Connect with us
Monday,17-August-2026
تازہ خبریں

سیاست

سرمائی اجلاس پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں ہونے کا قوی امکان : اوم برلا

Published

on

Om-Birla

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے سرمائی اجلا س پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں منعقد کرائے جانے کا قوی امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر زیرتعمیر عمارت کو 30 اکتوبر 2022 تک ہمیں سونپ دیا جاتا ہے تو ہم ضروری آزمائشوں کے بعد اس سال موسم سرما کا اجلاس نئی عمارت میں کرنے کی حالت میں ہوں گے انہوں نے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر کے کام پر اطمینان کا اظہار کیا مسٹر برلا نے اسپیکر کے طور پر اپنی تین برس کی میعادکار کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا کی تشکیل 25 مئی 2019 کو ہوئی تھی اور اس کا پہلا اجلا س 17 جولائی 2019 کو ہوا تھا۔تب سے لیکر آج تک لوک سبھا کا تین برسوں کا سفر یادگار رہا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے گزشتہ روز یو این آئی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا کے آٹھویں اجلاس تک ایوان میں 995 اعشاریہ 45 گھنٹے کام ہوا، جوکہ پچھلے تین لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس تک کے کام کی مدت کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔14 ویں، 15 ویں اور 16 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے مقابلے میں 17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس میں زیادہ بل پیش اورمنظور کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے دوران ضابطہ 377 کے تحت اراکین پارلیمان نے 3039 معاملے ایوان کے سامنے پیش کئے ۔ ضابطہ 377 کے تحت ایوان کے سامنے پیش کئے گئے معاملات پرمسلسل فالواپ کئے جانے کی وجہ سے اب تقریباً 98 فیصد معاملوں میں متعلقہ وزارتوں سے جواب موصول ہو رہے ہیں ۔17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے دوران ضابطہ 193 کے تحت اراکین پارلیمان نے 9 معاملے ایوان کے سامنے رکھے ۔14 ویں، 15، ویں اور 16 ویں لوک سبھا کے مقابلے 17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے دوران مختصر مدتی بحث کے تحت ہر معاملے میں اراکین کو بحث کا اوسطاً زیادہ وقت دیا گیا۔
مسٹر اوم برلا نے بتایا کہ 17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس تک وقفہ صفر کے تحت معزز اراکین کے ذریعے 4648 معاملے یا اوسطاً 31 اعشاریہ 4 معاملے یومیہ اٹھائے گئے۔ یہ 14 ویں، 15ویں اور 16 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے مقابلے زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی بار منتخب ہوکر آئے ممبران کو اپنی بات رکھنے کا موقع دینے میں ترجیح دی گئی اور پہلے ہی اجلا میں 208 ممبران نے وقفہ صفر کے دوران معاملات اٹھائے۔ نئی پہل کے تحت وقفہ صفر میں اٹھائے گئے معاملوں پر بھی وزارتوں کی طرف سے اب جواب مانگے جارہے ہیں۔
اسپیکر نے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے دوران وقفہ سوال میں زبانی جوابات کی اوسط تعداد 14 ویں سے 16 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے مقابلے میں زیادہ رہی۔
انہوں نے کہا کہ 1972 میں وقفہ سوال کا ضابطہ شروع ہونے کے بعد 17 ویں لوک سبھا کے دوران ہی تین بار ایسا ہوا کہ سبھی 20 نشان زد سوالات کے جواب دیئے گئے۔ ایسا 27 نومبر 2019، 20 دسمبر 2021 اور 10 فروری2022 کو ہوا۔
مسٹر اوم برلا نے بتایا کہ 17 ویں لوک سبھا میں اختراع اور ڈیجیٹل تکنیک کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی وجہ سے مالی وسائل میں کل 668.86 کروڑ روپے کی نمایاں بچت درج کی گئی۔سکریٹریٹ میں سبھی طرح کی خریداری میں جیم پورٹل کا ہی استعمال کیا جارہا ہے۔
مسٹر برلا نے بتایا کہ اراکین پارلیمان کی صلاحیت سازی کے لئے پارلیمانی تحقیق اور اطلاعاتی تعاون کا نظام(پرزم) قائم کیا گیا ہے۔ اس کے توسط سے اراکین پارلیمان کو 24 گھنٹے معلومات فراہم کرائی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ اراکین کو مختلف موضوعات پر حوالہ جاتی اور قانون سازی سے متعلق نوٹس بھی فراہم کرائے جاتے ہیں۔ایوان میں بل پیش کئے جانے سے قبل متعلقہ موضوعات پر ماہرین کے توسط سے بریفنگ سیشن کا انعقاد کیا جاتا ہے۔قومی راجدھانی خطہ میں ممبران کی رہائش گاہوں پر ان کی خواہش کے مطابق کتابیں دستیاب کرانے کی سہولت فراہم کرائی گئی ہے۔ پارلیمنٹ کی لائبریری میں ممبران کے تبادلہ خیال کے لئے ہال کی تعمیر کا انتظام کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معزز ممبران پارلیمنٹ کے ریڈنگ روم میں ڈاکٹرامبیڈکر سے متعلق کتابوں کی دستیابی،خصوصی ایپ کے ذریعے تمام ممبران پارلیمنٹ کو 40 زبانوں میں پانچ ہزار سے زیادہ جرائد اور اخبارات تک رسائی بہم پہنچائی گئی ہے۔ موجودہ اور سابق ممبران پارلیمنٹ کے لئے مفت ٹائپنگ اور فوٹو کاپی کرانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پارلیمنٹ کی لائبریری سے آن لائن استفادہ کرنے کی سہولت سبھی کو فراہم کرائی جارہی ہے۔آن لائن پورٹل جولائی 2022 میں لانچ کیاجائے گا۔ پارلیمنٹ کی لائبریری میں بذات خود آنے کے لئے پورٹل پر سلاٹ بک کئے جائیں گے ۔لائبریری میں ایک کولاژکے ذریعے پارلیمنٹ کی لائبریری کے 100 سالہ سفر کو پیش کیا گیا ہے۔
نیتی آیوگ کے تعاون سے ملک کی سبھی بڑی لائبریریوں کے ساتھ پارلیمنٹ کی لائبریری کو مربوط کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ ہندوستان کی قانون سازی سے متعلق لائبریری کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی لائبریری اور 12 مجالس قانون ساز کی لائبریریوں کو مربوط کرنے کا عمل جاری ہے۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ میٹا ڈیٹا طریقے سے کی ورڈ سرچ کے ذریعے لوک سبھا سے متعلق معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جون 2022 کے آخر تک پہلی سے 14 ویں لوک سبھا کی بحث کے ہندی ایڈیشن کو ڈیجیٹائز کردیا جائے گا۔ 15 ویں سے 17 ویں لوک سبھا کی بحث کے ہندی ایڈیشن کو سال کے آخر تک ڈیجیٹائز کئے جانے کا امکان ہے۔
پورٹل پرتقریباً 46 لاکھ ڈیجیٹل پیج ای پی اے آر ایل آئی بی ڈاٹ این آئی سی ڈاٹ ان پر اپ لوڈ کئے گئے ہیں۔
جولائی 2022 کے آخر تک لوک سبھا کی سبھی بحث کے انگریزی ایڈیشن کو ڈیجیٹائز کردیا جائےگا۔
پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کے کام اور رفتار کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اطمینان بخش طریقے پر کام آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ نئی عمارت گرین بلڈنگ ہوگی، جہاں ماحولیات اور توانائی کے تحفظ کے سبھی انتظامات کئے جائیں گے۔ یہ عمارت جدیدترین سہولیات سے آراستہ ہوگی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عمارت کی تعمیر اپنے مقررہ وقت سے ایک ہفتہ پیچھے چل رہی ہے، جسے آنے والے وقت میں میک اپ کرلیا جائے گا۔
مسٹر برلانے 17ویں لوک سبھا کے دوران بطور اسپیکر متعدد ملکوں کے دورے کئے، جن میں چوتھی جنوب ایشیائی اسپیکرس چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے 2019 میں مالدیپ، کے شہر مالے کا دورہ ، 64 ویں دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس میں شرکت کے لئے یوگانڈاکے کمپالا کا دورہ ، 141 ویں آئی پی یو اسمبلی میں شرکت کے لئے سربیا کے بلغراد کا دورہ ، چھٹی جی۔20 پارلیمانی اسپیکرس کی چوٹی کانفرنس شرکت کے لئے جاپان کی راجدھانی ٹوکیو کا دورہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2020 سے 2022 تک کناڈا ، آسٹریا، اٹلی، متحدہ عرب امارات، ویتنام، کمبوڈیا اورسنگاپور کا بھی دورہ کیا۔ اسی طرح سے 2019 سے 2022 تک بہت سے ملکوں کے پارلیمانی وفود نے بھی ہندوستان کا دورہ کیا، جن میں مالدیپ، کناڈا، منگولیا، ویتنام، آسٹریا وغیرہ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ طلبا اور نوجوانوں کےدرمیان اپنے آئین کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لئے ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے۔ پرائڈ کے ذریعے وزارت تعلیم اور کھیل ونوجوانوں کے امور کی وزارت کے تعاون سے ‘‘ اپنے آئین کو جانیں ’’ پہل کے تحت شہریوں پر مرکوز مختف طرح کے پروگرام کی شروعات کی جارہی ہے۔اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر مقابلہ جاتی کوئز کا انعقاد کیا جائے گا اور اس میں جیتنے والوں کو 25 جنوری 2023 کو پارلیمنٹ ہاؤس کے دورے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور 26 جنوری 2023 کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں انہیں شرکت کا بھی موقع حاصل ہوگا۔
مسٹر برلا نے بتایا کہ ہندوستان میں غیرملکی سفیروں کو ہندوستانی جمہوریت سے روشناس کرانے کے لئے ‘ ہندوستان میں جمہوری طرز عمل اور روایت’ کے موضوع پر ایک مختصر دستاویزی فلم بنائی جارہی ہے۔یہ فلم ہندوستان میں تعینات غیرملکی سفیروں کو مختلف بیچ میں دکھائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے سکریٹری جنرل سکریٹریٹ کے تمام شعبوں کے سربراہان (ایڈیشنل سکریٹریز/ جوائنٹ سکریٹریز) کے ساتھ مستقل طور سے ہفتہ وار جائزہ میٹگ کریں گے۔سکریٹریٹ کے مختلف شعبوں اور اکائیوں کے کام کے درمیان ربط پیدا کرنے کی خاطر اور ان کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کے لئے ایک کوآرڈی نیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔سبھی شعبوں کے سربراہ سکریٹریٹ کی کارکردگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ سکریٹریٹ کے اخراجات کی بچت کی سمت میں ضروری اقدامات کریں گے۔کام کو جلد نپٹانے کے لئے فائلوں کی موومنٹ کواب محدود کیاجائے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

لائسنس میں متعین مقام سے باہر کام کرنے والے ہاکروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے : میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے

Published

on

Ashwini-Bhide

ممبئی فٹ پاتھوں پر مجاز ہاکرز کو اپنا کاروبار صرف اپنے لائسنس میں متعین مقام کے اندر ہی کرنا چاہیے اور مقررہ حدود سے زیادہ جگہوں پر تجاوزات نہیں کرنی چاہئے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے لائسنس ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ تمام لائسنس یافتہ ہاکروں کے زیر قبضہ علاقوں کا معائنہ کرے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کوئی بھی ہاکر مجاز علاقے سے باہر کام کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ دریں اثنا، بھیڈے نے ممبئی کے علاقے میں فی الحال جاری ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کے لیے بڑھتے ہوئے عوامی ردعمل اور تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن فٹ پاتھوں سے رکاوٹوں کو دور کرنے اور پیدل چلنے والوں کے لیے آسانی سے قابل رسائی بنانے کے مقصد کے ساتھ ’پیدل چلنے والے پہلے‘ مہم کو نافذ کر رہی ہے۔ جاری آپریشنز کا جائزہ لینے کے لیے، اشونی بھیڈے نے آج صبح (17 اگست 2026) ممبئی سٹی ڈویژن کے مختلف مقامات کا ذاتی طور پر تین گھنٹے تک دورہ کیا اور معائنہ کیا۔جن مقامات کا معائنہ کیا گیا ان میں شامل ہیں: نانا چوک، گرانٹ روڈ ریلوے اسٹیشن، نوشیر بھروچا روڈ، نانا شنکر شیٹ مارگ (بھاجی گلی)، اور ‘ڈی’ وارڈ میں تاردیو مارگ؛ ڈاکٹر آنندراؤ نائر مارگ، نیر ہسپتال کا احاطہ، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مارگ، ناتھ پائی مارگ، اور ‘ای’ وارڈ میں سنت ساوتا مارگ؛ اور لوک مانیہ تلک مارگ، سندھور برج علاقہ، جونا بنگالی پورہ گلی، رگھوناتھ مہاراج اسٹریٹ، اور ‘بی’ وارڈ میں قاضی سید مارگ۔ معائنہ میں جگناتھ شنکر شیٹ مارگ، دھوبیتا لاولین، مہارشی کاروے مارگ، میرین لائنز، اور چندن واڑی کے آس پاس (تمام ‘سی’ وارڈ میں) کے ساتھ ساتھ مہاتما جیوتیبا پھولے منڈائی (کرافورڈ مارکیٹ) اور مہا پالیکا مارگ کے علاقوں میں فٹ پاتھوں کی حالت اور مرمت کی حالت کا احاطہ کیا گیا۔ اس موقع پر موجود عہدیداروں میں ڈپٹی کمشنر (زون-1) چندرا جادھو بھی شامل تھیں۔ ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) پرشانت گائیکواڑ، اور اسسٹنٹ کمشنرز سنتوش سالونکھے (‘ڈی’ وارڈ)، آنند کنکل (‘ای’ وارڈ)، جتیندر گھوراڈے (‘بی’ وارڈ)، اجول انگولے (‘اے’ وارڈ)، اور سنیل مانے (‘سی’ وارڈ)۔

فٹ پاتھوں پر درختوں کی جڑوں کی حفاظت کو یقینی بنانا، شاخوں کو صحیح طریقے سے کاٹنا :
رکاوٹوں سے پاک فٹ پاتھ بنانے کے لیے انتظامیہ کی جاری کوششیں تسلی بخش ہیں۔ تاہم، تسلسل کو برقرار رکھا جانا چاہئے. فٹ پاتھوں کی بہتری، خوبصورتی اور حفاظت کے حوالے سے ضروری اقدامات کو بروئے کار لایا جائے۔ پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھوں کو آسانی سے قابلِ آمدورفت بنانے کے لیے تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا جانا چاہیے، اور یہ تبدیلی شہریوں کے سفر کے دوران واضح طور پر ظاہر ہونی چاہیے۔ فٹ پاتھوں پر درختوں کی جڑوں کی حفاظت کے لیے احتیاط برتنی چاہیے، اور شاخوں کو درست طریقے سے کاٹنا چاہیے۔ غیر محفوظ سمجھے جانے والے درختوں کو ضابطوں اور سائنسی طریقوں کے مطابق ہٹایا جانا چاہیے۔ فٹ پاتھوں پر کام کرنے والے لائسنس یافتہ ہاکرز کو اپنے مقررہ علاقے سے باہر جگہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ میونسپل کمشنر محترمہ اشونی بھیڈے نے معائنہ کے دوران یہ ہدایات جاری کیں۔

فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں :
دریں اثنا، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے معائنہ کے دوران، اشونی بھیڈے نے ذاتی طور پر کچھ ہاکروں کے لائسنس سرٹیفکیٹس کی جانچ کی۔ متعلقہ ہاکرز اور ان کی انجمنوں کے نمائندوں کو بھی ہدایات جاری کی گئیں۔ مجاز ہاکرز کو فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے کی اجازت ہے۔ تاہم، ان کی کارروائیوں کو پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ وہ ارد گرد کے علاقوں میں صفائی کو یقینی بنائیں۔ گرانٹ روڈ ریلوے اسٹیشن، جگن ناتھ شنکر شیٹ میٹرو اسٹیشن اور بی وائے ایل کے آس پاس کے علاقوں کا دورہ کیا گیا۔ نائر ہسپتال، پیدل چلنے والوں کے ہموار گزرنے کو یقینی بنانے کے اقدامات کو نافذ کرنے کی ہدایات کے ساتھ ضروری قدم اٹھانے کی ہدایت دی۔

کچرے سے دوچار مقامات (جی وی پیز) پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں :
اشونی بھیڈے نے ‘ای’ وارڈ میں خشک کچرا جمع کرنے کے مرکز، رے روڈ پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کی چوکی، سنت ساوتا مارگ پر پمپنگ اسٹیشن، اور مختلف کوڑے کے خطرے سے دوچار پوائنٹس (جی وی پیز) کا دورہ کرکے کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ “کچرا نہ پھینکیں” کا پیغام دینے والے سائن بورڈز جی وی پیز پر نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں۔ عادی گندگی پھیلانے والوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری طور پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں اور آس پاس کے علاقوں کو خوبصورت بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ خشک کچرے کو الگ کرنے کے مراکز کو مناسب طریقے سے منظم کیا جائے اور متعلقہ ویسٹ بیگز پر الگ الگ کچرے کی قسم کو واضح طور پر نشان زد کیا جائے۔

شہری انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں :
انتظامیہ فٹ پاتھوں کو صاف کرنے اور کوڑے کے خطرے سے دوچار مقامات (جی وی پیز) کو ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ تاہم، شہریوں کو فٹ پاتھ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سے بچنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ فٹ پاتھوں پر میٹریل نہ رکھا جائے اور گاڑیاں وہاں کھڑی نہ کی جائیں۔ مزید برآں، کوڑا کرکٹ کو فٹ پاتھ، سڑکوں یا کسی اور جگہ پر نہیں پھینکنا چاہیے۔ اشونی بھیڈے نے انتظامیہ کی طرف سے کی جا رہی کوششوں میں تعاون کی اپیل بھی کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونہ کے دو کال سینٹر پر ممبئی پولیس کی بڑی کارروائی ۱۰ملزمین گرفتار، سوشل میڈیا پر ایڈمیشن کے نام پر متاثرین کے ساتھ کروڑوں کی دھوکہ دہی

Published

on

Arrested...-10

ممبئی پولس نے ایڈمیشن کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کیا جو کالجوں میں ایڈمیشن کا خواہاں ہوتا تھا۔ ممبئی کے پوائی پولس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کروائی گئی, جس میں متاثرہ کے کہا کہ اس کے ساتھ ایڈمیشن کے نام پر دھوکہ دہی ہوئی ہے۔ اس متاثرہ کے سوشل میڈیا انسٹاگرام اور فیس بک پر ہی ایڈمیشن کے لیے رابطہ کیا تھا, پھر اسے حیدر آباد کے ایک کالج بھی لیجایا گیا تھا اس طرح اس سے ایڈمیشن کے لیے ۱۶ لاکھ روپے وصول کیے گئے تھے۔ علیحدہ علیحدہ فیس کے نام پر ملزمین پیسہ وصول کیا کرتے تھے۔ پیشگی فیس اور ضمانت کے نام پر ۲ لاکھ ۴ لاکھ روپے کی وصولی کیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ملزمین کو جب پیسہ یا رقم منتقل ہو جاتی تھی تو وہ موبائل فون بند کر دیا کرتے تھے۔ اسی طرح کا واقعہ متاثرہ کے ساتھ ہوا تھا اس کے بعد پوائی پولس کو سراغ ملا کہ ملزمین یہاں پونہ میں کال سینٹر چلاتے ہیں, اس پر چھاپہ مار کر ایک کروڑ ۲۵ لاکھ روپے کے سامان ضبط کئے ہیں, جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا وہ اعلی تعلیم یافتہ ہے۔ اس میں پانچ انجینئرنگ اور پانچ بی ٹیک ہے۔ ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے بتایا کہ اس معاملہ میں ملزمین اکثر سوشل میڈیا پر ہی رابطہ کرتے تھے اور کام ہونے کے بعد موبائل بند کردیا کرتے تھے۔ ملزمین کے قبضے سے موبائل فون اور دیگر دستاویزات اور ایڈمیشن فارم بھی ملے ہیں۔ فی الوقت پولس ان سے مزید تفتیش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے, اس لئے پولس اس معاملہ میں مزید ملزمین سے متعلق بھی تفتیش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ملزمین صرف مہاراشٹر میں ہی حیدر آباد ، دلی اور دیگر مشہور اور نامور کالجوں میں ایڈمیشن داخلہ کا لالچ دے کر دھوکہ دہی کیا کرتا تھا اس معاملہ میں ممبئی پولس کو ایک بڑی کامیابی ملی اور اس نے ملزمین کے دو کال سینٹر کو ہی بے نقاب کر کے اسے پوری طرح سے تباہ کردیا ہے اسی کال سینٹر سے یہ گروہ یہ ریکیٹ چلایا کرتا تھا۔ دتہ نلاوڑے نے بتایا کہ یہ ۲۰۲۴ سے یہ ریکیٹ چلایا کرتے تھے اس کا ممبئی پولس نے پردہ فاش کیا ہے ایک بڑی کامیابی پولس کو ملی ہے۔

Continue Reading

سیاست

محبوبہ مفتی کے بیان سے ناراض بی جے پی، الطاف ٹھاکر نے کہا، ’’نیا ہندوستان ملک مخالف سوچ کو برداشت نہیں کرے گا‘‘۔

Published

on

BJP-Altaf-Thakur

سری نگر : بی جے پی نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے وزیر اعظم نریندر مودی کے “ذہنی نکسل” ریمارک پر سخت ردعمل جاری کیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے کہا کہ محبوبہ مفتی کا بیان خود ثابت کرتا ہے کہ ان کا ذہن اور زبان نکسلیوں اور پاکستان کے حامیوں کی طرح ہے۔ درحقیقت، وزیر اعظم مودی نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہندوستان میں ’’نکسلی ذہنیت‘‘ کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ وہ آرٹیکل 370 کی حمایت کرتی ہیں، اس لیے وہ ایک ’’ذہنی نکسل‘‘ بھی ہیں۔

بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے آئی اے این ایس کو بتایا، “محبوبہ مفتی ایک نکسلائٹ ہیں۔ جس طرح وہ بار بار ملک کے خلاف بولتی ہیں، دہشت گردوں کی حمایت کرتی ہیں، اور پاکستان کے بارے میں بات کرتی ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نکسلائی ذہنیت رکھتی ہیں۔” الطاف ٹھاکر نے کہا، “محبوبہ جی، یہ ذہن میں رکھیں: یہ ایک نیا ہندوستان ہے، یہ وہ پرانا ہندوستان نہیں ہے جب نکسلائٹ تھے، دہشت گردی تھی، اور پاکستان آکر ہمیں ڈراتا تھا، یہ وہ ہندوستان ہے جو اب پاکستان میں گھس کر حملہ کرتا ہے، جس نے نکسلیوں کو ختم کیا، جس نے دہشت گردوں کو ختم کیا، جس نے آرٹیکل 370 کو ختم کیا، وہ دیوار بن گیا”۔

انہوں نے کہا، “نکسلیوں اور نکسلیوں کی ذہنیت کو ختم کرنا ہمارے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ یہ ہندوستان ہے، ایک متحدہ ہندوستان… جس کی وزیر اعظم بات کرتے ہیں۔ کسی کو بھی اس ہندوستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے یا اس کے اتحاد اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔” بی جے پی کے ترجمان نے اے آئی سی سی ہیڈکوارٹر میں ’’وندے ماترم‘‘ کے تنازع پر کانگریس پارٹی کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وندے ماترم‘‘ صرف ایک گانا نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی روح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “وندے ماترم” وہی گانا ہے جس نے آزادی کے چاہنے والوں میں نیا جوش، جذبہ اور جوش پیدا کیا۔ عظیم لوگوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے یہ گیت گاتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ الطاف ٹھاکر نے الزام لگایا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کی توہین کی ہے۔ چاہے راہل گاندھی ہوں، سونیا گاندھی ہوں یا کھرگے، انہوں نے جس طرح سے اس کی توہین کی ہے۔ ملک اس توہین کو نہیں بھولے گا اور کانگریس پارٹی کو نہیں بخشے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان