Connect with us
Friday,07-August-2026

سیاست

چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کی ریٹائرمنٹ کے بعد گیانیش کمار ہوں گے اگلے سی ای سی، اگلے ہفتے پی ایم مودی اور راہول گاندھی کی میٹنگ میں ہوگا فیصلہ

Published

on

next CEC

نئی دہلی : ملک کے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار 18 فروری کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گیانیش کمار اگلے چیف الیکشن کمشنر بن سکتے ہیں۔ اس کے لیے 17 فروری کو اہم میٹنگ ہوگی۔ اس میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر قانون ارجن میگھوال اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی موجود رہیں گے۔ سلیکشن کمیٹی پانچ امیدواروں کے نام چیف الیکشن کمشنر کو بھجوائے گی۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے 480 سے زائد امیدواروں میں سے پانچ ناموں کا انتخاب کیا ہے۔ گیانش کمار چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ البتہ سکھبیر سنگھ سندھو کا نام بھی ہے۔ یہ دونوں اس وقت الیکشن کمشنر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ دونوں 1988 بیچ کے ریٹائرڈ آئی اے ایس ہیں۔ لیکن کیرالہ کیڈر کے گیانیش کمار سینئر ہیں۔ ذرائع کے مطابق سنیارٹی کے مطابق اگلا سی ای سی گیانیش کمار ہوں گے۔ لیکن وزیر اعظم کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی کو مرکزی وزیر قانون اور دو مرکزی سیکرٹریوں پر مشتمل کمیٹی کے تجویز کردہ پانچ ناموں کے علاوہ سی ای سی کے لیے ایک نام کا انتخاب کرنے کا بھی حق ہے۔ صدر جس بھی نام کی منظوری دیں گے وہ ملک کا اگلا سی ای سی ہوگا۔

گیانیش کمار کیرالہ کیڈر کے 1988 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔ اس وقت وہ الیکشن کمشنر کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ پچھلے سال 31 جنوری 2024 کو، کمار وزارت تعاون میں سکریٹری کے عہدے سے سبکدوش ہوئے، جو امت شاہ کے ماتحت آتا ہے۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے وقت وہ امت شاہ کی زیرقیادت وزارت داخلہ میں کشمیر ڈویژن کے جوائنٹ سکریٹری کے طور پر تعینات تھے۔ اس حساس معاملے کو حل کرنے میں گیانیش کمار نے بڑا کردار ادا کیا۔ انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ کام کیا ہے۔ وہ وزارت پارلیمانی امور میں سیکرٹری کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ سال 2020 میں گیانش کمار کو ایڈیشنل سکریٹری کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ وہ وزارت داخلہ میں ایک خصوصی ڈیسک سنبھالتا تھا۔ یہ ڈیسک ایودھیا کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق تمام معاملات کو دیکھتا ہے۔ اس میں شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ کا قیام بھی شامل ہے۔

سلیکشن کمیٹی 17 فروری کو اپنے اجلاس میں حتمی فیصلہ کرے گی۔ نئے سی ای سی کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ملک کے جمہوری عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنا ہو گی۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئے سی ای سی کے طور پر کس کا انتخاب کیا جاتا ہے اور وہ ان چیلنجوں کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ یہ آنے والے وقت میں ہندوستان کی جمہوریت کے لیے بہت اہم ہوگا۔ کیا گیانیش کمار نئے سی ای سی بنیں گے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں 17 فروری تک انتظار کرنا پڑے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آن لائن دہشت گردی کی خلاف سخت ایکشن، سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکمنامہ جاری، ۶ اگست سے نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی (اے ٹی ایس) نے اب آن لائن ٹیررازم دہشت گردی کو فروغ دینے والے مشمولات اور مواد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف کارروائی کے دوران یہ پایا کہ آن لائن دہشت گردی کو عام کر نے کے ساتھ نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے اے ٹی ایس کے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر میڈیا آڈیو اور ویڈیو کے معرفت گمراہی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازع مشمولات مواد، پی ڈی ایف، نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جو ملکی سالمیت کے خطرہ کے ساتھ بھائی چارگی اور ایکتا کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اے ٹی ایس نے تفتیش کے دوران یہ پایا کہ ۱۱۴ پی ڈی ایف، میگزین، ڈیجیٹل مشمولات میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے بعد اے ٹی ایس انہیں ضبط بھی کیا ہے اگر کوئی متنازع مشمولات اور مواد سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی اے ٹی ایس پبلک سیکورٹی ایکٹ ۲۰۲۳ کے تحت حکمنامہ جاری کیا یہ حکمنامہ ۶ اگست سے نافذالعمل ہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے گمراہ کن اور پروپیگنڈہ ویڈیو اور دیگر مشمولات اور مواد سے دو ر رہیں بصورت دیگر ان پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے باز رہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سمیت دیگر گینگسٹر کے خلاف بھی کارروائی تیز کی تھی اس کے مطابق شہزاد بھٹی اور لارنس بشنوئی سے رابطہ رکھنے والوں سے بھی اے ٹی ایس نے باز پرس کی تھی انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی گئی تھی اور بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اب سوشل میڈیا پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔

Continue Reading

سیاست

پریاگ راج میں ‘طلبہ’ کے پروگرام سے پہلے راہل گاندھی نے کہا، “حکومت جھک جاتی ہے، لیکن ہماری آواز ایک ساتھ اٹھانی چاہیے۔”

Published

on

Rahul-Gandhi

نئی دہلی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ہفتہ کو پریاگ راج میں منعقد ہونے والے “اسکولز ایکو” پروگرام سے پہلے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جھک جاتی ہے۔ مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ اس پر بات کرنے کے لیے وہ ہفتہ کو پریاگ راج آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کیا، “میں پریاگ راج آ رہا ہوں۔ ملک کے اس شہر میں جہاں نوجوان سب سے زیادہ تعداد میں تیاری کرتے ہیں۔ ایک بات واضح ہے: یہاں کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نظام بے ایمان ہو گیا ہے۔ آپ کی طرف سے محنت کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن خرابی نظام کی نیتوں میں ہے، جو آپ کی محنت کی قدر نہیں کرتا۔”

اپوزیشن لیڈر نے لکھا، “کاغذ لیک، بھرتی رکی، برسوں کا انتظار، اور کوئی جوابدہ نہیں، کوٹا میں طلبہ نے تقریر کی، دہرادون میں پھر آوازیں اٹھیں، اور انہی طلبہ پر دہلی میں لاٹھی چارج کیا گیا، محض سوال پوچھنے پر، آخر کار ایک وزیر کو جانا پڑا۔ یہ حکومت جھک گئی، یہ آواز سنیچر کو اٹھانے کے لیے آپ کو اکٹھے ہونا چاہیے۔” بھی آنا چاہیے۔” اس کے ساتھ ویڈیو میں راہول گاندھی کو ایک پیغام پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے، “راہل سر، آپ پریاگ راج آ رہے ہیں، ٹھیک ہے؟ واقعی کوئی ہماری طالب علموں کی بات نہیں سن رہا ہے۔”

اس پیغام کے ساتھ، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا، “میں طلباء کو سن رہا ہوں، میں روزگار اور ملازمت کی صورتحال پر بات کرنے کے لیے پریاگ راج آ رہا ہوں۔ میں ایک بات کو 100 فیصد قبول کرتا ہوں: آج کے ہندوستان میں، ہمارے طلباء کا روزگار یا تعلیم میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم سب کو مل کر اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ آپ کی توانائی اور آپ کی آواز سے، ہم مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

Published

on

Goa-Arrest

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان