Connect with us
Wednesday,10-June-2026
تازہ خبریں

بزنس

ریلائنس فاونڈیشن نے وومین کنیکٹ چیلنج انڈیا گرانٹ پانے والی تنظیموں کے ناموں کا اعلان کیا

Published

on

Chairperson Nita Ambani

”ریلائنس فاونڈیشن ہندوستان میں جنسی ڈیجیٹل فاصلہ کو پاٹنے کی سمت میں یو ایس ایڈ کے ساتھ شراکت داری میں بھی کام کر رہا ہے۔ ٹیکنالوجی نابرابری کو دور کرنے اور ختم کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ میں تبدیلی کے اس سفر پر ہمارے وومین کنیکٹ چیلنج انڈیا کے دس فاتحین کو مبارکباد دیتی ہوں، اور اپنے ساتھ آنے پر ان کا استقبال کرتی ہوں۔“ان خیالات کا اظہار ریلائنس فاؤنڈیشن کی فاؤنڈر چیئرپرسن نیتا امبانی نے ریلائنس فاونڈیشن اور یو ایس ایجنسی فار انٹر نیشنل ڈیولپمنٹ (یو ایس ایڈ) کے ذریعہ کی شروع کردہ وومین کنیکٹ چیلنج انڈیا کیلئے پورے ہندوستان سے دس منتخب تنظیموں کو گرانٹ حاصل کرنے کے حوالے سے کیا۔

انہوں نے منتخب تنظیموں کے ناموں کے اعلان کے موقع پر مزید کہا کہ زندگی کے ہر شعبہ میں خواتین کو خودمختار اور مضبوط بنانا ہمارا مشن رہا ہے۔ جب ہم نے جیو لانچ کیا، تو ایک ڈیجیٹل ریوولیوشن کا تصور کیا تھا، جو سبھی کیلئے یکساں مواقع فراہم کرے۔ جیو کے ذریعہ، ہم اپنے ملک کے ہر حصے میں موجود لوگوں کو سب سے سستی کنیکٹویٹی فراہم کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ریلائنس فاونڈیشن اور یو ایس ایجنسی فار انٹر نیشنل ڈیولپمنٹ (یو ایس ایڈ) کے ذریعہ کی شروع کی گئی وومین کنیکٹ چیلنج انڈیا کیلئے ہندوستان بھر میں دس تنظیموں کو گرانٹ حاصل کرنے والوں کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ اس پہل کے ذریعہ جنسی ڈیجیٹل فاصلہ کو دور کرنے میں مدد کرنے کیلئے 11 کروڑ روپے (1.5 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ) کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اور اس میں سے، ریلائنس فاونڈیشن نے مختلف مسائل کے تخلیقی حل (انووٹیو سالیوشن) حاصل کرنے بارے منصوبوں کیلئے گرانٹ میں 8.5 کروڑ روپے (1.1 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ) کی حمایت کی ہے۔ اس کوشش کے تحت 18 پردیشوں میں 3 لاکھ (300,000) سے زیادہ خواتین و لڑکیاں جینڈر ڈیجیٹل ڈیوائڈ کو دور کرنے اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ خواتین کے مالی مضبوطی کرن کو بڑھانے کی پہل سے مستفیض ہونگی۔

اس کوشش کے تحت گرانٹ حاصل کرنے والی تنظیموں میں انودیپ فاونڈیشن، بیئر فُٹ کالج انٹرنیشنل، سینٹر فار یوتھ اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ، فرینڈز آف وومین ورلڈ بنکنگ، نندی فاونڈیشن، ڈیولیپمنٹ ایکشن کیلئے پروفیشنل اسسٹنٹ، سوسائٹی فار ڈیولیپمنٹ ألٹر نیٹیو، سولیڈریڈاڈ ریجنل ایکسپرٹائز سینٹر، ٹی این ایس انڈیا فاونڈیشن اور زیڈ ایم کیو ڈیولیپمنٹ شامل ہیں۔ سالیوشن مہلا کسانوں، صنعتکاروں، خود مددگار گروپ کے ممبروں کو جنسی ڈیجیٹل فاصلہ کو ختم کرنے کیلئے سماجی و ثقافتی رکاوٹوں
کو دور کرنے کیلئے کی جا رہی کوششوں کو خطاب کرتے ہیں۔

وومین کنیکٹ چیلنج انڈیا کو اگست 2020 میں لانچ کیا گیا تھا، 180 سے زیادہ درخواستوں کے پول سے 10 تنظیموں کو 12 سے 15 مہینوں کی مدت کیلئے 75 لاکھ سے 1 کروڑ روپے کے بیچ گرانٹ کے ساتھ چنا گیا تھا۔ جنوری 2021 میں یو ایس ایڈ اور ریلائنس فاونڈیشن نے مشترکہ طور سے سالور سمپوزیم کی میزبانی کی، جس میں بھارت میں جینڈر ڈیجیٹل ڈیوائڈ پر غور و خوض کرتے ہوئے صلاحیت کی تعمیر کیلئے سیمی فائنلسٹ اور باہری ماہرین کو ایک ساتھ لایا گیا۔

خواتین میں ہر سال موبائل انٹر نیٹ کے تئیں بیداری بڑھ رہی ہے۔ جبکہ 2017 میں ہندوستان میں صرف 19 فیصدی خواتین ہی موبائل انٹرنیٹ کے بارے میں جانتی تھی۔ 2020 میں یہ بڑھ کر 35 فیصد ہو گئی۔ ملکیت کے معاملے میں 79 فیصد مردوں کے مقابلہ میں 67 فیصد خواتین کے پاس موبائل فون ہیں۔ برسوں سے ریلائنس فاونڈیشن کی پہل کا مقصد ڈیجیٹل فاصلہ کو دور کرنا رہا ہے۔ ریلائنس جیو کے ذریعہ 1.3 بلین سے زیادہ بھارتیوں نے ملک گیر سطح پر ایک مکمل ڈیجیٹل انقلاب دیکھا ہے، جس نے سبھی کی زندگی کو بدل دیا۔ آج جیو ہندوستان میں سب سے بڑی ڈیجیٹل سروس پرووائیڈر کمپنی ہے، اور 120 ملین خواتین جیو یوزرس کے ساتھ دنیا میں دوسری سب سے بڑی کمپنی ہے، اور ڈیجیٹل فاصلہ کو پاٹنے کیلئے یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

وومین کنیکٹ چیلنج خواتین کی پہنچ اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقوں کو مثبت طور سے بدل کر روز مرہ کی زندگی میں خواتین کی شراکت داری کو بہتر بنانے کے حل کیلئے ایک عالمی اپیل ہے۔ یو ایس ایڈ نے ہندوستان میں جنسی ڈیجیٹل فاصلہ کو ختم کرنے والے نظریات کی حمایت کرنے کیلئے ریلائنس فاونڈیشن کے ساتھ شراکت داری کی ہے، اور نئے گرانٹ حاصل کرنے والی خواتین کو مالی طور پر مضبوط بنانے کیلئے پچھلے وومین کنیکٹ راونڈ سے مصدقہ حکمت عملیوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔

بزنس

بدلاپور کے لوگوں کے لیے بڑی خبر… ممبئی میٹرو 14 پروجیکٹ پر کام تیزی سے جاری، دو مرحلوں میں مکمل ہونے کا منصوبہ ہے۔

Published

on

Mumbai-Metro

ممبئی : ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کی بڑھتی ہوئی آبادی اور نقل و حمل کی ضروریات کے جواب میں، میٹرو 14 پروجیکٹ کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس منصوبے کو نقل و حمل کی ضروریات کے جواب میں ہے۔ پہلے مرحلے میں شلفاٹا سے بدلاپور روٹ کی ترقی کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ اس سے بدلاپور اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کے یومیہ سفر میں نمایاں طور پر آسانی ہو سکتی ہے۔ میٹرو 14 کو تیز کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جو ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کا ایک اہم پروجیکٹ ہے۔ مرحلہ وار نفاذ کی حکمت عملی ایک امید افزا آپشن کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پہلے مرحلے میں شلفاٹا سے بدلاپور تک تقریباً 25 کلو میٹر کا راستہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس روٹ کا ایک حصہ میٹرو 12اے لائن کے متوازی چلے گا۔ اس مجوزہ راستے سے مستقبل میں بدلا پور، نلجے، گھنسولی، مہاپے اور شلفاٹا کے رہائشیوں کو عوامی نقل و حمل کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کی امید ہے۔ ان تیزی سے شہری ہونے والے علاقوں میں مسافروں کو خاصا فائدہ ہوگا۔

ابتدائی طور پر اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت مکمل کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، متوقع ردعمل کی کمی کی وجہ سے یہ نقطہ نظر ناکام ہوگیا۔ نتیجتاً، اب انجینئرنگ، پروکیورمنٹ، اور کنسٹرکشن (ای پی سی) ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے کام کو مرحلہ وار مکمل کیا جا سکے گا۔ دوسرے مرحلے میں شلفاٹا سے کنجرمرگ تک کلیدی راستہ تیار کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم، یہ مرحلہ زیادہ چیلنجنگ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے تھانے کریک کے نیچے میٹرو لائن کی تعمیر کی ضرورت ہوگی۔ ماحولیاتی منظوریوں اور متعدد تکنیکی طریقہ کار کی وجہ سے، اس مرحلے کو مکمل ہونے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ دریں اثنا، پراجیکٹ کی اقتصادی عملداری، تخمینہ شدہ مسافروں کی آمدورفت اور تکنیکی فزیبلٹی کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لیے ایک مشاورتی کمیٹی مقرر کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد حتمی لائحہ عمل طے کر کے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔ اگر ممبئی میٹرو 14 پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے، تو اس سے بدلا پور اور آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کے سفری تجربے کو نمایاں طور پر تبدیل کرنے کی امید ہے۔ اس سے مشرقی مضافاتی علاقوں، تھانے اور نوی ممبئی کو جوڑنے والے ٹرانزٹ نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

Continue Reading

بزنس

بھارت اور امریکہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، اور جلد ہی ایک بڑا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

Published

on

Trump-&-Modi

نئی دہلی : ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ عبوری تجارتی معاہدے کے حوالے سے رواں ہفتے اہم بات چیت ہوئی۔ وزارت خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مثبت بات چیت ہوئی۔ وزارت کے مطابق دونوں ممالک معاہدے کو جلد از جلد آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ تجارت اور صنعت کی وزارت کے مطابق، یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو (یو ایس ٹی آر) کے دفتر کا ایک وفد یکم جون سے 4 جون تک ہندوستان میں تھا۔ اس عرصے کے دوران، دونوں ممالک کے حکام نے تجارت سے متعلق کئی اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور معاہدے کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا۔ یہ مذاکرات 7 فروری 2026 کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جاری کردہ مشترکہ بیان پر مبنی تھے۔ دونوں ممالک ایک عبوری تجارتی معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو اور مستقبل میں ایک جامع دو طرفہ تجارتی معاہدے کی راہ ہموار ہو۔

کن مسائل پر بات ہوئی؟

  1. بات چیت میں اشیاء کی تجارت، نان ٹیرف رکاوٹیں، کسٹم کے طریقہ کار، تجارتی سہولت کاری کے اقدامات، اور اقتصادی تحفظ جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔
  2. وزارت تجارت نے کہا کہ دونوں فریقوں نے تعاون پر مبنی اور عملی انداز میں بات چیت کی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
  3. ایک سرکاری بیان کے مطابق، یو ایس ٹی آر کے وفد کے دورے کے دوران ہونے والی بات چیت تعمیری اور مثبت تھی، جو دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کے جذبے اور عملی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ عہدیداروں نے بات چیت کے مختلف راستوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا اور اقتصادی مشغولیت کو گہرا کرنے کے طریقے تلاش کئے۔
  4. دونوں ممالک نے باہمی فائدہ مند معاہدوں کو انجام دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا جو دوطرفہ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط کریں گے اور وسیع تر اقتصادی تعاون کو فروغ دیں گے۔
  5. یہ بات چیت نئی دہلی اور واشنگٹن کی طرف سے تجارتی تعلقات کو بڑھانے اور تجارت سے متعلق خدشات کو ایک ڈھانچہ جاتی فریم ورک کے ذریعے دور کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں جو دنیا کی سب سے بڑی اور پانچویں بڑی معیشتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اور اقتصادی تعاون کے درمیان ہیں۔

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان مذاکرات کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق، عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے اور ایک جامع تجارتی معاہدے کی طرف بڑھنے کے لیے آنے والے مہینوں میں بات چیت جاری رہے گی۔

Continue Reading

بزنس

‘ہندوستان کو تیل کی ضرورت، وینزویلا کو خریداروں کی ضرورت’، ایم ای اے بتاتی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات مستقبل میں ہی کیوں مضبوط ہوں گے

Published

on

Venezuela-India

نئی دہلی : ہندوستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت بہت زیادہ ہے، اور ایندھن کے لیے ہمارا دوسرے ممالک پر انحصار نمایاں ہے۔ اس لیے بھارت کے لیے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کرنا فطری ہے۔ وینزویلا، جو تیل پیدا کرنے والا بھی ہے، اس وقت ہندوستان کا سپاٹ آئل کا تیسرا سب سے بڑا سپلائر ہے۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز بھارت کے پانچ روزہ دورے پر دہلی پہنچ گئی ہیں۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے ایک خصوصی پریس کانفرنس کی اور ڈیلسی کے دورے پر ایک بیان جاری کیا۔ خارجہ سکریٹری رویندرا ٹنڈن نے کہا کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ ہندوستان کی معیشت تیل کی ایک بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی صارف ہے۔ یہ مطالبہ آنے والے سالوں تک بڑھتا رہے گا۔ اس لیے توانائی کے شعبے میں ہماری تکمیل جاری رہے گی۔ وینزویلا اس مہینے پہلے ہی ہندوستان کو سپاٹ آئل کا تیسرا سب سے بڑا سپلائر بن کر ابھرا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسپاٹ آئل دراصل کیا ہے؟ آئیے وضاحت کرتے ہیں۔

خام تیل یا پراسیس شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی فوری ڈیلیوری کے لیے تیل کی مارکیٹ کی موجودہ قیمت پر خریدنا یا فروخت کرنا “اسپاٹ پرچیز” کہلاتا ہے۔ اس صورت حال میں طویل مدتی معاہدے نہیں کیے جاتے۔ اس کے برعکس فوری طور پر ڈیل کی جاتی ہے اور چند دنوں میں سامان پہنچا دیا جاتا ہے۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے سکریٹری رویندر ٹنڈن نے کہا کہ بات چیت کا محور اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینا اور دیگر شعبوں پر بھی توجہ مرکوز کرنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا ایک وسیع اور وسائل سے مالا مال ملک ہے جہاں انتہائی باصلاحیت اور محنتی لوگ ہیں۔ ملک اب ترقی کے ابتدائی آثار دکھا رہا ہے۔ لہٰذا، نہ صرف توانائی میں بلکہ کان کنی، مویشی پالنا، نقل و حمل، زراعت، سازوسامان کی تیاری، آٹوموٹیو اور فارماسیوٹیکل جیسے شعبوں میں بھی ترقی کے مواقع موجود ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان