(جنرل (عام
موجودہ عہد میں مذہبی ، ملی اور سماجی تنظیموں کی اہمیت
موجودہ عہد میں مذہبی، ملّی اور سماجی تنظیموں کی اہمیت بڑی حد تک تبدیل ہوئی ہے باالخصوص جب ہم اقلیتی طبقوں کے تناظر میں اس کا جائزہ لیتے ہیں تو حالات خاصے تبدیل نظر آتے ہیں اور مذہبی و ملی تنظیموں کے حوالے سے تو منظر نامہ منفی نظر آتا ہے۔ بات چاہے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہو، شیعہ پرسنل لا بورڈ کی، آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ کی یا پھر مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کی سب ہی بورڈوں کی اہمیت پر سوالیہ نشان لگے ہیں۔
اقلیتی طبقے کے دانشور مانتے ہیں کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اہمیت بہت کم ہو گئی ہے اور دیگر بورڈوں کے وجود پر بھی سوالیہ نشان لگے ہیں اب یہ تنظیمیں یا ادارے صرف کاغذوں پر بھرم ضرور بنائے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں کوئی خاص اہمیت نہیں قاری محمد یوسف کہتے ہیں کہ ہم نے مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کا قیام اس لیے کیا تھا کہ آل انڈیا مسلم پرسنلُ لا بورڈ کسی بھی محاذ پر کامیاب نہیں تھا۔ حتیٰ کہ بابری مسجد کے تحفظ اور تین طلاق جیسے اہم معاملوں میں بھی بورڈ کو ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا تھا ، سابق ضلع جج بدر الدجیٰ نقوی کہتے ہیں کہ اگر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنی ہٹ دھرمی ضرورت سے زیادہ سخت گیری اور حد بندی کو ختم کرکے کام کیا ہوتا تو آج مسائل بالکل مختلف ہوتے۔
سبھی بورڈوں کا مقصد صرف میٹنگوں اور اجلاس کے قیام اور طعام تک محدود ہوکر رہ گیا جسکا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے، کسی پرسنل لا بورڈ کا کوئی ایک کام بھی تو ایسا نہیں جسکی بنیاد پر ملت اسلامیہ ان پر مزید بھروسہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ سبھی بورڈ اور بیشتر مذہبی و ملی تنظیمیں بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں ،معروف سماجی کارکن طاہرہ حسن کہتی ہیں کہ کچھ پرانی سوچ رکھنے والے دقیانوسی علماء کرام نے ہندوستان کے مسلمانوں خاص طور پر اتر پردیش میں آباد مسلمانوں کے مسائل کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ مذہبی اور شرعی مسائل تو حل کر نہیں سکے ساتھ ہی سیاست میں غیر ضروری دلچسپی لے کر معاشرے کی مذہبی تقسیم کی راہیں ہموار کر دی گئیں۔
ڈاکٹر سلمان خالد کہتے ہیں کہ جمعیۃ العلما کے علاوہ کوئی بھی ایسی تنظیم نہیں جسنے عملی طور پر لوگوں کو مختلف حوالوں سے راحت مہیا کرائی ہو، ساتھ ہی ڈاکٹر سلمان خالد یہ بھی کہتے ہیں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی پر تنقید کرنے والے لوگوں کو یہ جائزہ لینا چاہئے کہ آر ایس ایس کی موجودہ کامیابی کے پی جے کتنی دہائیوں کی محنت ہے اس کے بر عکس اس محاسبے کی بھی ضرورت ہے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران کتنی تنظیمیں یا کتنے اشخاص ایسے سامنے آئے ہیں جن پر ملت اسلامیہ یقین اور فخر کر سکتی ہے جب کسی قوم کے بے صلاحیت لوگوں کو سردار بننے کے مواقع ملنے لگیں تو سمجھ لیجئے زوال طے ہے۔ اس تنزل اور تباہی کے پس منظر میں اپنی خامیاں جگ ظاہر ہیں جنکا اعتراف اب سب سے بڑی اقلیت کو کر لینا چاہئے اور اسی تناظر میں اپنے مستقبل کی حکمت عملی وضع کرکے معنی خیز پیش رفت کرنی چاہئے وگرنہ تو “ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں “ جیسے حالات بن جائیں گے۔
آج مسلم طبقہ اپنے مذہبی سماجی معاشی اور دستوری حقوق کا تحفظ بھی نہیں کر پارہا ہے کچھ متعصب ذہنوں اور جماعتوں نے حالات کو تشویش ناک بنادیا ہے۔ اس کے باوجود بھی مسلکی نظریاتی اور ذات پات کے مسائل برابر سر اٹھائے ہوئے ہیں ایک کے بعد ایک چار پرسنل لا بورڈوں کا قیام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان بورڈوں کا وجود بے معنی ہوکر رہ گیا ہے اور بر سر اقتدار لوگوں کو بھی یہ بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ مسلمانوں کا داخلی انتشار ہی ان کی تباہی کے لئے کافی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔
اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
