Connect with us
Thursday,27-August-2026

(جنرل (عام

ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 4103 نئے معاملے

Published

on

corona-maharashtra

عالمی وباکورونا وائرس نے ایک بار پھر خوفزدہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفیکشن کے 4103 ایکٹو کا اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے ہفتہ کو یہاں بتایا کہ آج صبح 7 بجے تک 194 کروڑ 92 لاکھ 71 ہزار 111 ویکسین دی گئی ہیں۔ وزارت نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ انفیکشن کے 8329 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد (ملک کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کی تعداد) 40 ہزار 370 ہو گئی ہے۔
یہ متاثرہ کیسز کا 0.09 فیصد ہے۔ یومیہ انفیکشن کی شرح 2.41 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت نے کہا کہ اسی مدت میں 4216 لوگوں کو کووڈ سے نجات بھی ملی ہے۔ اب تک کووڈ سے کل 4 کروڑ 26 لاکھ 48 ہزار 308 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ری کوری کی شرح 98.69 فیصد ہے۔
ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں تین لاکھ 44 ہزار 994 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں کل 85 کروڑ 45 لاکھ 43 ہزار 282 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں اس مہلک وائرس سے اب تک 523757 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

(جنرل (عام

دہلی : فسادات کے سلسلے میں جیل میں بند عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں دہلی پولیس نے ہائی کورٹ میں جواب کیا داخل۔

Published

on

Umar / Shrjeel

نئی دہلی : دہلی پولیس نے 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کیس کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ عدالت میں جواب داخل کرواتے ہوئے پولیس نے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت کی بھی مخالفت کی۔ پچھلی سماعت (31 جولائی) میں دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے اس معاملے میں جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ جمعرات کو سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ شرجیل امام اور عمر خالد دہلی فسادات کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ پولیس کے پاس ان کے خلاف فسادات کی منصوبہ بندی کرنے، لوگوں کو اکٹھا کرنے اور فسادات میں اسٹریٹجک کردار ادا کرنے سے متعلق اہم ثبوت ہیں۔

دہلی پولیس نے یہ بھی کہا کہ دو افراد کی نئی ضمانت کی درخواستیں اپنے آپ میں “غیر قانونی” اور گمراہ کن ہیں۔ دہلی پولیس نے کہا کہ جنوری میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں شریک ملزمان کو ضمانت دی تھی، لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کو دہلی فسادات میں ان کے مختلف کرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5)، جو کہ ضمانت کی سخت شرائط فراہم کرتی ہے، اس کیس میں لاگو ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ اپنے جنوری کے فیصلے میں، سپریم کورٹ نے ضمانت مسترد کرتے وقت نئی ضمانت کے لیے دو شرائط عائد کی تھیں۔ پولیس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عمر اور شرجیل کیس کے اہم گواہوں کی گواہی کے بعد یا فیصلے کے ایک سال بعد ضمانت کی نئی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں کی گئی۔ اس لیے اس مرحلے پر ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت نہ کی جائے۔ یہ معاملہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو لے کر شمال مشرقی دہلی میں 2020 کے فسادات سے متعلق ہے، جس میں 50 سے زیادہ لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ خالد اور شرجیل اس کیس میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

کال سینٹر پر ممبئی پولیس کی بڑی کارروائی، ۹ گرفتار مزید تفتیش شروع

Published

on

ممبئی پولس نے ایک ایسے کال سینٹر کو بے نقاب کیا ہے جہاں کورئیر کمپنی سمیت دیگر کمپنیوں فرنچائز کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنا کر دھوکہ دیا جاتا تھا پولس کو اطلاع ملی کہ کمرہ نمبر 90، کرار ’’انٹرنیٹ ٹرانسفر ویزا پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘، ایکسس بینک موبائل کولنک روڈ، ملاڈ (ممبئی) میں واقع کال سینٹر چلایا جارہا ہے جس میں لوگوں سے دھوکہ دہی کی جاتی ہے اس پر پولس نے ۲۵ اگست سے ۲۶ اگست تک چھاپہ مار کارروائی کو انجام دیا ۔مذکورہ کال سینٹر میں موجود افراد مختلف کوریئر اور کامرس کمپنیوں کے نام استعمال کرکے، ممبئی اور مہاراشٹر کے شہریوں سے رابطہ کرتے تھے اور انہیں ایمیزون، فلپ کارٹ، منترہ، بلیو ڈارٹ، ڈی ٹی ڈی سی، وینا مارکیٹ وغیرہ جیسی معروف کوریئر اور کامرس کمپنیوں کے ساتھ کوریئر/فرنچائز دینے کا جھانسہ دے کر ان سے پیسے وصول کرتے تھے۔

مذکورہ کارروائی کے دوران کمرہ نمبر 90 کرار پولیس اسٹیشن، ممبئی کے مقدمہ نمبر 98/26 کے تحت تعزیراتِ ہند کی متعلقہ دفعات کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ جرم میں ملوث کمپنی کے ڈائریکٹر سمیت 09 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں ۲۸ اگست تک پولیس کسٹڈی میں رکھنے کی اجازت حاصل کی گئی ہے۔ مذکورہ کارروائی کے دوران 10 ہائی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، 22 لیپ ٹاپ، 30 موبائل فون، 5 ٹی وی، 100 سے زائد فراڈ کے معاہدے (ایگریمنٹ) کل مالیت 24,00,000/مذکورہ جرم کی مزید تفتیش کے دوران 20 سے زائد افراد کے ساتھ فراڈ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مزید شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

مذکورہ کمپنی کے ذریعے جن شہریوں کے ساتھ دھوکہ باری کی گئی ہے وہ پولس سے رابطہ کر کے شکایت درج کرواسکتے ہیں ۔ مذکورہ کارروائی پولیس کمشنر، دیون بھارتی، پولیس جوائنٹ کمشنر (کرائم)، انیل کنبھارے، ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم)، کرشن کانت اپدھیائے، ڈی سی پی ونوناتھ ڈھولےنے انجام دی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی لال باغ پریل میں عید میلاد النبی کے جلوس سے واپسی پر تشدد

Published

on

Eid Milad-un-Nabi

ممبئی لال باغ پریل میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس سے واپسی کے دوران گزشتہ نصف شب فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پولیس نے فساد برپا کرنے کا کیس درج کر کے پانچ افراد کو زیر حراست لیا ہے۔ اس کی تصدیق ممبئی پولیس کے ذرائع نے کی ہے۔ ملزمین کے خلاف بی این ایس کی دفعات 189(1), 189(2),191(1),195(1),118(1),121, مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔

لال باغ پریل علاقہ میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب یہاں دو فرقوں میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس سے مسلم نوجوان اپنی موٹر سائیکلیوں سے لال باغ پریل کے راستہ سے گزر رہے تھے کہ اس وقت دوسرے فرقہ کے نوجوان جمع ہوگئے اور انہوں نے موٹرسائیکل کی آواز اور رش ڈرائیونگ پر اعتراض کیا۔ اس دوران پولیس نے بھی سختی شروع کی کئی نوجوانوں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔ اسی دوران دوسرے فرقہ کے نوجوانوں نے مسلم نوجوانوں کے موٹر سائیکل پر موجود مذہبی جھنڈے کی توہین کی اور دونوں جانب سے نعرے بازی شروع ہوگئی۔ اکثریتی فرقہ کے نوجوانوں نے پہلے ہی علاقہ میں پہرہ لگا رکھا تھا اور پولیس کے سامنے ہی ان نوجوانوں نے جب مسلم نوجوانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو حالات مزید خراب ہوگئے اور یہ معاملہ تشدد کی شکل اختیار کر گیا۔ پولیس نے حالات کو قابو کرنے کیلئے ہلکا لاٹھی چارج کیا, فی الوقت یہاں کشیدگی برقرار ہے لیکن امن قائم ہے۔

لال باغ پریل تنازع کو لے کر سوشل میڈیا پر بھی طرح طرح کی افواہیں گشت کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نفرتی عناصر شرپسند اسے مذہبی رنگ دے کر حالات مزید خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی لئے اب ممبئی پولیس نے سوشل میڈیا پر نظر رکھنا شروع کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سینکڑوں ایسے نفرتی ویڈیو انسٹاگرام اور فیس بک سمیت سوشل میڈیا ذرائع پر وائرل کئے گئے ہیں جن میں نفرتی عناصر نے ایک فرقہ مخصوص کو نشانہ بنایا ہے۔ اس معاملہ میں بھوئیواڑہ پولیس نے فساد برپا کرنے کا کیس درج کرلیا ہے۔ اور تقریبا 5 ملزمین کو زیر حراست بھی لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس دوسرے فریق سے بھی بات کر رہی اور اس متعلق کراس ایف آئی آر درج کرنے کا امکان ہے۔ ممبئی شہر میں جس طرح سے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے بعد پولیس نے یہاں الرٹ جاری کر دیا ہے۔

عید میلاد النبی کے جلوس کے دوران واپسی کے وقت مسلم نوجوانوں پر حملہ کے بعد پولیس نے تشدد اور فساد برپا کرنے کا کیس درج کر لیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے امن وامان برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے اتنا ہی نہیں الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔ یہ فساد شرپسندوں کی شرانگیزی کے سبب وقوع پذیر ہوا اب سوشل میڈیا پر بھی اشتعال انگیزی عام ہوگئی ہے جس پر پولیس کارروائی کر سکتی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان