Connect with us
Thursday,06-August-2026

مہاراشٹر

مراٹھی لازمیت بزرگ ڈرائیوروں کو زباندانی کے لیے رعایت دی جائے, زبان کی بنیاد پر فوری کسی کا پرمٹ منسوخ نہ ہو : ابوعاصم

Published

on

ABUASIM

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یکم مئی سے مراٹھی زبان لازمیت کے معاملہ میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو رعایت دینے اور انہیں مراٹھی سیکھنے تک مہلت دینے کی درخواست یہاں وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرمائک سے کی ہے ایک مکتوب ارسال کر کے اعظمی نے کہا کہ مراٹھی لازمیت کا نیا نیا قانون یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہو گا اس سے رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں، خاص طور پر بزرگوں میں تشویش کی لہر ہے۔ کسی بھی قانون کا مقصد اصلاحی ہوتا ہے لیکن اس سے کسی کی روزی روٹی نہیں چھیننی چاہیے۔ مہاراشٹر ایک ایسی ریاست ہے جو ملک بھر کے شہریوں کو روزگار فراہم کرتی ہے، اور یہی ہماری ریاست کی اصل شناخت ہے۔ بہت سے ڈرائیور جو دوسری ریاستوں سے یہاں مقیم ہے انہوں نے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کی ہے، اس لیے انہیں مراٹھی سیکھنے میں وقت درکار ہے اس حقیقت سے ہم انکار نہیں کر سکتے۔سائنسی نقطہ نظر سے، 45 سے 50 سال کی عمر کے بعد نئی زبان سیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے میرا مطالبہ ہے کہ اس اصول کو 18 سے 45 سال کی عمر کے نوجوانوں تک محدود رکھا جائے اور تجربہ کار اور بزرگ ڈرائیوروں کو اس سے مکمل استثنیٰ دیا جائے۔ ایسے ڈرائیوروں کے لیے جو اپنے خاندان کا واحد کفیل ہیں، حکومت کو ایک خصوصی افسر کا تقرر کرنا چاہیے اور انھیں کم از کم دو سال کی توسیع دینا چاہیے تاکہ ان کی روزی روٹی میں خلل نہ پڑے۔ مزید برآں، لینگویج ٹیسٹ فارمیٹ کو آسان اور آن لائن کیا جانا چاہیے، ڈرائیوروں کو ہر سال کم از کم چار مواقع ملیں۔ صرف زبان کی وجہ سے اجازت نامے منسوخ کرنا ناانصافی ہوگی۔ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر میں مراٹھی کے استعمال پر اس طرح کی کوئی سختی نہیں ہے، کیونکہ یہ سیکٹر ریاست کے لیے اہم آمدنی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور بھی ریاست کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ وہ صبح سے لے کر رات گئے تک عوام کی خدمت کرتے ہیں۔جب بڑے کارپوریٹ گھرانے زبان کے ضوابط میں رعایت اور لچک حاصل کر سکتے ہیں، تو ان کم آمدنی والے ڈرائیوروں پر، جو سارا دن دھوپ اور بارش میں محنت کرتے ہیں، سخت ضابطوں کا بوجھ کیوں ؟ انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ لہٰذا حکومت ضابطے لگانے کی بجائے ہر وارڈ کی سطح پر مفت تربیتی مراکز قائم کرے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اگر ہزاروں ڈرائیورز بے روزگار ہو جائیں تو معاشرے میں معاشی تنگدستی کے باعث جرائم میں اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 کے مطابق ہر شہری کو عزت کے ساتھ جینے اور اپنی روزی کمانے کا حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ نے اولگا ٹیلس بمقابلہ بمبئی میونسپل کارپوریشن کیس میں بھی واضح کیا ہے کہ روزی روٹی کا حق زندگی کے حق کا ایک لازمی حصہ ہے۔ لہٰذا، کسی کا اجازت نامہ صرف اس لیے منسوخ کرنا کہ وہ زبان نہیں جانتے، سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی۔ اعظمی نے وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک سے درخواست کی کہ اس اصول کو محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تعلیمی اور سماجی مہم کے طور پر غور کریں تارکین وطن مہاجرین ریاستوں کے ڈرائیوروں کو مراٹھی سیکھنے کے لیے مناسب وقت دے کر اور بزرگوں کو مناسب رعایتیں دے کر مہاراشٹر کی جامع روایت کو برقرار رکھیں۔

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ایم آئی ڈی سی پولس کی بڑی کارروائی… ۹ سال قبل بھنگار کے گالے میں قتل کے کیس میں مطلوب ملزم کرناٹک سے گرفتار

Published

on

ARREST-5

ممبئی : پولس نے ۹ سال سے فرار مطلوب ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قتل کے معاملہ میں مطلوب تھا اسے گوا اور کرناٹک میں تلاشی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ۲۰۱۷ کو ایک چائے فروش کے بھائی وسیع اللہ محسن کو فون کر کے اس کے شناسا نے بلایا اور پھر ایم آئی ڈی سی کی حدود میں ایک بھنگار کے گالے میں صاحب راؤ نے کہا کہ اس نے پولس کو خبر دی تھی جس کے بعد صاحب راؤ کے ہمراہ فیروز، صابر علی دیگر نے وسیع اللہ اور اس کے رشتہ دار کا محاصرہ کیا اور پھر وسیع اللہ لوکھنڈ پر پائپ سے حملہ کر دیا جس کے سبب اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولس نے اس قتل کیس میں ۶ ملزمین کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ اس میں مطلوب ملزم مہتاب عالم عظمت اللہ مفرور ملزم تھا اور اسے بعد ازاں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولس کو مفرور ملزم سے متعلق اطلاع ملی کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر کرناٹک میں اسکارپیو کا کام کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر پولس نے اس کے رشتہ داروں اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس کی تصدیق کی اور پھر اسے جال بچھا کر کرناٹک سے گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے ایم آئی ڈی سی کے سنئیر انسپکٹر گھنشیام نائر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد شیواجی نگر میں غیر استعمال شدہ بیت الخلاء اور وہاں مفت ادویات کی دکان، خواتین کا جم اور کنڈرگارڈن بنایا جائے گا : ابو اعظمی

Published

on

asim

ممبئی : مانخورد شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں بہت سے عوامی بیت الخلاء انتہائی خستہ حال (مرمت سے باہر) حالت میں ہیں۔ کئی مقامات پر مقامی شہریوں کو ان بیت الخلاء کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر استعمال شدہ ہیں۔ مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام غیر استعمال شدہ اور خستہ حال بیت الخلاء کو جلد از جلد بلڈوز کیا جائے اور اس زمین کو عوامی فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایم ایل اے اعظمی نے شہریوں کی سہولت کے لیے ان زمینوں پر ایک ‘جنرک میڈیکل شاپ’، صرف خواتین کے لیے ایک جدید ‘جم’ اور بچوں کے لیے ‘کنڈرگارٹن’ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر اور ‘ایم ایسٹ’ وارڈ کے انتظامی افسران سے خط و کتابت کی گئی ہے اور اس تجویز کو جلد از جلد منظور کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوامی مقامات کو لوگوں کے براہ راست فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ غیر استعمال شدہ بیت الخلاء کو ہٹانے اور وہاں طبی اور سماجی سہولیات فراہم کرنے سے علاقے کی خواتین اور بچوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اگر انتظامیہ فوری اجازت دے تو ہم اصل کام شروع کر دیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان