Connect with us
Monday,04-May-2026

سیاست

ادھو ٹھاکرے نے ناگپور تشدد پر وزیر اعلیٰ پر کیا حملہ، فڑنویس نے افواہوں کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا، ٹھاکرے نے بی جے پی پر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کا لگایا الزام

Published

on

uddhav-fadnavis

ممبئی : شیوسینا یو بی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ناگپور تشدد پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ریاست کی ڈبل انجن حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نہ تو وزیر اعلیٰ ہوں اور نہ ہی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ سے پوچھیں کہ تشدد کے پیچھے کون ہے؟ ٹھاکرے نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ ناگپور آر ایس ایس کا گڑھ ہے، وہاں ہندوؤں کو کیسے خطرہ ہو سکتا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے ناگپور کے تشدد کو پہلے سے منصوبہ بند قرار دیا اور الزام لگایا کہ اگر یہ پہلے سے منصوبہ بند تھا تو پھر وزارت داخلہ کیا کر رہی تھی؟ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ سازش ہے تو یہ کس کی سازش ہے؟ کیا یہ وہی سازش ہے جو گجرات میں پیدا ہو کر مہاراشٹر پر حملہ کرنے والے اورنگ زیب نے رچی تھی؟ انہوں نے مزید کہا کہ میں بی جے پی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہم نے آپ کا ہندوتوا دیکھا ہے، اگر آپ کو سبز جھنڈے سے اتنا ہی مسئلہ ہے تو اپنے جھنڈے سے سبز رنگ کو ہٹا دیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اتر پردیش میں بلڈوزر مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ناگپور میں بھی یہی بلڈوزر چلایا جانا چاہئے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ قبر کو ہٹانا ہے، تو اسے ہٹا دیں، لیکن نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو کو بھی بلا لیں۔

ادھو نے کہا کہ ان کے لیڈروں کے بچے میچ دیکھنے دبئی جاتے ہیں۔ امیت شاہ کا بیٹا پاک بھارت میچز کرواتا ہے۔ ساتھ ہی یہ لوگ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہو رہے مظالم پر کچھ کہنے کو تیار نہیں ہیں۔ دوسری طرف مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے منگل کو ناگپور تشدد پر اسمبلی میں بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد اس افواہ سے ہوا کہ ایک علامتی قبر پر رکھی ایک چادر میں مذہبی علامت تھی، جسے جلا دیا گیا تھا۔ شام کو یہ افواہ پھیل گئی اور حالات بگڑ گئے اور تشدد پھوٹ پڑا۔ وزیر اعلیٰ فڑنویس نے مزید کہا کہ اس معاملے میں پانچ مجرمانہ معاملے درج کیے گئے ہیں۔ امن و امان کو کنٹرول کرنے کے لیے 11 تھانوں کی حدود میں لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی ریزرو پولیس فورس (ایس آر پی ایف) کے پانچ دستے صورتحال سے نمٹنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائن اسپتال میں زیر علاج مریض کے سر میں پیوست چاقو نکالا گیا، اسپتال انتظامیہ کی بہتر کارکردگی کے سبب مریض حالت مستحکم

Published

on

ICU

ممبئی ایک 27 سالہ مریض کو لوک مانیہ تلک میونسپل کارپوریشن جنرل اسپتال، سائن کے شعبہ حادثات میں 2 مئی 2026 کی اولین ساعتوں میں لایا گیا تھا۔ مریض کو ناریل کاٹنے والے چاقو سے سر پر مبینہ حملے کے بعد داخل کیا گیا تھا۔ مریض مکمل طور پر ہوش میں اور مستعد تھا اور داخلے پر اس میں کوئی اعصابی کمی نہیں تھی۔ مریض کو فوری طور پر ٹراما آئی سی یو (ایکسیڈنٹ انٹینسیو کیئر یونٹ) میں داخل کرایا گیا۔ اس کے بعد مریض کے علاج کے مطابق ضروری طبی ٹیسٹ کرائے گئے۔ مریض کے ریڈیولاجیکل معائنے سے معلوم ہوا کہ ناریل کاٹنے والا چاقو بائیں جانب سے کھوپڑی میں داخل ہوا تھا اور دماغ میں تقریباً 1.5 انچ تک گھس گیا تھا۔ مریض کا فوری طور پر اسپتال کے سرجن نے آپریشن کیا۔ نیورو سرجری ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر بٹوک دیورا کی قیادت میں ٹیم اور اینستھیزیولوجسٹ ڈاکٹر شویتا مبرے کی قیادت میں ٹیم نے سر میں داخل ہونے والے چاقو کو کامیابی سے نکال دیا۔ مریض کی سرجری کامیاب رہی۔ مریض سرجری کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور ٹراما آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔ مریض کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔ مریض کی حالت بھی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں سنسنی خیز واقعہ : سائن اسپتال کے آئی سی یو کے باہر سر میں چاقو گھسا ہوا شخص، علاج میں لاپرواہی کے الزامات

Published

on

ممبئی سے ایک نہایت چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے اسپتال کے احاطے میں موجود مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، لوکمانیہ تلک میونسپل جنرل اسپتال (سائن اسپتال) کے ٹراما انٹینسو کیئر یونٹ (آئی سی یو) کے باہر ایک شخص سر میں چاقو گھسے ہوئے حالت میں کھڑا نظر آیا۔ اس ہولناک منظر کو دیکھ کر وہاں موجود افراد میں افراتفری مچ گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق، مذکورہ شخص شدید زخمی تھا، لیکن کچھ وقت تک اسے فوری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ الزام ہے کہ وہ علاج کے لیے اسپتال پہنچا تھا، مگر کسی بھی ڈاکٹر نے اسے فوری ایمرجنسی کیس کے طور پر نہیں دیکھا اور مبینہ طور پر اسے نظر انداز کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال انتظامیہ اور پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ بعد ازاں زخمی شخص کو آئی سی یو میں داخل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹر اس کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس واقعے نے اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت علاج فراہم کیا جاتا تو صورتِ حال اتنی سنگین نہ ہوتی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دھولیہ مسلم بستی پر کارروائی سراسر ناانصافی، ابوعاصم اعظمی کا اقلیتی کمیشن کو مکتوب ارسال، کاروائی اور نوٹس پر اسٹے عائد کرنے کی درخواست

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے دھولیہ میں مسلم بستیوں کو غیر قانونی طریقے سے مکانات خالی کرنے اور انہدامی کارروائی کے نوٹس پر اسٹے عائد کرنے کا مطالبہ اقلیتی کمیشن چیئرمین پیارے خان سے کیا ہے۔ انہوسن نے کہا کہ دھولیہ میں ۲۷۵ مسلمانوں کو بےگھر کرنا سراسر ناانصافی ہے جبکہ سرکار نے وزیر اعظم آواس یوجنا کے معرفت ان کی باز آبادکاری کرنے کا جی آر بھی جاری کیا تھا, یہ کنبہ دھولیہ لال سردارنگر اینٹ بٹی علاقہ میں ۴۰ سے ۵۰ برسوں سے آباد تھا, لیکن انتظامیہ نے اچانک انہدامی کارروائی کر انہیں بے دخل کر دیا ہے, انہیں 21 اپریل کو غیر قانونی طریقے سے نوٹس ارسال کی گئی۔ ریاستی سرکار نے ۲۶ مارچ ۲۰۲۶ کے جی آر کے مناسبت سے وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت مکینوں کی باز آبادکاری کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا۔ انتظامیہ کی اچانک کارروائی غیر انسانی او ر غیر قانونی ہے اس لئے اقلیتی کمیشن سے درخواست ہے کہ وہ اس غیر قانونی نوٹس پر اسٹے حکم امتناعی نافذ کرے اور مکینوں پر انصاف دے اس متعلق دھولیہ کے ایڈوکیٹ زبیر اور مکینوں نے درخواست کی ہے کہ انہیں انصاف میسر ہو اور غیر قانونی انہدامی نوٹس پر اسٹے عائد ہو۔ ابوعاصم اعظمی نے مکینوں کے مطالبہ پر اقلیتی کمیشن کو مکتوب ارسال کر کے کارروائی پر روک اور اسٹے عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان