Connect with us
Saturday,26-September-2026

(جنرل (عام

محمد صدیق : کشمیری موسیقی کا روایتی آلہ ’ تمبکناری‘ بنانے والا کاریگر

Published

on

Muhammad-Siddique

وادی کشمیر میں مٹی سے صرف مختلف قسموں کے برتن ہی نہیں بنائے جاتے ہیں، بلکہ یہاں مٹی سے موسیقی کا ایک روایتی آلہ بھی تیار کیا جاتا ہے، جس کا استعمال وادی کے شہر و گام میں شادی بیاہ یا دوسری خوشی کی تقریبوں میں کیا جاتا ہے۔ وادی میں گرچہ مٹی سے برتن بنانے کا ہنر انحطاط پذیر ہے۔ تاہم سری نگر کے برین علاقے سے تعلق رکھنے والا محمد صدیق نامی ہنر مند اپنے کارخانے میں مٹی سے تیار ہونے والے روایتی کشمیری موسیقی آلہ ’تمبکناری‘ بنا کر اپنی روزی روٹی بھی کماتا ہے، بلکہ اپنی شاندار ثقافت کے اس اہم جز کو زندہ رکھے ہوئے بھی ہے۔ موصوف کاریگر اپنا سارا دن بجلی سے چلنے والے پہیے پر تمبکناری بنانے میں صرف کرتا ہے۔

مٹی اور پانی کی آمیزش سے تیار ہونے والی تمبکناری کی گردن لمبی اور کھوکھلی ہوتی ہے، اور اس کو بھٹی میں پکانے کے بعد اس پر رنگ و روغن چڑھایا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمبکناری ایران یا وسطی ایشیا سے کشمیر آئی ہے۔

محمد صدیق نے کہا کہ میں اپنے کارخانے میں دن بھر کام کر کے اپنے اہل و عیال کی کفالت کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا، ’میں اپنے کارخانے میں صبح سے شام تک کام کرتا ہوں، اور کم سے کم پچاس تمبکناریاں تیار کرتا ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا، ’مجھے سال بھر ڈیلروں کی طرف سے آرڈرس ملتے رہتے ہیں، جن کو میں مال فراہم کرتا ہوں۔‘

موصوف کاریگر نے کہا کہ ایک بڑی تمبکناری بازار میں ڈھائی سو سے ڈیڑھ سو روپیہ میں فروخت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’تمبکناری بنانے کے لئے وسطی ضلع بڈگام سے خاص قسم کی مٹی لائی جاتی ہے، اس قسم کی مٹی پر سبزی نہیں اگتی ہے، اور نہ ہی اس کو مکان بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا، ’حکومت نے اس علاقے میں مٹی کھودنے پر پابندی عائد کی ہے، جس سے اس کام پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اور ہماری روزی روٹی متاثر ہوسکتی ہے۔‘

محمد صدیق نے اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کشمیری پنڈت برادری کے لوگوں سے مٹی کے برتنوں کے بڑے بڑے آرڈرس ملتے تھے جنہیں وہ شادی بیاہ کے موقعوں پر استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’لیکن ان کی کشمیر سے ہجرت کے بعد اس روایتی تجارت کو شدید دھچکا پہنچا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایک زمانے میں مجھے پھولوں کے گملے بنانے کے لئے بھی بڑے آرڈرس ملتے تھے، لیکن وہ بھی روبہ زوال ہے۔

محمد صدیق نے کہا کہ تاہم اس کے باوجود میں دن بھر اپنے کارخانے میں تمبکناریاں بنانے کےساتھ مصروف رہتا ہوں۔ انہوں نے کہا، ’اکثر مجھے مٹی کے برتنوں کے بھی آرڈس ملتے ہیں، لیکن میں ان کو مسترد کرتا ہوں، کیونکہ اس کے لئے وقت نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا، ’میرے بچوں کو اس کام میں دلچسپی نہیں ہے، گرچہ میں انہیں یہ کام سیکھنے کی تاکید کرتا رہتا ہوں تاکہ یہ روایت زندہ رہ سکے۔‘

موصوف کاریگر جموں وکشمیر حکومت کا انتہائی مشکور ہے، جس نے اس کو تمبکناری بنانے کے لئے بجلی سے چلنے والا پہیہ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پہیے سے ہمارا کام آسان بھی ہوا ہے، اور کام بھی زیادہ نکلتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان