Connect with us
Thursday,27-August-2026

(جنرل (عام

حکومت کا نوپور شرما اور نوین جندل کے خلاف کارروائی نہ کرنا افسوسناک امر : مولانا اعجاز عرفی

Published

on

Nupur Sharma and Naveen Jindal

حضرت محمد ﷺ کو اپنی زندگی کا انمول حصہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہندوستان اور بیرون ملک ہونے والے احتجاج کے باوجود نوپور شرما اور نوین جندل کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنا نہایت افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے گزشتہ رات تنظیم علماء حق کے زیر اہتمام ’تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں‘ کے عنوان سے کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ان دونوں رہ نماؤوں کی اس مذموم حرکت پر نہ صرف ہندستانی مسلمان بلکہ خلیجی ممالک سمیت پورا عالم اسلام سراپا احتجاج بنا ہوا ہے، اور جس سے ہمارے ملک کی عزت ووقار کو ٹھیس پہنچ رہی ہے، عالمی پیمانے پر ہونے والے اس احتجاج اور بائیکاٹ کو دیکھتے ہوئے حکمراں پارٹی بی جے پی نے ان دونوں رہ نماؤوں کے خلاف معطلی کی جو کارروائی کی ہے، وہ نا کافی ہے۔ ان دونوں کے خلاف قانون کے دائرے میں سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے حکومت ہند سے یہ مطالبہ کیا کہ مذہب اور مقدس شخصیات کی توہین سے متعلق قانون کو مزید سخت بنانا از حد ضروری ہے، تاکہ اظہار خیال کی آزادی کے نام پر کوئی شخص کسی مذہب یا کسی مقدس شخصیت کے خلاف لب کشائی اور زبان درازی کی جرأت نہ کرسکے۔ انھوں نے کہا ہندستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے، کثرت میں وحدت اس کی پہچان ہے، یہاں تمام مذاہب و ادیان اور مذہبی شخصیات کا احترام کیا جاتا ہے، دستور و آئین کی روشنی میں ہندستان میں بسنے والے ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی توسیع و اشاعت کا حق حاصل ہے، مگر جمہوریت کا ناجائزہ فائدہ اٹھاکر جو لوگ مذہب، مذہبی کتابوں اور مذہبی شخصیات کے خلاف دریدہ دہنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی قدم اٹھانے اور انھیں قرار واقعی سزا دلوانے کی بھی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں کسی کو بھی اس قسم کے جرم کے ارتکاب کرنے کی ہمت نہ ہو۔

انہوں نے کہاکہ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں توہین رسالت کے مجرموں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔

تنظیم کے جنرل سکریٹری مولانا اسعد مختار نے کہا کہ محمد ﷺ اور اماں عائشہ کے بارے میں ان دونوں رہنماؤں کا بیان اس عظیم ترین ملک کی پیشانی پر بدنما داغ ہے،اس کے سبب نہ صرف عالم عرب میں بلکہ پوری دنیا میں جمہوری اقدارو کردار کے حامل ہمارے وطن کو رسوائی اٹھانی پڑرہی ہے۔ اس اہانت رسول کے معاملے کو لے کر پوری دنیا غضب ناک ہے۔

وشو شانتی پریشد کے فیض احمد فیض نے کہا کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر جس طرح کی باتیں چل رہی ہیں وہ افسوسناک ہیں۔ ہمارے علمائے کرام کو اس ضمن میں دھیان دینے کی ضرورت اور جو بات صحیح اسے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مقررین میں جماعت اسلامی سے مولانا ارشد سراج الدین مکی، آل انڈیا مشاورتی کونسل کے صدر مولانا انور علی قاسمی، عالمی اردو فاؤنڈیشن کے جناب سید باری، فریدآباد سے مولانا محمد احمد ندوی، مولانا حارث عظیم، مولانا شاہ خالد مصباحی، حافظ عبدالسمیع ہردوئی اور سماجی کارکن حمید خان نے کہا کہ اس اہانت کے سلسلہ میں جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں، حکومت ان کے خلاف سخت قدم اٹھا رہی ہے، اور امن کے نام پر بے قصور افراد کو گرفتار کر رہی ہے۔ اس قسم کی یکطرفہ کاروائی سے مجرمین کے حوصلے اور بلند ہوں گے۔ آج کے یہ کانفرنس حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ خاطیوں کو پابند سلاسل کرے، اور بے قصور افراد مظاہرے کی وجہ سے گرفتار کئے گئے ہیں، حکومت انہیں جلد باعزت رہا کرے۔ آج کے یہ کانفرنس تمام اسلامیان عالم کا ممنون ومشکور ہیں، خاص کر اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے وزیر خارجہ نے اس اہانت رسول کے معاملے کو لے کر جو جرات مندانہ اقدام کئے وہ لائق تحسین ہیں۔

(جنرل (عام

ممبئی لال باغ پریل میں عید میلاد النبی کے جلوس سے واپسی پر تشدد

Published

on

Eid Milad-un-Nabi

ممبئی لال باغ پریل میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس سے واپسی کے دوران گزشتہ نصف شب فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پولیس نے فساد برپا کرنے کا کیس درج کر کے پانچ افراد کو زیر حراست لیا ہے اس کی تصدیق ممبئی پولیس کے ذرائع نے کی ہے۔ ملزمین کے خلاف بی این ایس کی دفعات 189(1), 189(2),191(1),195(1),118(1),121, مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔

لال باغ پریل علاقہ میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب یہاں دو فرقوں میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس سے مسلم نوجوان اپنی موٹر سائیکلیوں سے لال باغ پریل کے راستہ سے گزر رہے تھے کہ اس وقت دوسرے فرقہ کے نوجوان جمع ہوگئے اور انہوں نے موٹرسائیکل کی آواز اور رش ڈرائیونگ پر اعتراض کیا اس دوران پولیس نے بھی سختی شروع کی کئی نوجوانوں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی اسی دوران دوسرے فرقہ کے نوجوانوں نے مسلم نوجوانوں کے موٹر سائیکل پر موجود مذہبی جھنڈے کی توہین کی اور دونوں جانب سے نعرے بازی شروع ہوگئی اکثریتی فرقہ کے نوجوانوں نے پہلے ہی علاقہ میں پہرہ لگا رکھا تھا اور پولیس کے سامنے ہی ان نوجوانوں نے جب مسلم نوجوانوں پر حملہ کر نے کی کوشش کی تو حالات مزید خراب ہوگئے اور یہ معاملہ تشدد کی شکل اختیار کر گیا پولیس نے حالات کو قابو کر نے کیلئے ہلکا لاٹھی چارج کیا فی الوقت یہاں کشیدگی برقرار ہے لیکن امن قائم ہے۔

لال باغ پریل تنازع کو لے کر سوشل میڈیا پر بھی طرح طرح کی افواہیں گشت کر رہی ہے اس کے ساتھ ہی نفرتی عناصر شرپسند اسے مذہبی رنگ دے کر حالات مزید خراب کر نے کی کوشش کر رہے ہیں اسی لئے اب ممبئی پولیس نے سوشل میڈیا پر نظر رکھنا شروع کردی ہے اس کے ساتھ ہی سینکڑوں ایسے نفرتی ویڈیو انسٹاگرام اور فیس بک سمیت سوشل میڈیاذرائع پر وائرل کئے گئے ہیں جن میں نفرتی عناصر نے ایک فرقہ مخصوص کو نشانہ بنایا ہے اس معاملہ میں بھوئیواڑہ پولیس نے فساد برپا کر نے کا کیس درج کرلیا ہے اور تقریبا 5 ملزمین کو زیر حراست بھی لیا ہے اس کے ساتھ ہی پولیس دوسرے فریق سے بھی بات کر رہی اور اس متعلق کراس ایف آئی آر درج کرنے کا امکان ہے۔ ممبئی شہر میں جس طرح سے حالات خراب کر نے کی کوشش کی جارہی ہے اس کے بعد پولیس نے یہاں الرٹ جاری کر دیا ہے۔

عید میلاد النبی کے جلوس کے دوران واپسی کے وقت مسلم نوجوانوں پر حملہ کے بعد پولیس نے تشدد اور فساد برپا کرنے کا کیس درج کر لیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی جانچ کر رہی ہے اس کے ساتھ ہی پولیس نے امن وامان برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے اتنا ہی نہیں الرٹ جاری کیا گیا ہے سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔ یہ فساد شرپسندوں کی شرانگیزی کے سبب وقوع پذیر ہوا اب سوشل میڈیا پر بھی اشتعال انگیزی عام ہوگئی ہے جس پر پولیس کارروائی کر سکتی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

امریکہ نے نیپال کو ہنگامی امداد، ڈیزاسٹر رسپانس ایڈوائزر بھیجا۔

Published

on

ریاستہائے متحدہ نیپال میں ڈیزاسٹر رسپانس ایڈوائزر کو تعینات کر رہا ہے اور ملک کے ضلع رسووا میں تباہ کن سیلاب سے متعدد افراد کی ہلاکت اور بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد ہنگامی امداد میں $500,000 فراہم کر رہا ہے۔ محکمہ خارجہ نے بدھ (مقامی وقت) کو امداد کا اعلان اس وقت کیا جب اقوام متحدہ نے نیپال کی حکومت کے زیر انتظام ردعمل کی حمایت کے لیے سامان اور عملے کو متحرک کیا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا، “امریکہ نیپال کے راسووا ضلع میں تباہ کن سیلاب میں جانیں گنوانے والوں کے خاندانوں اور پیاروں کے ساتھ اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔” “ہمارے خیالات اس آفت سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کے ساتھ ہیں۔” محکمہ نے کہا کہ وہ سیلاب زدہ علاقے میں حالات کی قریب سے نگرانی کر رہا ہے۔ ڈیزاسٹر ریسپانس ایڈوائزر زمین پر امدادی کارروائیوں میں معاونت کرے گا۔ $500,000 کی امداد کیتھولک ریلیف سروسز کے ساتھ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عالمی ایوارڈ کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

فنڈنگ ​​ہنگامی پناہ گاہوں اور امدادی سامان کی تقسیم میں معاونت کرے گی۔ اس سے سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کو پانی، صفائی اور حفظان صحت کی مدد فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ محکمہ نے کہا کہ کھٹمنڈو میں امریکی سفارت خانہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر متاثرہ علاقوں میں امریکی شہریوں کی تلاش اور مدد کر رہا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امریکیوں کو مقامی خبروں پر نظر رکھنے اور مقامی حکام کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے نیپال اور چین میں شدید سیلاب پر افسوس کا اظہار کیا، جہاں اس آفت سے لوگ ہلاک ہوئے، دیگر لاپتہ ہوئے اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔”سیکرٹری جنرل نیپال اور چین میں آنے والے شدید سیلاب سے غمزدہ ہیں، جس نے بہت سے لوگوں کی جانیں لے لی ہیں، لوگ لاپتہ ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے،” ان کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے نیویارک میں جاری ایک بیان میں کہا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ “وہ متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتے ہیں۔ وہ تمام متاثرہ افراد کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں”۔اقوام متحدہ نیپال کی حکومت کی مدد کر رہا ہے کیونکہ حکام آفت کے پیمانے کا اندازہ لگاتے ہیں اور فوری امداد فراہم کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ٹیمیں اور انسانی ہمدردی کے شراکت دار سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کے لیے عملے اور سامان کو متحرک کر رہے ہیں۔

امریکہ اور اقوام متحدہ کے اعلانات میں پناہ گاہ، بنیادی امدادی سامان، محفوظ پانی، صفائی اور حفظان صحت پر فوری توجہ دی گئی۔ جواب میں نقصان کی حد کا تعین کرنے اور اس بات کا تعین کرنے کے لیے جائزے بھی شامل ہیں کہ متاثرہ کمیونٹیز کو مزید کس امداد کی ضرورت ہے۔ نیپال سالانہ مون سون کے موسم کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

گجرات نے نیپال کے سیلاب سے متاثرہ شہریوں کے لیے ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں۔

Published

on

گجرات حکومت نے ریاست کے شہریوں اور ان کے خاندان کے افراد کے لیے ہیلپ لائن اور ہنگامی رابطہ نمبر جاری کیے ہیں جو نیپال میں اچانک آنے والے سیلاب سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ گجرات کے رہائشیوں اور ان کے اہل خانہ کو معلومات یا مدد کے حصول کے لیے ریاستی کنٹرول روم سے 079-232-51900 یا 9978405304 پر رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ وہ ریاستی ہیلپ لائن 1070 یا متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹر سے بھی 1077 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

یہ ایڈوائزری بدھ کے روز شمالی اور وسطی نیپال کے کچھ حصوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا اور سینکڑوں لوگ لاپتہ ہو گئے۔ سیلاب، جس نے تبت کی سرحد کے قریب راسووا ضلع میں دریائے بھوٹے کوشی کے آس پاس کے علاقوں کو متاثر کیا، گاڑیاں، پل اور دیگر انفراسٹرکچر بہہ گئے اور علاقے میں نقل و حرکت میں خلل پڑا۔ متاثر ہونے والوں میں ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔

نیپال سے ابتدائی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 160 افراد ہلاک اور 750 سے زائد لاپتہ ہیں، جن میں 133 ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں، جن میں سیاح اور اس خطے میں سفر کرنے والے زائرین بھی شامل ہیں۔ صورتحال نے ہندوستانی حکام اور کئی ریاستی حکومتوں کو متاثرہ شہریوں اور ان کے خاندانوں کی معلومات اور مدد کے لیے وقف چینلز قائم کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سیلاب۔ وہ مدد اور معلومات کے لیے +977 985 131 6807 یا +977 970 910 7500 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس بحران کے جواب میں سفارت خانہ نیپال میں حکام کے ساتھ بھی رابطہ کر رہا ہے۔

اچانک سیلاب نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کی کارروائیوں کو شروع کر دیا ہے، نیپالی حکام پھنسے ہوئے یا لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹر اور دیگر وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ اس آفت نے پہاڑی علاقے میں اہم ٹرانسپورٹ روابط اور انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کیا ہے۔ گجرات حکومت نے ضرورت مند شہریوں کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر مدد کے لیے نامزد کردہ نمبروں پر رابطہ کریں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان