Connect with us
Wednesday,02-September-2026

سیاست

بی جے پی حکومت کی اندرونی رشہ کشی سے عوام پریشان : اکھلیش

Published

on

akhilesh

سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی قیادت کی اندرونی رشہ کشی کا اثر ریاست کے کام کاج پر پڑ رہا ہے۔

مسٹر یادو نے منگل کو کہا کہ چار سال بعد بی جے پی اور حکومت میں تال میل بٹھانے کے لئے تنظیم اعلی قیادت کو میٹنگ کرنی پڑ رہی ہے۔ ان میٹنگوں اور یونینوں کا واحد مقصد پھر سے اقتدار پر قابض ہونا ہے۔ ریاست کورونا کے بحران سے ابھی ابھر بھی نہیں پایا کہ بی جے پی اقتدار کے لئے بدحواس ہے۔

انہوں نے کہا کہ مفاد عامہ کے فیصلے میں تا خیر کے ساتھ ترقی کی تمام اسکیمات بھی ٹھپ ہیں۔ سرکاری مشنری غیر فعال کردار میں ہے۔ علاج، دوا سبھی کی ماراماری سے چاروں طرف ہاہاکار مچا ہوا ہے وہیں اپنی ناکامی چھپانے کے لئے جھوٹی کہانیاں گڑھے جانے کا دور چل رہا ہے۔ بی جے پی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ دوسری لہر کے بعد تیسری لہر کے پختہ انتظام حکومت نے کرلیا ہے جبکہ دوسری لہر کے انتظام ہی پورے نہیں ہو پائے ہیں۔

بلیک فنگس کے علاج میں تو صریح لاپرواہی کا مظاہرہ ہورہا ہے۔ حکومت ضروری انجکشن تک نہیں دستیاب کراپارہی ہے۔ مریض تڑپ۔تڑپ کر جان دے رہے ہیں۔ اب ڈیڑھ سال بعد حکومت کورونا انفکشن کا باریکی سے جانچ کر رہی ہے۔ ابھی تک سب کیا کرتے رہے ؟۔

مسٹر یادو نے کہا کہ کورونا وباء کی دہشت پوری طرح سے ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ کئی اضلاع میں حالات بے قابو ہیں۔ لکھنو کے اسپتالوں میں اضلاع سے بھی بلیک فنگس کے مریض آ رہے ہیں۔ ان کے مکمل علاج کا کہیں کوئی نظم نہیں ہے۔ حکومت ان کے لئے زندگی محفاظ انجکشن بھی نہیں دستیاب کر پا رہی ہے۔مریض تکلیف سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کووڈ انفکشن کا شکار ہوئے مریضوں میں نئ نئی پریشانیاں بڑھا رہا ہے۔

ٹیکہ کاری کو سیکورٹی کور بتانے والی بی جے پی حکومت نے دیوالی تک ریاست میں سب کو ٹیکہ دینے کا ہدف طے تو کر لیا ہے، لیکن ابھی تک اس کا انتظام ہی پورا نہیں ہو پا رہا ہے۔ ویکسین کی کمی میں کئی ٹیکہ کاری مراکز بند ہو چکے ہیں۔ ابھی بھی ویکسین کی شرح ریاست میں دو فیصد سے کم ہی رہی ہے۔ 98 فیصدی لوگوں کو دوسری خوراک نہیں لگ سکی ہے۔

(جنرل (عام

آگری پاڑہ پولیس میں ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ پر ہنگامہ بلڈر کے خلاف دھرنا

Published

on

ممبئی ممبئی کالا پانی مومن پورہ میں ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کو لے کر بلڈر کے خلاف آج آگری پاڑہ پولیس اسٹیشن میں بے گھر مکینوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بلڈر پر غنڈہ گردی اور عورتیں بھیج کر سائٹ کا تالا توڑ کر غیر قانونی طریقے سے غیر قانونی سر گرمی انجام دینے کا سنگین الزام عائد کیا۔ آگری پاڑہ پولیس اسٹیشن میں اس وقت ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی جب سماجوادی پارٹی کی کارپوریٹر عنبرین ابراہانی نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر اس معاملہ میں مداخلت کر نے کے ساتھ پولیس سے کارروائی کی درخواست کی تو سنیئر پولیس افسر نے ان کی بات سننے کے بجائے انہیں ہی باہر بیٹھنے کی ہدایت دی اور کہا کہ یہ کوئی مہا نگر پالیکا کا دفتر نہیں ہے اس کے بعد عنبرین مکینوں کو ہمراہ پولیس اسٹیشن میں ہی دھرنے پر بیٹھ گئی۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ مومن پورہ کالا پانی پروجیکٹ کا ٹھیکہ بلڈر بھپیش کو فراہم کیا گیا تھا لیکن بھپیش نے مقررہ شرائط کی پابندی نہیں کی اور ایک سال سے مکینوں کو کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی جس کے بعد پہلے مکینوں نے اس کا ٹھیکہ معطل کر دیا اس کے بعد بی ایم سی نے بھی اس کا ٹھیکہ معطل کردیا اس کے باوجود آج بلڈر کی جانب سے باؤنسر عورتوں و مردوں نے سائٹ پر گھس کر ہنگامہ آرائی کی۔

اس معاملہ میں مقامی مکینوں اور متاثرین نے پولیس کو طلب کیا اور پولیس نے حالات کو قابو میں کر لیا جبکہ اس مسئلہ پر بلڈر کے خلاف مکینوں کی ناراضگی ہے ایک مکین نسیم بانو نے الزام عائد کیا کہ بلڈر بھپیش اور عبید نے ان خواتین کو بھیجا تھا اور یہاں سائٹ پر غلط کام ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اگر سائٹ کا تالا توڑتا ہے تو اس پر کارروائی ہوگی نسیم بانو نے الزام عائد کیا کہ مکینوں کو بھی ان پچاس سے چالیس عورتوں نے نشانہ بنایا اور ہاتھا پائی کے ساتھ مارپیٹ کا واقعہ بھی پیش آیا آگری پاڑہ پولیس میں مقامی کارپوریٹر 212 ء عنبرین نے بلڈر اور پولیس کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ تین سال سے بلڈر کو ری ڈیولپمنٹ کا ٹھیکہ دیا گیا تھا لیکن اس نے کسی کو بھی کرایہ نہیں دیا جس کے بعد اس کا ٹھیکہ معطل ہوگیا اور بی ایم سی کمشنر نے بھی چار ماہ قبل ہی ٹھیکہ معطل کر دیا تھا اسی لئے آج بلڈر نے مرد اور خواتین باؤنسر سائٹ پر بھیجے تھے اس لئے مجھے مکینوں نے فون کیا اور میں نے سائٹ کا معائنہ کیا اور پھر پولیس اسٹیشن پہنچی پولیس اسٹیشن میں بلڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کر نے کیلئے ہم نے دھرنا دیا پولیس نے یقین دلایا ہے کہ اس مسئلہ پر ضروری کارروائی ہوگی جس کے بعد دھرنا ختم کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مکین اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں انہیں کرایہ بھی فراہم نہیں کیا جارہا ہے اس لئے بلڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

بلڈر نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا آگری پاڑہ بی ایم سی پلاٹ پر بازآبادکاری پروجیکٹ کے معرفت بھپیش بلڈر نے پروجیکٹ حاصل کیا اور اس میں تمام مکینوں سے باقاعدہ طور پر معاہدہ مکمل ہوا اور کام بھی جاری ہے ایسے میں کچھ مکین ہی کام میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں اس کے ساتھ ہی سیاستداں بھی اس پروجیکٹ میں رکاؤٹ حائل کررہے ہیں۔ بھپیش بلڈر نے بتایا کہ پروجیکٹ سے متعلق ان کے پاس تمام منظوری و اجازت نامے موجود ہے اس کے ساتھ ہی مکین بھی اس کیلئے تیار ہے لیکن کچھ مکین ایک پرائیوٹ بلڈر اور سیاستداں کے بہکاؤے میں آکر اس کی مخالفت کر رہے ہیں انہوں نے اس کی تردید کی ہے کہ ان کا پروجیکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے یہ بی ایم سی کمشنر نے اسے معطل کر دیا ہے انہوں نے سارے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے مارچ تک تمام مکینوں کو کرایہ بھی فراہم کیا ہے اور اس کی رسیدیں بھی ہمارے پاس موجود ہے اس کے باوجود کچھ مکین الزامات عائد کرتے ہیں یہ پوچھنے پر کہ آپ کے لوگوں نے سائٹ پر پہنچ کر غنڈہ گردی کی ہے تو انہوں نے اسے غلط اور گمراہ کن الزام قرار دیا اور کہا کہ ہمارے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج ہے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ آگری پاڑہ پولیس کے مطابق اس معاملہ میں اب تک کوئی بھی کیس درج نہیں کیا گیا ہے البتہ پولیس نے دھرنے کے بعد لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ اس مسئلہ پر ضروری کارروائی و تفتیش ہوگی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

سعودی نصاب سے احادیثِ رسول کا حذف ناقابلِ قبول، دینی نصاب کو سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھانا امت کے لیے تشویشناک( الحاج محمد سعید نوری)

Published

on

اس تعلق سے سنی جمیعت العلماء کے دفتر میں ایک اہم میٹنگ ہوئی جس کی صدارت تحفظ ناموس رسالت و نائب صدر سنی جمعیت علماء الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کی رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے سعودی عرب کے۲۶۔۲۰۲۵ کے تعلیمی نصاب میں بعض احادیثِ مبارکہ، اسلامی عبارات اور مذہبی اقتباسات کے حذف و ترمیم سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر شدید تشویش اور سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احادیثِ رسولِ اکرم کو سیاسی، سفارتی یا وقتی مصلحتوں کے تحت نصاب سے نکالنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ احادیثِ نبویہ کسی حکومت، سلطنت یا وزارتِ تعلیم کی جاگیر نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مقدس علمی و دینی سرمایہ ہیں۔ اگر کسی مستند حدیث کے کسی حصے کی تشریح مشکل یا حساس محسوس ہوتی ہے تو اس کی وضاحت مستند علماء و محدثین کے ذریعے کی جائے، نہ کہ حدیث کو خاموشی سے نصاب سے خارج کردیا جائے۔الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی رپورٹوں میں سعودی اسکولی نصاب میں متعدد تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں شامل بعض احادیث اور مذہبی اقتباسات کا حذف بھی بتایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا : اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ محض نصاب میں معمولی ترمیم کا معاملہ نہیں بلکہ نئی نسل کے دینی شعور اور اسلامی تاریخ کی تعبیر کا انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ احادیثِ رسول کو موجودہ سیاسی یا سفارتی ماحول کے مطابق نصاب سے نکالنا علم و دیانت کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دین کو حکومتی پالیسیوں کا تابع نہیں بنایا جاسکتا۔‘‘احادیثِ رسول کو سیاسی مصلحتوں کا تابع بنانا خطرناک رجحان رضا اکیڈمی کے سربراہ نے کہا کہ اسلام نے اہلِ کتاب اور دیگر اقوام کے ساتھ عدل، حسنِ سلوک، معاہدات، انسانی وقار اور بقائے باہمی کے واضح اصول دیے ہیں۔ رسولِ اکرم کی حیاتِ طیبہ اس کی روشن ترین مثال ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر مذہبی رواداری مقصود ہے تو سیرتِ مصطفیٰ کا مکمل اور مستند تعارف نئی نسل کو کیوں نہیں دیا جاتا؟ کیا رواداری کے نام پر تاریخ کے بعض حصوں کو حذف کرنا اور احادیث کے نصابی وجود کو ختم کرنا ہی واحد راستہ رہ گیا ہے؟الحاج محمد سعید نوری نے سعودی نصاب سے’’ مسلمان بیت المقدس سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے‘‘جیسے جملے کے حذف اور اسرائیل سے متعلق بعض سابقہ اصطلاحات میں تبدیلی کی اطلاعات پر بھی سخت تشویش ظاہر کی۔اس میٹنگ میں شریک علماء کرام مولانا فرید الزماں صاحب خطیب و امام کھتری مسجد مولانا امان اللہ رضا صاحب خطیب و امام رنگ والا کمپاؤنڈ مولانا عثمان صاحب برکت بھائی فرید محمد فرید و دیگر شامل تھے۔

Continue Reading

سیاست

کانگریس کو کازرنگا پر بولنے کا کوئی حق نہیں: آسام کے وزیراعلیٰ

Published

on

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے بدھ کے روز کازیرنگا نیشنل پارک کے ارد گرد ایکو سینسیٹو زون (ای ایس زیڈ) میں مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف کانگریس کے احتجاج پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ثقافتی ورثہ سائٹ کے تحفظ کو سوشل میڈیا پوسٹس یا سیاسی مظاہروں کے ذریعے یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ کازیرنگا ای ایس زیڈ مسئلہ پر کانگریس کی مہم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، سرما نے کہا کہ کانگریس لیڈر اور آسام پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر گورو گوگوئی کازیرنگا کی حفاظت نہیں کر سکتے اور زور دے کر کہا کہ نیشنل پارک کی حفاظت کی ذمہ داری بالآخر اس علاقے اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔

“گورو گوگوئی کازیرنگا کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ کازیرنگا کی حفاظت انسٹاگرام پر نہیں ہوگی۔ مقامی لوگوں کو کازیرنگا کی حفاظت کرنی ہوگی۔” سرما نے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پر سیدھا طنز کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کو کازیرنگا کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہئے اور اس معاملے پر احتجاج کرنے پر پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ “اگر کوئی شرم نہیں ہے تو ، وزیر اعلی نے کہا ، “اگر کوئی شرم نہیں ہے تو ، وزیر نے سخت الفاظ میں کہا۔ کہ کانگریس کو اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے شرمندگی محسوس کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ یہ ریمارکس کازرنگا نیشنل پارک کے ارد گرد ای ایس زیڈ کی مجوزہ کمی پر بڑھتے ہوئے سیاسی تنازعہ کے درمیان آئے۔ آسام حکومت نے کازیرنگا کے ارد گرد موجودہ/مجوزہ 10 کلومیٹر کے ای ایس زیڈ فریم ورک کو کم کر کے چھوٹے زون کرنے کی تجویز پیش کی ہے، ریاست مختلف علاقوں میں تقریباً 1 کلومیٹر سے 3 کلومیٹر کے بفر پر زور دے رہی ہے۔

کانگریس نے اس تجویز کی سختی سے مخالفت کی ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ای ایس زیڈ کو کم کرنے سے کازیرنگا کے ارد گرد ماحولیاتی تحفظات کمزور ہو سکتے ہیں اور ارد گرد کے ماحولیاتی نظام کو زیادہ تجارتی اور ترقیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اے پی سی سی کے سربراہ گورو گوگوئی نے اگست میں کوہورا میں ایک احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے اس تجویز کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ گوگوئی نے کازیرنگا زمین کی تزئین سے منسلک علاقوں میں مبینہ طور پر غیر قانونی کان کنی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور ریاستی وائلڈ لائف بورڈ میں بعض ارکان کی تقرری پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے دلیل دی ہے کہ ای ایس زیڈ میں تبدیلیوں سے پہلے ماحولیاتی خدشات اور کان کنی سے متعلق مسائل کو حل کیا جانا چاہیے۔

تنازعہ نے مقامی باشندوں کے حصوں میں بھی متحرک دیکھا ہے۔ کازیرنگا کے آس پاس کے کئی گروہوں اور رہائشیوں نے حکومت کی تجویز کی حمایت کی ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ نیشنل پارک کے آس پاس رہنے والے لوگوں کو ای ایس زیڈ کی حدود کا تعین کرنے میں زیادہ رائے دینی چاہیے۔ کازیرنگا کے علاقے کے رہائشیوں نے کانگریس کے وسیع بفر کے مطالبے کی مخالفت میں میٹنگیں اور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ 29 اگست کو، پارٹی نے کئی اضلاع بشمول سونیت پور، لکھیم پور، تینسوکیا، کاربی انگلونگ اور گولا گھاٹ میں ریاست گیر احتجاج اور پدا یاترا کا اہتمام کیا، جس میں مجوزہ ای ایس زیڈ کمی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس وجہ سے تنازعہ تحفظ، ترقی اور کازیرنگا کے آس پاس رہنے والی برادریوں کے حقوق پر ایک وسیع سیاسی جنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ سرما کے تازہ ترین ریمارکس سے بی جے پی کی زیر قیادت آسام حکومت اور کانگریس کے درمیان مشہور نیشنل پارک کے مستقبل پر تصادم میں شدت آنے کی توقع ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان