Connect with us
Thursday,17-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃ علماء ہند کے خمیر میں شامل، وظائف جاری کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی کا اظہار خیال

Published

on

Maulana Arshad Madani..

مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی کیلئے تعلیم کو لازم قرار دیتے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃ علماء ہند کے خمیر میں شامل ہے۔ یہ بات انہوں نے تعلیمی سال 2021-22 کے لئے میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے 670 طلباء کو وظائف جاری کرتے ہوئے کہی۔ وظائف یافتگان میں ہندو طلباء بھی شامل ہیں۔ مولانا مدنی نے آج یہاں جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر سے تعلیمی سال 2021-2022 کے لئے میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے 670 طلباء کو وظائف جاری کر دیئے ہیں، اسی کے ساتھ ضرورت مند طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر پچھلے سال ہی وظائف کی مجموعی رقم پچاس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کر دی گئی تھی، دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان منتخب شدہ طلباء میں اس بار بھی ایک قابل قدر تعداد ہندو طلباء کی بھی شامل ہے۔ مالی طور پر کمزور مگر ذہین اور محنتی طلباء کے لئے اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم کے حصول میں مدد کرنے کے اہم مقصد کے پیش نظر جمعیۃ علماء ہند نے 2012 باضابطہ طور پر وظائف دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کیلئے حسین احمد مدنی چیری ٹیبل ٹرسٹ دیوبند اور مولانا ارشد مدنی پبلک ٹرسٹ کی جانب سے ایک تعلیمی امدادی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ اور ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔ جو میرٹ کی بنیاد پر ہر سال طلباء کو منتخب کرنے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جمعیۃ علماء ہند جن کورسیز کے لئے وظائف دیتی ہے، ان میں میڈیکل، انجینئرنگ، بی ٹیک، ایم ٹیک، پالی ٹکنک، گریجویشن میں بی ایس سی، بی کام، بی اے، بی بی اے، ماس کمیونیکیشن، ایم کام، ایم ایس سی، ڈپلومہ آئی ٹی آئی جیسے کورسیز شامل ہیں۔ اور اس کے پیچھے صرف اور صرف یہی مقصد کار فرما ہے کہ غربت اور مالی پریشانی کے شکار ذہین بچے کسی روکاوٹ کے بغیر اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ اور کورسیز مکمل کر کے جب باہر نکلیں تو ملک وقوم کی ترقی اور خوشحالی میں شراکت دار بن سکیں، تعلیمی وظائف جاری کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اللہ کی نصرت و تائید سے ہم اپنے اعلان کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوئے۔

جمعیۃ علماء ہند کا دائرہ کار بہت وسیع ہے، اور وسائل انتہائی محدود، اس کے باوجود اس بار بھی ہم گزشتہ برسوں کے مقابلہ کہیں زیادہ تعداد میں ضرورت مند طلباء کو اسکالر شپ تقسیم کر پائے۔ یہ ہمارے لئے انتہائی اطمینان اور سکون کا باعث ہے۔ اور آئندہ برسوں میں وظائف کے مجموعی فنڈ میں ہم مزید اضافہ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ہم ضرورت مند طلباء کی مدد کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ اس اسکالر شپ کے لئے ضرورت مند غیر مسلم طلباء بھی درخواستیں دیتے ہیں۔ اس بار بھی ان کی طرف سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی تھیں، ان میں سے جو بھی میرٹ پر پورا اترا اسے اسکالر شپ کے لئے ماہرین کی کمیٹی نے منتخب کر لیا۔

مولانا مدنی نے کہاکہ مذہب سے اوپر اٹھ کر اور بلاامتیاز مذہب و مسلک اپنی فلاحی وامدادی سرگرمیوں کو انجام دینا تو جمعیۃ علماء کے خمیر میں شامل ہیں اور جمعیۃ علماء نے ہر موقع پر اس کا عملی ثبوت بھی دیا ہے، انہوں نے آگے کہا کہ سچرکمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر آئے ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی میں اب بھی کوئی قابل قدر بہتری نہیں آسکی ہے، اس کی بنیادی وجہ غربت ہے۔ سچر کمیٹی نے بھی کھلے لفظوں میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ غربت کی وجہ سے بڑی تعداد میں ذہین اور محنتی مسلم بچے درمیان میں ہی اپنی تعلیم چھوڑ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلم طبقہ کی سماجی واقتصادی پسماندگی ختم نہیں ہو پاتی۔ انہوں نے یہ وضاحت کی کہ اعلیٰ اور خاص طور پیشہ ورانہ تعلیم کے لئے تعلیمی وظائف شروع کرنے کے پس پشت جمعیۃ علماء ہند کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ قوم کے ذہین بچے محض مالی پریشانی کی وجہ سے اپنی تعلیم ترک کرنے پر مجبور نہ ہوسکیں، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا ہوگا تو یہ قوم اور ملک دونوں کا مشترکہ نقصان ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح چھوٹی چھوٹی چیزوں کو لیکر کچھ لوگ دانستہ تنازعہ کھڑا کر رہے ہیں، اور جس طرح ملک کا جانب دار میڈیا اس طرح کے تنازعات کو ہوا دیکر پورے ملک میں ایک ہیجان سا برپا کر دیتا ہے اس کی کاٹ کے لئے یہ ضروری ہے کہ صاحب حیثیت مسلمان آگے آئیں، اور اپنے پیسوں سے اپنے بچے اور بچیوں کے لئے الگ الگ اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کریں، تاکہ قوم کے بچے اور بچیاں اپنی تہذیبی اور مذہبی شناخت کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جب ہم اس کے لئے اجتماعی کوشش کریں اور ایک کار گرر و ڈمیپ تیار کریں۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ہمارے تمام تر مسائل کا حل تعلیم ہے، اور ہم تعلیم کے ہتھیار سے ہی فرقہ پرستوں کے ہر حملہ کا نہ صرف جواب دے سکتے ہیں، بلکہ اپنے لئے کامیابی و کامرانی کی راہیں بھی کھول سکتے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر سیل کی بڑی کارروائی! منظم گروہ کے ۶ اراکین گرفتار, ڈیجیٹل گرفتاری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں : ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے

Published

on

ممبئی سائبر سیل نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو سائبر دھوکہ بازی کے دوران ڈیجیٹل گرفتاری یعنی ڈیجیٹل اریسٹ سے خوفزدہ کر کے جھوٹے کیسوں میں پھنسانے کی دھمکی دے کر متاثرین سے رقومات وصول کیا کرتے تھے۔ جعلی سم کارڈ 238 کروڑ کے منی لانڈرنگ معاملے میں مقدمہ درج ہونے کا خوف بتا کر سپریم کورٹ کا جعلی نوٹس بھیج کر شکایت کنندہ کو ‘ڈیجیٹل اریسٹ’ میں رکھ کر 1.12 کروڑ کی مالی دھوکہ دہی کی گئی۔ اس معاملے میں انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ سمیت آئی ٹی شعبہ کے ویب ڈویلپر سمیت کل 6 ملزمان کو پکڑنے کرنے میں پولیس کو کامیابی ملی۔ نارتھ سائبر پولیس بی این ایس دفعہ 204, 308(7), 61(2), 318(4), 319(2), 336(2), 336(3), 338, 340(2), 238 آئی ٹی ایکٹ دفعہ 66, 66 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں متاثرہ دہیسر کے رہائشی 68 سالہ بزرگ شہری شکایت کنندہ کو تاریخ ۳۰ جولائی ۲۰۲۶ سے ۱۲ ستمبر ۲۰۲۶ کے درمیان واٹس ایپ ویڈیو کال کرکے خود کی شناخت بھارتیہ دور سنچار ویبھاگ سے بتائی اور شکایت کنندہ کے سم کارڈ کا استعمال کرکے اس پر کل 238 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا گھوٹالہ کرنے کے بارے میں شکایت کنندہ کے خلاف دہلی میں منی لانڈرنگ کا کیس درج ہوا ہے اس بارے میں شکایت کنندہ کو سپریم کورٹ نوٹس بھیج کر اس جرم میں شکایت کنندہ کو گرفتاری کی دھمکی دے کر اسے ڈیجیٹل اریسٹ میں رکھ کر شکایت کنندہ کی کل 1,12,26,000/- روپے کی مالی دھوکہ دہی کی انتہائی حساس جرم میں ملزمان نے خود کی شناخت پوری طرح سے چھپا کر منظم طریقے سے پولیس افسر ہونے کا بہانہ بنا کر، پولیس وردی پہن کر سرکاری اتھارٹی، قومی جانچ ایجنسیوں کے نام، مہر، لیٹر ہیڈ استعمال کرکے شکایت کنندہ کو بار بار گرفتاری کا ڈر دکھا کر ویڈیو کال کرکے بینک کھاتے میں رقم طلب کر کے دھوکہ دہی کی ہے۔ دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے سائبر ملزمان نے الگ الگ افراد/کمپنی کے نام پر موجود الگ الگ بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹس کی دستیابی کرکے ان کا استعمال کیا ہے اور نارتھ سائبر پولیس تھانہ، ممبئی کی تفتیشی ٹیم نے مذکورہ سائبرجرم کی مہارت سے کوشش میں تسلسل رکھ کر مثبت تفتیش کرکے ملزمان کے جرم کا طریقہ کار سمجھ کر جرم میں استعمال کیے گئے پہلی سطح کے بینک اکاؤنٹ کی بنیاد پر مزید معلومات لے کر ڈیجیٹل اریسٹ میں دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے کرنٹ بینک اکاؤنٹ خرید و فروخت کرنے والے اور دھوکہ دہی کی رقم کو لیئر کرنے والے ملزمان کی تلاش کرکے انہیں گرفتار کیا ہے اور گرفتار شدگان کے قبضے سے 02 لیپ ٹاپ، 20 موبائل فون، 25 مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹس، اے ٹی ایم کارڈس، پاس بک، آدھار کارڈس، ایسا برآمد کیا ہے گرفتار شدگان ملزمین میں 1) راجیش کمار موہن لال جین، عمر 54 سال، تعلیم 12ویں پاس، رہنے والا 301/ دادا صاحب پھالکے روڈ، دادر مشرق، ممبئی بینک اکاؤنٹ ہولڈر 2) محمد طارق انور مومن، عمر 49 سال، تعلیم 12ویں پاس، رہنے والا 01/ ساجن بلڈنگ، نایاگاؤں کراس روڈ، شترو نجے ٹاور کے پاس، دادر مشرق، ممبئی مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹ کھولنے والا اور بینک اکاؤنٹ آگے سپلائی کرنے والا 3) شیکھر مکیش تیاگی، عمر 28 سال، تعلیم ب کوم, بی ایم اے، رہنے والا پرتیکشا نگر، سائن، ممبئی انڈس انڈ بینک آپریشنل منیجر 4) گورو مہیش گوئل، عمر 40 سال، بی ای, آئی آئی ٹی دہلی، رہائشی رہیجہ ہائٹس، گوریگاؤں مشرق، ممبئی ویب ڈیولپر باندرہ پولیس تھانہ پربھادیوی دفعہ 420, 409, 120(بی), 34 کے تحت مقدمہ درج ہے 5) اجے کمار کالی پرساد شرما عمر 35 سال تعلیم بی اے، رہائشی بھیونڈی روڈ کالہیر ضلع تھانے موبائل کے ذریعہ آگے ایکسیس دینے والا 6) چنتن کمار سوریش بھائی دیسائی عمر 46 سال تعلیم- بی اے، رہنے والا ایس بی آئی بینک کے عقب مورا بگل رانادیل روڈ سورت گجرات موبائل یہاں ساتھیوں کے ذریعہ شکایت کنندہ کی رقم کی لیئرنگ کرنے والا)

جرم کی انجام دہی کا ملزمان کا طریقہ کار ابھے دیو گولڈ پرالی اس کمپنی کا گرفتار ملزم نمبر 01 ڈائریکٹر ہے۔ مذکورہ کمپنی کا انڈس انڈ بینک اکاؤنٹ رجسٹرڈ ہے۔ مذکورہ کھاتے سے گرفتار ملزم نمبر 01 کا موبائل لنک ہے تو دوسرے ڈائریکٹر کا موبائل لنک ہے۔ گرفتار ملزم نمبر 02 نے دادر مشرق یہاں کی موبائل شاپ سے دو نئے موبائل خریدے, ان میں سے ایک موبائل میں ابھے دیو گولڈ پرالی کمپنی کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا, تو دوسرے موبائل میں گرفتار ملزم نمبر 01 مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا, دونوں موبائل گرفتار ملزم نمبر 02 نے انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ گرفتار ملزم نمبر 03 کے قبضے میں دیئے۔ گرفتار ملزم نمبر 03 نے مذکورہ دو موبائل فون میں سے مذکورہ کھاتے کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے بینک سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون خود کے پاس رکھ کر وہ گرفتار ملزم نمبر 05 کے قبضے میں دیدیا۔ تو گرفتار ملزم نمبر 01 کے مذکورہ بینک کھاتے سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون میں ڈال کر مذکورہ موبائل فون گرفتار ملزم نمبر 04 (ویب ڈیولپر) کے قبضے میں دیا اس نے وہ گرفتار ملزم نمبر 06 کے قبضے میں دیا۔ گرفتار ملزم نمبر 06 نے ممبئی سے ہوائی جہاز سے دہلی جا کر وہاں سے بجنور اترپردیش یہاں اس کے ساتھیوں کی مدد سے مذکورہ کھاتے پر شکایت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ کی رقم ٹرانسفر کرکے لے کر شکایت کنندہ کو ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر فراڈ معاملے میں کل 1,12,26,000/- روپے کی سائبر دھوکہ دہی کی ہے۔

شہریوں سے اپیل ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر دھوکہ دہی سے محفوظ رہنے ہدایات پر عمل کریں۔ پولیس/سی بی آئی/ای ڈی/آر بی آئی یا کوئی بھی سرکاری ادارہ ڈیجیٹل گرفتاری نہیں کرتا، قانون میں ڈیجیٹل گرفتاری ایسی کوئی بھی دفعہ نہیں ہے۔ انجان افراد کی ویڈیو کال قبول نہ کریں یا کبھی بھی پیسے نہ بھیجیں خاندان کے کسی بھی فرد کے برتاؤ یا موڈ میں تبدیلی نظر آئے تو اس پر دھیان دیں۔ اگر آپ ڈیجیٹل اریسٹ کے شکار ہوئے ہیں، تو اپنے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کو یا پولیس کو فوری معلومات دیں۔ اگر آپ کو ڈیجیٹل اریسٹ کے بارے میں کوئی بھی کال آئے، تو فوری قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں یا مدد کے لیے 100/1930 اس ہیلپ لائن نمبر پر کال کریں یا http://www.cybercrime.gov.in پر شکایت درج کروائیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بائیکلہ ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن و چڑیا گھر میں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کا معائنہ کے لئے میونسپل کمشنر کا دورہ

Published

on

ممبئی ؛میونسپل کمشنر اشونی بھڈے نے آج (17 ستمبر 2026) بائیکلہ (مشرقی) میں واقع ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر کا دورہ کیا تاکہ وہاں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کا جائزہ لے سکیں۔ دورے کے دوران،اشونی بھڈے نے باغ میں ہبسکس (گڑہل) کی نمائش کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے حصے کے طور پر اور وزیر اعظم شری نریندر مودی کی سالگرہ کی یاد میں احاطے کے اندر ’سینچری پام‘ کا پودا بھی لگایا۔ مزید برآں، انہوں نے گارڈن اور چڑیا گھر کے احاطے میں تعمیر کیے جا رہے ’ٹنل ایکویریم‘ (سرنگ نما ایکویریم) کی تعمیراتی پیش رفت کا معائنہ کیا اور جنوری 2027 تک تعمیراتی کام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

اس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے، ڈپٹی کمشنر (باغات) اجیت کمار امبی، ڈائریکٹر (چڑیا گھر) ڈاکٹر سنجے ترپاٹھی، گارڈن سپرنٹنڈنٹ جتیندر پردیشی کے ساتھ دیگر متعلقہ عہدیداران اور عملہ موجود تھا۔ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر میں ہبسکس کی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس نمائش میں مختلف رنگوں کے ہبسکس پھولوں کی تقریباً 50 اقسام پیش کی گئی ہیں۔ یہ نمائش عوام کے لیے کھلی ہے۔ اس موقع پر، محترمہ اشونی بھیڈے نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نمائش کا دورہ کریں اور مختلف رنگوں میں ہبسکس پھولوں کی اقسام کا مشاہدہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : سنجے گاندھی نیشنل پارک میں شیرنی بجلی (ٹی2) کی موت

Published

on

ممبئی سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے اموت کا اعلان کرتی ہے، جس کی عمر تقریباً 18 سال 4 ماہ تھی اور جو 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے بڑھاپے سے متعلق صحت کے مسائل کی وجہ سے انتقال کر گئی۔ وہ 2016 سے سنجے گاندھی کنبہ کی ایک محبوب رکن رہی ہے۔ ان سالوں میں، اس نے لاکھوں زائرین کے دلوں کو گرویدہ کیا۔پچھلے مہینے سے، اس کی خوراک میں بتدریج کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی صحت کی قریب سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ مغربی مہاراشٹر کی ٹیکنیکل ویٹرنری ایڈوائزری ٹیم کی رہنمائی اور تکنیکی مشورے کے تحت ویٹرنری آفیسر کے ذریعہ مناسب ویٹرنری اور معاون انتظام فراہم کیا جا رہا تھا۔ ان کی انتھک طبی کوششوں اور مسلسل نگرانی کے باوجود، بجلی نے 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے پرامن طور پر آخری سانس لی۔بجلی کو 11 جولائی 2016 کو پینچ ٹائیگر ریزرو سے سنجے گاندھی نیشنل پارک لایا گیا تھا اور وہ دس سال سے زیادہ عرصے تک ایس جی این پی کی دیکھ بھال اور حفاظت میں رہی۔ سنجے گاندھی نیشنل پارک کے ساتھ اس کا طویل تعلق پارک کے وائلڈ لائف مینجمنٹ، کنزرویشن ایجوکیشن اور قید جانوروں کی دیکھ بھال کی کوششوں کا ایک اہم حصہ تھااگرچہ بجلی (ٹی2) کا انتقال بڑھاپے کی وجہ سے ہوا، موت کی صحیح وجہ معلوم کرنے کے لیے معیاری پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ ایس جی این پی انتظامیہ تمام وائلڈ لائف سے اور عشاق جانور سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بجلی (ٹی2) کی یادیں اور تصاویر شیئر کریں تاکہ ہم اس کی میراث اور وائلڈ لائف کنزرویشن میں اس کے تعاون کا احترام کر سکیں ایک بار پھر پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ یہاں اطلاع سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ، بوریولی، ممبئی نے دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان