Connect with us
Wednesday,22-April-2026

سیاست

کانپور تشدد : کلیدی ملزم سمیت 24 گرفتار، حالات پر امن

Published

on

Kanpur-Police

اترپردیش کے ضلع کانپور کے بیکن گنج تھانے کے نئی سڑک علاقے میں گذشتہ کل دو گروپوں میں پیش آئے پر تشدد واقعہ کے سلسلے میں پولیس نے ابھی تک کلیدی ملزم حیات ظفر ہاشمی سمیت 24 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اس ضمن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانپور کے پولیس کمشنر وجئے سنگھ مینا نے بتایا، جمعہ کو 18 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ 6 مزید افراد کو آج گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ابھی تک شناخت کئے گئے 36 ملزمین میں سے پولیس نے 24 کو گرفتار کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں کچھ سازش رچنے والوں کے نام سامنے آئے ہیں، ان کی شناخت حیات ظفر ہاشمی جو کہ ایم ایم جوہر فینس ایسوسی ایشن کا قومی صدر ہے۔ ایم ایم کے ہی ریاستی صدر جاوید احمد خان، ممبر محمد راہی اور محمد سفیان کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ ذرائع سے پتہ چلا تھا کہ انہوں نے شہر چھوڑ دیا ہے، اور جاوید احمد لکھنؤ میں یوٹیوب چینل چلاتا ہے۔ اطلاع کے مطابق لکھنؤ میں انہیں ٹریک کیا گیا، اور کرائم برانچ کی ٹیم نے انہیں ہفتہ کو حضرت گنج علاقے سے گرفتار کرلیا۔

انہوں نے کہا کہ 6 موبائل اور کچھ دستاویزات برآمد کئے گئے ہیں، جنہیں فورنسک ٹیسٹ کے لئے بھیجا جائے گا۔ ان کے بینک اکاونٹ چیک کئے جائیں گے، اور اس نکتے کی جانچ کی جائے گی آیا ان کا کسی دوسری تنظیم بشمول پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے تو نہیں ہے۔ انہیں آج عدالت میں پیش کر کے عدالت سے ان کی 14 دنوں کو پولیس تحویل طلب کی جائے گی۔

مینا نے کہا کہ ابھی تک گرفتار ملزمین نے پانچ۔چھ افراد کے نام بتائے ہیں لیکن ان ارادوں اور سازشوں کو جاننے کے لئے تفصیلی تحقیق کی جائے گی۔ عدالت سے ان کی 14 دنوں کی پولیس حراست طلب کی جائے گی تاکہ پورے نیٹ ورک کا انکشاف کیا جاسکے۔ تاکہ جو افراد بھی اس سازش کے پیچھے ہیں ان کی شناخت کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ خاطیوں کے خلاف گینگسٹر ایکٹ، نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی، اور یہ پیغام دینے کے لئے کہ ایسی حرکتیں قطعی برداشت نہیں کی جائیں گی شرپسند عناصر اور سازش رچنے والوں کی ملکیت کو قرق و منہدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا پی ایف آئی نے منی پور اور مغربی بنگال میں 3/6/2022 کو اس تعلق سے بند کا اعلان کیا تھا، اور ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ان کا اس سے کچھ تعلق ہے۔ یہ تفتیش کا موضوع ہے اور جلد ہی اسے مکمل کرلیا جائے گا۔

پولیس کمشنر نے کہا کہ متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ کچھ ٹیم تشدد میں شامل افراد کی شناخت پر کام کر رہی ہیں، تو کچھ ملزمین کی گرفتار کے لئے کوشاں ہیں۔ سازش کے اینگل کو انکار نہیں کیا جاسکتا۔ واقعہ کے سلسلے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ کچھ افراد نے شہر کا ماحول خراب کرنے کی سازش رچی تھی۔

وہیں دوسری جانب متاثرہ علاقے میں آج حالات پرامن ہیں۔ ضلع انتظامیہ کی ہدایت پر بازار مکمل طور سے بند رہے۔ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے نپٹنے کے لئے کثیر تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ جمعہ کی دیر رات حالات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے سر پشند عناصر سے پوری سختی کے ساتھ نپٹنے کی ہدایت دی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ پیغمبر محمدؐ کے خلاف بی جے پی ترجمان نپور شرما کے ذریعہ کئے گئے قابل اعتراض تبصرے کے خلاف ضلع کانپور کے بیکن گنج تھانہ علاقے میں جمعہ کو اعلان کیا گیا بندو مظاہرہ دو گروپوں کے درمیان کشیدگی کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ اس پرتشدد جھڑپ میں متعدد افراد کے زخمی ہوئے تھے۔

اس تعلق سے جمعہ کی شام اپنے بیان میں اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (نظم نسق) پرشانت کمار نے بتایا تھا کہ متاثرہ علاقے میں اضافہ پولیس تعینات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سازش رچنے والوں اور شرپسند عناصر کے خلاف گینگسٹر کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ ان کی املاک قرق یا منہدم کی جائیں گی۔

پولیس اطلاع کے مطابق بی جے پی ترجمان نپور شرما کے ذریعہ پیغمبر محمد ؐ کے خلاف کئے گئے قابل اعتراض تبصرے کے سلسلے میں ایک گروپ مشتعل تھا اور اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے جمعہ کی نماز کے بعد نئی سڑک پر جمع ہوا تھا۔ مظاہرین بی جے پی ترجمان کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ شرپسند عناصر نے پتھر بازی شروع کردی، جس کے بعد ماحول بگڑ گیا۔ مظاہرہ دو گروپوں کے مابین پرتشدد جھڑپ کی شکل اختیار کر گیا۔ حالات اس قدر بے قابو ہو گئے کہ شرپسند عناصر کی جانب سے پتھراؤ کے ساتھ فائرنگ و بمباری کی بھی اطلاعات ہیں۔

اے ڈی جی پرشانت کمار کے مطابق کانپو رکے بیکن گنج تھانے کے نئی سڑک علاقے میں کچھ افراد نے بازار کی دوکانیں بند کرانے کی کوشش کی، جس کی دوسرے گروپ کے ذریعہ مخالفت کی گئی۔ اس کی وجہ سے دونوں گروپوں میں تشدد پھوٹ پڑا، اور پتھر بازی شروع ہوگئی۔ اس ضمن میں اطلاع ملنے کے بعد پولیس کمشنر کے ساتھ اعلی افسران موقع پر پہنچے، اور ضروری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حالات کو کنٹرول کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کو حکومت نے کافی سنجیدگی سے لیا ہے، اور اس کے لئے اضافی پولیس فورس بشمول 12 کمپنی پی اے سی کو وہاں روانہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ افسران بھیجے جا رہے ہیں۔ وہاں جن جن بھی افراد نے پتھراؤ کیا ہے، ان کی پہچان کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو وافر مقدار میں ویڈیو فوٹیج موصول ہوئے ہیں، جن کی بنیاد پر آگے کی کاروائی کی جائے گی۔

مہاراشٹر

2006 مالیگاؤں بلاسٹ کیس : بامبے ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا، چار ملزمان کو کیا بری

Published

on

ممبئی: ہائی کورٹ نے 2006 کے مالیگاؤں دھماکوں کے معاملے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے بدھ کے روز مالیگاؤں دھماکوں کے چار ملزمین کو بری کر دیا، جس میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ چیف جسٹس چندر شیکھر اور جسٹس شیام چانڈک کی ڈویژن بنچ نے خصوصی عدالت کے ستمبر 2025 کے حکم کے خلاف ملزمان کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔ اپیلوں میں ٹرائل کورٹ کے الزامات طے کرنے کے طریقے اور کیس میں کئی شریک ملزمان کو بری کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ فی الحال، چار ملزمین جن کے خلاف ہائی کورٹ نے فیصلہ کرنے کے احکامات کو ایک طرف رکھا ہے، راجندر چودھری، دھن سنگھ، منوہر رام سنگھ ناروریا، اور لوکیش شرما ہیں۔ آج کا فیصلہ ان ملزمان کے خلاف مقدمہ بند کر کے ٹرائل کو ختم کرتا ہے۔ بنچ نے پہلے اپیل دائر کرنے میں 49 دن کی تاخیر سے معذرت کی تھی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ چیلنج نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ (این آئی اے ایکٹ) کی دفعہ 21 کے تحت ایک قانونی اپیل ہے۔ مالیگاؤں کیس 8 ستمبر 2006 کا ہے، جب شہر میں سلسلہ وار دھماکوں کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات ہند، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر تحقیقات مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کی تھی، جس نے 12 ملزمان کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر 2006 میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ پھر فروری 2007 میں تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو سونپ دی گئی تھی، اور بعد میں این آئی اے نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ مزید تفتیش کے بعد این آئی اے نے ان چاروں کو دیگر ملزمان کے ساتھ ملزم نامزد کیا اور نئی چارج شیٹ داخل کی۔

Continue Reading

بزنس

ملے جلے عالمی اشاروں کے درمیان ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ سرخ رنگ میں کھلی، آئی ٹی سیکٹر میں فروخت

Published

on

ممبئی: ملے جلے عالمی اشارے کے درمیان، ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ بدھ کو کمزور نوٹ پر کھلا۔ سینسیکس 253.99 پوائنٹس یا 0.32 فیصد گر کر 79,019.34 پر کھلا اور نفٹی 105.75 پوائنٹس یا 0.43 فیصد گر کر 24,470.85 پر کھلا۔ ابتدائی تجارت میں آئی ٹی سیکٹر کو سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ انڈیکس میں، نفٹی آئی ٹی سب سے زیادہ خسارے میں رہا۔ نفٹی سروسز، نفٹی پرائیویٹ بینک، نفٹی ہیلتھ کیئر، نفٹی فارما، نفٹی فنانشل سروسز، نفٹی انفرا، اور نفٹی پی ایس ای بھی سرخ رنگ میں تھے۔ دوسری طرف، نفٹی ایف ایم سی جی، نفٹی انڈیا ڈیفنس، نفٹی میڈیا، نفٹی میٹل، نفٹی پی ایس یو بینک، اور نفٹی ریئلٹی سبز رنگ میں تھے۔ ایچ یو ایل، این ٹی پی سی، ٹرینٹ، بجاج فائنانس، ایٹرنل، کوٹک مہندرا بینک، الٹرا ٹیک سیمنٹ، بجاج فنسر، اور ایس بی آئی سینسیکس پیک میں فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھے۔ ایچ سی ایل ٹیک، ٹیک مہندرا، انفوسس، ٹی سی ایس، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایشین پینٹس، پاور گرڈ، بی ای ایل، انڈیگو، ایم اینڈ ایم، سن فارما، ایل اینڈ ٹی، ٹائٹن، ایکسس بینک، بھارتی ایئرٹیل خسارے میں تھے۔ مڈ کیپ اور سمال کیپ مارکیٹوں میں ملا جلا کاروبار ہوا۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 91 پوائنٹس یا 0.15 فیصد گر کر 59,995 پر تھا، اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 38 پوائنٹس یا 0.21 فیصد بڑھ کر 17,679 پر تھا۔ ایشیائی بازاروں میں ملا جلا کاروبار ہوا۔ ٹوکیو، شنگھائی اور بنکاک سبز جبکہ ہانگ کانگ اور سیول سرخ رنگ میں تھے۔ منگل کو امریکی اسٹاک مارکیٹس سرخ رنگ میں بند ہوئیں۔ چوائس بروکنگ کے تکنیکی تجزیہ کار آکاش شاہ نے کہا کہ نفٹی 24,550-24,650 کے مزاحمتی زون کے ارد گرد ٹریڈ کر رہا ہے۔ لہذا، اس سطح پر استحکام اور منافع بکنگ کا امکان ہے۔ سپورٹ 24,300–24,200 کے قریب واقع ہے۔ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار (ایف آئی آئیز) منگل کو ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں خالص فروخت کنندگان تھے، جنہوں نے ₹ 1,918.99 کروڑ کے حصص فروخت کیے تھے۔ گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کار (ڈی آئی آئیز) خالص خریدار تھے، جنہوں نے ₹ 2,221.27 کروڑ کے حصص فروخت کیے۔

Continue Reading

بزنس

امریکہ ایران جنگ بندی میں توسیع کے درمیان سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

Published

on

ممبئی: امریکہ-ایران جنگ بندی میں اضافے کے درمیان بدھ کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، دونوں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر صبح 10:30 بجے، سونے کا 5 جون 2026 کا معاہدہ 1.01 فیصد یا 1,535 روپے کے اضافے سے 1,53,206 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ سونا اب تک 1,53,052 روپے کی کم ترین اور 1,53,699 روپے کی بلند ترین سطح کو چھو چکا ہے۔ چاندی کا 5 مئی 2026 کا معاہدہ 1.74 فیصد یا 4,247 روپے کے اضافے سے 2,48,948 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ چاندی اب تک 2,48,717 روپے کی کم ترین اور 2,49,423 روپے کی بلند ترین سطح کو چھو چکی ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ تحریر کے وقت، کامیکس پر سونا 1.13 فیصد بڑھ کر 4,773.21 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا، اور چاندی 1.97 فیصد اضافے کے ساتھ 77.99 ڈالر فی اونس پر تھی۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہے۔ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ ​​بندی کی مدت میں توسیع کردی ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کتنے دنوں تک چلے گا یا کتنے دن چلے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس وقت ایران کی قیادت اور حکومت میں اتحاد کا فقدان ہے۔ اس کے جواب میں، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر نے ان پر زور دیا کہ وہ ایران پر حملے تھوڑی دیر کے لیے روک دیں، جس سے امن مذاکرات کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ اس سے عالمی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے سونے اور چاندی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان