Connect with us
Thursday,06-August-2026

بین الاقوامی خبریں

حج 2022 : سعودی حکومت کا بڑا فیصلہ، 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو حج کی اجازت نہیں : عازمین حج میں مایوسی کی لہر

Published

on

Hajj-&-Umrah

مالیگاؤں : سعودی حکومت کی جانب سے حج 2022 کے لئے 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو فریضۂ حج کی ادائیگی کی اجازت نہ دیئے جانے کے فیصلے سے ایک طرف جہاں بزرگ عازمین میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہیں سعودی حکومت کے اس فیصلے کے بعد حج کمیٹی آف انڈیا نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے، اور تمام درخواست گزار جن کی عمر 30 اپریل 2022 کو 65 سال ہورہی ہے انہیں نااہل قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ امسال حج پر نہیں جاسکتے، اتنا ہی نہیں اگر ان کے ساتھ ان کے محرم بھی درخواست گزار تھے تو ان کی درخواستیں بھی نااہل قرار دی گئی ہیں۔ اس معاملے میں حج کمیٹی آف انڈیا کا رویہ بھی افسوسناک ہے، کیونکہ جس وقت 2022 کا اعلان کیا گیا تھا۔ کورونا کے تناظر میں اس بات کا امکان تھا کہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو حج کی اجازت نہیں مل سکتی۔ اور عازمین اپنے اپنے طور پر حج درخواست دہی کا آغاز کرتے وقت اس بات کو مدنظر رکھے ہوئے تھے۔ لیکن بعد ازاں جج کمیٹی آف انڈیا اور مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور کی جانب سے 70 سال سے زائد عمر کے عازمین کی درخواستیں بھی قبول کرنے اور انہیں ریزرو کیٹیگری کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں 70 سال سے زائد عمر کے عازمین نے بھی درخواستیں دی ہیں۔ اتنا ہی نہیں عریضۂ فارم بھرتے وقت فی عازم 300 روپے فیس بھی ادا کی گئی، جو ناقابل واپسی ہے۔ اب 65 سال سے زائد عمر کے عازمین کو حج کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ تو عازمین میں خاص طور پر 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں اضطرابی کیفیت ہے۔ اب وہ کسے مورد الزام ٹہرائیں، ان کی حج درخواست فارم کی 300 روپئے فیس بھی ملنے سے رہی، اور ان کا مقدس سرزمین جانے کا خواب بھی ادھورا ہی رہ گیا۔ اتنا ہی نہیں سعودی حکومت کی جانب سے حج 2022ء کے لئے امسال کس ملک کے لئے کتنا کوٹہ رہے گا، ابھی وہ بھی تعین نہیں کیا گیا ہے۔ وہیں حج کمیٹی آف انڈیا نے ایک بار پھر 65 سال سے زائد عمر کے عازمین کو سفر حج کی اجازت نہ دینے کے بعد 9 اپریل سے 22 اپریل تک پھر سے حج درخواستیں قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہیں حج 2022ء کا اعلان ہونے پر دو چار ماہ قبل بھی حج درخواستیں قبول کی گئیں، ایسے میں ضرورت اس بات کی تھی کہ دوچار ماہ قبل جو حج درخواستیں قبول کی گئی تھیں، انہیں پہلے موقع دیا جاتا۔ کیونکہ امسال حچ کوٹہ کم ہو جائے گا۔ تقریبا دس لاکھ افراد ہی دنیا بھر سے مقدس سر زمین پہنچیں گے۔ بھارت سے کتنے عازمین حج کریں گے؟ ابھی یہ طے نہیں ہے اور 65 سال سے زائد عمر کے عازمین کو حج کی اجازت نہ ملنے پر حج کمیٹی نے نیا عریضہ فارم قبول کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ جس سے مزید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں سے ضعیف افراد حج کی سعادت سے محروم تھے۔ اور رواں سال جب حج 2022 کا اعلان ہوا تو ایسے عازمین جن کی عمر 65 سال سے زائد تھی، انہوں نے بھی حج درخواست دی، لیکن اب سعودی حکومت کے فیصلے سے ان درخواست گزاروں میں مایوسی کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔ عام طور پر ریزرو کٹیگری کے تناظر میں 65 اور 70 سال سے زائد عمر کی درخواستیں اچھی تعداد میں موصول ہوتی ہیں۔ اس لئے موجودہ صورت حال میں فیصلہ لیا گیا تھا کہ مسلسل تین سال سے قرعہ اندازی میں جن بزرگ درخواست گزاروں کا نام نہیں آیا ہے۔ انہیں اس مرتبہ موقع دیا جائے گا، لیکن اب 65 سال سے زائد عمر کے عازمین کو حج کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں بزرگ عازمین میں مایوسی پیدا ہونا فطری بات ہے۔ سینٹرل حج کمیٹی کے ذرائع کے مطابق سعودی حکومت نے ہندوستان کے کوٹے میں بھی تخفیف کی ہے، گرچہ ابھی اس کے اعداد وشمار ظاہر نہیں کئے گئے ہیں. واضح رہے کہ ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد حج کی سعادت سے فیض یاب ہوتے ہیں، لیکن لاک ڈاؤن میں حج نہیں ہوا، اب % 50 تک ہی کوٹہ مل سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں

ہرمز نہ کھولا گیا تو ایران کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا : صدر ٹرمپ

Published

on

D.-Trump

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو جلد نہ کھولا گیا تو ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہماری بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم تہران نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔ اوول آفس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو ایک آخری موقع دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا، “وہ جلد ہی کوئی فیصلہ لیں گے، چاہے کیسے بھی ہو۔ یہ کوئی زیادہ پیچیدہ معاملہ نہیں ہے۔ ہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات کر رہے ہیں۔”

لیکن ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ تہران میں پریس بریفنگ کے دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عراق کے دورے پر ہیں۔ باقی تمام مذاکرات کار ایران میں ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جوابی حملہ کیا۔ انھوں نے لکھا، “ایرانی قیادت انتہائی دوغلی ہے، پہلے وہ ملاقات کی بھیک مانگتے ہیں اور پھر کھل کر کہتے ہیں کہ کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔”

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے پار واقع عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، یہ ایک عارضی انتظام ہے جس کا مقصد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں میری ٹائم سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ مسقط تہران مذاکرات میں کوئی تیسرا ملک شامل نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران حملے کی اطلاعات سے گھبرا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا اور شدید ترین حملہ ہوگا۔ “ہم آبنائے ہرمز کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔”

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

حوثی گروپ بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں پر حملے تیز کرے گا، آئل ٹینکر پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

Published

on

Red-Sea

صنعاء : شمالی بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یمن کے حوثی گروپ نے کہا کہ وہ سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف اپنی مہم تیز کرے گا۔ حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساریہ نے کہا کہ “وفا” نامی آئل ٹینکر کو سعودی بحیرہ احمر کے ایک بڑے بندرگاہی شہر ینبو کے ساحل پر بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

ساریا نے کہا کہ حملہ درست تھا، لیکن اس نے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جسے انہوں نے “ایک ناکہ بندی کے جواب میں ناکہ بندی” قرار دیا۔ ساریہ کے مطابق، حوثی فورسز نے مہم کے آغاز سے اب تک آٹھ سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے، جب کہ 29 دیگر کو اپنے راستوں کا رخ موڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ جولائی میں، حوثی گروپ نے سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں پر بحری پابندی کا اعلان کیا، اور دعویٰ کیا کہ یہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی سعودی ناکہ بندی کے جواب میں ہے۔ ان نئی کشیدگیوں نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے جو دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔

دریں اثنا، یمن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور نے بدھ کو بحیرہ احمر میں ہندوستانی تجارتی مال بردار جہاز ایم ایس وی فیض نور اولیا پر حملے کی شدید مذمت کی۔ وزارت نے اسے “دہشت گردانہ حملہ” اور “بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی سمندری قانون کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔ ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں، وزارت نے ہندوستان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ہندوستانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اس نے جہاز کے عملے کو تمام ضروری مدد اور مدد فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

یمنی وزارت خارجہ نے کہا، “جمہوریہ یمن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور بحیرہ احمر میں ہندوستانی تجارتی مال بردار بحری جہاز ایم ایس وی فیض نور اولیا پر حوثی دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملہ دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتی کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا جب کہ یہ کشتی بحیرہ احمر میں حملہ کر رہی تھی۔ یہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی سمندری قانون کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں سمندری ٹریفک، محفوظ نیویگیشن اور تجارت کی آزادی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔” یہ بیان منگل کی شام ہندوستان کی وزارت خارجہ (ایم ای اے) کی طرف سے جاری کردہ ایک ردعمل کے بعد آیا ہے۔ ہندوستان نے ‘ایم ایس وی فیض نور اولیا’ پر حملے کی مذمت کی تھی اور تصدیق کی تھی کہ جہاز میں سوار تمام 13 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان