Connect with us
Saturday,13-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

محمد صدیق : کشمیری موسیقی کا روایتی آلہ ’ تمبکناری‘ بنانے والا کاریگر

Published

on

Muhammad-Siddique

وادی کشمیر میں مٹی سے صرف مختلف قسموں کے برتن ہی نہیں بنائے جاتے ہیں، بلکہ یہاں مٹی سے موسیقی کا ایک روایتی آلہ بھی تیار کیا جاتا ہے، جس کا استعمال وادی کے شہر و گام میں شادی بیاہ یا دوسری خوشی کی تقریبوں میں کیا جاتا ہے۔ وادی میں گرچہ مٹی سے برتن بنانے کا ہنر انحطاط پذیر ہے۔ تاہم سری نگر کے برین علاقے سے تعلق رکھنے والا محمد صدیق نامی ہنر مند اپنے کارخانے میں مٹی سے تیار ہونے والے روایتی کشمیری موسیقی آلہ ’تمبکناری‘ بنا کر اپنی روزی روٹی بھی کماتا ہے، بلکہ اپنی شاندار ثقافت کے اس اہم جز کو زندہ رکھے ہوئے بھی ہے۔ موصوف کاریگر اپنا سارا دن بجلی سے چلنے والے پہیے پر تمبکناری بنانے میں صرف کرتا ہے۔

مٹی اور پانی کی آمیزش سے تیار ہونے والی تمبکناری کی گردن لمبی اور کھوکھلی ہوتی ہے، اور اس کو بھٹی میں پکانے کے بعد اس پر رنگ و روغن چڑھایا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمبکناری ایران یا وسطی ایشیا سے کشمیر آئی ہے۔

محمد صدیق نے کہا کہ میں اپنے کارخانے میں دن بھر کام کر کے اپنے اہل و عیال کی کفالت کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا، ’میں اپنے کارخانے میں صبح سے شام تک کام کرتا ہوں، اور کم سے کم پچاس تمبکناریاں تیار کرتا ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا، ’مجھے سال بھر ڈیلروں کی طرف سے آرڈرس ملتے رہتے ہیں، جن کو میں مال فراہم کرتا ہوں۔‘

موصوف کاریگر نے کہا کہ ایک بڑی تمبکناری بازار میں ڈھائی سو سے ڈیڑھ سو روپیہ میں فروخت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’تمبکناری بنانے کے لئے وسطی ضلع بڈگام سے خاص قسم کی مٹی لائی جاتی ہے، اس قسم کی مٹی پر سبزی نہیں اگتی ہے، اور نہ ہی اس کو مکان بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا، ’حکومت نے اس علاقے میں مٹی کھودنے پر پابندی عائد کی ہے، جس سے اس کام پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اور ہماری روزی روٹی متاثر ہوسکتی ہے۔‘

محمد صدیق نے اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کشمیری پنڈت برادری کے لوگوں سے مٹی کے برتنوں کے بڑے بڑے آرڈرس ملتے تھے جنہیں وہ شادی بیاہ کے موقعوں پر استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’لیکن ان کی کشمیر سے ہجرت کے بعد اس روایتی تجارت کو شدید دھچکا پہنچا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایک زمانے میں مجھے پھولوں کے گملے بنانے کے لئے بھی بڑے آرڈرس ملتے تھے، لیکن وہ بھی روبہ زوال ہے۔

محمد صدیق نے کہا کہ تاہم اس کے باوجود میں دن بھر اپنے کارخانے میں تمبکناریاں بنانے کےساتھ مصروف رہتا ہوں۔ انہوں نے کہا، ’اکثر مجھے مٹی کے برتنوں کے بھی آرڈس ملتے ہیں، لیکن میں ان کو مسترد کرتا ہوں، کیونکہ اس کے لئے وقت نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا، ’میرے بچوں کو اس کام میں دلچسپی نہیں ہے، گرچہ میں انہیں یہ کام سیکھنے کی تاکید کرتا رہتا ہوں تاکہ یہ روایت زندہ رہ سکے۔‘

موصوف کاریگر جموں وکشمیر حکومت کا انتہائی مشکور ہے، جس نے اس کو تمبکناری بنانے کے لئے بجلی سے چلنے والا پہیہ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پہیے سے ہمارا کام آسان بھی ہوا ہے، اور کام بھی زیادہ نکلتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

نفرت انگیز بیانات، تفریح ​​کے نام پر فحاشی برداشت نہیں کی جائے گی، سخت ایکشن لیا جائے گا : میئر ریتو تاوڑے

Published

on

ritu

ممبئی : اسٹینڈ اپ کامیڈین پرنیت مورے کے لائیو شو میں کے ای ایم اسپتال کی میڈیکل کی طالبہ سیجل پوار کے نفرت انگیز بیان کے معاملے میں اسپتال انتظامیہ نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔ تفریح ​​کے نام پر نفرت انگیزبیانات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسپتال انتظامیہ کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے وضاحت کی ہے۔

ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے اس پورے واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور فنکاروں اور مواد تخلیق کرنے والوں سے سماجی ذمہ داری سے آگاہ رہنے کی اپیل کی ہے۔ اسٹینڈ اپ کامیڈین پرنیت مورے کے شو کے دو کلپس جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں شہریوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ پہلے کلپ میں ہمانشو جگڈا نامی شخص ایک خاتون کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کا واقعہ بیان کیا، جب کہ دوسرے کلپ میں کے ای ایم ہسپتال کی میڈیکل کی طالبہ سیجل پوار نے ان مردوں کی لاشوں کے بارے میں انتہائی نفرت انگیز، فحش اور جارحانہ تبصرے کیے جنہوں نے اپنی لاشیں طبی تعلیم کے لیے عطیہ کی تھیں۔ ان دونوں صورتوں میں کامیڈین پرنیت نے اعتراض کرنے کے بجائے ہنسی اور تالیاں بجائیں۔ ان دونوں کلپس میں غیر حساسیت کا نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر سائبر پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا ہے۔ اس معاملے پر میونسپل کارپوریشن کا موقف واضح کرتے ہوئے اور قانونی کارروائی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے وضاحت کی ہے کہ مہاراشٹر سائبر ڈپارٹمنٹ نے کارروائی کی ہے۔ اس کے علاوہ کے ای ایم ہسپتال انتظامیہ نے سیجل پوار کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی مقرر کی ہے۔ میئر نے واضح کیا کہ اسپتال انتظامیہ کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

میئر تاوڑے نے مزید کہا کہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا ایک بہت اہم حصہ ہے، لیکن اس آزادی کے نام پر خواتین کی توہین کرنے والا مواد، فحاشی، نفرت انگیز بیانات، نفرت انگیز قسم کے مواد یا سماج میں غلط پیغام بھیجنے والے مواد کو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ عوامی فورم میں خواتین، رضامندی اور طبی شعبے سے متعلق حساس مسائل پر بات کرتے ہوئے ہر ایک کو حدود کی پابندی کرنی چاہیے۔ ممبئی ثقافت، فن اور سوچ کی آزادی کا شہر ہے۔ تاہم یہ سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تفریح ​​کے نام پر کسی کی عزت کو پامال نہ کیا جائے۔ چونکہ سوشل میڈیا کا نوجوانوں پر بڑا اثر ہے، اس لیے معاشرے پر اس طرح کے مواد کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے سب کو حساس ہونا چاہیے۔ تمام فنکاروں، ڈیجیٹل مواد کے تخلیق کاروں اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے سماجی دلچسپی، حساسیت اور اخلاقیات کا احساس برقرار رکھنا چاہیے۔ شہریوں کو بھی سوشل میڈیا پر ذمہ داری سے برتاؤ کرنا چاہیے اور نفرت، فحاشی اور خواتین مخالف ذہنیت کو فروغ دینے والی چیزوں کی سختی سے مخالفت کرنی چاہیے، اس موقع پر ریتو تاوڑے نے بھی اپیل کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محرم الحرام وعظ و مجالس کو رات 9 بجے تک اجازت دی جائے، ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کا وزیر داخلہ سے مطالبہ

Published

on

Abu-Asim-Fadnavis

ممبئی : محرم الحرام کے متبرک ایام کی اہمیت کے پیش نظر اس دوران منعقد ہونے والی عوامی مذہبی تقاریر وعظ و مجالس کا وقت ۱۰ بجے سے بڑھا کر ۱۲ بجے تک کیا جائے، ایسا پرزور مطالبہ ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے ریاست کے وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس کو ایک میمورنڈم ارسال کیا۔ ایم ایل اے اعظمی نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ محرم کے دوران رات کے وقت مختلف علاقوں میں عوامی تقاریر وعظ مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں بڑی تعداد میں جانثاراں حسین شریک ہوتے ہیں۔ فی الحال شام کو تقریباً ۷ بجے مغرب کی نماز ہوتی ہے، جس کے بعد عشاء کی نماز مکمل ہونے تک کافی وقت صرف ہوتا ہے۔ پولیس انتظامیہ کی جانب سے فی الحال صرف رات ۱۰ بجے تک کی ہی اجازت دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے نماز کے بعد اصل پروگرام کے لیے بہت کم وقت درکار ہے۔ اس وقت کی قلت کی وجہ سے مسلمانوں میں بے چینی ہے اور وہ ان مذہبی تقاریر سے پوری طرح مستفیض نہیں ہو پا رہے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر، امن و امان کا پورا احترام کرتے ہوئے محرم کی طے شدہ تاریخوں کے لیے یہ وقت رات ۱۲ بجے تک بڑھایا جانا چاہیے۔ ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر داخلہ خود اس معاملے میں مداخلت کریں اور پولیس انتظامیہ کو فوری طور پر مثبت احکامات جاری کریں۔ اس میمورنڈم کی کاپیاں وزیر اعلیٰ اور ممبئی پولیس کے جوائنٹ کمشنر (لاء اینڈ آرڈر) دیوین بھارتی کو بھی ضروری کارروائی کے لیے روانہ کی گئی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

میرا روڈ سی کوئین پیلس آرکسٹرا بار پر چھاپہ مارا،12 خواتین کی بازیابی، ۹ گرفتار

Published

on

Bear

ممبئی : میرا روڈ ایم بی وی وی پولیس کمشنریٹ، سرکل 1 کے ڈی سی پی راہول چوان کی قیادت میں ایک ٹیم نے میرا روڈ کے کاشیگاؤں پولیس اسٹیشن کی حدود میں ممبئی احمد آباد ہائی وے پر دراز ڈھابہ کے سامنے سی کوئین پیلس آرکسٹرا بار پر چھاپہ مارا۔ اس چھاپہ مار کارروائی کے دوران پولس نے 12 خواتین کو بچا لیا گیا۔ ایک کیشیئر اور 8 ویٹر گرفتار کیے گئے جس میں بار کا ڈرائیور مالک اور مینیجر مفرور ہیں, چھاپہ مار کاروائی کے دوران 50,000 روپے نقد ضبط کر لیے گئے۔ اس کے ساتھ وہسکی اور بیئر کا غیر قانونی ذخیرہ ضبط کیا گیا اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ غیر قانونی طور پر بار میں رقص و سرور کی محفل جاری تھی اسی دوران پولس نے چھاپہ مار اور ملزمین کو گرفتار کر کے ۱۲ بار رقاصاؤں کو بھی آزاد کروایا گیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان