Connect with us
Tuesday,06-October-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

اردو سمیت تمام ہندوستانی زبانوں میں سائنس کو مقبول بنانا وقت کی اہم ضرورت : نکل پراشرا

Published

on

Director Nickel Prashara

حکومت ہند کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت سائنس کو عوام میں مقبول بنانے کی غرض سے قائم شدہ ادارہ وگیان پرسار کے زیر اہتمام یہاں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا، جس میں اردو سمیت تمام ہندوستانی زبانوں کے ذریعہ سائنسی علوم کو عوام تک پہنچانے کی حکمت عملی اور اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وگیان پرسار کے ڈائرکٹر نکل پراشرا نے کہاکہ ہندوستانی زبانوں کا ذریعہ استعمال کئے بغیر سائنس کو عوام تک نہیں پہنچایا جاسکتا۔ عام لوگوں سے مخاطب ہونے کے لئے ان کی زبان میں گفتگو کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ہندوستانی زبانوں میں کتب و رسائل کی اشاعت کے ذریعہ سائنس کو مقبول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اردو زبان کے ذریعہ سائنس کو فروغ دینے کے لئے گزشتہ ماہ سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر، سری نگر کے اشتراک سے اردو سائنس کانگریس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اردو میں ”تجسس“ کے نام سے ایک ماہانہ میگزین 2019 سے شائع ہو رہا ہے۔

وگیان پرسار کے زیر اہتمام منعقدہ اس ورکشاپ میں مختلف زبانوں کے سائنسی ماہرین نے شرکت کی اور ہندوستانی زبانوں کے ذریعہ سائنس کو مقبول عام بنانے پر زور دیا گیا۔ ہندی اور انگریزی کے علاوہ اردو، کشمیری، ڈوگری، پنچابی، گجراتی، مراٹھی، کنڑ، تمل، تیلگو، بنگالی، آسامی، میتھلی اورنیپالی کے ماہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر وگیا پرسار کی مختلف زبانوں میں شائع شدہ مطبوعات بھی رکھی گئی تھیں۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نکل پراشر نے کہا کہ سماج میں ہر سطح پر سائنس کی ترسیل اور مقبولیت کو یقینی بنانے کے لئے مقامی زبانوں کو ذریعہ بناناایک موثر طریقہ ثابت ہوگا۔

وگیان پرسارکے سائنس داں ڈاکٹر ٹی وی وینکٹیشورن نے کہا کہ کسی بھی پیغام کی موثر ترسیل کے لئے مادری زبان کا سہارا لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وگیان بھاشا پروجیکٹ میں سرکاری اور غیر سرکاری ایجنسیوں اور اداروں کا تعاون درکار ہے۔

اس ورکشاپ میں مختلف تنظیموں کے ذریعہ سائنس کو مقبول بنانے کی کاوشوں کا ذکر کیا گیا، اور مختلف اداروں اور تحریکوں کے مابین ربط پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ سائنس کلب قائم کرنے کے کام کو مزید توسیع دی جائے اور شاعری اور ادب جیسی سرگرمیوں سے بھی سائنس کے فروغ کا کام لیا جائے۔ ماضی میں ہندوستانی زبانوں میں سائنسی ادب اور سرمایہ اور تحریک آزادی میں سائنس دانوں کے رول کی روشنی میں مستقبل میں ہندوستانی زبانوں میں سائنس پر نئے لکھنے والوں کو راغب کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

ماہرین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اپنی مادری زبان میں سوچنے اور غور کرنے کی فطری صلاحیت کو بروئے کار لاکر ہم سائنسی ایجادات اور نئے کاموں کے لئے راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ حکومت ہند تمام ہندوستانی زبانوں کا فروغ چاہتی ہے اور وگیان پرسار کے پروگراموں سے ان مقاصد کی تکمیل میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر نکل پراشر نے کہا کہ علم کا ذخیرہ اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ ہم نے اب تک اسکول کالج میں جو پڑھا ہے، وہ قطعی ناکافی ہے، لہٰذا نئے علوم و فنون سے خود کو باخبر رکھنا اور علم کی ترقی کی رفتار کے ساتھ ہم قدم ہو کر چلنا اشد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکول کالج کی نصابی سرگرمیوں سے باہر سائنس کلب، سائنسی کھانے، مقبول عام سائنس کی کتابیں، اخباروں میں سائنسی خبروں اور سوشل میڈیا کے پیغامات کے ذریعہ سائنس کو عوام تک پہنچانے کو ترجیح دی جانی چاہئے۔

انہوں نے بتایاکہ وگیان پرسار کا زمینی سطح کی سرگرمیوں کے لئے ہر ضلع تک پہنچنے کا ارادہ ہے۔ اس کام میں رضاکار اداروں اور افراد کا رول اہم ہوگا۔ وگیان بھاشا پروجیکٹ کے تحت وگیان پرسار سائنس کو مقبول عام بنانے میں کلیدی رول ادا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

وگیان پرسار، حکومت ہند نے 1989 میں قائم کیا تھا۔ یہ ادارہ 32 سال سے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت ایک خود مختار ادارے کے طور پر ہندوستانی زبانوں اور انگریزی کے ذریعہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے عوام کو وابستہ کرنے کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کا مقصد عوام میں سائنسی مزاج اور سائنسی رویہ کو فروغ دینا بھی ہے۔ یہ ادارہ کتابوں اور رسائل کی اشاعت کے ذریعہ اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے استعمال سے نیز براہ راست عوام تک پہنچ کر سائنس کو مقبول بنانے کے لئے مستقبل کا لائحہ عمل بھی ترتیب دے رہا ہے۔

وگیان پرسار کے سائنس داں ڈاکٹر نمیش کپور نے بتایا کہ وگیان پرسار علاقائی زبانوں کے ذریعہ سائنس کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اردو کے ساتھ اب کشمیری زبان کو بھی وگیان پرسار کے پروگراموں کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اردو میں سائنس اور طب پر حال ہی میں کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں، اور اردو ماہنامہ ”تجسس“ کو بھی اچھی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیری زبان میں سائنس کو مقبول بنانے کے لئے حال ہی میں وگیان پرسار نے سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے ساتھ ایک میمورنڈم پر دستخط کئے ہیں۔

اس ورکشاپ میں وگیان پرسار کے سائنس دانوں کے علاوہ سابق چانسلر، کشمیر سینٹرل یونیورسٹی معراج الدین میر، پروفیسر شاہد رسول (سری نگر)، ڈاکٹر گوہررضا، ڈاکٹر کونکنی داس گپتا، حسن ضیاء اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق استاد پروفیسر زاہد حسن خاں نے بھی شرکت کی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی جعلی اے پی کے فائلس کے ذریعے بزرگ اور دیگر شہریوں کو دھوکہ دینے والا گرفتار

Published

on

ممبئی : 72 سالہ بزرگ شہری سن رسیدہ کو نامعلوم موبائل ہولڈر نے فون کرکے بینک آف انڈیا کا سینئر منیجر دنیش کمار ہونے کا جھانسہ دے کر اور سینئر سٹیزن کارڈ بنا کر بنانے کا وعدہ کر اعتماد حاصل کر شکایت کنندہ کے واٹس ایپ پر سینئر سٹیزن کارڈ http://Verification.apk نام کی اے پی کے فائل بھیج کر اس میں شکایت کنندہ کی ذاتی اور بینک کے ڈیبٹ کارڈ کی معلومات بھرنے پر مجبور کرکے شکایت کنندہ کے کل 5,62,000/- روپے کی دھوکہ دہی کرکے غبن کرنے کے معاملے میں بھائیکلہ پولیس اسٹیشن 497/26 دفعہ 318(4)، 319(2) بی این ایس دفعہ 66(ک) (ڈ) انفارمیشن و ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت جرم درج کیا تھا۔ مذکورہ جرم کی متوازی تفتیش پراپرٹی سیل، کرائم برانچ، ممبئی کر رہی تھی سینئرز کے حکم کے مطابق مذکورہ جرم کی مزید تفتیش کرائم برانچ کو منتقل ہو کر 927/2026 کے تحت دوبارہ درج کر جرم کی تفتیش کی گئی۔ مذکورہ جرم میں مذکورہ اے پی کے فائل کی گہری تکنیکی تفتیش کی گئی اور ملزم کا سراغ لگایا گیا اور جعلی اے پی کے فائل ڈیولپ کرنے والے ایک مرد ملزم عمر36 سال، سافٹ ویئر ڈیولپر، رہائشی ریاست مدھیہ پردیش سے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

جرم میں گرفتار ملزم کے مدھیہ پردیش کے دفتر میں چھاپہ کارروائی کے دوران ملزم سے 1 پین ڈرائیو، 1 سی-پی-یو، 3 ہارڈ ڈسک، ایک وائی-فائی راؤٹر، 3 موبائل فون برآمد کرکے ان کی ابتدائی تکنیکی تفتیش میں ملزم مختلف سرور سروس پرووائیڈر کمپنی سے مختلف کمپنیوں کے سرور استعمال کر رہا تھا ایسا نظر آیا۔ جرم میں گرفتار ملزم نے بنائی ہوئی کل 2805 نقصان دہ اے پی کے فائلیں دیگر سائبر مجرموں کے گروہ کو فروخت کی ہیں ایسا تفتیش میں ثابت ہوا ہے۔ مذکورہ 2805 اے پی کے فائلوں کے ذریعے بھارت میں کل 9673 لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہے۔ ان میں سے سائبر ہیلپ لائن نمبر 1930 پر بھارت میں 1074، مہاراشٹر میں 143، ممبئی میں 36 شکایات درج ہیں اور ان کے کل 15,75,00,000/- روپے کی دھوکہ دہی کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں سے بھارت میں 88، مہاراشٹر میں 08، ممبئی میں 05 درج جرائم کا پردہ فاش ہو رہا ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی دیوین پولس کمشنر جوائنٹ پولس کمشنر انل کنبھارے، اور ایڈیشنل کرشنا کانت اپادھیائے، ڈی سی پی (جرائم)، راج تلک روشن، وکرائم برانچ نے اہم کارکردگی انجام دی ہے۔ ڈی سی پی راج تلک روشن نے بتایا کہ بزرگوں کو بزرگوں کے کارڈ سازی کے نام پر دھوکہ دہی کرنے کے معاملہ میں یہ کارروائی کی گئی ہے اس لئے وقتا فوقتا پولس اس متعلق بزرگوں میں بیداری بھی پیدا کرتی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پولیس سرکار اور معاشرہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، ممبئی پولیس کمشنر کے ہمراہ میٹنگ کے بعد وجیا راہٹکر کا دعوی

Published

on

ممبئی : خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سرکار پولیس اور معاشرہ کی ہے اس کیلئے قومی خواتین کمیشن بھی کوشاں ہے اس لئے آج ممبئی میں خواتین کمیشن نے دورہ کر کے ممبئی میں خواتین کے مسائل اور ان سے متعلق کیسوں اور اعدادوشمار کا جائزہ لیا ہے خواتین کمیشن کی قومی سربراہ وجیا راہٹکر نے کہا کہ ممبئی میں خواتین کی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ویمنس اور چائلڈ ڈیسک کے ساتھ خواتین سے متعلق شکایات کے ازالہ کیلئے خواتین ہیلپ لائن کا بھی قائم عمل میں لایا گیا ہے۔ کمپیوں اور دیگر اداروں میں خواتین کی ہراسائی سے متعلق شکایت کیلئے پوس ایکٹ تیار کیا گیا ہے اس ایکٹ سے متعلق بھی بیداری کی ضرورت ہے۔ دیگر ریاستوں کے مقابلے ممبئی اور ریاست میں خواتین زیادہ محفوظ ہے یہ دعوی وجیا راہٹکر نے کیا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی اور پولیس کے اعلی افسران بھی اس اہم میٹنگ میں موجود تھے۔ وجیا راہٹکر نے کہا کہ ریاستی خواتین کمیشن اور دیگر کمیشنوں سے بھی مشترکہ میٹنگوں کا دورہ قومی کمیشن کا جاری رہتا ہے, ایسے میں خواتین کے مسائل اور ان کو درپیش دقتوں سے متعلق بھی ممبئی پولیس سے تفصیلات طلب کی گئیں۔ گھریلو حالات اور گھریلو ایکٹ سے متعلق بھی پولیس کی شکایات کے تصفیہ کے طریقہ کار پر بھی غور و خوص کیا گیا کیونکہ گھریلو معاملات میں اگر پولیس نے صحیح رہنمائی کی تو گھر محفوظ ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی سائبر جرائم میں خواتین سے متعلق ویڈیو وائرل ہونے سے متعلق بھی تشویش کا اظہار خواتین کمیشن نے کیا ہے۔

احتجاجی مظاہروں کے دوران خواتین کے ساتھ بدسلوکی احتجاجی مظاہروں کے دوران خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے شکایت پر وجیا راہٹکر نے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملات ہیں ایسے میں خواتین کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنانے کی ذمہ داری سرکار اور پولیس کی ہے اور معاشرہ کو بھی اس متعلق بیدار ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے معاملات تشویشناک ہے یہ پوچھنے پر کہ پولیس پر بھی خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات عائد ہوتے رہتے ہیں اس پر خواتین کمیشن نے اب تک کیا ایکشن یا کارروائی ہے جس پر وجیا راہٹکر نے کہا کہ دلی میں خواتین سے متعلق شکایت کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا ہے, اس لئے اس پر خواتین کمیشن کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے ساتھ ہی ممبئی پولیس کی کارگزاریوں سے وجیا راہٹکر نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ممبئی میں خواتین سے متعلق معاملات زیادہ نہیں ہے اور شکایات کا بھی ازالہ کرنے کا دعوی ممبئی پولیس کمشنر نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی موبائل چورگینگ بے نقاب : کل 16 لاکھ روپے قیمت کے 42 موبائل فون برآمد، پولس تفتیش میں مصروف

Published

on

ممبئی گام دیوی پولیس تھانہ 693/26 دفعہ 303(2)، 3(5) بی این ایس اس جرم میں شکایت کنندہ یہ قلابہ ہل، بس اسٹاپ سے پیڈر روڈ، ممبئی اس دوران بس سے سفر کر رہا تھا اس دوران نامعلوم شخص نے بھیڑ میں دھکا دے کر شکایت کنندہ کا ون پلس کمپنی کا موبائل فون چوری کر لیا جس کے بعد اس معاملہ میں مقدمہ داخل کیا گیا تھا۔ مذکورہ جرم کی تفتیش کے دوران تکنیکی تفتیش اور خفیہ مخبروں کے ذریعے حاصل معلومات کی بنیاد پر مزید تفتیش کرکے اس طرح کے جرائم کرنے والی منظم گینگ کا سراغ لگا کر انہیں مانخورد، شیواجی نگر اور گینگ کے سرغنہ کو راجستھان سے گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار ملزمین
1) آفتاب آباد انصاری عمر 26 سال
2) حسن عباس شیخ عمر 35 سال
3) چاند محمد محمد سلطان عمر 53 سال
4) امتیاز امام علی شیخ عمر 46 سال
5) اجمی اکرم قریشی عمر 32 سال
6) سوپنل شنکر سونونے عمر 29 سال
7) رجب علی محمد تقی شیخ (عرف چکنا) عمر 32 سال

مذکورہ جرم کے مال مقدمہ سمیت دیگر جرائم کے 42 مختلف کمپنیوں کے چوری کیے گئے موبائل فون برآمد کیے گئے ہیں۔ مذکورہ بہترین کارکردگی یہ، دیوین بھارتی، پولیس جوائنٹ پولس کمشنر منوج کمار شرما، ایڈیشنل کمشنر شلیش بلکاوڈے، (جنوبی پری منڈل 02) راگسدھا آر، پرشانت موہتے، پولیس، راجیو پاٹل، نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان