Connect with us
Tuesday,14-April-2026

(جنرل (عام

آئی این ایکس میڈیا : دہلی ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی درخواست خارج کی

Published

on

Delhi High Court

دہلی ہائی کورٹ نے آئی این ایکس میڈیا معاملے میں سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم اور دیگر ملزمان کو تفتیش سے متعلق دستاویزات دکھانے کی اجازت دینے والے خصوصی عدالت کے حکم کو چیلنج دینے والی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی درخواست بدھ کو خارج کر دی۔

جسٹس مکتا گپتا نے سی آر پی سی کی مختلف دفعات اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملزمین کو تفتیش سے متعلق دستاویزات دیکھنے اور اس کی فوٹو کاپی حاصل کرنے کا حق ہے۔ انہیں اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد 27 اگست کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 5 مارچ کو مسٹر چدمبرم، ان کے بیٹے ایم پی کارتک چدمبرم اور دیگر ملزمان کو تفتیش کے دوران جمع کئے گئے ثبوتوں کی دیکھنے اور اس کی فوٹو کاپی حاصل کرنے کی اجازت دی تھی۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے خصوصی عدالت کے اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سی بی آئی نے ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران دلیل دیتے ہوئے کہا تھا کہ تحقیقات کے دوران دستاویزات کو ملزمان کو دکھانے سے ثبوتوں میں چھیڑ چھاڑ ہو سکتی ہے۔ سی بی آئی کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کا یہ ایک بڑا معاملہ ہے۔

یہ مقدمہ کانگریس حکومت میں سابق مرکزی وزیر خزانہ مسٹر چدمبرم پر اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے آئی این ایکس میڈیا اور آئی این ایکس نیوز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو کروڑوں روپے کے نامناسب معاشی فائدہ پہنچانے کے الزامات سے متعلق ہے۔ اسی معاملے میں مسٹر چدمبرم کے بیٹے کارتک اور دیگر ملزم ہیں۔

اس معاملے میں سی بی آئی نے تعزیرات ہند کی دفعہ 120-بی، 420، 468 اور471 کے علاوہ بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ 1988 کی مختلف دفعات کے تحت 15 مئی 2017 کو ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی برآمدات متاثر، رئیس شیخ کا ریاست سے پیکج کا مطالبہ

Published

on

ممبئی ؛ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کی وجہ سے بھارت کی ٹیکسٹائل کی برآمدات متاثرہے اور سوتی اور دھاگے جیسے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث اس صنعت میں ہفتے میں تین دن لاک ڈاؤن ہے۔ اس لیے اس صنعت کو بچانے کے لیے بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریاست کی عظیم اتحاد حکومت سے خصوصی مالی پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے حال ہی میں ریاست کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور ٹیکسٹائل کے وزیر سنجے ساوکرے کو ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے فوری خصوصی مالیاتی پیکج کے حوالے سے ایک خط لکھا ہے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ اسٹیٹ ٹیکسٹائل کارپوریشن کی جانب سے کرائے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مارچ 2026 کے مہینے میں 4000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریاست میں 9 لاکھ 48 ہزار پاور لومز اور 4 ہزار ہینڈلوم ہیں۔ ملک میں 39 فیصد پاور لومز اکیلے مہاراشٹر میں ہیں۔ اگر حکومت نے اس صنعت کی مدد نہ کی تو کورونا کے دور کی طرح مزدوروں کی ریورس مائیگریشن شروع ہو جائے گی ٹیکسٹائل انڈسٹری واحد صنعت ہے جو زراعت کے بعد سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتی ہے۔ بھیونڈی، مالیگاؤں اور اچل کرنجی ٹیکسٹائل کی صنعت کے بڑے مراکز ہیں۔ خلیجی جنگ کی وجہ سے اس صنعت کا خام مال اور برآمدی سلسلہ تباہ ہو گیا ہے اور ہفتے میں دو دن پیداوار معطل ہے۔ اس پس منظر میں ایم ایل اے رئیس شیخ کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کو اس صنعت کو فوری مالی پیکیج فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
بنیادی طور پر یہ صنعت مہنگی بجلی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ اقتصادی لحاظ سے اہم اس صنعت کی برآمدات رک جانے سے تباہی کا خدشہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست میں لاکھوں ہنر مند اور غیر ہنر مند ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ایم ایل اے رئیس شیخ نے خط میں پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت فوری طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے مالیاتی پیکج کا اعلان کرے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ڈونگری میں مولانا خالد اشرف اور ان کے بیٹوں پر حملہ، 4 ملزمین گرفتار، کشیدگی امن قائم

Published

on

ممبئی : ممبئی ڈونگری میں مولانا سید خالد اشرف المعروف خالد میاں پر حملہ کے بعد ممبئی نے اقدام قتل کا کیس درج کر چار ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے خالد اشرف اوران کے فرزند پر حملہ سے ممبئی میں کشیدگی پھیل گئی ان کے مریدین جوق درجوق پولس اسٹیشن پہنچ گئے۔ اس کے بعد آج علما اہلسنت والجماعت نے خالد اشرف پر حملہ کے تناظر خاطیوں پر سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ آج علما اہلسنت اور آل انڈیا جماعت العلما نے ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کر کے پولس کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملزمین پر سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں کی سربراہی میں ایک وفد نے دیوین بھارتی سے ملاقات کی تھی۔ مولانا خالد اشرف نے کہا کہ مجھے ڈرگس فروشوں نے نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جس وقت ان حملہ آور منشیات فروشوں مجھ پر اور میرے فرزند پر حملہ کیا تھا تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ وہی مولانا ہے جو ڈرگس کے خلاف موومنٹ چلاتا ہے۔ اس لیے پولس کمشنر سے مولانا خالد اشرف نے یہ درخواست کی ہے کہ علما پر حملہ کرنا سراسر غلط ہے ایسے میں ان غنڈوں پر سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ پولس کی کارروائی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ساتھ ہی علما کرام اور عمائدین شہر کا بھی شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اس مصبیت کی گھڑی میں میں تنہا ہوں, اس لئے سبھی کا شکریہ اس کے ساتھ مولانا خالد اشرف نے مریدین اور متعلقین سے یہ درخواست کی کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے, اتنا ہی نہیں اشتعال انگیزی سے بھی اجتناب کرے جو بھی ہمارے مداح اور چاہنے والے ہیں وہ قطعی غلط حرکت نہیں کریں گے۔
علما منشیات فروشوں کے نشانے پر :
حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں نے آج خالد اشرف پر حملہ کے معاملہ میں پولس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کر کے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب علما کرام اور سفید پوش منشیات فروشوں کے نشانے پر ہے۔ اس کا مقصد عام عوام میں دہشت پیدا کرنا ہے اس لئے پولس سے مولانا معین میاں نے درخواست کی ہے کہ ایسے منشیات فروشوں پر سخت کارروائی ہو جو علما کرام کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھیونڈی میں مولانا خالد اشرف نے منشیات کے خلاف تحریک شروع کی تھی, اس کا اثر ممبئی میں بھی منشیات فروشوں پر ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی منشیات فروشوں کا ایک ریکیٹ کام کرتا ہے جو منشیات فروشی کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف مہم چلا کر اسے سوشل میڈیا میں بدنام بھی کرتے ہیں۔ اس لئے ایسے منشیات فروش گینگ کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے معین میاں نے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف پولس نے جو کارروائی کی ہے وہ اطمینان بخش ضرور ہے۔ لیکن ایسے منشیات فروشوں پر سخت کارروائی بھی وقت کا تقاضہ ہے۔ اس وفد میں رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری، مولانا اعجاز کشمیری اور مولانا انیس اشرفی بھی شامل تھے۔ مولانا خالد اشرف پر حملہ کے الزام میں ڈونگری پولس نے مجید لالہ پٹھان، راحیل پٹھان، ساحل پٹھان اور پیرو کو گرفتار کر لیا ہے اس کے ساتھ ہی نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ان حملہ آوروں نے مولانا خالد اشرف اور ان کے بیٹوں کو ڈنڈوں لاٹھی سے حملہ کر کے زدوکوب کیا جس کے سبب وہ اب بھی زخمی ہے اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی حادثہ : مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی، سی ایم فڑنویس کا اظہار افسوس

Published

on

ممبئی کے کلیان میں سڑک حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ ہسپتال میں داخل دو افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، حکام نے پیر کو بتایا۔ چیف منسٹر دیویندر فڑنویس نے اس واقعہ پر دکھ کا اظہار کیا اور مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ حکام نے بتایا کہ پیر کو ممبئی کے کلیان علاقے میں ایک ڈمپر ٹرک ایک کار سے ٹکرا گیا۔ یہ حادثہ صبح 11 بجے کلیان-مرباد روڈ پر رائتا پل کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کار کلیان سے آرہی تھی جب اس کی ٹکر ایک مکسر ٹرک سے ہوئی۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، انہوں نے کہا، “کلیان کے قریب نیشنل ہائی وے 61 پر دو گاڑیوں کے ایک ہولناک حادثے میں 11 جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ میں ان کے ساتھ دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔ ہم ان کے غم میں ان خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔” ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جب کہ زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ ٹٹ والا کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت کار میں 12 مسافر سوار تھے۔ مسافروں میں سے آٹھ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جب کہ ایک نے اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ مقامی لوگ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور متاثرین کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں مزید دو افراد اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے۔ پولیس کے مطابق گاڑی مرباد کی طرف جارہی تھی کہ کلیان کے قریب رائتہ پل کے قریب تصادم ہوا۔ اس سے قبل، نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے، تھانے کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈی ایس سوامی نے نو لوگوں کی موت کی تصدیق کی تھی۔ ٹٹ والا کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انیل لاڈ نے میڈیا کو بتایا، “ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ زخمیوں کا قریبی اسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس واقعے میں متعلقہ سرکاری محکموں کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔” پولیس نے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ تیز رفتار گاڑی نے قابو کھو دیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ٹکر کی وجہ سے ٹٹ والا-کلیان روڈ پر رائتا پل کے قریب ہائی وے پر بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہوگیا، جس سے علاقے میں گاڑیوں کی آمدورفت میں نمایاں طور پر خلل پڑا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان