Connect with us
Friday,05-June-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

نچلی عدالتوں کو مساجداور عید گاہوں کے خلاف داخل مقدمات پر سماعت کرنے سے سپریم کورٹ روکے، جمعیۃ علماء ہند

Published

on

supreme-court

نئی دہلی 11/ جولائی 2023: پلیس آف ورشپ ایکٹ یعنی عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کو ختم کرنے والی عرضداشتوں پرآج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ورندہ گروور نے عدالت سے گذارش کہ وہ ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر اسٹے لگائے کیونکہ پلیس آف ورشپ قانون پر اسٹے نا ہونے کی وجہ سے اس قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے نچلی عدالتیں ہندو فریقین کی جانب سے مساجداور عید گاہوں کے خلاف داخل عرضداشتوں پر سماعتیں کررہی ہیں جو سراسر غیر آئینی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے ایڈوکیٹ ورندہ گروور کو کہا کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ پر کسی بھی طرح کا اسٹے نہیں ہے لہذا نچلی عدالتوں کو اس تعلق سے مطلع کرنا چاہئے اور ان سے اسٹے کی گذارش کرنا چاہئے جس پر ایڈوکیٹ ورندہ گروور نے کہا کہ نچلی عدالتیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس خصوصی قانون پر اسٹے نہیں ہے مقدمہ کی سماعت کررہی ہیں لہذا سپریم کورٹ کو عبوری حکم نامہ جاری کرنا چاہئے تاکہ نچلی عدالتیں ایسے مقدمات کی سماعت کرنے سے گریز کریں جو پلیس آف ورشپ ایکٹ کے تحت ممنوع ہے، ورند گروور نے چیف جسٹس آف انڈیا سے گذارش کی کہ وہ کم از کم آج کی عدالتی کارروائی میں یہ تبصرہ ہی کردیں کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ پر اسٹے نہیں ہے جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ انہیں یہ نہیں پتہ نچلی عدالتوں میں کس نوعیت کے مقدمات زیر سماعت ہیں لہذا عدالت ان مقدمات کی نوعیت جانے بغیر اسٹے کا حکم یا اسٹے کے متعلق تبصرہ نہیں کر سکتی۔

ایڈوکیٹ ورندہ گروور نے عدالت کو مزید بتایا کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ کے حقیقی نفاذ کے لیئے جمعیۃ علماء ہند نے ایک خصوصی پٹیشن بھی داخل کی اس کے باوجود نچلی عدالتوں میں مقدمات سماعت کے لیئے قبول کیئے جارہے جس سے مسلمانو ں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن کو عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ آج اس اہم معاملے کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس پی نرسہما اور جسٹس منوج مشراء پر مبنی تین رکنی بینچ کے روبرو ہوئی ہوئی۔مرکزی حکومت نے آج بھی عدالت میں حلف نامہ داخل نہیں کیا، سالیسٹر جنرل آف انڈیاتشار مہتا نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ کئی سماعتوں سے مرکزی حکومت نے حلف نامہ داخل نہیں کیا ہے لیکن حلف نامہ کو تیار کیا جارہا ہے جس کے لیئے انہیں مزید وقت درکار ہے۔تشار مہتا نے بینچ کو یقین دلایا کہ مرکزی حکومت جمعیۃ علماء ہند سمیت تمام عرضداشتوں پر حلف نامہ داخل کریگی۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے تشار مہتا کو حکم دیا کہ وہ مقدمہ کی اگلی سماعت 31/ اکتوبر سے قبل عدالت میں حلف نامہ داخل کریں تاکہ حتمی سماعت کا آغاز کیا جاسکے۔اسی درمیان ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے عدالت سے گذارش کی کہ وہ اس مقدمہ کی حتمی سماعت کے لیئے تاریخ متعین کرے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں اگلی سماعت پر بھی حلف نامہ داخل نہیں کریگی کیونکہ ہر تاریخ پر وہ سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کرتی ہیں۔چیف جسٹس آف انڈیا نے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کو کہا کہ اس مرتبہ مرکزی حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کے لیئے عدالت نے مناسب وقت دیا ہے لہذا مرکزی حکومت کے حلف نامہ آنے کے بعد عدالت حتمی سماعت کے لیئے شیڈول طئے کریگی۔

اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند نے ایک جانب جہاں پلیس آف ورشپ قانو ن کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضداشت کی مخالفت کرنے کے لیئے مداخلت کار کی درخواست داخل کی ہے وہیں سول پٹیشن داخل کرکے عدالت سے پلیس آف ورشپ قانو ن کے تحفظ اور اس کے حقیقی نفاذ کی عدالت سے درخواست کی ہے ۔ سپریم کورٹ میں ہونے والی آج کی سماعت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ ورندا گروور، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ سیف ضیاء، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر موجود تھے۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل سول رٹ پٹیشن کا ڈائری نمبر 28081/2022 ہے جسے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے داخل کیا ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کردہ رٹ پٹیشن اور مداخلت کار کی دونوں درخواستوں میں جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی مدعی بنے ہیں۔ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی، اشونی کمار اپادھیائے اور دیگر لوگوں نے پلیس آف ورشپ ایکٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیاہے اور عدالت سے ان کا مطالبہ ہیکہ اس قانون کی وجہ سے وہ کاشی متھرا، گیان واپی اور دیگر دوہزار ایسی مسلم عبادت گاہوں کو ہندو عباد ت گاہوں میں تبدیل نہیں کرا پارہے ہیں کیونکہ یہ قانونی عبادت گاہوں کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل سول رٹ پٹیشن میں یہ تحریر ہیکہ پلیس آف ورشپ قانون 1991 نافذکرنے کا دو مقصد تھا، پہلا مقصد یہ تھا کہ کسی بھی مذہبی مقام کی تبدیلی کو روکنا اور دوسرا مقصد یہ تھا 1947 کے وقت عبادت گاہیں جس حال میں تھی اسی حال میں اسے رہنے دینا اور ان دونوں مقاصد کو بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ کے فیصلہ میں عدالت نے مانا ہے۔ پلیس آف ورشپ قانون آئین ہند کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے اس بات کا ذکر بابری مسجد مقدمہ فیصلہ میں کیا گیا ہے(پیرگراف 99، صفحہ 250)نیز اس قانون کی حفاظت کرنا سیکولرملک کی ذمہ داری ہے اور سیکولر ملک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرے۔عرضداشت میں مزیدکہاگیا ہے کہ بابری مسجد مقدمہ فیصلہ میں پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے پلیس آف ورشپ قانون کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے جس کے مطابق یہ قانون آئین ہند کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت بھی کرتا ہے نیز اس قانون کی دفعہ 4 عبادت گاہوں کی تبدیلی کو روکتا ہے اور یہ قانون بنا کر حکومت نے آئینی ذمہ داری لی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرے گی اور یہ قانون بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ سیکولر ازم کی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے لہذا سپریم کورٹ آف انڈیا پل یس آف ورشپ ایکٹ کی حقیقی حفاظت کرے اور اس کے موثر نفاذ کے لیئے فوری اقدامات کرے تاکہ ایک مخصوص طبقے کی جانب سے کی جانے والی بے لگام قانونی چارہ جوئی پر لگام لک سکے۔ عرض داشت میں مزید تحریر ہے کہ پلیس آف ورشپ قانون کا موثر نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے مسلم عبادت گاہوں بشمول گیان واپی مسجد، قطب مینار، متھرا کی عیدگاہ کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے نیزملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات قائم کرکے مسلمانوں کوپریشان کیا جارہا ہے جبکہ عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا لہذا پلیس آف ورشپ قانون کو چیلنج کرنے والی تمام عرضداشتوں کو خارج کیا جائے اور اس خصوصی قانون کے حقیقی نفاذ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مسلم عبادت گاہوں کے خلاف قائم مقدمات پر روک لگ سکے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ای ڈی کا سلیم ڈوالا کے خلاف کریک ڈاؤن 1.3 کروڑ کی جائیدادیں منجمد

Published

on

ممبئی ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ (ای ڈی) ممبئی زونل آفس نے ۲مئی اور ۳مئی کو ممبئی، سورت، انکلیشور اور راجکوٹ بھر میں 21 مقامات پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے)، 2002 کے تحت “ٹرانسنگ آرگنائزڈ کمپنی” کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ سلیم اسماعیل ڈولا اور اس کے ساتھیوں کے خلاف تلاشی و سرچ آپریشن میں سلیم ڈولا کے منظم منشیات کے نیٹ ورک کا احاطہ کیا گیا ہے, جس میں سنڈیکیٹ کے سرے سے آخر تک مالی معاملات ملوث افراد شامل ہیں, جن میں پیشگی کیمیکل سپلائی کرنے والے، کیمیکل کے تاجر، مصنوعی منشیات میفیڈرون (ایم ڈی) کے مینوفیکچررز/ڈسٹری بیوٹرز، ہوالا آپریٹرز اور کروڑوں روپے مالیت کی بے نامی جائیداد رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ اس کے مطابق، سرچ آپریشن میں غیر قانونی سپلائی چین اور منی لانڈرنگ ایکو سسٹم کے اہم روابط کو نشانہ بنایا ہے تاکہ سنڈیکیٹ کی آپریشنل صلاحیتوں اور مالیاتی انفراسٹرکچر کو نمایاں طور پر متاثر کیا جا سکے۔ تلاشی کے نتیجے میں نقدی، غیر ملکی کرنسی، سونے کے زیورات، اور تقریباً 1.33 کروڑ روپے مالیت کے بینک بیلنس ضبط اور منجمد کر دیے گئے۔ غیر ملکی کرنسی کے ساتھ امریکی ڈالر 2,200 مزید برآں، بھارت اور دبئی میں واقع کئی کروڑ روپے کی غیر منقولہ جائیدادوں سے متعلق دستاویزات برآمد کیے گئے، جو منشیات کے منظم سنڈیکیٹ کی آمدنی سے کی گئی کافی سرمایہ کاری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات ممبئی میں مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعہ سلیم ڈولا اور دیگر کے خلاف نشہ آور ادویات اور سائیکو ٹراپک مادوں کی غیر قانونی اسمگلنگ سے متعلق جرائم میں درج متعدد ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں۔ اب تک کی تحقیقات میں ایک انتہائی منظم بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک کے وجود کا انکشاف ہوا ہے جو پیشگی کیمیکلز کی خریداری، میفیڈرون (ایم ڈی) کی خفیہ تیاری، منشیات کی بین الاقوامی نقل و حمل اور تقسیم، نشہ آور اشیاء کی بین الاقوامی اسمگلنگ، جرائم کی آمدنی کو جمع کرنے اور قابل عمل چینلز کے ذریعے حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ ساتھیوں اور دیگر افراد کے نام پر اثاثے بھی موجود ہے مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر : ناندیڑ میں اے ٹی ایس کی کارروائی، شہزاد بھٹی کے حامیوں سے باز پرس، پربھنی سے بھی نوجوان حراست میں لئے گئے

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور انڈورلڈ ڈان شہزاد بھٹی کے ریاست میں نیٹ ورک کو مہاراشٹر اے ٹی ایس نے بے نقاب کرنے کے ساتھ مشتبہ اراکین سے باز پرس بھی شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے حامیوں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی اے ٹی ایس کی نظر ہے شہزاد بھٹی کے حامیوں کے خلاف اے ٹی ایس کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ناندیڑ شہر میں کچھ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی سوشل میڈیا پر یہ اطلاع ملنے کے بعد کہ پاکستان میں مقیم ہینڈلر شہزاد بھٹی کے کچھ حامی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اے ٹی ایس ٹیم نے ناندیڑ شہر میں اس کے کچھ حامیوں کو زیرحراست لے کر تفتیش کے ساتھ تلاشی لی۔ یہ کارروائی ناندیڑ اے ٹی ایس نے بدھ 3 جون کو شہر کے مختلف حصوں میں کی تھی۔ ناندیڑ اور پربھنی کے نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی گئی, لیکن ان نوجوانوں کا کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا اور پوچھ گچھ کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سے تعلقات کے الزام میں اس سے قبل ۵۷ افراد کو زیر حراست لیا تھا اور ریاست کے ۹ اضلاع میں بیک وقت چھاپہ کارروائی کی تھی اور شہزاد بھٹی کنکشن کو بے نقاب کر کے ان نوجوانوں سے بھی باز پرس کی تھی۔ بعد ازاں انہیں بھی رہا کر دیا گیا تھا۔ شہزاد بھٹی، پاکستانی خفیہ ایجنسی اور داؤد ابراہیم ڈی کمپنی کا منا جھنگاڑہ نے ہندوستان میں تخریبی کارروائی کی سازش کی ہے, جس کے بعد اے ٹی ایس نے ریاست بھر میں تلاشی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس معاملہ میں دلی اسپیشل سیل کے اب تک ۱۰ ملزمین کو گرفتار کیا ہے جو دلی اور ممبئی میں بم دھماکوں کی سازش کو انجام دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ہوائی اڈہ پر حجاج کرام کا سامان نہ ملنے سے افراتفری، حج کمیٹی کی لاپروائی کا نتیجہ، ائیرپورٹ پر حجاج کرام کو سامان بھیجنے کی یقین دہانی

Published

on

Air-Port

ممبئی : ممبئی حج کمیٹی آف انڈیا کی لاپروائی کے سبب ممبئی ہوائی اڈہ پر حجاج کرام کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مکہ معظمہ جدہ میں حجاج کرام کا سامان بیگیج کو جمع کرنے کے بعد ان کا سامان اب غائب ہے جس کے سبب ممبئی ہوائی اڈہ پر حجاج کرام نے حج کمیٹی کے انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ یکم مئی کو حج کمیٹی نے سامان جمع کیا تھا لیکن اب تک ممبئی سامان نہیں پہنچا ہے۔ حج کمیٹی کی بدنظمی کے سبب مہاراشٹر اور ملک کے حجاج کرام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ بھوپال، بھساول، اورنگ آباد، مالیگاؤں سمیت ممبئی کے حجاج کرام کو سامان میسر نہ ہونے کے سبب ائیر پورٹ پر افراتفری کے ساتھ حاجیوں میں اضطراب پایا جا رہا ہے, جبکہ حجاج کرام نے حج کمیٹی پر بدنظمی کا الزام عائد کیا۔

حاجی نذر عا لم نے کہا کہ یکم مئی کو ہی حجاج کا سامان جمع کر لیا گیا تھا لیکن جب ہم ائیر پورٹ پہنچے کو سامان نہیں پہنچا ہمیں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ سامان ائیر پورٹ پہنچ جائے گا, لیکن اب تک سامان کا کوئی پتہ ٹھکانہ نہیں ہے۔ سامان نہ ملنے کی وجہ سے حجاج کرام افراتفری کا شکار ہو گئے اور ممبئی ایئرپورٹ پر ہنگامہ بپا ہو گیا۔ اللہ کی مہمانوں کا سامان نہ ملنے سے ممبئی میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے یکم مئی کو ان کا سامان جمع کیا تھا اور انہیں بتایا تھا کہ ان کا سامان انہیں ممبئی ایئرپورٹ پر پہنچا دیا جائے گا۔ جب حجاج کرام ممبئی ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا سامان ابھی نہیں پہنچا اور ان کا سامان ان کے گھروں تک پہنچا دیا جائے گا۔ مہاراشٹر کے مختلف حصوں مثلاً مالیگاؤں، اورنگ آباد، دھولیہ، جالنا، امراوتی، ناگپور سے حجاج کرام ممبئی کے ہوائی اڈے پر پہنچے تھے اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا سامان محفوظ ہے اور انہیں کب ملے گا؟ ممبئی ایئرپورٹ پر حاجیوں کا ہنگامہ بدستور جاری ہے۔ حج کمیٹی انتظامیہ نے ائیر پورٹ پر حجاج کرام کو بتایا ہے کہ ان کا بیگیج محفوظ ہے اور جلد ہی سامان انہیں موصول ہوگا ممبئی میں حجاج کرام کاُ سامان نہ ملنے پر حجاج کرام میں ناراضگی ہے جبکہ حج کمیٹی کی بدنظمی کے سبب ہزاروں حجاج کرام پریشان ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان