Connect with us
Thursday,09-April-2026

(جنرل (عام

کانپور: سڑک حادثے میں 3 دوستوں کی موت

Published

on

CAR ACCIDENT

اترپردیش کے ضلع کانپور کے گھاٹم پور کوتوالی علاقے کے موسی نگر روڈ پر تیز رفتار کار درخت سے ٹکرا گئی، اس حادثے میں تین دوستوں کی موت ہوگئی۔ مہلوکین میں دو نوجوان کنبے کے اکلوتے بیٹے تھے۔

اطلاع کے مطابق گھاٹم پور کے کریاں گاؤں باشندہ سیارام کٹار کا بیٹا ابھیشیک (21) اپنے دوست جتیندر (25) اورانکت سنگھ (20) کے ساتھ جمعرات کی صبح گھومنے نکلے تھے۔ راستے میں موسی نگر روڈ کے نزیک ہتھیروا موڑ پر ان کی کار ہو رہی بارش میں بے قابو ہو کر درخت سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ کار کے پرخچے اڑ گئے، اور تینوں کی موقع واردات پر ہی موت ہو گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ تینوں کی اپنی کار بھی نہیں تھی، انہوں نے گاؤں کے ہی پدم سنگھ نے کار کو مانگا تھا۔ اور باہر نکلے تھے۔ کار کو انکت چلا رہا تھا۔ جتیندر اور انکت گھر کے اکلوتے تھے۔ پولیس نے تینوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دی ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : او بی سی لیڈر شبیر انصاری نے چھوٹا سونا پور قبرستان کی جگہ کو آزاد کروایا، مولانا معین میاں کا تعزیتی نشست میں دعوی! چھگن بھجبل نے کہا مسلم پسماندہ طبقات کے لیے ایک بڑا نقصان

Published

on

Shabbir-Ahmed-Ansari

ممبئی : ممبئی سنی مسلم چھوٹا قبرستان میں کرپشن بدعنوانی منی ایس بی یو ٹی اس عام کرنے والی شخصیت کا نام شبیر انصاری ہے۔ اس پر ایک ذمہ دار ادارہ کے رکن اور وقف بورڈ کے رکن نے ساز باز کر کے بلڈرکے ہاتھ قطعہ اراضی کو فروخت کرنے کی سازش کی تھی اس کو افشا شبیر انصاری نے کیا جس وقت شبیر انصاری نے اوقاف تحریک شروع کی تھی تو شبیر احمد انصاری کے خلاف کیس درج کیا گیا, اس میں انڈرورلڈ اور سفید پوشوں نے وقف کی املاک میں خرد برد کرنے کی سازش رچی تھی۔ ٹرسٹ میں ایک بلڈر کو شامل کیا گیا تھا اور یہ کام کوئی اور نہیں بلکہ شوٹ بوٹ ٹائی میں ملبوس اس اہم شخصیت نے کی جو قوم کے ہر پروگرام میں اسٹیج پر جلوہ افروز رہتے ہیں, میں ان کا نام لینا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے ادارہ بدنام ہوگا اور یہ ادارہ قوم اور ہمارا آپ کا ہے یہ دعویٰ شبیر انصاری کے تعزیتی نشست میں حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شبیر انصاری کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ عیدگاہ میدان میں آج ہم آپ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ شبیر انصاری نے اس متعلق جو تحریک شروع کی تھی انہیں کافی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ دو ٹانکی عیدگاہ میدان چھوٹا سوناپور میں گزشتہ رات آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے قومی صدر شبیر احمد انصاری کے انتقال پر تعزیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا, کثیر تعداد میں سماجی کارکنان، معروف شخصیات، ائمہ کرام، علمائے عظام، سیاسی، سماجی، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے افراد موجود تھے۔ پروگرام کی سرپرستی وصدارت پیر طریقت، قائد اہل سنت حضرت علامہ مولانا سید معین الدین اشرف الاشرفی الجیلانی سجادہ نشین خانقاہ عالیہ کچھوچھہ مقدسہ و صدر آل انڈیا سنی جمعیتہ العلما نے فرمائی۔ آپ نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ شبیر احمد انصاری نے اپنی زندگی کے پچاس سال پسماندہ طبقات (او بی سی ) کے حقوق کے لیے وقف کر دیئے۔ مرحوم نے نہ صرف (او بی سی) کے حقوق کے لئے لڑائی لڑی ہے, بلکہ وقف جائداد کے تحفظ کے لئے ہمیشہ میدان عمل میں ڈٹ کر کھڑے رہے, انہوں نے اپنی انتھک کوشش سے مہاراشٹرا کے وزیر اعلی کے ذریعے وقف جائداد کا سروے کا کام بھی شروع کروایا۔ معین المشائخ نے مزید کہا کہ مرحوم نے وقف بورڈ کے دفتر میں کچھ نا اہل افسران کی تساہلی اور صحیح طریقے سے کام نہ کرنے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے دفتر میں تالا لگا دیا, جس کی وجہ سے ان پر کیس بھی درج کیا گیا لیکن اپنے مشن میں پیچھے نہیں ہٹے، آپ نے کہا کہ مرحوم شبیر انصاری، اللہ ان کی مغفرت کرے مجھ سے کافی قربت تھی۔ جس میدان میں ہم لوگ اس وقت حاضر ہیں اس کو غاصبوں سے بچانے میں بھی مرحوم کا بڑا رول رہا ہے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ میاں اس عید گاہ میدان اور اطراف کی پراپرٹی کو کچھ لوگ وقف کی جائداد سے ہٹاکر غیر وقف کر کے تعمیراتی کام شروع کرنے والے ہیں، وقف کی اس جائداد کو قوم کے لئے آپ بچائیں اس پر معین المشائخ نے وہ دستاویزات بھی پیش کئے، بے حد کوشش کے بعد وقف جادائیداد میں یہ میدان شامل ہو گیا ہے، اب قیامت تک اس عید گاہ میدان میں سجدہ اور نمازیں ہوںگی۔ مہاراشٹرا کے کابینی وزیر جناب چھگن بھجبل نے کہا کہ مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو OBC میں شامل کرانے کی جدوجہد کرنے والے، سفارشات کے نفاذ کے لیے آواز اٹھانےوالے، ریزرویشن کے حق میں ملک بھر میں تحریک چلانےوالے، گاؤں اور عوامی سطح پر کام کرنے والے لیڈر کا نام شبیر احمد انصاری ہے۔ مرحوم کی وفات مسلم پسماندہ طبقات کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ایم ایل اے امین پٹیل نے کہا مرحوم نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ پسماندہ طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں صرف کیا۔ ان کی قیادت میں او بی سی تنظیم نے نہ صرف استحکام پایا بلکہ سماج میں ایک مضبوط اور باوقار پہچان بھی حاصل کی۔ ان کی بصیرت، حکمت اور مستقل مزاجی نے بے شمار مسائل کو حل کیا۔ وہ مشکل ترین حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارتے تھے۔ میں ضرور ان کی طرف منسوب کرتے ہوئے چوک کا نام رکھوں گا تاکہ ان کی یاد باقی رہے۔
سماجی کارکن نظام الدین راعین نے کہا کہ مرحوم شبیر احمد انصاری مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں عوامی سطح پر بیداری پیدا کرتے اور عام لوگوں سے براہِ راست رابطہ رکھتے تھے اور پیچیدہ سماجی مسائل کو آسان انداز میں بیان کرتے تھے۔ سماجی کارکن اور فعال شخصیت جناب سعید خان نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی سماجی خدمت، انصاف کی فراہمی اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دی۔ او بی سی تنظیم کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے نہایت دیانت داری، بصیرت اور محنت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کی قیادت میں تنظیم نے ترقی کی نئی منازل طے کیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلیاں آئیں۔ روز نامہ ہندوستان کے مالک و مدیر جناب سرفراز آرزا نے کہا کہ ان کی وفات سے ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا پُر ہونا آسان نہیں، سادہ زندگی گزارنے والے، نچلے طبقے کے لوگوں کے حقیقی نمائندہ مضبوط مقرر اور تحریک چلانے والے رہنما تھے جس کی وجہ سے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ سابق ایم ایل اے وارث پٹھان نے کہا کہ انہوں نے نہ کبھی شہرت کی خواہش کی اور نہ ہی ذاتی مفاد کو ترجیح دی، بلکہ ہمیشہ قوم اور سماج کی بہتری کو اولین رکھا۔ آج ان کے جانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پر کرنا یقیناً مشکل ہے۔ آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے کار گزار صدر جناب فاضل انصاری نے کہا کہ مرحوم ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صرف ایک عہدہ رکھنے والے صدر نہیں تھے بلکہ مظلوموں کی آواز، محروموں کا سہارا اور قوم کے حقیقی رہنما تھے۔ بلکہ دوسروں کو امید اور ہمت دیتے تھے۔ ناظم اجلاس جناب عامر ادریسی نے کہا کہ مرحوم کے نام پر تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں اور ان کے مشن کا آگے بڑھایا جائے۔ معز زشخصیات میں ابراہیم بھائی جان، مشیر انصاری، ایڈوکیٹ قاضی مہتاب، تاج قریشی، مبین قریشی، مولانا عبدالجبار ماہرالقادری، مولانا اعجاز کشمیری، مولانا نورالعین وغیرہ شامل تھے

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد : بامبے صابن فیکٹری کی جگہ پر 1400 غیر مجاز جھونپڑیوں کی بے دخلی، ممبئی میونسپل کارپوریشن اور ضلع کلکٹریٹ کی مشترکہ کارروائی

Published

on

Mankhurd

ممبئی : مانخورد میں بامبے صابن فیکٹری (ڈبہ کمپنی) کی سرکاری جگہ پر 1400 غیر مجاز جھونپڑیوں کو، جو گھاٹ کوپرمانکلنک روڈ کے ساتھ واقع ہے، آج (8 اپریل، 2026) کو بے دخل کر دیا گیا۔ یہ کارروائی برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘ایم ایسٹ’ انتظامی ڈویژن اور ممبئی مضافاتی ضلع کلکٹریٹ نے مشترکہ طور پر کی ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر (تجاوزات اور بے دخلی) مشرقی مضافات نے حکام کو مہاراشٹر لینڈ ریونیو ایکٹ، 1966 کے سیکشن 50 کے تحت گھاٹ کوپر مانخورد لنک روڈ کے ساتھ واقع مانخورد میں بامبے صابن فیکٹری (ڈبہ کمپنی) کی سرکاری زمین پر جھونپڑیوں کو بے دخل کرنے کے لیے کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔اسی مناسبت سے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘ایم ایسٹ’ انتظامی ڈویژن، جوائنٹ کمشنر (زون-5) شری کی قیادت میں۔ دیوی داس کشیرساگر، اسسٹنٹ کمشنر (ایم ایسٹ) اجول انگولے نے یہ کارروائی کی۔ اس کارروائی کے لیے محکمہ بلڈنگ اینڈ فیکٹری کے اسسٹنٹ جونیئر اینڈ سیکنڈری انجینئرس کو مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تقریباً 200 ورکرز اور مشینری جیسے 3 پوکلن، 7 جے سی بی، 10 ڈمپر، 2 ڈرون کیمرے فراہم کیے گئے۔ اس موقع پر پولیس کی مناسب سیکورٹی تعینات تھی۔

بمبئی صابن فیکٹری (ڈبہ کمپنی) کے پاس ‘ایم ایسٹ’ انتظامی ڈویژن میں گھاٹ کوپر-مانخورد سڑک کے ساتھ مانخورد (ٹیلی کرلا) میں اربن سروے نمبر 1/2 (پائی) والی جائیداد پر تقریباً 22 ایکڑ اراضی ہے اور اس پر غیر قانونی طور پر جھونپڑیاں تعمیر کی گئی تھیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مانسون سے قبل نشیبی علاقوں اور مقامات کی نشاندہی کی ہدایت، میونسپل کمشنر نے سٹی ڈویژن میں نالوں اور میٹھی ندی کے کاموں کا معائنہ کیا

Published

on

ممبئی : دریائے میٹھی ندی کے پورے علاقہ کے ساتھ ساتھ ممبئی کے چھوٹے اور بڑے نالوں میں مانسون کے دوران پانی جمع ہونے والے مقامات پر نظر رکھتے ہوئے نالوں میں موجود کچرے اور کیچڑ کو ترجیحی بنیادوں پر ہٹایا جانا چاہیے۔ اس کام کے لیے وقتی منصوبہ بندی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ممبئی میں نالوں کی 100 فیصد صفائی کسی بھی صورت میں 31 مئی 2026 تک مکمل ہو جائے۔ اس کے ساتھ ہی ممبئی میونسپل کمشنر مسز اشونی بھیڈے نے بڑے سٹارم واٹر چینلز پر مین ہولز یا نالوں کا بھی معائنہ کرنے کی ہدایت دی ہےممبئی میونسپل انتظامیہ نے ممبئی کے نالوں اور ندیوں کی کیچڑ کو ہٹا کر صفائی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ممبئی میں نالے کی صفائی کے ساتھ ساتھ دریائے میٹھی ندی کا کام بھی جاری ہے تین پیکجوں کے تحت چھ مقامات پر کام شروع ہو چکا ہے۔

اس پس منظر میں، میونسپل کمشنراشونی بھیڈے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) مسٹر ابھیجیت بنگر نے آج (8 اپریل، 2026) باندرہ کرلا کمپلیکس میں ایم ایم آر ڈی اے دفتر کے قریب جیتاون ادیان میں دریائے میٹھی کا دورہ کیا، ورلی میں جاری نہرو سائنس سینٹر ڈرین (گھردراوی) (گھردراوی) اور شمالی دادرا (گھردراوی) میں صفائی ستھرائی کا جائزہ لیا۔ کمشنر نے دریافت کیا کہ ورلی (جنوبی زون) میں نہرو سائنس سنٹر ڈرین سے کیچڑ ہٹانے کا کام کب شروع ہوا اور کب تک مکمل ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی بھیڈے نے ہدایت دی کہ نالے کے پورے علاقے جہاں پر مانسون کے دوران پانی جمع ہوتا ہے اس کو دھیان میں رکھا جائے اور اس کے آس پاس کے علاقے کا کچرا یا نالے میں موجود کیچڑکو ترجیحی بنیادوں پر ہٹایا جائے۔ میونسپل کارپوریشن کے افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہر صورت میں 31 مئی 2026 تک نالے کی صفائی کو 100 فیصد مکمل کرنے کو یقینی بنائیں۔اس کے علاوہ پورے شہر میں بارش کے پانی کے بڑے راستوں پر مین ہولز یا کلورٹس کی موجودہ حالت کو سنجیدگی سے چیک کیا جانا چاہیے۔ بھیڈے نے ہدایت دی کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ نصب کیے گئے جال اچھی حالت میں ہوں۔ورلی ناکہ اور سنت گاڈگے مہاراج چوک (سات راستہ) کے علاقے میں پانی جمع ہونے کے لیے نشیبی علاقے ہیں۔ انہوں نے میٹرو اور روڈ ڈپارٹمنٹ کو یہ بھی ہدایت دی کہ برساتی نالوں کے ساتھ منسلک لیٹرل کو اچھی حالت میں برقرار رکھنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایسی جگہوں پر بارش کا پانی نکل سکے۔

میونسپل کمشنر بھیڈے نے دادر دھاروی نالہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر معلومات دیتے ہوئے متعلقہ حکام نے بتایا کہ دادر دھاراوی نالہ میں شہریوں کی طرف سے پھینکا جانے والا تیرتا فضلہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ توقع ہے کہ ایسی جگہوں پر نالوں کی ایک سے زیادہ بار صفائی کی جائے گی۔ اس نالے کے اوپر کی طرف بعض مقامات پر دیوار گر گئی ہے۔ اس سے آس پاس کے شہریوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تاہم متعلقہ وارڈ آفیسر اور برساتی پانی کی نکاسی کا محکمہ آپس میں مل کر دیوار کی مرمت کرائے۔ کمشنر نے کہا کہ شہر کے جن مقامات پر شہریوں کو کچرا نالوں میں پھینکنے کا مسئلہ ہے، وہاں ایسے نالوں میں جال لگانے کی پہل کی جانی چاہیے، تاکہ کچرے کو نالوں میں پھینکنے سے روکا جا سکے۔

دریائے میٹھی کے تینوں پیکجز میں چھ مقامات پر ڈرین کی صفائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ میونسپل کمشنراشونی بھیڈے نے ان کاموں کے بارے میں پیکج وار جانکاری لی بھیڈے نے پیکیج کے لحاظ سے باقی مدت کی منصوبہ بندی کا جائزہ لینے، کتنی گاڑیاں اور مشینری دستیاب کرائی گئی، متوقع رفتار سے کام کرنے میں کتنا اضافہ متوقع ہے، اور کام کی رفتار کو بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات دیں۔ میونسپل کمشنر نے کہا کہ افسران کو دریائے میٹھی کے سلٹنگ کے معیار پر بہت اصرار ہونا چاہیے، خاص طور پر پورے عمل میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایات دیں کہ اس کا صحیح استعمال کیا جائے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر (انفراسٹرکچر)گریش نکم، چیف انجینئر (رین واٹر چینل) کلپنا راول، ڈپٹی چیف انجینئر سنجے انگلے کے ساتھ متعلقہ افسران اور انجینئر موجود تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان