سیاست
راہل گاندھی سے تقریباً 10 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی گئی، ای ڈی نے آج پھر بلایا
نیشنل ہیرالڈ معاملے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے ای ڈی نے پیر کو تقریباً 10 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی۔ انہیں منگل کو بھی پیش ہونے کو کہا گیا ہے۔ پیر کو ہوئی پوچھ تاچھ میں راہل گاندھی سے بینک اکاؤنٹ سمیت کئی چیزوں پر تفشیش کی گئی۔ راہل گاندھی صبح تقریباً 11.10 بجے اے پی جے عبدالکلام روڈ پر واقع ای ڈی کے ہیڈکوارٹر پہنچے تھے۔ جس کے بعد وہ تقریباً 2.30 بجے ای ڈی کے دفتر سے نکل گئے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی دوپہر کے کھانے کے لیے ای ڈی کے دفتر سے نکل گئے ہیں، وہ دوبارہ پوچھ تاچھ کے لیے آئیں گے۔ اس کے بعد راہول گاندھی مزید پوچھ تاچھ کے لیے 4 بجے کے قریب دوبارہ ای ڈی کے دفتر پہنچے۔ اس کے بعد راہول گاندھی تقریباً 11.30 بجے ای ڈی کے ہیڈکوارٹر سے نکل گئے۔
دوسری جانب کانگریس کارکنوں نے دن کے وقت سڑک پر احتجاجی مارچ نکالا اور راہول گاندھی کی پیشی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد کانگریس کے بڑے لیڈران اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ کانگریس کی جانب سے کہا گیا کہ نیشنل ہیرالڈ میں کوئی گھوٹالہ نہیں ہوا ہے۔ نیشنل ہیرالڈ کمپنی نے ینگ انڈیا کمپنی کے واجبات کی ادائیگی اور ملازمین کی تنخواہیں ادا کر دی ہیں۔ ہم نے بی جے پی حکومت کی طرح ہندوستان کی سرکاری جائیدادیں فروخت نہیں کیں۔ راہل گاندھی کی پیشی کے پیش نظر کانگریس نے ملک بھر میں ای ڈی کے دفاتر کے باہر ستیہ گرہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
کانگریس قائدین نے دیر شام اس مسئلہ پر پی سی بھی کیا۔ اس دوران چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے کہا کہ آج ہمارے قومی لیڈر راہل گاندھی کو ای ڈی نے نیشنل ہیرالڈ معاملے میں طلب کیا ہے۔ ان کے خلاف ہمارے ہزاروں کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاج کیا۔ بی جے پی حکومت نے گزشتہ 8 سال سے اپوزیشن کے لیڈران کے خلاف مقدمات درج کر رکھے ہیں۔ بی جے پی یا اس کے اتحادیوں کے خلاف ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔ ایجنسیوں کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ جب اپوزیشن کا کوئی لیڈر بی جے پی میں شامل ہوتا ہے تو اس کے خلاف پرانے الزامات بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا کہ نیشنل ہیرالڈ اخبار کا قیام 1937 میں ہوا تھا اور تب سے کانگریس پارٹی اس کی حمایت کر رہی ہے۔ میڈیا والوں کو معلوم ہے کہ جہاں پرنٹ میڈیا چھاپ رہا ہے، اس کا کیا حال ہے، وہ زیادہ تر خسارے میں ہی چلتا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ اتنے مغرور ہیں کہ انہیں عوام کی کوئی پرواہ نہیں، وہ صرف مذہب کے نام پر لوگوں کو اکسا رہے ہیں اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں، لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فسادات ہورہے ہیں، ملک میں آگ لگ رہی ہے، کشیدگی اور جھگڑے ہورہے ہیں، حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ اپوزیشن لگاتار کہہ رہی ہے کہ وزیر اعظم مودی جی کو پورے ملک سے اپیل کرنی چاہئے کہ لوگ آپسی بھائی چارہ برقرار رکھیں، لیکن مودی جی اور امیت شاہ جی کو یہ کہنے میں بھی ہچکچاہٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا کہ مجھے ایک بار ای ڈی، محکمۂ انکم ٹیکس کے افسران سے ملنا چاہیے۔ میں نے ان سے ملاقات کا وقت مانگا تو انہوں نے مجھے وقت دیا۔ بعد میں پتہ نہیں کیا ہوا، انہوں نے کہا کہ وہ خود جے پور آکر مجھ سے ملیں گے۔ یہ ہمارے ملک کی قیمتی ایجنسیاں ہیں۔ وہ بیکار چھاپے مارتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ چھاپہ مارنا نہیں چاہتے۔ لیکن وزارت داخلہ کی طرف سے ان پر کافی دباؤ ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو بہت خطرناک بنا دیا ہے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ میں خود جا کر ان لوگوں سے ملوں۔
آپ کو بتا دیں کہ جانچ ایجنسی نے پہلے راہل گاندھی کو 2 جون کو پیش ہونے کو کہا تھا۔ لیکن انہوں نے کسی اور تاریخ کے لیے درخواست کی تھی کہ وہ ملک سے باہر ہیں۔ ای ڈی نے اس معاملے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کو 23 جون کو طلب کیا ہے۔ اس سے قبل انہیں 8 جون کو پیش ہونے کا نوٹس دیا گیا تھا۔ لیکن کانگریس صدر نے پیش ہونے کے لیے مزید وقت مانگا تھا کیونکہ وہ کورونا سے متاثر ہیں اور ابھی تک صحت یاب نہیں ہوئی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : او بی سی لیڈر شبیر انصاری نے چھوٹا سونا پور قبرستان کی جگہ کو آزاد کروایا، مولانا معین میاں کا تعزیتی نشست میں دعوی! چھگن بھجبل نے کہا مسلم پسماندہ طبقات کے لیے ایک بڑا نقصان

ممبئی : ممبئی سنی مسلم چھوٹا قبرستان میں کرپشن بدعنوانی منی ایس بی یو ٹی اس عام کرنے والی شخصیت کا نام شبیر انصاری ہے۔ اس پر ایک ذمہ دار ادارہ کے رکن اور وقف بورڈ کے رکن نے ساز باز کر کے بلڈرکے ہاتھ قطعہ اراضی کو فروخت کرنے کی سازش کی تھی اس کو افشا شبیر انصاری نے کیا جس وقت شبیر انصاری نے اوقاف تحریک شروع کی تھی تو شبیر احمد انصاری کے خلاف کیس درج کیا گیا, اس میں انڈرورلڈ اور سفید پوشوں نے وقف کی املاک میں خرد برد کرنے کی سازش رچی تھی۔ ٹرسٹ میں ایک بلڈر کو شامل کیا گیا تھا اور یہ کام کوئی اور نہیں بلکہ شوٹ بوٹ ٹائی میں ملبوس اس اہم شخصیت نے کی جو قوم کے ہر پروگرام میں اسٹیج پر جلوہ افروز رہتے ہیں, میں ان کا نام لینا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے ادارہ بدنام ہوگا اور یہ ادارہ قوم اور ہمارا آپ کا ہے یہ دعویٰ شبیر انصاری کے تعزیتی نشست میں حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شبیر انصاری کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ عیدگاہ میدان میں آج ہم آپ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ شبیر انصاری نے اس متعلق جو تحریک شروع کی تھی انہیں کافی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ دو ٹانکی عیدگاہ میدان چھوٹا سوناپور میں گزشتہ رات آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے قومی صدر شبیر احمد انصاری کے انتقال پر تعزیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا, کثیر تعداد میں سماجی کارکنان، معروف شخصیات، ائمہ کرام، علمائے عظام، سیاسی، سماجی، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے افراد موجود تھے۔ پروگرام کی سرپرستی وصدارت پیر طریقت، قائد اہل سنت حضرت علامہ مولانا سید معین الدین اشرف الاشرفی الجیلانی سجادہ نشین خانقاہ عالیہ کچھوچھہ مقدسہ و صدر آل انڈیا سنی جمعیتہ العلما نے فرمائی۔ آپ نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ شبیر احمد انصاری نے اپنی زندگی کے پچاس سال پسماندہ طبقات (او بی سی ) کے حقوق کے لیے وقف کر دیئے۔ مرحوم نے نہ صرف (او بی سی) کے حقوق کے لئے لڑائی لڑی ہے, بلکہ وقف جائداد کے تحفظ کے لئے ہمیشہ میدان عمل میں ڈٹ کر کھڑے رہے, انہوں نے اپنی انتھک کوشش سے مہاراشٹرا کے وزیر اعلی کے ذریعے وقف جائداد کا سروے کا کام بھی شروع کروایا۔ معین المشائخ نے مزید کہا کہ مرحوم نے وقف بورڈ کے دفتر میں کچھ نا اہل افسران کی تساہلی اور صحیح طریقے سے کام نہ کرنے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے دفتر میں تالا لگا دیا, جس کی وجہ سے ان پر کیس بھی درج کیا گیا لیکن اپنے مشن میں پیچھے نہیں ہٹے، آپ نے کہا کہ مرحوم شبیر انصاری، اللہ ان کی مغفرت کرے مجھ سے کافی قربت تھی۔ جس میدان میں ہم لوگ اس وقت حاضر ہیں اس کو غاصبوں سے بچانے میں بھی مرحوم کا بڑا رول رہا ہے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ میاں اس عید گاہ میدان اور اطراف کی پراپرٹی کو کچھ لوگ وقف کی جائداد سے ہٹاکر غیر وقف کر کے تعمیراتی کام شروع کرنے والے ہیں، وقف کی اس جائداد کو قوم کے لئے آپ بچائیں اس پر معین المشائخ نے وہ دستاویزات بھی پیش کئے، بے حد کوشش کے بعد وقف جادائیداد میں یہ میدان شامل ہو گیا ہے، اب قیامت تک اس عید گاہ میدان میں سجدہ اور نمازیں ہوںگی۔ مہاراشٹرا کے کابینی وزیر جناب چھگن بھجبل نے کہا کہ مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو OBC میں شامل کرانے کی جدوجہد کرنے والے، سفارشات کے نفاذ کے لیے آواز اٹھانےوالے، ریزرویشن کے حق میں ملک بھر میں تحریک چلانےوالے، گاؤں اور عوامی سطح پر کام کرنے والے لیڈر کا نام شبیر احمد انصاری ہے۔ مرحوم کی وفات مسلم پسماندہ طبقات کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ایم ایل اے امین پٹیل نے کہا مرحوم نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ پسماندہ طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں صرف کیا۔ ان کی قیادت میں او بی سی تنظیم نے نہ صرف استحکام پایا بلکہ سماج میں ایک مضبوط اور باوقار پہچان بھی حاصل کی۔ ان کی بصیرت، حکمت اور مستقل مزاجی نے بے شمار مسائل کو حل کیا۔ وہ مشکل ترین حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارتے تھے۔ میں ضرور ان کی طرف منسوب کرتے ہوئے چوک کا نام رکھوں گا تاکہ ان کی یاد باقی رہے۔
سماجی کارکن نظام الدین راعین نے کہا کہ مرحوم شبیر احمد انصاری مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں عوامی سطح پر بیداری پیدا کرتے اور عام لوگوں سے براہِ راست رابطہ رکھتے تھے اور پیچیدہ سماجی مسائل کو آسان انداز میں بیان کرتے تھے۔ سماجی کارکن اور فعال شخصیت جناب سعید خان نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی سماجی خدمت، انصاف کی فراہمی اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دی۔ او بی سی تنظیم کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے نہایت دیانت داری، بصیرت اور محنت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کی قیادت میں تنظیم نے ترقی کی نئی منازل طے کیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلیاں آئیں۔ روز نامہ ہندوستان کے مالک و مدیر جناب سرفراز آرزا نے کہا کہ ان کی وفات سے ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا پُر ہونا آسان نہیں، سادہ زندگی گزارنے والے، نچلے طبقے کے لوگوں کے حقیقی نمائندہ مضبوط مقرر اور تحریک چلانے والے رہنما تھے جس کی وجہ سے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ سابق ایم ایل اے وارث پٹھان نے کہا کہ انہوں نے نہ کبھی شہرت کی خواہش کی اور نہ ہی ذاتی مفاد کو ترجیح دی، بلکہ ہمیشہ قوم اور سماج کی بہتری کو اولین رکھا۔ آج ان کے جانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پر کرنا یقیناً مشکل ہے۔ آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے کار گزار صدر جناب فاضل انصاری نے کہا کہ مرحوم ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صرف ایک عہدہ رکھنے والے صدر نہیں تھے بلکہ مظلوموں کی آواز، محروموں کا سہارا اور قوم کے حقیقی رہنما تھے۔ بلکہ دوسروں کو امید اور ہمت دیتے تھے۔ ناظم اجلاس جناب عامر ادریسی نے کہا کہ مرحوم کے نام پر تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں اور ان کے مشن کا آگے بڑھایا جائے۔ معز زشخصیات میں ابراہیم بھائی جان، مشیر انصاری، ایڈوکیٹ قاضی مہتاب، تاج قریشی، مبین قریشی، مولانا عبدالجبار ماہرالقادری، مولانا اعجاز کشمیری، مولانا نورالعین وغیرہ شامل تھے
بزنس
سنسیکس 22 فیصد بڑھ کر 2026 کے آخر تک 95,000 تک پہنچ سکتا ہے: مورگن اسٹینلے

ممبئی: عالمی بروکریج فرم مورگن اسٹینلے نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ ایک بڑی ریلی کے لیے تیار ہے اور دسمبر 2026 کے آخر تک سنسیکس 95,000 تک پہنچ سکتا ہے۔ اپنی تازہ ترین رپورٹ میں، امریکی بروکریج فرم نے کہا کہ کم قیمتوں، آمدنی میں بہتری، اور محتاط سرمایہ کاروں کی پوزیشنیں ظاہر کرتی ہیں کہ مارکیٹ میں مندی ختم ہوسکتی ہے۔ مورگن اسٹینلے نے کہا کہ بنیادی صورت حال میں، سینسیکس دسمبر 2026 تک 95,000 تک پہنچ سکتا ہے، بدھ کے اختتام سے تقریباً 22 فیصد کا اضافہ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ اضافے کے مقابلے منفی پہلو کے خطرات محدود دکھائی دیتے ہیں، اور موجودہ صورتحال طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کا ایک پرکشش موقع بنی ہوئی ہے۔ بروکریج فرم نے کہا کہ ہندوستان کی مارکیٹ کی کارکردگی گزشتہ سال کے دوران تاریخی کم ترین سطح کے قریب رہی ہے، جبکہ قدروں میں تیزی سے کمی آئی ہے۔
تاہم، مضبوط گھریلو طلب، پالیسی میں استحکام اور سرمائے کے اخراجات میں بہتری کی وجہ سے ملکی معیشت کے بنیادی اصول مضبوط ہیں۔ اس کے مثبت نقطہ نظر کی ایک اہم وجہ آمدنی کا بہتر ہونا ہے۔ بروکریج فرم نے نوٹ کیا کہ اعلی تعدد کے اشارے کھپت، سرمایہ کاری اور خدمات میں مضبوط رجحانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، حالانکہ مارکیٹ کی توقعات کم رہتی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عالمی کارپوریٹ منافع میں ہندوستان کا حصہ اب تک کے سب سے بڑے مارجن سے انڈیکس کے وزن سے زیادہ ہے۔ بروکریج فرم کو امید ہے کہ آگے بڑھتے ہوئے مثبت آمدنی پر نظرثانی کی جائے گی۔ قیمتوں کے بارے میں، مورگن اسٹینلے نے نوٹ کیا کہ سنسیکس اس وقت سونے کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے، ایک طویل مدتی اشارے اکثر مارکیٹ کے اہم موڑ سے منسلک ہوتا ہے۔ مزید برآں، ہندوستان کا قیمت سے کتاب کا تناسب تاریخی کم ترین سطح کے قریب ہے، حالانکہ میکرو اکنامک استحکام بہتر ہو رہا ہے اور پالیسی کی غیر یقینی صورتحال محدود ہے۔ جغرافیائی سیاسی تناؤ اور عالمی نمو سے متعلق خطرات کے برقرار رہنے کے باوجود، مورگن اسٹینلے کا خیال ہے کہ وسیع تر نقطہ نظر مارکیٹ کی پائیدار بحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سیاست
بارامتی ضمنی انتخاب : سی ایم فڑنویس نے مہاراشٹر کانگریس کے سربراہ کو کیا فون، شرد پوار نے کھرگے سے بات کی

ممبئی: بارامتی اسمبلی ضمنی انتخاب کو لے کر چل رہی سیاست نے بڑا موڑ لے لیا ہے۔ چیف منسٹر دیویندر فڑنویس نے بذات خود اپوزیشن کے ساتھ بات چیت شروع کی ہے، جس سے انتخابات کے ارد گرد جوش و خروش کو مزید تیز کیا گیا ہے۔ جمعرات کو کاغذات نامزدگی واپس لینے کا آخری دن ہے، اور سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ انتخابات ہوں گے یا سنیترا پوار کی جیت بغیر مقابلے کے یقینی ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق سی ایم فڑنویس نے مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکل کو براہ راست فون کیا۔ اس بات چیت میں انہوں نے کانگریس سے اپنے امیدوار کو دستبردار کرنے کی اپیل کی تاکہ نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار کو بلا مقابلہ منتخب کیا جا سکے۔ سنیترا پوار این سی پی (اجیت پوار دھڑے) کی امیدوار ہیں۔ ریاستی سیاست میں اس اقدام کو کافی حیران کن سمجھا جا رہا ہے۔ حکمران جماعت کے کسی سینئر لیڈر کے لیے یہ بہت کم ہوتا ہے کہ وہ ریاستی اپوزیشن کے صدر سے ذاتی طور پر رابطہ کرے اور کسی امیدوار کو واپس لینے کا مطالبہ کرے۔ دریں اثنا، این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سے بھی اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ایک قومی پارٹی ہے اور اسے اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں لیکن اگر ان کی رائے مانگی جائے تو وہ یہ تجویز کریں گے کہ یہ انتخاب بلا مقابلہ کرایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نشست ایک تجربہ کار رہنما کی موت کے بعد خالی ہوئی ہے، اس لیے اس کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ یہ ضمنی انتخاب سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے انتقال کے بعد ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لیڈر اور پارٹیاں چاہتی ہیں کہ ان کی میراث کو عزت دیتے ہوئے الیکشن بلامقابلہ کرایا جائے۔ اس سے پہلے، ایک اہم میٹنگ میں، سنیترا پوار اور دیگر این سی پی لیڈروں نے سی ایم فڑنویس سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے انہیں یقین دلایا کہ پورا اتحاد ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ کانگریس، جب کہ ابتدا میں اس سیٹ پر مقابلہ کرنے کے اپنے فیصلے پر قائم تھی، اب اپنا موقف بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر وجے وڈیٹیوار نے اشارہ دیا ہے کہ پارٹی اپنا امیدوار واپس لے سکتی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ ہائی کمان کی منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
