Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

امریکا کے شہر لاس اینجلس میں آتشزدگی سے 36 ہزار ایکڑ جنگل جل گیا، 10 افراد ہلاک اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا

Published

on

America-Los-Angeles

نئی دہلی : امریکہ کا لاس اینجلس جل رہا ہے۔ جنگل میں لگی آگ بے قابو ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ آگ چھ مختلف مقامات پر جل رہی ہے – پیلیسیڈس، ایٹن، ہرسٹ، لیڈیا، کینتھ اور ہالی ووڈ ہلز۔ لیڈیا کا 60 فیصد جنگل جل کر راکھ ہو گیا ہے۔ مجموعی طور پر 36 ہزار ایکڑ سے زائد جنگلات تباہ ہو چکے ہیں۔ 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ آگ ہالی ووڈ ہلز تک پہنچ چکی ہے۔ کئی عالیشان مکانات اور اسٹوڈیوز بھی خاکستر ہو گئے ہیں۔ آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عینی شاہدین اس کا موازنہ ایٹمی بم کے دھماکے سے کر رہے ہیں۔ دنیا کی سپر پاور بے بس نظر آتی ہے۔ آخر فطرت کی وحشیانہ شکل کو کون کنٹرول کر سکتا ہے؟ امریکہ ہو یا بھارت، سب بے بس ہیں۔ ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا ہے کہ اتراکھنڈ میں کئی دنوں تک آگ بھڑکتی رہی۔

لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ 7 جنوری کو شروع ہوئی تھی۔ اب تک اس آگ نے کل 36000 ایکڑ جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ 10 ہزار سے زائد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اب تک 10 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور وہاں کے حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ آگ بجھانے کی تمام کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ تیز ہوائیں اور خشک موسم آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ ہر طرف تباہی کا منظر ہے۔ جنگلی حیات اور جنگل کی دولت کا نقصان۔ گھر، عمارتیں اور اسٹوڈیوز تباہ ہو گئے۔ ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ 1.8 لاکھ دیگر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ایک لاکھ دیگر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی وارننگ دی گئی ہے۔ ایجنسیوں نے آگ لگنے کے خطرے کے حوالے سے 1.9 کروڑ لوگوں کو ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ اس مہینے کے علاوہ یہ پورے فروری تک لاگو رہے گا۔

ماہرین لاس اینجلس کی آگ کو موسمیاتی تبدیلی کا برا اثر قرار دے رہے ہیں۔ تیل، کوئلہ اور گیس جلانے سے خارج ہونے والی گیسیں، جو زمین کو گرم کرتی ہیں، نے جنگل کی آگ کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے کیلیفورنیا میں موسم خزاں/موسم سرما کی بارش کے موسم کے آغاز میں تاخیر کی ہے۔ لاس اینجلس کو جولائی 2024 سے بارش کی کمی کا سامنا ہے۔ اس علاقے کو 150 سالوں میں دوسری بدترین خشک سالی کا سامنا ہے۔ اسی طرح، جنوبی کیلیفورنیا میں، یکم اکتوبر سے اوسط بارش میں 10 فیصد کمی آئی ہے۔ کئی مقامات پر 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔ ان حالات نے آگ کو مزید شدید بنا دیا ہے۔ سال کے اس وقت لاس اینجلس میں تیز ہوائیں چلنا عام ہے، لیکن خشک موسم اور موسمیاتی تبدیلی جنگل کی آگ کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔

امریکہ کو اس وقت جس طرح کی تباہی کا سامنا ہے، اسی طرح کی تباہی گزشتہ سال ہندوستان میں بھی ہوئی تھی۔ اپریل 2024 میں اتراکھنڈ کے جنگلات میں آگ لگ گئی۔ الموڑہ کے جنگلات میں 41 دنوں تک آگ بھڑکتی رہی۔ 10 افراد مارے گئے۔ سینکڑوں ایکڑ جنگلات تباہ ہو گئے۔ 6 مئی 2024 کی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، اتراکھنڈ میں یکم نومبر 2023 سے 5 مئی 2024 تک جنگلات میں آگ لگنے کے کل 575 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جس سے تقریباً 690 ہیکٹر یعنی 1705 ایکڑ رقبہ متاثر ہوا۔ آگ لگنے کی ایک وجہ موسمیاتی تبدیلی تھی؛ انسانی غفلت نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔

اتراکھنڈ کے جنگلات میں 2016 میں بھی زبردست آگ لگی تھی۔ اس کے بعد اپریل سے مئی کے درمیان لگ بھگ 1600 آتشزدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ 4538 ہیکٹر یعنی 11213 ایکڑ جنگلات تباہ ہوئے۔ فارسٹ سروے آف انڈیا کے مطابق ہندوستان کے جنگلات کا تقریباً 36 فیصد حصہ آگ کے لیے انتہائی حساس ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان