Connect with us
Tuesday,17-March-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

دہلی سمیت چار ریاستوں میں کووڈ کے 81 فیصد معاملے

Published

on

Corona-virus-detla

مرکزی حکومت نے کہا کہ ملک میں کووڈ انفیکشن کے بڑھتے ہوئے معاملات میں چار ریاستوں مہاراشٹر، کیرالہ، دہلی اور کرناٹک میں 81 فیصد کیس سامنے آئے ہیں۔
صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے سکریٹری راجیش بھوشن نے جمعرات کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پرنسپل سکریٹریوں اور ہیلتھ سکریٹریوں کو لکھے ایک خط میں کہا کہ پچھلے دو ہفتوں سے ملک میں کووڈ انفیکشن کے بڑھتے ہوئے واقعات کا رجحان ہے۔مجموعی متاثرہ کیسوں میں سے 81 فیصد مہاراشٹر، کیرالہ، دہلی اور کرناٹک میں سامنے آئے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں سے کورونا وبا سے نمٹنے کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے کووڈ کے انفیکشن میں مسلسل کمی واقع ہوئی تھی، لیکن گزشتہ دو ہفتوں کے دوران انفیکشن کا رجحان سامنے آیا ہے۔
مسٹر بھوشن نے خط میں کہا کہ کووڈ انفیکشن کے تیزی سے پھیلنے والے اضلاع اور بستیوں کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔ متعلقہ ریاستی حکومتوں کو کووڈ کے معیارات پر سختی سے تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے اور کووڈ ویکسینیشن کو تیزی سے انجام دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ متاثرہ افراد کی مکمل نگرانی کی جائے اور انہیں مقامی سطح پر مکمل علاج فراہم کرانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہر مشتبہ متاثرہ کیس کی جینیاتی ترتیب کی جانی چاہیے اور مقامی سطح پر ہی انفیکشن کو روکنے کے لیے تمام انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے تمام افراد اور ملکی سطح پر مشتبہ متاثرہ افراد پر کڑی نظر رکھی جانی چاہئے۔
دریں اثنا صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے بتایا کہ آج صبح 7 بجے تک 194 کروڑ 59 لاکھ 81 ہزار 691 ویکسین دی گئی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ انفیکشن کے 7,240 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 32 ہزار 498 ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ روزانہ انفیکشن کی شرح 2.13 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 3 لاکھ 40 ہزار 615 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں گیس کا بحران! لیکن عوام کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، ایوان میں چھگن بھجبل کا دعویٰ… مٹی کے تیل کی فراہمی بھی ممکن

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں بھی ایندھن اور گیس سلنڈروں کی کالا بازار ی اور قلت کی گونج اب عام ہو گئی ہے ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے سبب ایندھن کی بحرانی کیفیات سے عوام پریشان ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں وزیر رسد وخوراک شہری چھگن بھجبل نے یہ واضح ہے کہ گیس کے بحران و فقدان سے متعلق فکر مندہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرکزی سرکار نے دعویٰ کیا ہے کہ گیس اور ایندھن کا ذخیرہ اس کے پاس دستیاب ہے اس لیے کسی کو بھی قطار لگانے یا بلیک مارکیٹنگ سے ایندھن کیا گیس خریدنے کی ضرورت نہیں ہے گیس کی کالا بازاری پر سرکار سخت ہے اور کاروائی بھی جاری ہے۔ ریاست اس وقت ایندھن کی قلت کا شکار ہے، سلنڈر کی کمی ہے۔ اس پس منظر میں بات کرتے ہوئے خوراک اور شہری رسد وزیر چھگن بھجبل نے مقننہ میں اہم معلومات دی ہیں۔ گیس کی فراہمی ایک مرکزی موضوع ہے، اور مرکز نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایل پی جی اور پی این جی کا کافی ذخیرہ ہے۔ اس لیے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس لیے متفکر ہونے کی کوئی وجہ نہیں، کہیں بھی قطاریں نہ لگائیں اور گیس کی بلیک مارکیٹنگ نہ ہو۔ ہر ضلع کلکٹر، ایس پی اور دیگر افسران کی کمیٹیاں مقرر کی ہیں۔ اس کے ذریعے اب تک 2129 چیک کیے ہیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعے اب تک ایک ہزار دو سو آٹھ گیس سلنڈر قبضے میں کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 33 لاکھ 66 ہزار 411 روپے کا سامان ضبط کیا جا چکا ہے۔ اس معاملے میں کل 23 مقدمات درج کیے ہیں اور 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔بھجبل نے کہا کہ پچھلے مہینے گیس سلنڈر کی قیمت 852.50 روپے تھی۔ اب یہ بڑھ کر 912.50 روپے ہو گیا ہے۔ کمرشل سلنڈر 1720.50 روپے سے بڑھ کر 1835 روپے ہو گئے ہیں۔ آج صبح میں نے بڑی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، ڈی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل، آئی او سی ایل کے نمائندوں سے بات کی، جن میں سے کچھ بڑی کمپنیاں ہیں۔ انہوں بتایا کہ ایل پی جی کی یومیہ پیداوار 9 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر 11 ہزار میٹرک ٹن کر دی گئی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ تو ان کو دور کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ کمپنیوں کو مرکزی حکومت کے احکامات ہیں، اور بعض اداروں کو گیس کی فراہمی کے لیے ترجیح دی گئی ہے، جس میں اسپتالوں کو سو فیصد ترجیح دی گئی ہے۔ اس میں تعلیمی اداروں ،عوامی خدمات کوبھی صد فیصدی ترجیحات دی گئی ہے۔ بھجبل نے کہا ہے کہ ریلوے، ہوا بازی اور دفاعی شعبوں سے متعلق گفٹ شاپس کو 70 فیصد ترجیح دی گئی ہے، اور اگر اس میں سے گیس باقی رہ جاتی ہے تو 50 فیصد گیس فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو اور 50 فیصد سیڈ پروسیسنگ کو فراہم کی جائے گی۔
دریں اثنا، ریاست اس وقت گیس کی قلت کا سامنا کر رہی ہے اس کے ازالہ کا بھی راستہ اب سرکار نے طے کر لیا ہے ۔ گیس سلنڈر اور ایندھن کے نعم البدل کے طور پر بھجبل نے کہا کہ ایک راستہ مٹی کا تیل ہے۔ ہمارے پاس مٹی کے تیل کا ذخیرہ دستیاب ہے ۔ کچھ سال پہلے ناگپور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اگر آپ کے پاس اجولا گیس اسکیم ہے تو آپ کو مٹی کے تیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس لیے مٹی کا تیل ہونے کے باوجود ہم اسے فراہم نہیں کر رہے تھے۔ لیکن اب ہم نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ موجودہ صورتحال مشکل ہے، اس لیے عوام کواستعمال کے لیے مٹی کا تیل فراہم کرنا ضروری ہے یہ مٹی کا تیل اب مٹی کے تیل کے ڈیلرز کو تقسیم کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ ہمآئی او سی ایل، بی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل کمپنیوں کے پمپوں پر مٹی کا تیل بھی فراہم کریں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Published

on

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

Published

on

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان