Connect with us
Monday,28-September-2026

(جنرل (عام

ملک بھر کے اسپتالوں کے ڈاکٹر 24 گھنٹے ہڑتال پر رہیں گے، انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت کے سامنے پانچ مطالبات پیش کیے ہیں۔

Published

on

doctor-Strike

نئی دہلی : انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے 17 اگست کو ملک بھر کے تمام چھوٹے اور بڑے اسپتالوں کو بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹرز 24 گھنٹے ہڑتال پر رہیں گے۔ یہ جانکاری آئی ایم اے کے قومی صدر آر وی اشوکن نے دی۔ ہڑتال ہفتہ کی صبح 6 بجے سے شروع ہوگی جو اگلے روز صبح 6 بجے تک جاری رہے گی۔ اس دوران ایمرجنسی سروسز چلتی رہیں گی تاہم او پی ڈی سمیت دیگر سروسز بند رہیں گی۔ کولکتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج اور اسپتال میں ٹرینی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے واقعہ کے خلاف ملک بھر کے ڈاکٹرز احتجاج میں ہیں۔ اس سلسلے میں وہ ہفتہ کو بھی ہڑتال پر رہیں گے۔

آئی ایم اے کے صدر نے کہا کہ جس لڑکی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا وہ ایک متوسط ​​گھرانے کی اکلوتی اولاد تھی۔ یہ واقعہ کسی ایک شخص نے نہیں کیا بلکہ بہت سے لوگ اس میں ملوث تھے۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ اس کو جس طرح قتل کیا گیا اسے بیان کروں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ اس کا تعلق کام کی جگہوں پر خواتین کی حفاظت کے معاملے سے ہے۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کو تشویش ہے کہ وہ ہسپتال میں محفوظ نہیں ہیں، ان کے گھر والے بھی پریشان ہیں۔ میں سی بی آئی کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کر رہا ہوں۔

ہڑتالی آئی ایم اے کے 5 مطالبات کیا ہیں؟
1۔ آئی ایم اے نے رہائشی ڈاکٹروں کے کام کرنے اور رہنے کے حالات میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس میں 36 گھنٹے ڈیوٹی شفٹ اور آرام کے لیے محفوظ جگہوں کی کمی جیسے مسائل شامل ہیں۔ آر جی کار ہسپتال کا متاثرہ ڈاکٹر بھی 36 گھنٹے ڈیوٹی کر رہا تھا۔

  1. آئی ایم اے نے 2023 میں وبائی امراض ایکٹ 1897 میں کی گئی ترامیم کو شامل کرتے ہوئے ایک مرکزی قانون کا مطالبہ کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے 25 ریاستوں میں موجودہ قوانین مزید مضبوط ہوں گے۔

3۔ ڈاکٹروں کی تنظیم نے جرم کی محتاط اور پیشہ ورانہ تحقیقات اور مقررہ مدت میں انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 14 اگست کی رات آر جی کار اسپتال کے احاطے میں توڑ پھوڑ میں ملوث لوگوں کی نشاندہی کرکے انہیں سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  1. “تمام اسپتالوں کا سیکیورٹی پروٹوکول کسی ہوائی اڈے سے کم نہیں ہونا چاہئے۔ اسپتالوں کو لازمی حفاظتی حقوق کے ساتھ محفوظ زون قرار دینا پہلا قدم ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے، سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور پروٹوکول کی پیروی کی جاسکتی ہے،” آئی ایم اے نے کہا۔

5۔ نیز مظلوم کے اہل خانہ کو ظلم کے مطابق مناسب اور باعزت معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کیس کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں لے جانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ملزم کو سزائے موت دی جائے گی۔ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے میں احتجاج کرنے والے لوگوں کو ریاستی حکومت پر بھروسہ نہیں ہے تو وہ کسی دوسری جانچ ایجنسی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ R.G. 9 اگست کو کار میڈیکل کالج کے سیمینار ہال میں ایک خاتون ٹرینی ڈاکٹر کی لاش پراسرار حالات میں ملی تھی۔ خاتون ڈاکٹر کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ وہ ہسپتال میں دوسرے سال کی پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کی طالبہ تھی اور ہاؤس اسٹاف کے طور پر بھی کام کر رہی تھی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایم آئی ڈی سی کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، بین الاقوامی اسمگلنگ کے گروہ کا پردہ فاش، 37 کروڑ روپے مالیت کی کیٹامائن کے ساتھ دو ارکان گرفتار

Published

on

ممبئی : ایم آئی ڈی سی پولیس کے اینٹی نارکوٹکس اسکواڈ نے منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کے دو ارکان کو گرفتار کر کے 12 کلو 390 گرام کیٹامائن برآمد کر لی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس برآمد شدہ منشیات کی مالیت کا تخمینہ 37 کروڑ 97 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔پولیس کے مطابق، 24 ستمبر 2026 کی رات 11 بجے، اندھیری کرلا روڈ پر ایئرپورٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر دو مشکوک افراد ٹرالی/سامان والے بیگ اٹھائے ‘ساکئ ناکہ’کی جانب جاتے ہوئے دیکھے گئے۔ اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر (اے پی آئی) کھولم اور ان کی ٹیم کو ان پر شک ہوا۔ جب پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو دونوں افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں موقع پر ہی پکڑ لیا گیا۔ابتدا میں انہوں نے پوچھ گچھ کے دوران ٹال مٹول والے جواب دئیے، لیکن سخت تفتیش کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے بیگ میں منشیات موجود ہیں۔ تلاشی لینے پر سفید رنگ کا قلمی (کرسٹل نما) پاؤڈر برآمد ہوا، جس کی شناخت کیٹامائن کے طور پر کی گئی۔

گرفتار ملزمین 1) عدنان احمد نیاز احمد صدیقی (35 سال) – گھوڑا پیڈیو، مزگاؤں (مشرقی) 2) سعود مشتاق منیار (29 سال) – گرگاؤں، ممبئی یہ ملزمین کیٹامائن کو کھانے پینے کی اشیاء میں چھپا کر ہوائی راستے سے ممبئی سے تھائی لینڈ، انڈونیشیا، میانمار اور ملائیشیا جیسے ممالک میں اسمگل کیا کرتے تھے۔ این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعات 8(سی)، 22(سی) اور 29 کے تحت ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ (کیس نمبر 9075/2026) درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ کمشنر منوج کمار شرما، ایڈیشنل کمشنر ابھیناو دیشمکھ، ڈپٹی کمشنر دتہ نلاوڑےاور اسسٹنٹ کمشنر یوگیش شنڈے کی رہنمائی میں عمل میں لائی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر انسپکٹر گھنشیام نائر، انسپکٹر سنیل کارانڈے اور یوگیش ٹانڈلے، نیز اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر الہاس کھولام شامل تھے۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔یہ اطلاع آج یہا ں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرگس کے خلاف پولس کی بڑی کارروائی ہے اور مزید تفتیش بھی جاری ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان