Connect with us
Tuesday,21-April-2026

سیاست

کانپور تشدد : کلیدی ملزم سمیت 24 گرفتار، حالات پر امن

Published

on

Kanpur-Police

اترپردیش کے ضلع کانپور کے بیکن گنج تھانے کے نئی سڑک علاقے میں گذشتہ کل دو گروپوں میں پیش آئے پر تشدد واقعہ کے سلسلے میں پولیس نے ابھی تک کلیدی ملزم حیات ظفر ہاشمی سمیت 24 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اس ضمن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانپور کے پولیس کمشنر وجئے سنگھ مینا نے بتایا، جمعہ کو 18 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ 6 مزید افراد کو آج گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ابھی تک شناخت کئے گئے 36 ملزمین میں سے پولیس نے 24 کو گرفتار کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں کچھ سازش رچنے والوں کے نام سامنے آئے ہیں، ان کی شناخت حیات ظفر ہاشمی جو کہ ایم ایم جوہر فینس ایسوسی ایشن کا قومی صدر ہے۔ ایم ایم کے ہی ریاستی صدر جاوید احمد خان، ممبر محمد راہی اور محمد سفیان کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ ذرائع سے پتہ چلا تھا کہ انہوں نے شہر چھوڑ دیا ہے، اور جاوید احمد لکھنؤ میں یوٹیوب چینل چلاتا ہے۔ اطلاع کے مطابق لکھنؤ میں انہیں ٹریک کیا گیا، اور کرائم برانچ کی ٹیم نے انہیں ہفتہ کو حضرت گنج علاقے سے گرفتار کرلیا۔

انہوں نے کہا کہ 6 موبائل اور کچھ دستاویزات برآمد کئے گئے ہیں، جنہیں فورنسک ٹیسٹ کے لئے بھیجا جائے گا۔ ان کے بینک اکاونٹ چیک کئے جائیں گے، اور اس نکتے کی جانچ کی جائے گی آیا ان کا کسی دوسری تنظیم بشمول پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے تو نہیں ہے۔ انہیں آج عدالت میں پیش کر کے عدالت سے ان کی 14 دنوں کو پولیس تحویل طلب کی جائے گی۔

مینا نے کہا کہ ابھی تک گرفتار ملزمین نے پانچ۔چھ افراد کے نام بتائے ہیں لیکن ان ارادوں اور سازشوں کو جاننے کے لئے تفصیلی تحقیق کی جائے گی۔ عدالت سے ان کی 14 دنوں کی پولیس حراست طلب کی جائے گی تاکہ پورے نیٹ ورک کا انکشاف کیا جاسکے۔ تاکہ جو افراد بھی اس سازش کے پیچھے ہیں ان کی شناخت کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ خاطیوں کے خلاف گینگسٹر ایکٹ، نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی، اور یہ پیغام دینے کے لئے کہ ایسی حرکتیں قطعی برداشت نہیں کی جائیں گی شرپسند عناصر اور سازش رچنے والوں کی ملکیت کو قرق و منہدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا پی ایف آئی نے منی پور اور مغربی بنگال میں 3/6/2022 کو اس تعلق سے بند کا اعلان کیا تھا، اور ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ان کا اس سے کچھ تعلق ہے۔ یہ تفتیش کا موضوع ہے اور جلد ہی اسے مکمل کرلیا جائے گا۔

پولیس کمشنر نے کہا کہ متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ کچھ ٹیم تشدد میں شامل افراد کی شناخت پر کام کر رہی ہیں، تو کچھ ملزمین کی گرفتار کے لئے کوشاں ہیں۔ سازش کے اینگل کو انکار نہیں کیا جاسکتا۔ واقعہ کے سلسلے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ کچھ افراد نے شہر کا ماحول خراب کرنے کی سازش رچی تھی۔

وہیں دوسری جانب متاثرہ علاقے میں آج حالات پرامن ہیں۔ ضلع انتظامیہ کی ہدایت پر بازار مکمل طور سے بند رہے۔ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے نپٹنے کے لئے کثیر تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ جمعہ کی دیر رات حالات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے سر پشند عناصر سے پوری سختی کے ساتھ نپٹنے کی ہدایت دی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ پیغمبر محمدؐ کے خلاف بی جے پی ترجمان نپور شرما کے ذریعہ کئے گئے قابل اعتراض تبصرے کے خلاف ضلع کانپور کے بیکن گنج تھانہ علاقے میں جمعہ کو اعلان کیا گیا بندو مظاہرہ دو گروپوں کے درمیان کشیدگی کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ اس پرتشدد جھڑپ میں متعدد افراد کے زخمی ہوئے تھے۔

اس تعلق سے جمعہ کی شام اپنے بیان میں اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (نظم نسق) پرشانت کمار نے بتایا تھا کہ متاثرہ علاقے میں اضافہ پولیس تعینات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سازش رچنے والوں اور شرپسند عناصر کے خلاف گینگسٹر کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ ان کی املاک قرق یا منہدم کی جائیں گی۔

پولیس اطلاع کے مطابق بی جے پی ترجمان نپور شرما کے ذریعہ پیغمبر محمد ؐ کے خلاف کئے گئے قابل اعتراض تبصرے کے سلسلے میں ایک گروپ مشتعل تھا اور اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے جمعہ کی نماز کے بعد نئی سڑک پر جمع ہوا تھا۔ مظاہرین بی جے پی ترجمان کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ شرپسند عناصر نے پتھر بازی شروع کردی، جس کے بعد ماحول بگڑ گیا۔ مظاہرہ دو گروپوں کے مابین پرتشدد جھڑپ کی شکل اختیار کر گیا۔ حالات اس قدر بے قابو ہو گئے کہ شرپسند عناصر کی جانب سے پتھراؤ کے ساتھ فائرنگ و بمباری کی بھی اطلاعات ہیں۔

اے ڈی جی پرشانت کمار کے مطابق کانپو رکے بیکن گنج تھانے کے نئی سڑک علاقے میں کچھ افراد نے بازار کی دوکانیں بند کرانے کی کوشش کی، جس کی دوسرے گروپ کے ذریعہ مخالفت کی گئی۔ اس کی وجہ سے دونوں گروپوں میں تشدد پھوٹ پڑا، اور پتھر بازی شروع ہوگئی۔ اس ضمن میں اطلاع ملنے کے بعد پولیس کمشنر کے ساتھ اعلی افسران موقع پر پہنچے، اور ضروری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حالات کو کنٹرول کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کو حکومت نے کافی سنجیدگی سے لیا ہے، اور اس کے لئے اضافی پولیس فورس بشمول 12 کمپنی پی اے سی کو وہاں روانہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ افسران بھیجے جا رہے ہیں۔ وہاں جن جن بھی افراد نے پتھراؤ کیا ہے، ان کی پہچان کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو وافر مقدار میں ویڈیو فوٹیج موصول ہوئے ہیں، جن کی بنیاد پر آگے کی کاروائی کی جائے گی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : دوٹانکی مولانا شوکت علی مارگ پر فرنیچر فروشوں کے خلاف ‘ای’ وار ڈ کی بے دخلی کی کارروائی

Published

on

2-Tank-Road

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘ای’ وار ڈ ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں ‘ای’ ڈیپارٹمنٹ کے تحت مولانا شوکت علی مارگ پر پرانے فرنیچر فروشوں اور دیگر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر (زون 1) چندا جادھو کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنرآنند کنکل کی قیادت میں کی گئی۔ ای ڈپارٹمنٹ میں مولانا شوکت علی مارگ پر تجاوزات بالخصوص مرلی دیورا آئی اسپتال سے جے جے اسپتال سگنل تک کے علاقے میں راہگیروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا تھا راہگیروں کو فٹ پاتھ کے بجائے سڑک پر گزرنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا جس کی وجہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔ اس صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کے ‘ای’ ڈویژن کی کنزرویشن اینڈ انکروچمنٹ ایلیمینیشن ٹیموں نے ممبئی پولیس کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایک مہم شروع کی۔ اس بے دخلی کی کارروائی کے دوران فرنیچر فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور سخت کارروائی کی گئی۔ فٹ پاتھوں پر پڑے پرانے فرنیچر کو جے سی بی کی مدد سے موقع پر ہی تباہ کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ٹوٹے ہوئے فرنیچر کے فضلے کو بھی فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔ فٹ پاتھ پر تمام تجاوزات ہٹا دی گئیں۔ علاوہ ازیں علاقے میں غیر مجاز ہاکروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ جس کے باعث سڑک کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

اس مہم میں 1 جے سی بی، 4 مزدور، 3 افسران اور 2 انجینئروں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ناگ پاڑہ پولیس اسٹیشن کے 9 اہلکاروں کو سیکورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ دریں اثنا، ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ‘ای’ ڈویژن اس موقع پر ایک بار پھر واضح کر رہا ہے کہ غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز ہاکروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی جاری رہے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محافظ کو نشانہ نہ بنائیں… سمیر وانکھیڈے کے کیس میں بامبے ہائیکورٹ کا اہم تبصرہ

Published

on

ممبئی: این سی بی کے زونل ڈایکٹرسمیر وانکھیڈے رشوت ستانی کیس میں بامبے ہائیکورٹ نے سماعت کرتے ہوئے کئی اہم تبصرے کئے ہیں اور ایجنسی سے سوال کئے ہیں جس میں پہلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ ملزم کے بیان پر انکوائری کرسکتے ہیں ؟ این سی بی نے اس سے قبل سمیر وانکھیڈے کی انکوائری سے متعلق بند لفالفے میں ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وانکھیڈے پر انکوائری نواب ملک یا کسی سیاسی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ انکوائری نامعلوم شکایت اور خط پر کی جارہی ہے اس کے ساتھ ہی شکایت کنندہ کرن سجنانی بھی سمیر وانکھیڈے کے طریقہ کار پر انکوائری کا مطالبہ کیا تھا جبکہ سمیر وانکھیڈے نے ہی کرن سجنانی کو ڈرگس کیس گرفتار کیا تھا اور اس کے ساتھ اس کے شریک کار سمیر خان کو بھی گرفتار کیا تھا سمیر خان نواب ملک کا داماد ہے سمیر خان کاایک کار حادثہ میں انتقال ہو چکا ہے۔ عدالت سمیر وانکھیڈے سے متعلق تبصرہ کیا گیا ہے کہ سماج میں بہتر کام کرنے والے افسر و محافظ کو نشانہ بنایا جائے یہ تبصرہ عدالت نے سمیر وانکھیڈے پر ملزم کی جانب سے شکایت پر انکوائری پر کیا ہے اس کے ساتھ ہی جس ملزم کی شکایت پر انکوائری کی جارہی ہے اس پر ڈرگس فروشی کا الزام ہے اس کےخلاف الزام ہے کہ وہ اور اس کا پارٹنر ممبئی میں واڈہ پاؤ کی طرح ڈرگس منشیات فروشی کا منصوبہ تیار کر چکے تھے سمیر وانکھیڈے نے ڈرگس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کورڈیلیا کروز کیس میں آرین خان کو گرفتار کیا تھا اس سے ۲۵ کروڑ روپے رشوت طلبی کا بھی ان پر الزام ہے اس میں سی بی آئی نے کیس درج کیا ہے اسی معاملے میں ایک پرائیوٹ عرضی گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ رشوت دینا اور لینا دونوں جرم کے زمرے میں آتا ہے اگر وانکھیڈے نے رشوت وصول کی ہے تو پھر شاہ رخ خان کو بھی اس معاملہ میں ملزم بنایا جائے کیونکہ رشوت دینا بھی جرم ہے اس معاملہ میں ہائیکورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے وانکھیڈے کو راحت پہنچائی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ڈھونگی بابا اشوک کھرات کا اب تھانہ کنکشن, میونسپل افسر پر عصمت دری کا کیس درج

Published

on

ممبئی : ناسک کے ڈھونگی بابا اشوک کھرات کا اب تھانہ کنکشن سامنے آیا ہے۔ تھانہ میونسپل کارپوریشن میں اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر مہیش بھاؤ راؤ اہیرکی خلاف پولیس نے عصمت دری کا کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ میونسپل کارپوریشن پانچ پکھڑی دفتر میں متاثرہ 2020 سے 2023ء کے دوران ملازمت پر تھی۔ اسی دوران اسسٹنٹ ڈیٹا آپریٹر کے ساتھ ملزم نے دوستی کی اور اس کے ساتھ تھانہ میں واقع ایک بلڈنگ میں کرایہ کے مکان میں جنسی تعلقات قائم کئے اور اس کے مرضی کے برخلاف متعدد مرتبہ جنسی استحصال کیا اور شکایت کرنے پر اس کیل ہریاں تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دی۔ پہلی مرتبہ متاثرہ کو ہیرا نندانی بلڈنگ میں لے جاکر اس کو نشہ آور مشروب پلایا اور اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیا۔ اس کے بعد متعدد مرتبہ اس نے عیاشی کی شکایت کنندہ کی شکایت پر کاسر واڑی پولیس تھانہ میں پولیس نے عصمت دری سمیت دیگر دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ متاثرہ کو اہیر نے یہ کہا تھا کہ اس کے مستقبل اور تقدیر کا حال جاننے کیلئے اشوک کھڑات کے پاس بھی لے گیا تھا اور وہاں دفتر میں اسے لیمو شربت دیا تھا اور اس کے بعد اس پر غشی طاری ہوئی, اس معاملہ میں پولیس نے کیس درج کر کے اس کی تفتیش شروع کردی ہے, جبکہ اشوک کھرات کے معاملہ میں ایس آئی ٹی جانچ کر رہی ہے۔ تھانہ عصمت دری کنکشن کا اشوک کھرات تعلق سامنے آنے کے بعد اس نہج پر بھی پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ تھانہ پولیس نے اس معاملے میں مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اس معاملے میں پولس کی تفتیش میں مزید پیش رفت ہونے کا امکان روشن ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان