Connect with us
Friday,03-April-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

اردو صحافت فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے

Published

on

Senior-journalist-Masoom-Mu

اردوصحافت ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے، اور اس نے ملک کی آزادی کے لیے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز یہاں سینئر صحافی معصوم مرادآبادی نے ایک تہنیتی تقریب کے دوران کیا۔ اردو صحافت اور جنگ آزادی 1857 کے موضوع پر حال ہی میں ان کی ایک ہندی کتاب منظر عام پر آئی ہے، جس میں اردو صحافیوں کی قربانیوں کی ولولہ انگیز داستان ہے۔ دہلی یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل الائنس آف جرنلسٹس کی طرف سے منعقدہ اس تقریب میں معصوم مراد آبادی نے کہا کہ اب سے دو سو سال پہلے اردو کا پہلا اخبار ’جام جہاں نما‘ پنڈت ہری ہردت اور پنڈت سداسکھ نے کلکتہ سے شائع کیا تھا۔ آج دو سو سال بعد جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ شمالی ہند کے دو بڑے اخباروں کے مالکان کے نام سنجے گپتا اور سبرتو رائے ہیں، تو ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ اردو صحافت آج بھی اپنے محور پر قایم ہے۔

اس موقع پر ڈی یو جے کے صدر ایس کے پانڈے نے معصوم مرادآبادی کا استقبال کرتے ہوئے کہا یونین کے ساتھ ان کی چالیس سالہ سرگرم وابستگی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ معصوم مرادآبادی نے اردو صحافت کی ترقی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، اور اب وہ اپنی تحقیق و جستجو سے جنگ آزادی میں اردو صحافیوں کی ناقابل فراموش قربانیوں کو منظر عام پر لا رہے ہیں۔ ان کی تازہ ہندی کتاب اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس میں انھوں نے پہلے شہید صحافی مولوی محمد باقر پر خصوصی مواد پیش کیا ہے۔ مسٹر پانڈے نے کہا کہ معصوم زمین سے جڑے ہوئے ایسے صحافی ہیں، جنھوں نے بہت نیچے سے اپنا سفر شروع کر کے اردو صحافیوں کی صف اوّل میں جگہ بنالی ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے انھوں نے بڑی محنت، جدوجہد اور دیانت داری سے کام لیا ہے۔

ڈی یو جے کی خزانچی مرنال ولاری نے اس موقع پر معصوم مرادآبادی کی کتاب پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معصوم مرادآبادی نے ہندی قارئین کو اردو صحافت کے ایک ایسے بلند کردار سے روبرو کیا ہے جس سے اب تک ہندی والے ناآشنا تھے۔ امید ہے کہ ہندی جگت اس کتاب سے بہت فائدہ اٹھائے گا۔ ریڈیو جرمنی کی اردو نشریات کے نمائندے جاوید اختر نے اس موقع پر کہا کہ معصوم مرادآبادی اپنے تحقیقی رویوں، سخت محنت اور پیشہ وارانہ دیانت داری کے لیے جانے جاتے ہیں اور ان ہی خوبیوں نے انھیں اردو صحافت میں معتبر شناخت عطا کی ہے۔ اس موقع پر سینئر صحافی محمداحمد کاظمی نے کہا کہ معصوم مرادآبادی کی یہ کتاب جنگ آزادی میں مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کی ایک اہم دستاویزہے اور ڈی یو جے نے ان کے اعزاز میں یہ محفل منعقد کرکے بڑا کام کیا ہے۔ اس موقع پر یونین کے صدر ایس کے پانڈے نے ’نئی دنیا‘ کے ایڈیٹر شاہد صدیقی اور ’انقلاب‘ (نارتھ) کے ایڈیٹر ایم ودود ساجد کا ایک پیغام بھی پڑھ کر سنایا۔ تہنیتی تقریب میں ہندی، انگریزی اور اردو کے صحافی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ آخر میں یونین کی جنرل سیکریٹری سجاتا مدھوک نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر صاحب اعزاز کو شال اور گلدستہ پیش کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : خود ساختہ وی آئی پی کے خلاف ٹریفک پولس کی کارروائی، ۸ گاڑیوں کی بتیاں اور سائرن ضبط، ٹریفک محکمہ کی رجسٹریشن منسوخی کی سفارش

Published

on

traffic-police

ممبئی : ٹریفک پولس نے خودساختہ اہم اشخاص کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بلا کسی اجازت کے وی آئی پی کلچرل فلش بتی اور سائرن کے استعمال کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی ہے, اس میں ایسی گاڑیوں اور بتیوں پر کاروائی کی گئی جو خود کو وی آئی پی ثابت کرنے کے لیے گاڑیوں پر بتیاں لگاتے تھے. خصوصی مہم کے تحت یکم اپریل اور ۲ اپریل کو پولس نے شہر میں گاڑیوں پر جبرا سرخ، نیلا، پیلا اور پیلا دیم لائٹ فلش لائٹ کی گاڑیوں پر تنصیب کرنے والوں پر کارروائی کی ہے. اس دوران ۸ گاڑیوں پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد لائٹ بتیاں ضبط کی گئیں اور موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت جرمانہ کی بھی کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کوئی پرائیوٹ گاڑیوں پر دیم لائٹ کی تنصیب کرتا ہے تو اس کے گاڑی کا رجسٹریشن منسوخی کے ساتھ زائد جرمانہ عائد کیا جائے گا اور ٹریفک محکمہ اس گاڑی کا رجسٹریشن منسوخی کی سفارش آر ٹی او کو کرے گی۔ ٹریفک پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کوئی پرائیوٹ گاڑی پر لال بتی صرف فلش لائٹ نظر آتی ہے تو وہ اس کی شکایت ٹریفک پولس یا ایکس ٹوئٹر ہنڈل پر کر سکتے ہیں۔ ٹریفک میں ان گاڑیوں سے خلل پیدا ہوتی ہے ایسی متعدد شکایت موصول ہوئی تھی جس کے بعد ٹریفک محکمہ نے یہ کارروائی کی ہے۔ ممبئی شہر میں یہ کارروائی اب جاری رہے گی۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

یو اے ای نے ایرانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے داخلے اور ٹرانزٹ پر پابندی عائد کر دی

Published

on

UAE

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایرانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے نئی سفری پابندیاں نافذ کر دی ہیں، جن کے تحت انہیں ملک میں داخل ہونے یا اس کے ہوائی اڈوں کے ذریعے دیگر ممالک کے لیے ٹرانزٹ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

تازہ ہدایات کے مطابق ایئر لائنز کے نظام میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے باعث ایرانی شہری اب یو اے ای کے لیے پروازیں بک نہیں کر پا رہے اور نہ ہی دبئی یا ابوظہبی جیسے اہم ٹرانزٹ مراکز استعمال کر سکتے ہیں۔ ویزا اور سفری قواعد کے ذریعے اس پابندی کو مؤثر بنایا گیا ہے۔

اگرچہ یہ پابندی وسیع دکھائی دیتی ہے، تاہم کچھ افراد کو اس سے استثنا حاصل ہو سکتا ہے۔ ان میں طویل مدتی رہائشی ویزا رکھنے والے، خصوصی اجازت یافتہ افراد یا وہ لوگ شامل ہو سکتے ہیں جن کے یو اے ای میں خاندانی یا پیشہ ورانہ روابط ہیں۔ ایسے معاملات میں اضافی جانچ پڑتال اور منظوری درکار ہو سکتی ہے۔

حکام نے اس پابندی کو مستقل قرار نہیں دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ موجودہ علاقائی حالات کے پیش نظر ایک عارضی اقدام ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تحت احتیاطی تدابیر کا حصہ ہے۔

اس فیصلے سے بہت سے ایرانی مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر وہ افراد جو بین الاقوامی سفر کے لیے یو اے ای کو ایک اہم ٹرانزٹ مرکز کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ایئر لائنز نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سفری اہلیت کی جانچ کریں اور فی الحال متبادل راستوں پر غور کریں۔

صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ سفر کی منصوبہ بندی سے قبل تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

میئر ریتو تاوڑے : گھاٹکوپر کے راجاواڑی اسپتال پر مریضوں کی خدمات کا بوجھ زیادہ، اسپتال کی تعمیر نو کے کام میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی

Published

on

Mayor Ritu Tawde

ممبئی : سیٹھ وی سی گاندھی اور ایم اے وورا میونسپل کارپوریشن جنرل اسپتال یعنی گھاٹکوپر (مشرق) میں راجہ واڑی اسپتال کی ازسر نو تعمیر جاری ہے۔ اس کے تحت پہلے مرحلے میں تقریباً 600 بستروں کی گنجائش والی عمارت تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔ اس سلسلے میں میئر ریتو تاوڑے نے آج (2 اپریل 2026) پروجیکٹ سائٹ کا دورہ کیا اور اس کا معائنہ کیا۔ کارپوریٹر دھرمیش گری، راجواڑی اسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بھارتی راجول والا، اسپتال انفراسٹرکچر سیل کے ڈپٹی چیف انجینئر مسٹر منوج رانے، این ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ کمشنر (اضافی چارج) ماروتی پوار اور تمام متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے۔

ابتدائی معلومات دیتے ہوئے ڈپٹی چیف انجینئر رانے نے کہا کہ راجواڑی ہاسپٹل ری ڈیولپمنٹ فیزایک کے تحت تعمیر کی جانے والی عمارت میں ایک نچلا تہہ خانہ، تہہ خانہ، گراؤنڈ فلور کے علاوہ 10 منزلیں ہوں گی۔ 600 بستروں کی گنجائش والی اس عمارت میں تمام جدید ترین طبی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اس کے لیے تقریباً 33 ہزار 179 مربع میٹر کا تعمیراتی رقبہ دستیاب ہوگا۔ فیز ایک کی عمارت کا سنگ بنیاد دسمبر 2025 میں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معمولی معدنیات اور ریڈار کے حوالے سے اجازت ملنے کے فوراً بعد تعمیراتی کام شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمارت کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد پورے اسپتال کو اس میں منتقل کردیا جائے گا اور اگلے مرحلے میں دوسری عمارت تعمیر کی جائے گی۔

میئر ریتو تاوڑے نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ سنگ بنیاد کے چار ماہ گزرنے کے بعد بھی حقیقی تعمیراتی کام شروع نہیں ہوا ہے۔ انتظامیہ کو جہاں بھی مشکلات کا سامنا ہے وہ معاملات سینئرز کے نوٹس میں لائے جائیں۔ نیز عوامی نمائندوں کے تعاون سے ایسے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ میئر نے سختی سے مشورہ دیا کہ تمام ضروری اجازت نامے حاصل کرنا ٹھیکیدار کا کام ہے اور اصل کام میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ عمارت کی تعمیر کا کام اگلے ہفتے شروع ہونا چاہیے۔ جب تعمیراتی کام جاری ہے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں کہ پڑوسی اسپتال میں مریض تعمیراتی شور، دھول وغیرہ سے پریشان نہ ہوں۔ میئر تاوڑے نے یہ بھی ہدایت دی کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ہونے والی مشترکہ میٹنگ میں اسپتال کی دوبارہ ترقی کے بارے میں تفصیلی پیشکش کی جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان