Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

سپریم کورٹ نے شہریت قانون کی دفعہ 6اے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستوں کو بیرونی خطرات سے بچانا مرکز کا فرض ہے۔

Published

on

supreme-court

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے اکثریت کے ساتھ شہریت قانون کی دفعہ 6اے کو آئینی قرار دیا ہے۔ چار ججوں نے فیصلے کی حمایت کی، جب کہ جسٹس جے بی پارڈی والا نے اختلاف کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریاستوں کو بیرونی خطرات سے بچانا مرکزی حکومت کا فرض ہے۔ آرٹیکل 355 کے تحت ڈیوٹی کو حق سمجھنا شہریوں اور عدالتوں کو ہنگامی اختیارات دے گا، جو تباہ کن ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں شہریت قانون کی دفعہ 6اے کی آئینی جواز کو برقرار رکھا ہے۔ یہ آسام میں تارکین وطن کو شہریت فراہم کرتا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس سوریہ کانت، جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس منوج مشرا نے شہریت ایکٹ کی دفعہ 6 اے کے جائز ہونے پر اتفاق کیا۔ جسٹس پارڈی والا نے سیکشن 6 اے پر کہا کہ نفاذ کے وقت قانون درست ہو سکتا ہے لیکن وقت کے ساتھ اس میں عارضی طور پر خامیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ آسام میں داخلے اور شہریت دینے کے لیے 25 مارچ 1971 کی آخری تاریخ درست ہے۔ کسی ریاست میں مختلف نسلی گروہوں کی موجودگی آرٹیکل 29(1) کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔

عدالت کی پانچ ججوں کی بنچ نے 4:1 کی اکثریت کے ساتھ تین فیصلے سنائے اور شہریت قانون کے سیکشن 6اے کی درستی کو برقرار رکھا۔ جسٹس جے بی پارڈی والا نے اپنا اقلیتی فیصلہ سناتے ہوئے اختلاف کیا اور شہریت قانون کی دفعہ 6اے کو غیر آئینی قرار دیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کسی ریاست میں مختلف نسلی گروہوں کا ہونا آرٹیکل 29(1) کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ درخواست گزار کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ایک نسلی گروہ اپنی زبان اور ثقافت کی حفاظت نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں دوسرا نسلی گروہ بھی رہتا ہے۔ سی جے آئی چندر چوڑ نے کہا کہ اگر کسی شرط کا مقصد سے مناسب تعلق ہے تو اسے عارضی طور پر غیر معقول نہیں کہا جا سکتا۔

عدالت نے کہا کہ ہندوستان میں شہریت دینے کا واحد طریقہ رجسٹریشن نہیں ہے اور دفعہ 6اے کو محض اس لیے غیر آئینی نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ یہ رجسٹریشن کے عمل کو فراہم نہیں کرتا ہے۔ اس لیے میں یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ دفعہ 6اے درست ہے۔ عدالت اب بنگلہ دیشیوں کی شناخت اور ملک بدری کے کام کی بھی نگرانی کرے گی۔ آسام معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے 1985 میں ترمیم کے بعد شہریت ایکٹ کی دفعہ 6اے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ریاستوں کو بیرونی جارحیت سے بچانا مرکزی حکومت کا فرض ہے۔ آرٹیکل 355 کے تحت ڈیوٹی کو حق سمجھنا شہریوں اور عدالتوں کو ہنگامی اختیارات دے گا، جو تباہ کن ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں مختلف نسلی گروہوں کا وجود آرٹیکل 29(1) کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ درخواست گزار کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ایک نسلی گروہ اپنی زبان اور ثقافت کی حفاظت نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں دوسرا نسلی گروہ بھی رہتا ہے۔

آسام معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ترمیم کے حصے کے طور پر 1985 میں شہریت ایکٹ کی دفعہ 6اے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس سیکشن میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو 1985 میں بنگلہ دیش سمیت دیگر علاقوں سے جنوری 1966 اور مارچ 1971 سے پہلے آئے تھے، انہیں ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کے لیے سیکشن 18 کے تحت اندراج کرنا ہوگا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان