Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

ممبئی کے مقامی مسافروں کے لیے ہر روز خوشخبری… جائز ٹکٹوں کے ساتھ روزانہ 10,000 روپے اور ہفتہ وار 50,000 روپے کے انعامات جیتیں۔

Published

on

Local-Train

ممبئی : اگر آپ ریلوے ٹکٹ (ممبئی لوکل) یا پاس پر سفر کر رہے ہیں، تو آپ کے پاس روزانہ 10,000 روپے اور ہفتے میں ایک بار 50,000 روپے کا انعام جیتنے کا موقع ہے۔ سنٹرل ریلوے نے ‘دی لکی یاترا’ اسکیم کے تحت ہر روز ایک خوش قسمت مسافر کو انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اسکیم اگلے ہفتے شروع کی جائے گی۔ دراصل، سنٹرل ریلوے نے ممبئی مضافاتی ریلوے یعنی ممبئی لوکل میں بغیر ٹکٹ سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد کو روکنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے تحت ٹکٹ پاس ہولڈرز کے لیے آٹھ ہفتوں کے لیے یہ خصوصی اسکیم تیار کی گئی ہے۔ ایف سی بی انٹرفیس کمیونیکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ اس اسکیم میں شامل ہے اور انعامی رقم خوش نصیب مسافروں میں تقسیم کرے گی۔

اس اسکیم کو ممبئی کے مقامی مسافروں میں ٹکٹ خرید کر سفر کرنے کی عادت پیدا کرنے اور نظم و ضبط والے مسافروں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ایک خصوصی پہل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سینٹرل ریلوے کے چیف پبلک ریلیشن آفیسر ڈاکٹر سوپنل نیلا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت ایک مسافر کو 10 ہزار روپے روزانہ اور ہفتے میں ایک بار 50 ہزار روپے کا بمپر انعام دیا جائے گا۔ اسکیم شروع ہونے کے بعد مسافروں سے اچانک ٹکٹ اور پاس مانگے جائیں گے۔ متعلقہ مسافر کی جانب سے ٹکٹ پاس دکھانے کے بعد اس کی تصدیق کی جائے گی۔ اگر ٹکٹ درست ہے تو مسافر کو نقد انعام فوری طور پر دیا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت، تمام قسم کے ٹکٹ بشمول ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ پاسوں کو درست تصور کیا جائے گا۔ نیلا نے یہ بھی کہا کہ یہ اسکیم تمام زمروں کے مسافروں کے لیے کھلی ہے۔ اس خصوصی اقدام کے تحت ریلوے مسافروں سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ یہ پوری اسکیم ایک پرائیویٹ تنظیم کے زیر اہتمام ہے۔ انعامی رقم ایک نجی تنظیم فراہم کرے گی۔

مسافر ٹرین ٹکٹ کے ساتھ سفر کریں۔ اس کے لیے مسافروں کے پاس ٹکٹ خریدنے کے لیے بہت سے آپشن موجود ہیں۔ ان میں ٹکٹ ونڈو، اے ٹی وی ایم، موبائل ٹکٹ، آن لائن ٹکٹ اور سمارٹ کارڈ شامل ہیں۔ نیلا نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹکٹ خرید کر ٹرین میں سفر کریں اور اس اسکیم میں حصہ لیں۔ درحقیقت، ممبئی لوکل ٹرینوں میں روزانہ 75 لاکھ سے زیادہ مسافر سفر کرتے ہیں۔ اس میں سنٹرل ریلوے کے 40 لاکھ مسافر شامل ہیں۔ سنٹرل ریلوے حکام کا اندازہ ہے کہ 20 فیصد ریل مسافر بغیر ٹکٹ کے سفر کرتے ہیں۔ سینٹرل ریلوے کے ٹکٹ انسپکٹر روزانہ اوسطاً 4,000 سے 5,000 مسافروں پر جرمانہ عائد کرتے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان