Connect with us
Wednesday,18-March-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ڈوڈہ میں المناک سڑک حادثہ، 11 مسافر از جان، 15 زخمی

Published

on

accident

جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں جمعرات کی صبح ایک دلدوز سڑک حادثے میں 11 افراد جان بحق جبکہ زائد از ایک درجن زخمی ہو گئے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ٹھاٹری سے ڈوڈہ جارہی ایک منی گاڑی سوئی گواری کے نزدیک ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر ایک گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت گیارہ افراد کی موت جبکہ پندرہ دیگر زخمی ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ واقعہ پیش آتے ہی پولیس، فوج، ایس ڈی آر ایف اور مقامی لوگ جائے واردات پر پہنچ گئے، اور بچاؤ آپریشن شروع کر کے زخمیوں کو گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ منتقل کیا۔

جی ایم سی ڈوڈہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اس حادثے میں گیارہ مسافروں کی موت، جبکہ پندرہ دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں سے چھ کو علاج و معالجے کے لئے جموں ائیر لفٹ کیا گیا ہے، جبکہ باقی جی ایم سی ڈوڈہ میں زیر علاج ہیں۔

متوفین میں سے دس کی شناخت 60 سالہ غلام حسین شاہ، ولد محمد مقبول شاہ، اس کا بیٹا 30 سالہ شبیر احمد شاہ ساکن بھروت محلہ، 19 سالہ ریتک شرما ولد لکھ راج شرما ساکن جموں، 23 سالہ جمال الدین ولد لال الدین ساکن بکھانہ محلہ، 65 سالہ محمد لطیف ولد محمد رمضان ساکن بھدرواہ، 55 سالہ اناری دیوی زوجہ سوامی رام ساکن سسول بھر شالہ، 65 سالہ بہادر سنگھ ولد ہری سنگھ ساکن شردھانی بھلہ، 22 سالہ سنتوش کمار ولد سوم ناتھ، 24 سالہ راجیش کمار ولد بھودی سنگھ ساکن پر نوٹ محلہ اور سوم ناتھ کے بطور کی گئی ہے۔

زخمیوں میں سے چھ کی شناخت، جنہیں جموں ایئر لفٹ کیا گیا ہے،27 سالہ رمیش کمار،24 سالہ مونیکا دیوی، 22 سالہ سنتوشا دیوی،25 سالہ بابر،32 سالہ پرویز احمد اور 22 سالہ پونم دیوی کے بطور کی گئی ہے۔

باقی زخمیوں کی شناخت 18 سالہ سنجے کمار، 45 سالہ نوین اختر، 21 سالہ روہت شرما، 17 سالہ نیتو دیوی، 22 سالہ وکرم سنگھ، 22 سالہ اشوک شرما، 21 سالہ عارف حسین اور 45 سالہ سویتا دیوی کے بطور ہوئی ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم نریندر مودی، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ کے علاوہ کئی مقامی سیاسی لیڈروں نے اس دلدوز حادثے میں انسانی جانوں کے اتلاف پر اظہار غم کیا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ کے ٹھاٹری علاقے کے نزدیک ہونے والے سڑک حادثے سے دکھ ہوا اس مصیبت کی گھڑی میں، میں پسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا گو ہوں۔‘
انہوں نے کہا : ’مہلوکین کے لواحقین کو وزیر اعظم نیشنل ریلیف فنڈ میں سے لاکھ روپیے جبکہ زخمیوں کو پچاس ہزار روپیے ایکسگریشا دئے جائیں گے۔‘

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپنے ایک ٹویٹ میں اس سڑک حادثے پر اظہار غم کرتے ہوئے کہا: ’ڈوڈہ میں ہونے والے المناک سڑک حادثے کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا۔ مہلوکین کے پسمانگان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہوں۔ میں نے ضلع انتظامیہ کو متوفین کے لواحقین کو فوری امداد بہم پہنچانے اور زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دی ہیں۔‘

ان کا اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہنا تھا: ’جموں وکشمیر حکومت ڈوڈہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کے بہتر علاج و معالجے کو یقینی بنائے گی۔ ایل جی کے صوابدیدی فنڈ میں سے مہلوکین کے لواحیقن کو دو لاکھ رپیے اور روڈ ویکٹم فنڈ میں سے ایک لاکھ روپیے دئے جائیں گے۔ میں خود صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں اور متاثرہ کنبوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔‘

وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ کا اپنے ایک ٹویٹ میں کہنا تھا: ’ڈوڈہ کے نزدیک ہونے والے المناک حادثے کے بارے میں جانکاری حاصل ہوئی۔ میں نے ابھی ضلع مجسٹریٹ ڈوڈہ وکاس شرما کے ساتھ بات کی، زخمیوں کو جی ایم سی ڈوڈہ منتقل کیا جا رہا ہے، مزید جو بھی مدد درکار ہوگی فراہم کی جائے گی، میں آٹھ مہلوکین کے لواحقین کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔‘

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں اس سڑک حادثے پر اظہار غم کرتے ہوئے کہا: ’ڈوڈہ کے المناک سڑک حادثے سے انتہائی رنج ہوا میں اس حادثے میں جان بحق ہونے والوں کے لواحقین کی خدمت میں تعزیت پیش کرتی ہوں، اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا گو ہوں۔‘

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا : ہندو سکل سماج کارکن اور خوانچہ فروشوں میں تصادم، بی ایم سی آپریشن کے دوران مار پیٹ، دو مشتبہ افراد حراست میں، پولیس الرٹ

Published

on

street-vendor-police

ممبئی : ممبئی کے کرلا علاقہ میں گزشتہ شب بی ایم سی عملہ کے ہمراہ ایک ہندو سکل سماج کے رضا کار پر حملہ کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ کرلا پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر معاملہ درج کر لیا ہے. اس معاملہ میں پولیس نے دو افراد کو زیر حراست بھی لیا ہے پولیس نے بتایا کہ گزشتہ شب 7 بجکر 41 منٹ پر کرلا آکاش گلی میں بی ایم سی کی کارروائی جارہی تھی اور اس رضا کار نے اس غیر قانونی خوانچہ فروش کی شکایت کی تھی, جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا فی الوقت حالات پرامن ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے۔

کرلا میں خوانچہ فروشوں کے خلاف بی ایم سی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی جاری ہے ایسے میں ہندوسکل سماج اور خوانچہ فروشوں میں تصادم کو ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش بھی شروع ہوگئی ہے جبکہ پولیس نے اس سے انکار کیا ہے آج بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے متاثرہ اکشے کی بھابھا اسپتال میں جاکر عیادت کی اتنا ہی نہیں اس معاملہ میں کی کارروائی پر بھی سوال اٹھایا ہے انہوں نے پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کریٹ سومیا نے شرانگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوانچہ فروش مسلم بنگلہ دیشیوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا, اتنا ہی نہیں انہوں نے کہا کہ کرلا اسٹیشن پر پولیس اور بی ایم سی کے سازباز و ملی بھگت کے سبب پھیری والوں ہاکروں خوانچہ فروشوں پر کارروائی میں تال مل کیا جاتا ہے, یہی وجہ ہے کہ یہاں ہاکرس کی غنڈہ گردی بڑھ گئی ہے. ایک ماہ قبل ہی خوانچہ فروشوں نے مل کر نوجوانوں پر حملہ کر دیا ان کے سر پر چوٹ آئی تھی. اس کے ساتھ ہی بھانڈوپ میں بی ایم سی افسران و اہلکاروں ور لوکھنڈوالا میں بھی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا ہے. انہوں نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی میں مسلم بنگلہ دیشی ہاکروں کے سبب اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے. اس لئے مسلم بنگلہ دیشی خوانچہ فروشوں پر سخت کارروائی ہو, انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشیوں اور پھیری والوں کے خلاف ان کی مہم جاری رہے گی۔ کریٹ سومیا نے کہا کہ اکشے اپنی بہن کے ساتھ کرلا اسٹیشن کی جانب جارہا تھا کہ اچانک پھیری والوں سے اس کی حجت ہوئی اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا, کرلا میں اس واقعہ کے بعد پولیس نے الرٹ جاری کردیا ہے. ساتھ ہی آکاش گلی میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کرلا پولیس اسٹیشن کے سنیئر انسپکٹر وکاس مہمکر نے کہا کہ آکاش گلی میں مارپیٹ کے واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کر دی ہے, حالات پرامن ہے اور سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس الرٹ ہوگئی ہے, جبکہ کشیدگی کے بعد صورتحال پرامن ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونہ لب جھیل : مسلم نوجوانوں پر تشدد، حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی ہو، ابوعاصم اعظمی کا خاطیوں پر کیس درج کرنے کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : پونہ سسورڈ لب جھیل میں مسلم نوجوانوں پر افطار کے دوران مسلح سو سے دو سو حملہ آوروں کا حملہ انتہائی تشویشناک ہے اس حملہ کے بعد پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں پر زور مطالبہ کیا ہے کہ خاطیوں شرپسندوں پر سخت کارروائی کی جائے اور ان پر اقدام قتل کا کیس درج ہو, کیونکہ ان مسلم نوجوانوں پر ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا, اس کے باوجود پولیس نے معمولی دفعات میں کیس درج کیا ہے, جو سراسر غلط ہے. آج حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں, اگر کوئی باہر نماز ادا کرتا ہے تو اس پر حملہ کیا جاتا ہے ماضی میں مسجد کے باہر ہندو عورتیں اپنے بچوں کو لے کر کھڑا ہوجایا کرتی تھی کہ نمازی سے اپنے بچوں کیلئے دعا کروائیں اور وہ بچے کے سر پر پھونک مارتے تھے, لیکن اب نماز پڑھنے پر واویلا مچایا جاتا ہے. اس کے ساتھ ہی تشدد کیا جاتا ہے انہو ں نے کہا کہ شیواجی مہاراج کے اصولوں پر ریاست کا کام کاج چلے گا یہ دعوی کیا جاتا ہے, لیکن آج حالات کچھ اس طرح سے کہ منہ میں رام بگل میں چھری والا معاملہ ہوگیا ہے. انہوں نے کہا کہ یہ غنڈہ گردی بند ہونی چاہئے اور میں یہاں اسمبلی میں ہوں اور نماز کا وقت ہوجائے تو میں کہاں نماز ادا کروں گا. اسی طرح سے اگر کوئی کھیت میں ہے تو وہاں نماز ادا کرتا ہے جو جس جگہ ہے وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے, لیکن آج حالات کچھ اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کی عبادت پر اعتراضات کئے جاتے ہیں جو سراسر غلط ہے, اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور جو کوئی ماحول خراب کرتا ہے, اس پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کرلا میں غیرقانونی ہاکروں اور ہوٹلوں پر کارروائی ہو گی، ہاکروں پر ایف آئی آر درج کرنے کا بی ایم سی کا انتباہ، موثر کارروائی کےلیے پولس مستعد

Published

on

ممبئی : کرلا علاقہ میں ایک مرتبہ پھر غیرقانونی ہاکروں کے خلاف کارروائی پر ہندوسکل سماج نے سخت کارروائی کامطالبہ کر تے ہو ئے احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے بعد بی ایم سی اب ایسے ہاکروں کےخلاف کیس درج کرے گی جو بارہا راستہ اور فٹ پاتھ پر قبضہ کرتے ہوئے پائے گئے ہیں یا پھر کارروائی میں مداخلت کی ہے ہاکروں پر کارروائی مزید موثر بنانے کےلیے پولس اور بی ایم سی ایل وار ڈ مشترکہ کارروائی کرے ہاکروں کے سبب اہلیان کرلا کو کافی پریشانیوں کا سامنا ہے جس کے بعد ایل وار ڈ میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈی ایم سی سرشاگر نے یہ واضح کیاہے کہ کرلا کو ہاکرس سے پاک کرنے کے ساتھ غیر قانونی قبضہ جات پر کارروائی ہوگی۔
اسسٹنٹ میونسپل کمشنر دھناجی ہیرلیکر نے کہا کہ ایل وار ڈ کرلا کی حدود میں جو کارروائی جنوری میں جاری تھی اس میں مزید پیش رفت کرنے کے ساتھ موثر انداز میں کارروائی کےلیے اب ایف آئی آر کا اندراج ہوگا بی ایم سی کی شکایت پر پولس اب اس معاملہ میں کیس درج کرے گی اس میٹنگ میں کرلا سنئیر پولس انسپکٹروکاس مہمکر نے کاروائی میں ہر طرح سے تعاون کا یقین دلایا ہے اس سے قبل سکل ہندو سماج نے پھیری والوں اور ہاکروں کو فرقہ وارانہ اور مذہبی رنگ دینے کی بھی کوشش کی اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں غیرقانونی افطار پارٹی اور سڑک پر بلا اجازت افطار پارٹی پر بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اتناہی نہیں مارکیٹ میں عارضی نماز کی کے شیڈ کو بھی ہٹانے کا مطالبہ ہے اس پر بی ایم سی افسران نے ضروری کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔
کرلا میں غیرقانونی فٹ پاتھ پر قبضہ کو لے کر بی ایم سی اب حرکت میں آگئی ہے اس لئے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر دھناجی ہیرلیکر نے یہ واضح کیا ہے کہ سڑکوں اور فٹ پاتھ پر جن ہوٹلوں نے قبضہ کیا ہے اس پر بھی کارروائی کی جائے گی یہ کارروائی ٹریفک پولس اور پولس عملہ کے ساتھ مل کر انجام دی جائے گی بی ایم سی کی یقین دہانی کے بعد سرکل ہندو سماج نے اپنا مورچہ ختم کر دیا۔ بی جے پی لیڈر روپیش پوار نے کہا ہے کہ کرلا سہارا ہوٹل سے لے کر ایل بی ایس مارگ تک ہوٹلوں نے فٹ پاتھ پر قبضہ کر رکھا ہے یہاں ٹریفک مسئلہ ہے اسی مقام پر پانچ اسپتال ہے اگر کوئی مریض انتہائی تشویشناک حالت میں رہا تو اس کو اسپتال تک پہنچانا مشکل ہوتا ہے اس میں کئی مریض کی جان بھی فوت ہو گئی ہے اس لئے ان ہوٹلوں پر بھی کارروائی ضروری ہے جو فٹ پاتھ پر کاروبار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کرلا کے شہری فٹ پاتھ کےلیے پریشان ہے اور بی ایم سی اگر اس پر کارروائی میں تساہلی کرتی ہے تو اس متعلق احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی بی ایم سی کو ہندسکل نے انتباہ دیا ہے کہ اگر غیر قانونی کاروبار اور پھیری والوں پر کارروائی نہیں کی گئی تو احتجاج میں مزید شدت ہوگی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان