراؤتی پر توارڈ پولس اسٹیشن کی حدود میں آیان شیخ عرف ایاز شیخ کے خلاف جنسی استحصال کی ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے آیان شیخ کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ویڈیو اس کے دوست عذیر خان نے ہی اپنے انسٹاگرام پر لیک افشا کئے تھے جس کے بعد بھونچال آگیا اس معاملہ میں پولس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے ۸ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے تفتیش میں کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں آیان شیخ نے ہی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثرین سے رابطہ کیا تھا اور دوستی بنانے کے بعد وہ ان لڑکیوں سے معاشقہ رکھتا اور پھر انہیں ہوٹل میں لیجا کر ان سے تعلقات قائم کرتا تھا عذیر نے انسٹاگرام پرُاس لئے ویڈیو وائرل کی تھی کیونکہ وہی آیان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی کیا کرتا تھا اور پیسوں کو لے کر دونوں میں تنازع ہو گیا تھا اور اس نے غصہ میں ویڈیوز وائرل کیا اس معاملہ میں ویڈیو تیار کرنے والوں سے لے کر اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں تک کو پولس نے گرفتار کیا ہے
تین پولس والے معطل
آیان شیخ کیس میں ایک اے ایس آئی سلیم اور دو کانسٹبل کو معطل کردیا گیا ہے ان پولس والوں کے ساتھ آیان کی ویڈیو وائرل تھی اور یہ آیان کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے اس سے پولس محکمہ کی شبیہ خراب ہو رہی تھی جس کے بعد پولس والوں کے خلاف معطلی اور انکوائری کی کارروائی کی گئی ہے آیان شیخ کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہے کیونکہ متاثرین کے رشتہ دار اور والدین مشتعل ہے اور عدالت میں پیشی کے دوران اس کی سیکورٹی کا بھی خاص خیا ل رکھا جاتا ہے پولس نے بتایا کہ آیان شیخ سے متعلق جو تفتیش شروع کی گئی اس میں اب تک یہ معاملہ لوجہاد کا نہیں ہے اور نہ ہی متا ثریا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بعد اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش تیز ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں بلڈوزر ایکشن بھی لیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونے امبیڈکر جینتی پروگرام میں نکسلیوں کا ‘ہڈما’ گانے پر رقص, بی بی اے کے دو طلبا کے خلاف کیس درج

Published

on

ممبئی: ممبئی پونے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جینتی کے موقع پر منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام میں نکسلائیٹ ہدما ماڈوی پر مبنی گانے پر مبنی ڈانس پرفارمنس منظر عام پر آنے سے ہلچل مچ گئی اسی مناسبت سے پولس نے کیس بھی درج کر لیا ہے لیکن گانے اور رقص پر کیس درج کرنے پر اب سوشل میڈیا پر یہ سوال عام ہے کہ آیا کیا گانے اور رقص کو قابل اعتراض تصور کر کے کیس درج کرنا قانونی طور درست ہے ؟ ہڈما گانے پر وشرانت واڑی پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کرن نارائن گوماسے (عمر 22 سال، آبائی باشندہ دیچلی، تلہ ہری، ضلع گڈچرولی، فی الحال بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل، ویشرانت واڑی میں مقیم ہیں) اور سرینواس ہنومنت کماری (عمر 23 سال، آبائی باشندہ جھنگنور، تال. گچھی، اس وقت اسی سرونڈنگ، ضلع سرونڈنگ) ہاسٹل) کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق امبیڈکر جینتی کے موقع پر 11 اپریل کو بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل وشرانت واڑی میں ایک ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ہدما مادوی پر مبنی گانے پر رقص کا مظاہرہ کیا گیا،جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھا اور پیپلز لبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی اے) کی بٹالین نمبر 1 کی کمانڈر بھی تھا۔پولیس نے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں کارروائی کی ہے جس سے ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرہ ہے ۔ اس معاملے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 197(1)(ڈی) 353(1) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وشرانت واڑی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے اور پولیس سب انسپکٹر بھوسلے معاملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ اس واقعے نے شہر میں ہلچل پیدا کردی ہے اور علمی و سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ محض گانے پر رقص سے کیس درج کر لیا گیا کیا یہ اظہار آزادی کے منافی نہیں ہے ؟

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ڈونگری 9 غیر مجاز دکانوں پر محکمہ بی کی انہدامی کارروائی

Published

on

Dongri

ممبئی بی’ ڈپارٹمنٹ کے تحت، حال ہی میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘بی’ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے سردار ولبھ بھائی پٹیل مارگ اور ڈونگری علاقے میں 9 غیر مجاز دکانوں، غیر مجاز گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سڑک پر لگائے گئے لوہے کے ستون، دکانوں کی غیر مجاز نام کی تختیوں اور دیگر تجاوزات پر بے دخلی کی کارروائی کی گئی۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر (زون 1) چندا جادھو کی رہنمائی میں اسسٹنٹ کمشنر یوگیش دیسائی کی قیادت میں کی گئی۔یہ پایا گیا کہ ولبھ بھائی پٹیل مارگ اور ڈونگری کے علاقے میں ‘بی’ ڈپارٹمنٹ میں فٹ پاتھ پر غیر مجاز دکانیں اور تجاوزات پیدل چلنے والوں کے لیے رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ اس پس منظر میں میونسپل کارپوریشن کے ‘بی’ انتظامی ڈویژن (وارڈ) کے تحت کام کرنے والے کنزرویشن، انکروچمنٹ ریموول اور لائسنسنگ ڈیپارٹمنٹس نے مشترکہ طور پر ایک مہم چلائی۔ اس آپریشن کے دوران 9 غیر مجاز دکانیں، فٹ پاتھ پر قائم تجاوزات، دکانوں کی غیر مجاز اضافی تعمیرات، غیر مجاز گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سڑک پر نصب لوہے کے ستون اور دکانوں کی غیر مجاز نام تختیاں ہٹا دی گئیں۔ اس دوران علاقے میں غیر مجاز ہاکروں کے خلاف بھی بے دخلی کی کارروائی کی گئی۔

اس آپریشن میں ’بی‘ ایڈمنسٹریٹو ڈویژن کے تحت کام کرنے والے کنزرویشن، انکروچمنٹ ریموول، لائسنسنگ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین نے حصہ لیا۔ اس وقت ڈونگری پولس اسٹیشن کی طرف سے مناسب سیکورٹی تعینات کی گئی تھی۔ ادھر انتظامیہ واضح کر رہی ہے کہ غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز ہاکروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی جاری رہے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان