Connect with us
Friday,29-August-2025
تازہ خبریں

سیاست

سی اے جی نے ممتا بنرجی حکومت کی تعریف کی

Published

on

mamta

مرکز نے مالی اصلاحات کے حوالے سے مغربی بنگال حکومت کی کارکردگی کی ستائش کی ہے۔ کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے مالی سال 2020-21 کے لیے محکمانہ اخراجات اور آمدنی دونوں کے 100 فیصد مماثلت کے لیے حکومت مغربی بنگال کی تعریف کی ہے۔ ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے سی اے جی کے ایک عہدیدار نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری ایچ کے ترویدی کو خط لکھ کر اس کی اطلاع دی ہے۔

سی اے جی کے ڈپٹی اکاؤنٹنٹ جنرل (ایڈمنسٹریشن اینڈ ریکارڈز) اور آئی ٹی سیکورٹی منیجر راہل کمار نے ریاستی محکمہ خزانہ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ وبائی امراض اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے کام میں رکاوٹ کے باوجود یہ کامیابی قابل تحسین ہے۔

راہل کمار نے ایڈیشنل چیف سکریٹری، اسٹیٹ فنانس ڈیپارٹمنٹ کو لکھے اپنے خط میں کہا کہ مجھے آپ کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ پہلی بار مغربی بنگال کے محکموں کی آمد اور اخراجات دونوں میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2020-21 کے لیے۔ راہل کمار نے کہا کہ یہ مفاہمت کے عمل کے دوران پورے محکمہ خزانہ کے فعال اور مسلسل رابطے کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ دفتر اس سلسلے میں محکمہ خزانہ کی کاوشوں کو سراہتا ہے۔ 100 فیصد مفاہمت اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے گی کہ وصولی اور اخراجات کے اعداد و شمار درست طور پر مغربی بنگال حکومت کے مالی کھاتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔

سی اے جی نے 2019-20 میں اخراجات کے اعداد و شمار کے 99.62 فیصد اور رسیدوں کے 100 فیصد مماثلت کو بھی سراہا تھا۔ سی اے جی کے عہدیدار نے اپنے خط میں کہا ہے کہ وہ دو نئے پراجیکٹس- مڈل ویئر سرور اور ویب پر مبنی خدمات پر کام شروع کرے۔ ممتا حکومت مسلسل دعویٰ کر رہی ہے کہ مرکزی حکومت کی مالی مدد اور عدم تعاون کے باوجود ریاست کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے، اور عوامی فلاح و بہبود کی اسکیموں پر ان کی حکومت پر بہت خرچ ہو رہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بارش، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

Published

on

Prophet-is-celebration

آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم) سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے۔

ہاں جشن عید میلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے، باجا نہیں بجنا چاہئے، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے، کسی کی دل آزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایسا ہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو، سیرت النبی کا اعلان ہو، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منا رہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں۔

راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے، جس کا کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے، غریبوں، مسکینوں، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کر کے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے انسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر دھوکہ دہی خود ساختہ سی بی آئی افسر گرفتار

Published

on

cyber Attack

ممبئی سی بی آئی افسر بتا کر ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر شکایت کنندہ سے ایک کروڑ روپے بینک اکاؤنٹ میں وصول کرنے والا خود ساختہ سی بی آئی افسر جس نے شکایت کنندہ کو فون کر کے دلی سے ڈی سی پی سنجے اڑورہ سی بی آئی افسر اور ہائیکورٹ کا حکم وہاٹس اپ پر ارسال کر کے ایک جرم میں اس کے شریک ہونے اور ڈیجیٹل اریسٹ کی آڑ میں ایک کروڑ ٢٦ لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس میں طلب کئے اور اس کے بعد شکایت کنندہ نے پولس نے دھوکہ دہی اور سائبر فرا ڈ کا کیس درج کیا, جس کے بعد ممبئی سائبر سیل نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کر دی اور ۳۶ گھنٹے میں بینک سے خط وکتابت کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت کی اور پھر روہیت سنجے سونار ۳۳ سالہ بینک ہولڈر کو گرفتار کیا. اسی کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی ہوئی تھی, ملزم ضلع جلگاؤں کا ساکن ہے اس کا ساتھی دوسرا اکاؤنٹ ہولڈر ہتیش ہیمنت پاٹل ۳۱ سالہ جلگاؤں کو بھی پولس نے گرفتار کیا ہے. یہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیل بیرون ملک میں فراہم کیا کرتا تھا. اس ملزمین کے قبضے سے تین موبائل فون بھی پولس نے ضبط کئے ہیں. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں سائبر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے. سائبر پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر اگر کوئی خوفزدہ کرتا ہے تو اس کے دام میں نہ آئے کیونکہ ڈیجیٹل اریسٹ کوئی چیز نہیں ہے۔ پولس کبھی بھی آن لائن اریسٹ نہیں کرتی ہے اور نہ ہی آن لائن تفتیش کی جاتی ہے, ایسے میں شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل پولس نے کی ہے۔

Continue Reading

سیاست

ممبئی مراٹھا مورچہ پرامن، سرکار مراٹھا ریزرویشن پر کمیٹی رپورٹ پر جلد فیصلہ کرے گی : دیویندر فڑنویس

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واضح کیا ہے کہ مراٹھا ریزرویشن پر مہایوتی سرکار کا موقف مثبت ہے اور جلد ہی اس مسئلہ کا حل نکالا جائے گا. اس سے قبل بھی مہایوتی سرکار نے ہی مراٹھا برادری کو ۱۰ فیصد ریزرویشن فراہم کیا تھا. مراٹھا مورچہ پرامن ہے اور کئی مقامات پر راستہ روکو اندولن بھی مظاہرین نے شروع کیا تھا, لیکن بعد ازاں مظاہرین نے اسے واپس لے لیا. وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مورچہ کی اجازت ہائیکورٹ کی گائڈ لائن پر دی گئی ہے, اور جرانگے پاٹل نے بھی مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن احتجاجی مظاہرہ کرے. فڑنویس نے کہا ہے کہ مراٹھا برادری کے ریزرویشن کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس کمیٹی کو کابینہ کی کمیٹی کے مساوی حقوق ہے, ایسے میں کابینہ درجہ کی اس کمیٹی جلد ہی اس مسئلہ پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور کوئی فیصلہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کو لے کر سرکار کی نیت صاف ہے اور وہ مراٹھا سمیت تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مظاہرہ کی آڑ میں کچھ لوگ اپنی سیاست کر رہے ہیں, جبکہ یہ لوگ دو فرقوں میں تنازع پیدا کرنے کی بھی کوشش میں پیش پیش ہے, وہ ان کے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ادھو ٹھاکرے پر بھی فڑنویس نے تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ پہلے وہ بتائے کہ انہوں نے مراٹھا کیلئے کیا کیا ہے؟ فڑنویس نے کہا ہے کہ مراٹھا ریزرویشن کیلئے مورچہ کے سبب نظام ضرور متاثر ہوا ہے, لیکن مظاہرہ پرامن ہے اور ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق ہی اس مورچہ کی نگرانی کی جارہی ہے اور مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ نظم و نسق کا خیال رکھیں. انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار میں مظاہرہ کرنا دستوری حق ہے اس سے کسی کو بھی محروم نہیں کیا جاسکتا, اس لئے مظاہرہ کو اجازت دیدی گئی ہے اور اب تک مظاہرہ پرامن ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com