Connect with us
Saturday,26-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

آندھرا پردیش : سال 2025 کا آغاز تروپتی مندر میں بھگدڑ سے ہوا، 6 افراد ہلاک اور 30 سے ​​زائد زخمی, سیکیورٹی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوئے۔

Published

on

Tirupati-temple

نئی دہلی : سال 2025 کا آغاز ایک مذہبی مقام پر بھگدڑ سے ہوا۔ بھگدڑ 8 جنوری کی شام کو آندھرا پردیش کے مندروں کے شہر تروپتی میں ہوئی۔ اس افسوسناک واقعے میں چھ افراد جان کی بازی ہار گئے اور تیس سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ ویکنتھوار سرودرشن ٹوکن جاری کرنے کے دوران پیش آیا۔ رات تقریباً 8 بجے، تروملا تروپتی دیوستھانم (ٹی ٹی ڈی) کے عہدیداروں نے وشنو نواسم، سری نواسم اور پدماوتی پارک سمیت کئی مراکز پر ٹوکن تقسیم کرنا شروع کیا۔ ایک بیمار عقیدت مند کو قطار سے باہر لے جانے کے لیے دروازے کھولے جانے پر صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔ بہت سے عقیدت مند جو صبح سے قطار میں کھڑے تھے بڑی تعداد میں آگے بڑھے۔ موثر ہجوم کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے بھیڑ نے دو مقامات پر بھگدڑ مچادی۔ ٹی ٹی ڈی نے 10 جنوری (ایکادشی) کو منعقد ہونے والے ویکنتھوارا درشن کے لیے 1.2 لاکھ ٹوکن کی تقسیم کا اعلان کیا تھا۔ نو مراکز پر 94 کاؤنٹرز کے ذریعے ٹوکن جاری کیے جانے تھے، لیکن لوگوں کی بڑی تعداد کے اچانک جمع ہونے سے یہ عمل متاثر ہوا۔

2 جولائی 2024 کو اتر پردیش کے ہاتھرس ضلع میں ایک مذہبی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے 121 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ گزشتہ 20 سالوں میں ہندوستان بھر میں مذہبی مقامات اور اجتماعات میں بھگدڑ مچنے سے 2000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کسی سانحے کے قانونی تصفیے کی خبریں شاید ہی ملتی ہوں۔ ہاتھرس میں پولیس نے اجتماع کے منتظمین کے خلاف ثبوت چھپانے اور شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ درج کیا۔ اس میں ڈھائی لاکھ لوگ ایک پنڈال میں جمع ہوئے جہاں صرف 80 ہزار لوگوں کو شرکت کی اجازت تھی۔

تاہم، خود ساختہ بھگوان ‘بھولے بابا’ عرف نارائن سرکار ہری – جسے سننے کے لیے بھیڑ جمع ہوئی تھی – کا نام ایف آئی آر میں نہیں تھا۔ حالانکہ اس کا نام شکایت میں ہے۔ بھگدڑ 2 جولائی کو دوپہر 3.30 بجے پھولرائی گاؤں میں ہوئی۔ اس وقت مبلغ پنڈال سے نکل رہے تھے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بھولے بابا کی گاڑی کے پیچھے بھاگتے ہوئے لوگ کیچڑ میں پھسل گئے۔ لاپرواہی سے پارک کی گئی موٹرسائیکلوں کے ساتھ اتنی بھیڑ اور ناکافی باہر نکلنا واحد داخلے/خارج کو روکتا ہے۔ بارشوں نے دھان کے کھیتوں کو کیچڑ میں تبدیل کر کے صورتحال مزید خراب کر دی۔ جیسا کہ واقعات ظاہر کرتے ہیں، بھگدڑ، معمول کے مطابق، اجتماعی رویے کا ایک چکر تھا جسے روکنا مشکل تھا۔

چاہے وہ مقدس غسل کرنے کی جلدی ہو، یا مندروں کی پھسلتی سیڑھیوں پر چڑھنے کی، یا ہاتھرس کی طرح، جہاں سے بھگوان کے قدم گرے تھے، وہاں سے مٹی اکٹھا کرنے کی، یہ ایک لمحہ بھر کا ‘دھواں’ ہے جو بھگدڑ کا باعث بنتا ہے۔ ایسے ہر حادثے میں نمونے اپنے آپ کو دہراتے ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ تحقیقات شاذ و نادر ہی احتساب یا کارروائی کا باعث بنتی ہیں۔ کیونکہ ناگزیر شور کے بعد ایک گہرا یقین ہے کہ بھگدڑ کو روکا نہیں جا سکتا۔ ظاہر ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ملامت سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے پیروکار ووٹ بینک تک رسائی کے لیے آسان ہیں جسے کوئی سیاسی رہنما یا پارٹی کھونا نہیں چاہتی۔ بھگدڑ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بڑے واقعات کے لیے اچھی طرح سے طے شدہ اقدامات کی سفارش کی جاتی ہے۔

منظوری دیتے وقت انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پنڈال کی ترتیب درست طریقے سے بنائی گئی ہے۔ داخلی اور خارجی دروازے بند نہ کیے جائیں۔ ایک کنٹرول روم، ہجوم کی نقل و حرکت کی لائیو مانیٹرنگ اور پبلک ایڈریس سسٹم ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ بھیڑ کی کثافت کی نگرانی کی جانی چاہئے۔ یہ وہ وسائل ہیں جو ایونٹ سے پہلے دستیاب ہونے چاہئیں۔ ہاتھرس کے مذہبی رہنما نے اپنے پیروکاروں کی بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی ‘نارائی سینا’ تشکیل دی تھی۔ یہ ان کی تقریبات میں بھیڑ کے رویے کے بارے میں بڑھتی ہوئی بیداری کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے اعداد و شمار پر مبنی 2014 کے ایک مطالعے کے مطابق، ہندوستان میں بھگدڑ کے 79 فیصد واقعات مذہبی تقریبات میں رونما ہوئے ہیں۔

ہندوستان میں تقریباً ہر بڑی بھگدڑ مذہبی تقریبات کے دوران ہوئی ہے۔ اور چونکہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے، اس لیے ذمہ داروں کو تلاش کرنے کے لیے شمال سے جنوب، مشرق سے مغرب تک اہلکار چوری چھپے گھومتے ہیں۔ دریں اثنا، دوسری جنگ عظیم کے دوران چین کے شہر چونگ کنگ میں تاریخ کی بدترین بھگدڑ مچ گئی۔ 6 جون 1941 کو اس شہر پر جاپانی بمباری کے نتیجے میں ہوائی حملے کی پناہ گاہوں میں بڑے پیمانے پر بھگدڑ مچ گئی۔ اس میں تقریباً 4000 لوگ مارے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر کی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خودکفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

غیر شفاف طریقہ کار اور ساتھی کمشنروں کی آراء کو نظر انداز کرنے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جواب دہی طے کی جائے : پروف۔ سلیم انجینئر

Published

on

نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے دو دیگر الیکشن کمشنروں کی شمولیت کے بغیر ہی اہم فیصلے لیے جانے کی اطلاعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات نے اس اہم آئینی ادارے کی آزادی، شفافیت اور کارکردگی پرسنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ انڈین ایکسپریس کی تحقیقی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ووٹروں کے اندراج، ناموں کے اخراج اور بحالی، ووٹر ڈیٹابیس، فارم 6 اور اسپیشل سمری ریویژن سے متعلق اہم معاملات پر 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات اٹھائے ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن کے اہم فیصلوں سے انہیں الگ رکھا گیا۔ یہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1995 میں ٹی این سیشن معاملے میں اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی ادارہ ہے اور چیف الیکشن کمشنر دیگر کمشنروں کے مابین مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اس طرح کا طرز عمل نہیں اختیار کرسکتے کہ جیسے الیکشن کمیشن ان کا ذاتی ادارہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہوتے ہیں تو آزادانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ان فیصلوں سے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباً 13 کروڑ نام ووٹر لسٹ سے خارج کئے جاچکے ہیں۔ لاکھوں لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ایس آئی آر کا طریقۂ کار نہایت پیچیدہ ہے اور اس میں ایسے دستاویزات طلب کئے جارہے ہیں جو بہت سے شہریوں کے پاس موجود نہیں ہیں۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے ذریعے تقریباً 27 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کر دئے گئے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ 16.1 لاکھ ایسے ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے اپیلیں دائر کی گئیں جن کے نام پہلے ہی ووٹر لسٹ میں شامل کئے جانے کے لیے کلیئر ہوچکے تھے۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ فارم 6 کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ فارم 6 ان شہریوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے جن کی عمر 18 سال مکمل ہوچکی ہو اور جو ووٹر کے طور پر اپنا نام درج کرانا چاہتے ہوں۔ الیکشن کمیشن نے درخواست دہندگان کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ اپنے والدین یا دادا دادی۔ نانا نانی کے نام اس طرح فراہم کریں جیسے وہ گزشتہ ایس آئی آر کی انتخابی فہرست میں درج تھے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنروں وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو، دونوں نے خبردار کیا تھا کہ قواعد میں ترمیم کئے بغیر فارم 6 میں اس طرح کی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اس کے باوجود چیف الیکشن کمشنر نے یہ تبدیلی برقرار رکھی۔ اگر ووٹ دینے کے حق کو متاثر کرنے والے قانون میں ترمیم ضروری ہے تو بھی الیکشن کمیشن خود سے اس طرح کی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر وہ قانونی طور پر مجاز افسر ہے جو انتخابی فہرستوں میں ناموں کے اندراج، اخراج اور تصحیح کے ذمہ دار ہے۔ تاہم دونوں الیکشن کمشنروں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ای سی آئی نیٹ ڈیٹابیس کو الیکشن کمیشن میں منتقل کیا جارہا تھا جبکہ ان افسران کو اسے چلانے کے لیے مناسب رسائی نہیں دی جارہی تھی۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے اسپیشل سمری ریویژن (ایس یس آر) میں غیر معمولی تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس آر انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ رکھنے اور ووٹ کے اہل 18 سالہ نوجوانوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا ایک اہم سالانہ عمل ہے۔ یکم جنوری، یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر، ان چارتاریخوں میں نوجوان شہری سال کے مختلف اوقات میں ووٹ دینے کے اہل ہوسکتے ہیں۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے جنوری 2024 کے بعد سے سالانہ ایس ایس آر نہیں کرایا ہے یہ تاخیر صورت حال کو مزید تشویش ناک بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ایس آئی آر کے دوران یہ جاننے کے لیے قانونی رائے طلب کی کہ آیا ایس ایس آرکرانا ضروری ہے، جبکہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے اس کی بحالی کی پُر زور وکالت کی تھی۔ ایس ایس آر محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہے بلکہ انتخابی فہرستوں کو تازہ ترین اور درست رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے ووٹر بننا آسان بنایا جائے، مشکل نہیں۔ ووٹ دینے کا حق اسی وقت بامعنی ہوسکتا ہے جب شہری غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کراسکیں۔ الیکشن کمیشن ملک کے آئین اور عوام کا ادارہ ہے، کسی ایک عہدے دار کا ذاتی ادارہ نہیں ہے۔ شہریوں کو ان کے بنیادی حقِ رائے دہی سے محروم کرنا محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ملک اور اس کے عوام کے ساتھ سنگین غداری کے مترادف ہے۔ اس کے ذمہ دار عہدے داروں کے خلاف غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو لوگ قصوروار پائے جائیں ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ ووٹر لسٹ کا تحفظ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد کا تحفظ ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان