Connect with us
Monday,07-September-2026

(جنرل (عام

طالبان کی نئی حکومت سے حقوق انسانی کے احترام اور ہندوستان سے خوشگوار تعلقات کی امید، مجلس عاملہ کے اجلاس میں مولانا محمود مدنی جمعیۃ علماء ہند کے مستقل صدر منتخب

Published

on

Maulana Mahmood Madani

طالبان سے اسلامی اقدار اور نبوی کردار کی روشنی میں حقوق انسانی کا احترام کی امید کرتے ہوئے ملک کے تمام طبقات کے ساتھ منصفانہ معاملہ کریں گے، نیز خطے کے تمام ممالک بالخصوص ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو خوش گوار اور مستحکم بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ یہ بات جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مجلس عاملہ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق انہوں نے طالبان سے امید ظاہر کی کہ اپنی سر زمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو نے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں افغانستان کے ساتھ ہندستان کے قریبی، تہذیبی روابط رہے ہیں، اور نئے افغانستان کی تعمیر و ترقی میں ہندستان کا بہت اہم کردار ہے، جس کا جیتا جاگتا ثبوت افغانی پارلیامنٹ کی جدید عمارت، ملک کے طول و عرض میں چلنے والے ترقیاتی منصوبے اور وسیع شاہ راہیں ہے، ایسی صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں تا کہ گزشتہ چالیس سال سے جنگ و خوف کے سایے میں زندگی بسر کرنے والے افغان عوام سکون کی سانس لے سکیں اور ہر طرح کے بیرونی خطرات سے محفوظ رہیں۔

واضح رہے کہ مجلس عاملہ میں ملک میں طویل عرصے سے جاری کسانوں کی تحریک پرتفصیل سے تبادلہ خیال ہوا، اور مولانا محمود مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں مزید کہا کہ جمہوریت کی طاقت یہ ہے کہ ہر ایک اپنے مطالبات اور مسائل پر احتجاج کا حق رکھتا ہے، کسانوں کو بھی اپنے حق کے لیے تحریک چلانے کا بنیادی وآئینی حق حاصل ہے، لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ موجودہ سرکار ایسی تحریکوں کو ایڈریس کرنے بجائے اسے کچلنے پر یقین رکھتی ہے، حالاںکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان کا یہ بنیادی حق تسلیم کیا ہے، جس کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ سبھی پہلوؤں پر غور و خوض کے بعد مجلس عاملہ نے اعلان کیا کہ کسانوں کی حسب سابق حمایت کی جائے گی۔

مجلس عاملہ نے اصلاح معاشرہ کی زمینی تحریک کو موجودہ دور میں سب سے اہم فریضہ متصور کرتے ہوئے اس سلسلے میں شعبہ اصلاح معاشرہ کی طرف سے تحریر کردہ رہ نما اصول کو منظوری دی اور سماج و برادری کے بااثر افراد کو جوڑ کر بامعنی و بامقصد تحریک چلانے کو اولین ذمہ داری قرار دیا۔ واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند ۲۲۹۱ء سے معاشرتی اصلاح کی تحریک چلا رہی ہے، بالخصوص ۱۹۹۱ء میں اس وقت کے صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی ؒ نے اسے ایک تحریک کی شکل دی تھی، اور بیل گاڑیوں پر گاؤں گاؤں سفر کرکے سماج سدھار کا کام کیا تھا، ان کی اتباع میں ملک میں بہت ساری ایسی تحریکیں شروع ہوئیں، وہ اپنے اپنے انداز میں جاری ہیں، جمعیۃ علماء ہند نے جدید صورت حال میں ایک منظم اور نئے انداز میں تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے نتیجہ خیز بنا یا جا سکے۔

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی صدارت کے لیے سبھی اکیس ریاستوں کی مجالس عاملہ کی طرف سے متفقہ طور سے مولانا محمود اسعد مدنی کے نام کی تجویز آئی ہے جسے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹر ی مولانا حکیم الدین قاسمی نے مجلس عاملہ میں پیش کیا۔ مجلس عاملہ نے منظور کرتے ہوئے اگلے ٹرم کی صدارت کے لیے ’مولانا محمود مدنی‘ کے نام پر مہر ثبت کی، اس طرح مولانا مدنی نے تجاویز پر دستخط کر کے عہدہ صدارت کا چارج سنبھال لیا۔

اجلاس میں صدر جمعۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ بطور رکن مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، مولانا رحمت اللہ کشمیری، نائب امیرا لہند مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری، مولانا صدیق اللہ چودھری، مولانا مفتی محمد راشد اعظمی، مولانا شوکت علی ویٹ، مفتی محمد جاوید اقبال قاسمی، مولانا نیاز احمد فاروقی اور مفتی افتخار قاسمی کرناٹک شریک ہوئے، مدعو خصوصی کے طور پر مولانا محمد سلمان بجنوری دارالعلوم دیوبند، مفتی احمد دیولہ گجرات، مفتی محمد عفان منصور پوری، مولانا محمد عاقل گڑھی دولت، مولاناعلی حسن مظاہری، مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات، مولانا عبدالقدوس پالن پوری، ڈاکٹر مسعود احمد اعظمی، حاجی محمد ہارون بھوپال، ڈاکٹر سعید الدین قاسمی،قاری محمد ایوب اعظمی، مولانا عبدالقادر آسام جب کہ بذریعہ زوم مولانا ندیم احمد صدیقی، مولانا حافظ پیر شبیر احمد، مولانا محمد رفیق مظاہری، مفتی حبیب الرحمن الہ آباد، قاری محمد امین راجستھان شریک ہوئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہندوستان میں اصل بھارتی نوٹوں کے بجائے جعلی نوٹیں فروغ دینے والا گرفتار

Published

on

Arrest..2

ممبئی : ۶ ستمبر کو کرائم برانچ یونٹ 2 ممبئی کو خفیہ قابل اعتماد معلومات ملی کہ میٹرو سینما کے نزدیک، واسودیو بلونت پھڈکے چوک، ممبئی اس جگہ پر ایک عورت اور ایک شخص ہندوستانی کرنسی کے جعلی نوٹ رکھ کر بھارت میں خود کے مالی فائدے کے لیے بھارتی کرنسی کے اصلی نوٹوں کے ایک لاکھ روپے دینے پر اس کے بدلے جعلی نوٹوں کے دو لاکھ روپے میں فروخت کر رہے ہیں, ایسی معلومات ملی۔ مذکورہ مقام پر کرائم برانچ یونٹ ۲ کے پولیس نے جال بچھا کر رکھا تھا، اس دوران مذکورہ مقام پر ایک خاتون 270 جعلی نوٹوں کے ساتھ ملی، اس نے بتایا کہ 500/- روپے والے جعلی نوٹ ایک شخص سے حاصل کی ہے۔ ساتھ ہی مذکورہ عورت کرلا اسٹیشن کے نزدیک ملی تھی اور اس کے قبضے سے 500/- روپے والے 1848 جعلی نوٹ ملے۔ اس طرح سے کل 500/- روپے والے کل 2128 جعلی نوٹ 10,64,000/- روپے ملے اور اس کے متعلق میٹرو پولیس تھانے میں کیس نمبر 198, 180, 69(2), 3(9) بی این ایس 2023 کے تحت جعلی نوٹ کا مقدمہ درج کرکے مزید جانچ کرائم برانچ، یونٹ 2 کے حوالے کی گئی ہے۔

مذکورہ شاندار کارکردگی پولیس کمشنر، ممبئی دیوین بھارتی، پولیس جوائنٹ کمشنر (کرائم) انل کمبھارے، جناب ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم) کرشن کانت اپادھیائے، پولیس ڈپٹی کمشنر (ڈیٹیکشن) راج تلک روشن، اسسٹنٹ پولیس کمشنر، ڈیڈیویژن دنکر شلوات کے رہنمائی میں کرائم ڈیٹیکشن برانچ، یونٹ-2 کے انچارج پولیس انسپکٹردلیپ تینلکر، پولیس سب انسپکٹر سنکلپ موکاشی، نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

تمام پارٹیوں کے کارپوریٹرس مشکلات میں مبتلا! تمام بڑی پارٹیوں کے کارپوریٹرس بشمول شیوسینا (یو بی ٹی)، بی جے پی اور کانگریس کو قانونی چیلنجز کا سامنا

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد بھی، جیتنے والے امیدواروں کی مشکلات کم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ انتخابات میں شکست خوردہ امیدواروں نے مختلف بنیادوں پر جیتنے والے کارپوریٹروں کے انتخاب کو چیلنج کیا ہے۔ بی ایم سی کی طرف سے آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق کل 79 انتخابی عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔دریں اثنا، سابق میئر وشاکھا راؤت کے کارپوریٹر کے عہدے کی حالیہ منسوخی کے بعد انتخابی درخواستوں کا معاملہ دوبارہ منظر عام آیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ الیکشن میں فتحیابی آخری مرحلہ نہیں ہے۔ انتخابی عمل سے متعلق دستاویزات کی قانونی جانچ جیسے کہ حلف نامے کی تفصیلات، ذات کے سرٹیفکیٹ، اور امیدوار کی طرف سے کیے گئے مختلف اعلانات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ درخواستیں کسی ایک پارٹی کے کونسلرز کو نشانہ نہیں بناتی ہیں۔ بلکہ ممبئی میں تمام بڑی پارٹیوں کے کارپوریٹروں کے خلاف چیلنجز دائر کیے گئے ہیں۔ اس سے انتخابات کے بعد ان کونسلرز کے عہدوں کی قانونی حیثیت اور تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ذات سرٹیفکیٹ سے لے کر اثاثوں کی تفصیلات تک کے اعتراضات :
شکست خوردہ امیدواروں کی طرف سے دائر درخواستیں کئی سنگین مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ ان میں ذات سرٹیفکیٹ کی درستگی کے بارے میں اعتراضات، امیدواروں کی طرف سے فراہم کردہ غلط یا گمراہ کن معلومات کے الزامات، اور فوجداری مقدمات، اثاثوں اور مالی معاملات کے بارے میں انکشافات سے متعلق تنازعات شامل ہیں۔ الیکشن لڑتے وقت، امیدواروں کو حلف نامہ کے ذریعے ذاتی، مالی اور قانونی معلومات کا انکشاف کرنا ہوتا ہے۔ اگر تضادات یا غلط معلومات کی فراہمی کے الزامات ہوں تو قانونی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ اس طرح یہ پورا معاملہ انتخابی درخواستوں اور حلف ناموں میں فراہم کردہ ہر معلومات کی اہم اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے خلاف درخواستوں کی سب سے زیادہ تعداد۔ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پارٹی وار تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ عرضیاں 24 شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے گروپ کے کارپوریٹروں کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ اس کے بعد بی جے پی کے خلاف 16، کانگریس کے خلاف 10، اور شیو سینا (شندے گروپ) کے خلاف 7 درخواستیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایم آئی ایم کے خلاف 5، ایم این ایس کے خلاف 2 اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے خلاف 1 درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

5 کارپوریٹروں کا انتخاب کالعدم :
کل 79 درخواستوں میں سے اب تک 5 کارپوریٹروں کے خلاف منفی فیصلے سنائے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے انتخابات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان میں شیو سینا (یو بی ٹی) کے 2، ایم آئی ایم کے 2، اور این سی پی سے 1 کارپوریٹر شامل ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ الیکشن جیتنا حتمی سنگ میل نہیں ہے۔ امیدوار کی نامزدگی سے لے کر حلف نامے میں فراہم کردہ معلومات کی درستگی اور انتخابی عمل سے متعلق دستاویزات کی درستگی تک کے عوامل بھی اتنے ہی اہم ہیں۔

انتخابی شفافیت کا معاملہ پھر سے اسپاٹ لائٹ میں :
یہ اعداد و شمار آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی کی طرف سے مانگی گئی معلومات سے سامنے آئے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ امیدواروں کی طرف سے ووٹرز کو پیش کی جانے والی معلومات جو عوامی نمائندے کے طور پر منتخب ہوتے ہیں درست اور حقیقت پر مبنی ہو۔ غلطیوں، تضادات، یا حقائق کو چھپانے کے حوالے سے کوئی بھی الزام انتخابی نتائج کو ممکنہ طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ 79 انتخابی درخواستوں کے دائر کردہ، 5 کارپوریٹروں کے انتخابات کی منسوخی، اور سابق میئر وشاکھا راوت کی میعاد کی حالیہ منسوخی کے ساتھ، ممبئی میونسپل انتخابات میں امیدواروں کی نامزدگیوں اور حلف ناموں سے متعلق شفافیت کا مسئلہ ایک بار پھر منظر عام پرہے۔

سیاسی حلقوں کی تمام نظریں اب باقی ماندہ درخواستوں سے متعلق فیصلوں پر مرکوز ہوئی ہیں۔ اگر مزید کارپوریٹروں کے انتخابات پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے تو یہ میونسپل کارپوریشن کے اندر مختلف پارٹیوں کی عددی طاقت کو تبدیل کر سکتا ہے۔ ووٹرز کے مینڈیٹ کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے باوجود، امیدوار خود کو عدالتی جانچ پڑتال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ممبئی میونسپل کارپوریشن میں تمام پارٹیوں کے کارپوریٹروں کے انتخاب کو لے کر ایک قانونی چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایپل موبائل اور اس کے پارٹس فروخت کرنے والی گینگ بے نقاب، چوری شدہ ۶۴ موبائل برآمد، چار گرفتار مزید تفتیش جاری

Published

on

Mobile-chor

ممبئی : ریاست کے مختلف اضلاع سے اور دوسری ریاستوں سے چوری کیے گئے ایپل موبائل خرید کر ان کا ایپل آئی ڈی ریموو کرکے موبائل بیرون ریاست و بیرون ملک فروخت کرنے والی اور چوری کے موبائل کے پارٹس الگ الگ کرکے فروخت کرنے والے گروہ کو ماتا رمابائی امبیڈکر مارگ پولیس اسٹیشن نے بے نقاب کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ماتا رمابائی امبیڈکر مارگ پولیس اسٹیشن، ممبئی میں ایپل موبائل چوری کا مقدمہ سال 2026 میں درج کیا گیا تھا۔ موبائل چوری کے مقدمے میں کی گئی تکنیکی جانچ سے چوری کے موبائل میں ایک سم کارڈ کا استعمال ہوا تھا۔ اس پر کی گئی گہری تکنیکی جانچ میں چوری کے موبائل میں سم کارڈ استعمال کرنے والے ملزم کی تلاش کر اس سے چوری کے 21 ایپل موبائل اور 12 سم کارڈز برآمد کیے گئے۔ اس پر مقدمے میں کی گئی مزید جانچ میں ریاست کے مختلف اضلاع سے اور دوسری ریاستوں سے چوری کیے گئے ایپل موبائل خرید کر ان کا ایپل آئی ڈی ریموو کرکے انہیں دوسری ریاستوں اور بیرون ملک میں فروخت کرنے والی اور ایپل آئی ڈی ریموو نہ ہونے پر چوری کے موبائل کے تمام پارٹس الگ الگ کر کے انہیں مارکیٹ میں کم قیمت پر فروخت کرنے والے گینگ کے 04 ملزمان کو گرفتار کیا۔ ان سے چوری کے کل 64 ایپل کے موبائل اور 20 چوری کے موبائل کے الگ الگ کیے ہوئے مڈل باڈی، ڈسپلے، بیٹری، مدر بورڈ، لاجک بورڈ ایسے کل 44,78,400/- روپے قیمت کا مقدمے کا مال برآمد کیا اور چوری کے موبائل برآمد کر کے ان میں سے تلنگانہ – 11، دہلی – 3، مہاراشٹر/ممبئی – 19، کرناٹک – 2، راجستھان – 1، تمل ناڈو – 1، اتراکھنڈ – 1 یہاں کے مقدمات کا انکشاف ہوا۔ مذکورہ کارروائی شیلیش بلکوڈے، ایڈیشنل پولیس کمشنر، جنوبی علاقائی ڈیپارٹمنٹ، ممبئی، منیش کلوا نیا، پولیس ڈپٹی کمشنر، جنوبی ممبئی، نیلیش باگلے، اسسٹنٹ پولیس کمشنر، آزاد میدان ڈیپارٹمنٹ، ممبئی کی رہنمائی میں انل مولے، سینئر پولیس انسپکٹر، فرید خان، پولیس انسپکٹر (کرائم)، ماتا رمابائی امبیڈکر مارگ پولیس اسٹیشن کے قیادت میں سب انسپکٹر سشیل کمار ونجاری، سب انسپکٹر جالندر لیمبھے، پولیس سب انسپکٹر راجو سالونکھے، پولیس سب انسپکٹر امول چورے کی ٹیم نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان