Connect with us
Sunday,27-September-2026
تازہ خبریں

مہاراشٹر

ممبئی میں ورلی اور ماہم فورٹ کے احیاء کے منصوبے پر کام جاری، اس منصوبے میں فورٹ کوریڈور، بوٹ فیری اور واک وے کی تعمیر شامل ہے۔

Published

on

Mahim-Worli-Fort

ممبئی : بی ایم سی پچھلے سال سے ان قلعوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے جو کبھی ممبئی کی پہچان تھے۔ ورلی اور ماہم کے قلعے اس میں نمایاں ہیں۔ بی ایم سی ان قلعوں کی بحالی کے ساتھ سیاحت کے لیے بھی ترقی کر رہی ہے۔ بی ایم سی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ماہم قلعہ کو ورلی قلعہ سے جوڑا جائے گا۔ یہاں تقریباً 9 کلومیٹر طویل فورٹ کوریڈور بنانے کا منصوبہ ہے۔ دونوں قلعوں کے درمیان بوٹ فیری شروع کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ ورلی اور ماہم قلعہ کے درمیان راہداری اور کشتیوں کی فیری بڑی تعداد میں سیاحوں کو راغب کرے گی۔ ممبئی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہوگا۔

ماہم فشر کالونی سے ورلی فورٹ تک تقریباً 9 کلومیٹر کے لیے واک وے بنایا جائے گا۔ یہ واک وے پی ڈبلیو ڈی، میری ٹائم بورڈ، بی ایم سی اور دیگر سرکاری اداروں کی مدد سے بنایا جائے گا۔ اس کے لیے سی آر زیڈ کی منظوری بھی ضروری ہے، جس کے لیے جلد ہی تجویز بھیجی جائے گی۔ منظوری ملنے کے بعد تجویز پیش کرنے کے بعد واک وے کا کام آگے بڑھے گا۔ اس کے لیے بی ایم سی نے ایک کنسلٹنٹ بھی مقرر کیا تھا، جس نے حال ہی میں بی ایم سی میں ایک پریزنٹیشن دی ہے۔

ورلی قلعہ کی بحالی کے لیے، بی ایم سی نے اسے تجاوزات سے پاک بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ قلعہ احاطے میں 267 جھونپڑیاں تھیں جن میں تقریباً 3000 لوگ رہتے تھے۔ قلعہ کی خستہ حال دیواروں کی وجہ سے اس کے اردگرد رہنے والے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں تھیں۔ تمام جھونپڑیوں کو ہٹا کر قلعہ کو تجاوزات سے پاک کر دیا گیا ہے۔ قلعہ کی تزئین و آرائش اور اسے ورثے کی شکل دینے کا کام جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں اسے خوبصورت بنایا جا رہا ہے جس پر 2 کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اس دوران قلعے کے ورثے کو برقرار رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

محکمہ آثار قدیمہ سے منظوری لے کر قلعہ میں لائٹنگ کی جارہی ہے تاکہ رات کو بھی روشنی ہو۔ یہاں ہریالی کے لیے پودے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ یہ قلعہ پرتگالیوں نے سنہ 1675 میں بنوایا تھا جس میں پرتگالی طرز کی جھلک ابھی تک برقرار ہے۔ انگریز بھی اس قلعے کو استعمال کرتے تھے۔

ماہم اور ورلی کے علاقے کو ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ شیوسینا میں پھوٹ کے بعد ایکناتھ شندے گروپ کے ممبئی سٹی کے سرپرست وزیر دیپک کیسرکر اس علاقے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ماہم اور ورلی کے ساحل سیاحوں کو بہت پسند ہیں۔ اس ساحل کے ساتھ ساتھ کولیواڑا نظر آتا ہے۔ یہاں بوٹ فیری اور فورٹ کوریڈور کی تعمیر سے ممبئی کے کولیواڑا کی خواتین کو مقامی سطح پر سیاحت کے ساتھ ساتھ روزگار فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ سی فوڈ یہاں سیاحوں کو آسانی سے دستیاب ہوگا۔ قریبی قلعہ ماہم کو بھی واک وے بنا کر سیاحت سے منسلک کیا جائے گا۔ شن سینا ترقی کے ذریعے ورلی میں ادھو سینا کے قلعے کو گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان