جرم
ٹاورکی تعمیرکے نام پرمدن پورہ کی عیسی سمنارچال کے مکینوں سے بلڈرعبدالکریم کی دھوکہ دہی
جعلسازی اور بدعنوانی تو اب جیسے حضرت انسان کے خون کے ساتھ گردش کر رہی ہیں. جہاں ہر طرف رشوت کا بازار گرم ہے، وہیں ٹھگی اور جعلسازی کے معاملات سر اٹھائے کھڑے ہیں. جنوبی ممبئی میں مدن پورہ جو کہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے. اس علاقے کی بات کی جائے، تو انگریزی دور حکومت میں بھی اس علاقے کی آن بان شان قائم تھی۔ کہتے ہیں کہ خلافت ہاؤس کا پہلا جلوس جس میں مہاتما گاندھی نے شرکت کی تھی۔ جب وہ جلوس مدن پورہ سے گزرا، تو یہاں کی عوام نے بڑے ہی پرتپاک انداز میں اس جلوس کا استقبال کیا تھا۔
یہاں کے عوام چال میں چھوٹے چھوٹے کمرے میں رہ کر اپنی زندگی سے جدوجہد کرتے تھے۔ انگریزی دور میں بنائی گئی یہ چال آج بھی مدن پورہ میں موجود ہے۔ ان میں سے کچھ چال تو ۱۲۰ سال پرانی ہے۔ اور بیشتر چال از سر ٹو تعمیر (پاور) کے نام پر صفحہ ستی سے مٹا دی گئی۔ عروس البلاد میں اپنا آشیانہ بنانا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے. ایک چھوٹے سے جھونپڑے کی قیمت بھی یہاں لاکھوں میں ہے. ایسے میں ایک ایسی ہی چال کو ۲۰۰۸ میں ایک بلڈر عبدالکریم نے ازسر ٹو تعمیر کے نام پر ڈھا دیا۔ بلڈر نے وہاں کے مکینوں کو ہتھیلی پر چاند دکھایا. اپنے آشیانے کا خواب آنکھوں میں سجائے چال کے مکینوں نے چال خالی کر کے بلڈر کو سونپ دی. مگر ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا.
آج ۲۰۲۱ء میں بھی وہ خواب خواب ہی ہے۔ دراصل تقریباً ۲۰ سالوں سے مدن پورہ کی قدیم عمارت کے بدلے جدید بلڈنگ بنانے کا کام شروع ہوا تھا۔ اور بہت سی چالوں کو توڑ کر ٹارو بھی بتائے گئے ہیں، مگر بچارے عیسی سمار چال کے مکینوں کے ساتھ دھوکہ ہوگیا. اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کا سوچ کر اپنے آباء و اجداد کے گھروں کو چھوڑنے راضی ہوگئے. اس طویل عرصے میں ان میں سے بیشتر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ بلڈر نے اپنی سست رفتاری کا مظاہرہ کیا کہ جو بچے تھے، وہ اب جوان ہو چکے تھے۔
دراصل عبدالکریم نے یہاں کے مکینوں کے ساتھ جعلسازی کی۔ نہ وقت پر کرایہ ادا کیا اور نہ ہی اپنے قول فعل کے مطابق بلڈنگ تعمیر کی سالوں گزر گئے، تب کہیں جا کر بلڈنگ کا کام شروع ہوا۔ جب فلیٹس کی بکنگ شروع ہوئی۔ بلڈر صاحب نے اپنے ایمان اور تمام قاعدے قانون کو بالائے طاق رکھ کر ایک فلیٹ دو یا اس سے مزید افراد کو فروخت کیا، تو کہیں ایسا بھی ہوا کہ ایک فلیٹ کا رجسٹریشن دو لوگوں کے نام پر ہوا۔ حد تو تب ہوگئی، جب .B.M.C میں دیا گیا نقشہ ہی بدل دیا گیا، اور مکین اس بات سے لاعلم رہے۔ اب دس سال گزر چکے تھے۔ کرایہ مل رہا تھا۔ اور نہ ہی فلیٹ اب لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ ۲۰۱۷ میں نیاز احمد انصاری (نجو بھائی) نے ہمت کر کے مکینوں کو جمع کیا، ان سے پیسے جمع کر کے نجو بھائی کی کاوش سے پرائیوٹ انجیر کو مقرر کر کے لفٹ لگوائی گئی۔ لائٹ کا کنیکشن جوڑا گیا۔ پانی کی لائن لائی گئی۔ اور بیشتر مکینوں نے جو صرف چار دیواری بلڈر نے بنائی تھی، جسے لوگوں نے اپنے ذاتی خرچ سے لاکھوں روپے خرچ کر کے فلیٹ کی شکل دی۔ اب معاملہ یہی ختم نہیں ہوا۔ ایسے بہت سے حضرات اب بھی موجود ہیں، جنھیں نہ تو گھر ملا ہے، اور نہ ہی گھر کے بدلے رقم۔ عبدالکریم اور اس کے دوست ظفر دونوں نے عوام کی گاڑھی کمائی کو پانی کی طرح بہا کر برباد کر دیے۔ اور لوگوں کو صرف جھوٹے دلاسے اور تسلی دیتے رہے۔ بہت سے لوگوں کو پارکنگ میں فلیٹ دے دیا گیا۔ پارکنگ کی جگہ بیچ دی گئی۔ سات منزلہ پارکنگ میں پہلے منزلے سے ہی بلڈر نے گودام کی شکل میں جگہ فروخت کرنا شروع کر دی۔ پرانے مکینوں کو پانجویں منزل پر فلیٹ دے دیا گیا، کسی کو اوپر کا فلیٹ بول کر نیچے کا فلیٹ دے دیا گیا، تو کسی کو آج تک صرف تسلی مل رہی ہے۔
نیاز احمد انصاری (نجو بھائی) نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے والدین نے ہمیں ایک لیگل گھر دیا تھا، مگر ہم ہمارے بچوں کو غیر قانونی گھر دینے پر مجبور ہیں. کیونکہ بلڈر نے کسی کو پارکنگ ایریا میں فلیٹ دیا، تو کسی کو رفیوجی ایریا میں جو کہ سراسر غیر قانونی ہے۔ انھوں نے اور بھی خلاصہ کیا کہ نلڈنگ میں پائی لائٹ بھی غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ہے۔ لوگوں کی مجبوری تھی کہ وہ مزید کرائے سے نہیں رہ سکتے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا ک عبدالکریم بلڈر کے علاوہ اس کے دو اور پارٹنر تھے، اتم پروہت اور منوج پروہت. یہ دونوں پاٹنر عبدالکریم بلڈر کے فائنانسر تھے، جنہیں بعد میں عبدالکریم نے دھوکہ دیا، اور جو فلیٹس ان حضرات کے نام تھے، جیسا معاہدہ لوگوں کے درمیان ہوا تھا۔ عبدالکریم نے ان حضرات (فائنانسر) کے فلیٹ بھی ان کے علم میں لائے بغیر دیے۔ اور جب لوگوں نے اپنے پیسے کا تقاضہ کیا تو عبدالکریم نے ہاتھ اٹھا دیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ منوج پروہت اور اتم پروہت نے کورٹ کی مدد سے بلڈنگ کے 24 فلیٹس کو سیل کروا دیا اور پہ شرط رکھی، کہ جب تک ہماری قم ہمیں نہیں ملتی، ہم کورٹ کیس واپس نہیں لیں گے، اور فلیٹس ایسے ہی سیل رہیں گے۔ اب وہ ۲۳ فیمیلی جنھوں نے موٹی رقم دے کر فلیٹس خریدا تھا، اور اسے سجایا تھا، ان کے سروں پر سے چھت غائب تھی۔ وہ سبب ایک عجیب سے کرب میں مبتلا تھے۔ اب تو عبدالکریم سامنے آ رہا تھا اور نہ ہی اس کا ساتھی ظفر نہ ہی کسی کا فون ریسیو ہو رہا تھا۔ بڑی مشکل سے عبدالکریم نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ ان کا گھر جلد ہی کورٹ کے ذریعے آزاد کرا لیا جائے گا۔
عبدالکریم نے نیا پانسہ پھینکا اور ڈونگری کے رہنے والے فراز مستری اور ان کے بھائی سے رابطہ کر کے یہ کہا کہ آپ لوگ یہ بلڈنگ کے مالکانا حق حاصل کر سکتے ہیں، اگر آپ لوگ منوج اور اتم کے پیسے ادا کرو تو، یہ بلڈنگ آپ کی ملکیت ہوگی۔ آپ لوگ اسکو مزید ڈیولپ بھی کر سکتے ہو، اور آٹھ ماہ قبل فراز مستری جو کہ ایک بزنسں مین بھی ہے۔ اس نے بلڈنگ کے مالکانہ حق حاصل کر لیے۔ اور عبدالکریم کے پرانے فنائنسر کا پہیہ ادا کر دیا۔ اب کہانی میں نیا موڑ آ گیا۔
فراز اینڈ کمپنی نے بلڈنگ میں آتے ہی بڑے بڑے وعدے اور دعوت شروع کروادی. خود فراز مستری نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے B.M.C کے (ای) وارڈ میں شکایت کر کے بلڈنگ کے کئی غیر قانونی فلیٹس کو تڑوا دیا، کہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل جائے۔ پھر شروع ہوا وصولی کا دھندہ، لوگوں کو ڈرایا کہ تمہارا فلیٹ بھی توڑ دیا جائے گا، یہ فلیٹ بھی غیر قانونی ہے۔ لہذا آپ لوگ ۵ لاکھ فی فلیٹ کے حساب سے مجھے ادا کریں تاکہ میں .B.M.C آفیسروں سے اس معاملے کو آگے بڑھنے سے روک سکوں۔ مزید دشواری نہ ہوئی کہ پوری بلڈنگ کو کلر کرنے کے نام پر ڈھانک دیا گیا. 5 ماہ گزر جانے کے بعد بھی کوئی خاص کام نہیں ہوا۔ صرف وعدے اور دلاسے کا دوسرا دور بھی جاری ہے. فراز مستری نے باونسرس کے ذریعے بھی لوگوں کو ہراساں کرنا شروع کیا۔ اور اپنے اثر رسوخ اور پیسے کا بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لوگوں سے کہا گیا کہ : Stamp Duty کے پیسے ادا کرو. کئی ماہ گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کے Stamp Duty کا رجسٹریشن، آج تک نہیں ہوا۔ لوگ اسی طرح پریشان ہیں، اور خوفزدہ بھی۔
بلڈنگ کے چوتھے اور پانچویں منزلے پر فراز مستری نے مکمل طور پر اپنا قبضہ جما دیا ہے۔ اور پارکنگ کی جگہ پر فلیٹ بنوا کر لوگوں کو خود فروخت کرنا چاہتا ہے۔ مزید یہ بھی کوشش کی گئی کہ ٹیرس پر دو فلیٹ اور بنا کر اسے بھی بیچ دیا جائے، جس کی مزمت اجمل ہائٹس کی سوسائٹی نے کی، اور قانونی چارہ جوئی کا بھی سہارا لیا، مگر اب بھی دور تک کہیں خوش آئندہ مستقبل لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ہے۔ یہ وہی مثل ہے کہ دیکھیں اب اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ فراز مستری نے ٹاور کے لوگوں کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہیں، (Purchese یہ Tenants) تاکہ وہ جو چاہے کرتا پھرے۔ اور لوگ آپس میں لڑتے رہیں. نجو بھائی نے مزید بتایا کہ بلڈنگ کا ازسر نو تعمیر کے لیے .R. M. K ریالٹی کمپنی سے معاہدہ ہوا تھا۔ اس نے مقامی حضرات کے ساتھ دھوکہ کیا۔ آج بھی 6 فلیٹس پرانے مقامی لوگوں کو نہیں ملے ہیں، جس میں 6 فیملی ہے۔ ایک جونی مسجد کا روم ہے، اور ایک پنچو تعزیہ کا روم ہے۔ بلڈر عبدالکریم اینڈ کمپنی .M.R.K ریالٹی نے GYM کے ساتھ ریڈنگ روم، میت کو غسل دینے کی جگہ اور بڑے پیمانے پر بلڈنگ میں جدید کاری کے خواب لوگوں کو دکھائے تھے، جو آج بھی خواب ہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ .G.S.T کے نام پر Purcheser حضرات سے 5 سے 6 لاکھ روپے لیے گئے، جب کے .M.R.K ریالٹی کا اپنا .G.S.T اکاونٹ ہے ہی نہیں. وہ لیتے وقت .G.S.T کے نام پر پیسے وصولے ہیں، اور دیتے وقت کہتے ہیں کیسی .G.S.T.
یہی وجہ ہے کہ آج تک لفٹ کمپنی کا 7 لاکھ .G.S.T بقایا ہے، اب وہ 4 فیمیلی مسجد کا فلیٹ اور پنچا تعزیہ کا روم کون دے گا؟ کب دے گا؟ کہاں سے دے گا؟ یہ سوال آج بھی سوال ہی ہے۔ فراز مستری نے ہاتھ اٹھا دیا ہیں۔ تو یہ 6 فلیٹس کون دے گا.
جرم
سومناتھ مندر : گجرات بی جے پی کے دفاتر کے نام بم کی دھمکی والی ای میل، تلاش میں کچھ بھی مشکوک نہیں ملا

احمد آباد/گجرات : سومناتھ مندر اور احمد آباد اور گاندھی نگر میں بی جے پی کے دفاتر کے نام والی بم کی دھمکی والی ای میل نے پیر کو پورے گجرات میں سیکورٹی الرٹ جاری کر دیا، جس سے پولیس، بم ڈسپوزل اور ڈسپوزل ٹیموں اور ڈاگ اسکواڈز کی تلاشی لی گئی۔ مندر۔پولیس نے کہا کہ مقامات پر تلاشی کے دوران کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔ احمد آباد سی ڈویژن کے اے سی پی ادویت گاندھی نے بتایا کہ گاندھی نگر میں اسٹیٹ انٹیلی جنس بیورو کو صبح 9 بجے کے قریب ان پٹ موصول ہوا، جس کے بعد خانپور بی جے پی کے دفتر کی مکمل جانچ کی گئی، اور اضافی پولیس کی تعیناتی کی گئی۔ اس کے مطابق، خانپور میں بی جے پی کے مرکزی دفتر میں بم دھماکے کا خطرہ تھا، ہم نے بی ڈی ٹی ایس کو مطلع کر دیا تھا، اور پولیس کی تعیناتی بھی کر دی گئی تھی،” گاندھی نے کہا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ سومناتھ مندر اور کوبا میں بی جے پی کے دفتر کو بھی دھمکی میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، “کچھ بھی مشتبہ چیز نہیں ملی ہے۔ صورتحال معمول پر ہے۔” گاندھی نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور مزید کہا کہ پولیس اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “مجھے اس مرحلے پر ای میل کی اصلیت کے بارے میں معلومات نہیں ہیں اور انٹیلی جنس ان پٹ کی بنیاد پر کارروائی کی گئی تھی۔” خانپور دفتر میں پولیس، فائر بریگیڈ کے عملے اور بم اور ڈاگ اسکواڈ کی ٹیموں نے تفصیلی تلاشی لی۔ سٹی بی جے پی کے صدر پریرک شاہ نے کہا کہ پارٹی کو اطلاع ملی تھی کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ای میل پر بم پہنچانے کی دھمکی ملی تھی اور دونوں دفتر کو بم کی دھمکی دی گئی تھی۔ اسکواڈ یہاں پہنچا، پورے خانپور بی جے پی کے دفتر کی تلاشی لی گئی، اور یہاں کچھ بھی قابل اعتراض یا مشکوک نہیں ملا،” شاہ نے کہا۔
سومناتھ میں ڈپٹی ایس پی ایم ایف۔ چودھری نے کہا کہ پولیس کو دھمکی کا ای میل صبح موصول ہوا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کی ہدایات اور رہنمائی پر پوری پولیس فورس کو چوکس کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مندر میں حفاظتی اہلکار چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں اور عقیدت مندوں کو عام طور پر دو پرتوں کی تلاشی اور چیکنگ سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایل سی بی، اسپیشل آپریشن گروپ، بی ڈی ایس اور کیو آر ٹی سمیت ضلعی شاخیں الرٹ پر تھیں اور بی ڈی ایس نے مندر کے احاطے کی تلاشی لی لیکن کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔” انہوں نے کہا۔ تازہ ترین دھمکی گجرات میں اسی طرح کے ای میل پر مبنی بم کے خوف کے درمیان سامنے آئی ہے۔ اس مہینے کے شروع میں، عدالتوں، اسکولوں اور گجرات اسمبلی کو دھمکیاں موصول ہوئی تھیں، جبکہ 15 اور 17 ستمبر کو مبینہ طور پر عدالتوں، مہاتما مندر اور بندرگاہ کی سہولیات کے نام سے الگ الگ دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ ان معاملات میں تلاشی کے نتیجے میں بھی دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا تھا۔ گجرات پولیس نے حال ہی میں ایک مبینہ بین ریاستی نیٹ ورک کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ 513,847 جی میل اکاؤنٹس اور پاس ورڈ مبینہ طور پر نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ کیا تازہ ترین خطرے کا اس نیٹ ورک سے کوئی تعلق ہے۔
جرم
بہار کے جموئی میں نابالغ طالبہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دو گرفتار

پٹنہ : جموئی ضلع میں مبینہ طور پر دسویں جماعت میں پڑھنے والے ایک لڑکے اور لڑکی کے ساتھ ہراساں کرنے اور چھیڑ چھاڑ کرنے کا معاملہ ان کی کوچنگ کلاس کے بعد سکوٹر پر سوار ہو کر جموئی ضلع میں سامنے آیا ہے، جس میں مبینہ طور پر ایک خوفناک واقعہ کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرتے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر لوگوں کے ایک گروپ نے دو سواروں کو روکا اور نوجوان لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے دکھایا۔ ایک موقع پر، ایک شخص نے لڑکی کو گردن سے پکڑ کر نیچے سے پکڑ کر زمین سے اتار دیا۔ لڑکا فوراً اس کی طرف بھاگا اور مداخلت کی۔ جھگڑے کے دوران، ایک مرد نے اس کی چھاتی کو بھی چھوا تھا۔ جب اس کے ساتھ آنے والے نوجوان لڑکے نے مبینہ طور پر اعتراض کیا تو اس پر بھی حملہ کیا گیا۔ ویڈیو کے سامنے آنے سے مقامی باشندوں میں خاص طور پر لڑکیوں اور خواتین کی حفاظت کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے دونوں افراد جموئی قصبے کے ایک پرائیویٹ اسکول میں 10ویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ وہ ہفتے کی شام کوچنگ کلاسز میں شرکت کے بعد مبینہ طور پر سکوٹر پر نکلے تھے۔ رپورٹس کے مطابق، دونوں جموئی-لکھیسرائے روڈ پر سفر کر رہے تھے کہ انہیں لوگوں کے ایک گروپ نے روک لیا۔ سوشل میڈیا پر موجود افراد میں سے ایک نے ویڈیو کو شیئر کیا، جس کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی تھی۔ میڈیا ویڈیو کی صداقت اور صحیح حالات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ جموئی پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ واقعے کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس دوسرے لوگوں کی شناخت کے لیے ویڈیو کی بھی جانچ کر رہی ہے جو ہو سکتا ہے اس خوفناک واقعے میں ملوث ہوں۔ سائبر ڈی ایس پی ابھیشیک کمار نے کہا کہ واقعہ پولیس کے علم میں آیا ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ جموئی اور لکھی سرائے کے درمیان سرحدی علاقے میں پیش آیا۔ افسر نے کہا کہ اصل حالات اور دیگر تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔ پولیس واقعے میں ملوث تمام افراد کی شناخت اور ارد گرد کے حالات کا تعین کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
جرم
حیدرآباد میں 10 روپے بدلنے پر آٹو رکشہ ڈرائیور کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔

حیدرآباد، ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کو مبینہ طور پر لوگوں کے ایک گروپ نے روپئے کو لے کر جھگڑے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس نے بتایا کہ حیدرآباد کے پرانے شہر میں 10 تبدیلی۔ یہ واقعہ اتوار کی شام فلک نما پولیس اسٹیشن کی حدود میں وٹے پلی میں پیش آیا۔ مقتول کی شناخت محمد مکرم (42) کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کے بھائی محمد افروز نے بتایا کہ اس کے خاندان کے افراد کے سامنے اس پر وحشیانہ حملہ کیا گیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔ افروز کے مطابق، جب ایک مسافر جس نے مکرم کو 10 روپے کے آٹو کرایہ میں 200 روپے کا نوٹ دیا، مکرم نے اس سے تبدیلی کی رقم ادا کرنے کو کہا۔ اس سے جھگڑا ہوا اور مسافر نے کچھ اور لوگوں کو بلایا جنہوں نے مکرم کو پیٹا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اس نے ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔ افروز نے الزام لگایا کہ ایک مقامی نیوز چینل کے رپورٹر عظیم، شعیب اور دیگر 6-8 افراد اس قتل میں ملوث تھے۔
افروز نے میڈیا کے سامنے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا، “میرا بھائی مرگی اور کمزور دل تھا۔ میری اسے بچانے کی درخواست کے باوجود وہ اس پر گولیوں کی بارش کرتے رہے اور وہ گر گیا۔” مکرم کے پسماندگان میں بیوی اور چار بچے ہیں۔ افروز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دیکر خاندان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔پولیس نے کہا کہ انہوں نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ایم ایل اے محمد مبین نے علاقے کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان کو تسلی دی۔ ایم ایل اے نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وٹے پلی علاقے میں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور پولیس سے گشت کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ حیدرآباد میں قتل کی وارداتوں کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا۔ شہر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران قتل کی آٹھ وارداتیں ہوئیں۔ پرہجوم جگہوں پر قتل کو نشانہ بنانے کے لیے چاقو، درانتی اور دیگر تیز دھار ہتھیاروں کے استعمال سے عوام میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے بندلا گوڈا علاقے میں شراب کی دکان کے پرمٹ روم کے اندر ایک بدمعاش کو قتل کر دیا گیا۔ بچپن کے دوست کے ساتھ پچھلی دشمنی کو قتل کے پیچھے محرک بتایا گیا تھا۔ قتل کے سلسلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے حال ہی میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ پولیس کے انسداد قتل اسکواڈس قائم کیے جائیں تاکہ ایک سال کے اندر تیز تحقیقات اور سزاؤں کو یقینی بنایا جاسکے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
