Connect with us
Friday,29-August-2025
تازہ خبریں

سیاست

اسمرتی ایرانی مغربی خطے کے زونل میٹنگ صدارت کی کریں گی

Published

on

Smriti Irani

خواتین اور اطفال کی ترقی کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی منگل کو ممبئی میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں اور مغربی خطوں کے متعلقین کی زونل کانفرنس کی صدارت کریں گی۔ مہاراشٹر، راجستھان، گوا، گجرات، مدھیہ پردیش، دادرہ اور حویلی اور دمن اینڈ دیو کی ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام علاقے اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ حال ہی میں شروع کئے گئے تین مشن -پوشن 2.0، وتسلیہ اور شکتی کے زیادہ سے زیادہ اثرکو یقینی بنانے کے لئے خواتین اور اطفال کی ترقی کی وزارت نے ملک کے ہر علاقے میں ریاستی حکومتوں اور فریقوں کے ساتھ سلسلہ وار زونل مشاورت شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں ممبئی میں یہ چوتھی زونل میٹنگ ہے۔ اس طرح کی پہلی میٹنگ 2 اپریل کو چنڈی گڑھ میں، 4 اپریل کو بینگلورو اور تیسری میٹنگ 10 اپریل 2022 کو گواہاٹی میں منعقد ہو چکی ہے۔

خواتین اور بچوں کو بااختیار بنانا اور ان کا تحفظ جو ہندوستان کی آبادی کا 67.7 فیصد ہیں، اور محفوظ ماحول میں ان کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانا ملک کی پائیدار اور مساوی ترقی کے لئے بہت اہم ہیں، اسی طرح تبدیلی والی اقتصادی اور سماجی تغیرات کے لئے بھی بہت اہم ہیں۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے حال ہی میں وزارت کی 3 اہم امبریلا اسکیموں کو منظوری دی ہے جن کو مشن موڈ میں لاگو کیا جائے گا، یعنی مشن پوشن 2.0، مشن شکتی اور مشن وتسلیہ۔ یہ 3 مشن 15ویں مالیاتی کمیشن کی مدت، 2021-22 سے 2025-26 کے دوران نافذ کیے جائیں گے۔ امبریلا مشن کے تحت چلنے والی اسکیمیں مرکزی طور پر سپانسر شدہ اسکیمیں ہیں، جو لاگت کی تقسیم کے اصولوں کے مطابق لاگت کی تقسیم کی بنیاد پر ریاستی حکومتوں/ مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ذریعہ لاگو کی جاتی ہیں۔ اسکیم کے رہنما خطوط کا اشتراک ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

خواتین اور اطفال کی ترقی کی وزارت کا بنیادی مقصد خواتین اور بچوں کے لیے ریاستی کارروائی میں موجود خلاء کو دور کرنا اور صنفی مساوات اور بچوں پر مبنی قانون سازی، پالیسیاں اور پروگرام بنانے کے لیے بین وزارتی اور بین شعبہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، اور خواتین اور بچوں کو ایسا ماحول مہیا کرانا ہے، جو قابل رسائی، سستی قابل اعتماد اور ہر طرح کے امتیاز اور تشدد سے مبّرا ہو۔ اس جانب وزارت کی اسکیموں کے تحت مقاصد کے حصول کے لئے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی انتظامیہ جو کہ زمین پر ان اسکیموں کے نفاذ کے لئے ذمہ دار ہیں، کی سپورٹ حاصل کی جاتی ہے۔

زونل کانفرنسوں کا مقصد ریاستی حکومتوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو وزارت کے 3 امبریلا مشن پر حساس بنانا ہے، تاکہ کوآپریٹو فیڈرلزم کی حقیقی روح کے ساتھ اگلے 5 سالوں میں اسکیموں کے مناسب نفاذ میں سہولت فراہم کی جاسکے، تاکہ مش کے تحت تصورکئے گئے سماجی تبدیلی کو ملک کی خواتین اور بچوں کے فائدے کی تکمیل کے لئے یقینی بنایا جاسکے۔

مشن پوشن 2.0 ایک مربوط غذائیت سپورٹ پروگرام ہے۔ یہ بچوں، نوعمر لڑکیوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں میں نقص تغذیہ کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے غذائیت کے مواد اور ترسیل میں حکمت عملی کی تبدیلی کے ذریعے اور ایک متغیر ایکو سسٹم کی تشکیل کے ذریعے صحت، تندرستی اور قوت مدافعت کو فروغ دینے والے طریقوں کو ترقی دینے اور فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ پوشن 2.0 سپلیمنٹری نیوٹریشن پروگرام کے تحت خوراک کے معیار اور ترسیل کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔
مشن شکتی کا تصور ہے کہ خواتین کے لیے مربوط نگہداشت، حفاظت، تحفظ، باز آبادکاری اور تفویض اختیارات کے ذریعہ ایک مربوط شہری مرتکز لائف سائیکل سپورٹ مہیا کیا جائے تاکہ عورت کی زنجیروں کو توڑا جائے اوروہ اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں آگے بڑھ سکیں۔

مشن شکتی کی دو ذیلی اسکیمیں ‘سنبل’ اور ‘سمارتھیا’ ہیں۔ جب کہ “سمبل” ذیلی اسکیم خواتین کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ہے، وہیں “سمارتھیا” ذیلی اسکیم خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ہے۔
مشن وتسلیہ کا مقصد ملک کے ہر بچے کے لیے ایک صحت مند اور خوشگوار بچپن کو محفوظ بنانا ہے۔ بچوں کی نشوونما کے لیے ایک حساس، معاون اور مطابقت پذیر ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا، جوینائل جسٹس ایکٹ 2015 کے مینڈیٹ کی فراہمی میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مدد کرنا ہے، تاکہ وہ ایس ڈی جی اہداف کو حاصل کریں۔ مشن وتسلیہ کے تحت اجزاء میں قانونی ادارے، سروس ڈلیوری اسٹراکچر، ادارہ جاتی نگہداشت /خدمات، غیرادارہ جاتی کمیونٹی پرمبنی نگہداشت، ایمرجنسی آؤٹ ریچ سروسیز اور تربیت اورصلاحیت کی تعمیر شامل ہیں ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مراٹھا مورچہ بی ایم سی کی صاف صفائی مہم

Published

on

cleanliness

ممبئی مراٹھا مورچہ کے سبب مہاراشٹر بھر سے احتجاج مظاہرین کی ممبئی آزاد میدان آمد کے تناظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے واقع آزاد میدان میں میونسپل کارپوریشن نے مختلف ضروری شہری خدمات اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ آزاد میدان اور آس پاس کے علاقے میں ‘پے اینڈ یوز’ کے اصول پر تمام عوامی بیت الخلا مظاہرین کے استعمال کے لیے مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ مظاہرین کے استعمال کے لیے آزاد میدان کے اندر کل 29 بیت الخلاء مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ آزاد میدان سے متصل مہاتما گاندھی مارگ پر کل تین موبائل بیت الخلاء، جن میں سے ہر ایک میں 10 بیت الخلاء دستیاب ہیں۔ آزاد میدان میں میٹرو سائٹ کے قریب ایگزیکٹو انجینئر (ٹرانسپورٹ) (مغربی مضافات) کے دفتر کی طرف سے کل 12 پورٹیبل بیت الخلا فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں. احتجاج کے مقام پر مظاہرین کو پینے کے پانی کے لیے کل 6 ٹینکرز فراہم کیے گئے ہیں۔ اضافی ٹینکرز منگوائے گئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے احتجاج کی جگہ کیچڑ تھی۔ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتجاجی مقام تک جانے والی سڑک پر موجود کیچڑ کو ہٹا کر اس سڑک پر 2 ٹرک بجری ڈال کر سڑک کو ہموار کر دیا گیا ہے۔ میڈیکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہریوں کے علاج اور طبی معائنے کے لیے ایک طبی امدادی کمرہ قائم کیا گیا ہے۔ 108 ایمبولینس خدمات بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔ برسات کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد میدان اور آس پاس کے علاقوں میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ادویات کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ احتجاجی مقام اور آس پاس کے پورے علاقے کی صفائی کے لیے مناسب تعداد میں عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بارش، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

Published

on

Prophet-is-celebration

آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم) سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے۔

ہاں جشن عید میلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے، باجا نہیں بجنا چاہئے، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے، کسی کی دل آزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایسا ہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو، سیرت النبی کا اعلان ہو، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منا رہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں۔

راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے، جس کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے، غریبوں، مسکینوں، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کر کے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے انسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر دھوکہ دہی خود ساختہ سی بی آئی افسر گرفتار

Published

on

cyber Attack

ممبئی سی بی آئی افسر بتا کر ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر شکایت کنندہ سے ایک کروڑ روپے بینک اکاؤنٹ میں وصول کرنے والا خود ساختہ سی بی آئی افسر جس نے شکایت کنندہ کو فون کر کے دلی سے ڈی سی پی سنجے اڑورہ سی بی آئی افسر اور ہائیکورٹ کا حکم وہاٹس اپ پر ارسال کر کے ایک جرم میں اس کے شریک ہونے اور ڈیجیٹل اریسٹ کی آڑ میں ایک کروڑ ٢٦ لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس میں طلب کئے اور اس کے بعد شکایت کنندہ نے پولس نے دھوکہ دہی اور سائبر فرا ڈ کا کیس درج کیا, جس کے بعد ممبئی سائبر سیل نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کر دی اور ۳۶ گھنٹے میں بینک سے خط وکتابت کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت کی اور پھر روہیت سنجے سونار ۳۳ سالہ بینک ہولڈر کو گرفتار کیا. اسی کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی ہوئی تھی, ملزم ضلع جلگاؤں کا ساکن ہے اس کا ساتھی دوسرا اکاؤنٹ ہولڈر ہتیش ہیمنت پاٹل ۳۱ سالہ جلگاؤں کو بھی پولس نے گرفتار کیا ہے. یہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیل بیرون ملک میں فراہم کیا کرتا تھا. اس ملزمین کے قبضے سے تین موبائل فون بھی پولس نے ضبط کئے ہیں. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں سائبر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے. سائبر پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر اگر کوئی خوفزدہ کرتا ہے تو اس کے دام میں نہ آئے کیونکہ ڈیجیٹل اریسٹ کوئی چیز نہیں ہے۔ پولس کبھی بھی آن لائن اریسٹ نہیں کرتی ہے اور نہ ہی آن لائن تفتیش کی جاتی ہے, ایسے میں شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل پولس نے کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com