Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

‎دیشا سالیان کی پراسرار موت کی دوبارہ سی بی آئی جانچ کا مطالبہ

Published

on

Disha-Salian's

‎ ممبئی شیوسینا کے اراکین اسمبلی نے آج خاموش احتجاج کیا، ودھان بھون کے علاقے میں پلے کارڈ دکھا کر، دیشا سالیان موت کے معاملے کی سی بی آئی سے مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دیشا کے والد نے اس قتل میں کچھ لوگوں پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ شیو سینا کے اراکین اسمبلی نے احتجاج کے دوران مطالبہ کیا کہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے اور دیشا کے خاندان کو انصاف ملنا چاہیے۔ ‎دیشا سالیان کے والد نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ دیشا سالیان کو انصاف ملنا چاہیے۔ سابق میئر کشوری پیڈنیکر کا نام سامنے آرہا ہے۔ شیوسینا کے ایم ایل اے ڈاکٹر منشیا کیارندے نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جانی چاہئے کہ آیا کسی نے سالیان خاندان کو ہراساں کیا یا دباؤ ڈالا۔ اس معاملے کو کوئی سیاسی رنگ نہیں دیا گیا۔ انہوں نی کہا کہ دیشا سالیان کے والد پانچ سال تک انصاف نہ ملنے پر عدالت گئے۔

‎ان کا مزید کہنا تھا کہ جب کہ دیشا کے والد کو شبہ تھا کہ یہ قتل ہے، ایک دوشیزہ کی لاش 14ویں منزل سے گرتی ہے، لیکن پھر بھی اس دوشیزہ کے جسم پر ایک بھی زخم نہیں ہے، سر پر بھی نہیں، تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’اگر کوئی لاش 14ویں منزل سے گرے تو وہ بے زخم کیسے رہ سکتی ہے؟‘‘، انہوں نے کہا کہ ان تمام الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ‎ہم نے کسی پر الزام نہیں لگایا ہے لیکن دیشا کے والد نے کچھ لوگوں پر شک ظاہر کیا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجوہات یا معلومات ضرور ہو گی۔ پہلے سے کچھ پس منظر ہو گا۔ ہم صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ اس بدقسمت باپ کو انصاف ملنا چاہیے۔ ایم ایل اے ڈاکٹر نے مطالبہ کیا کہ کیس کو دوبارہ سی بی آئی کے حوالے کیا جائے اور نئے سرے سے تحقیقات کرائی جائے۔

‎سابق میئر کشوری پیڈنیکر کی بھی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشوری پیڈنیکر کو ان تمام سوالات کے جوابات دینا ہوگا انہوں نے دوشیزہ کے والد پر کس کی ہدایت پر دباؤ ڈالا، انہیں مسلسل غلط معلومات کیوں دی گئیں، جیسا کہ والد کا دعویٰ ہے، اور کیا انہیں یہ یقین دلانے کے لیے نگرانی میں رکھا گیا کہ جو ثبوت دیے گئے ہیں وہ درست ہیں۔ ‎دیشا کے والد نے درخواست میں الزام لگایا ہے کہ پولیس تحقیقات مکمل کرنے کے لیے نہیں بلکہ کسی کو بچانے اور سچائی کو دبانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ مناسب فرانزک تفتیش نہیں کی گئی اور عجلت میں کیس کو خودکشی قرار دے کر سچائی کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ یہی نہیں بلکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بھی جعلی بنایا گیا اور میڈیکل شواہد کو بھی تباہ کیا گیا، یہ تمام الزامات اس درخواست میں درج کیے گئے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ بہت سنگین صورتحال ہے۔ اس سے پولیس کے کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ یقیناً اس کے لیے ان پر اتنے ہی بڑے کسی کا دباؤ ہوگا، ورنہ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com